حضرت مولانا رسول خانؒ

   
مجلہ: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۹ اپریل ۲۰۰۷ء

جامعہ اشرفیہ کا آغاز قیام پاکستان کے بعد نیلا گنبد لاہور کی مسجد سے ہوا او رمسجد کے قریب ایک عمارت میں دینی علوم و فیوض کا یہ مرکز قائم کیا گیا۔ میں پہلی بار اس تعلیمی و روحانی تربیت گاہ میں حاضر ہوا تو میرا طالب علمی کا دور تھا۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے ہمراہ جامعہ اشرفیہ کے سالانہ جلسے کی ایک نشست میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی، سن یاد نہیں مگر گزشتہ صدی کے ساتویں عشرے کی بات ہے، حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ انتقال فرما چکے تھے، حضرت والد صاحب نے اس نشست سے خطاب کرنا تھا، وہ مجھے بھی ساتھ لے گئے۔ جب ہم جلسہ گاہ میں پہنچے تو ایک سادہ سے بزرگ لوگوں سے مخاطب تھے اور سب لوگ، جن میں علماء و طلباءکی اکثریت تھی، مؤدب بیٹھے ان کی باتیں سن رہے تھے۔ والد صاحب بھی سامنے ایک طرف بیٹھ گئے اور میں اس بزرگ کی باتیں سننے لگا۔ میرے پلے کچھ نہیں پڑ رہا تھا، چند لمحے خاموشی سے سمجھنے کی کوشش کرتا رہا مگر جب دیکھا کہ ساری باتیں ہی سر کے اوپر سے گزر رہی ہیں تو والد صاحب کو توجہ دلا کر پوچھا کہ یہ بزرگ کیا کہہ رہے ہیں؟ والد صاحب نے مجھے گھور کر دیکھا جیسے کہہ رہے ہوں خاموشی سے بیٹھو اور مجھے تقریر سننے دو۔ میں خاموش ہو گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد والد صاحب کو خطاب کی دعوت دی گئی، انہوں نے مختصر بیان کیا اور ہم وہاں سے رخصت ہو گئے۔بعد میں والد صاحب نے بتایا کہ یہ حضرت مولانا رسول خان صاحب تھے جو خطاب فرما رہے تھے۔ حضرت مولانا رسول خان کا نام سن رکھا تھا اور ان کی عظمت کا کچھ نقشہ بھی ذہن میں تھا کہ اس دور کے کامل علماء کرام کے استاذ اور معقولات کے امام ہیں، اس لیے ان کی باتیں سمجھ میں نہ آ سکنے کی وجہ بھی ذہن میں آ گئی۔

ہمارے ہاں دینی مدارس میں یونانی منطق و فلسفہ کو معقولات کا درجہ حاصل ہے اور اس میں مہارت پر معقولی ہونے کا خطاب ملتا ہے۔ مجھے اس سے کبھی مناسبت نہیں رہی اور اس حوالے سے اپنے حلقوں میں ہمیشہ ’’نامعقول‘‘ سمجھا جاتا رہا ہوں۔ حتیٰ کہ جامعہ اشرفیہ لاہور کے موجودہ مہتمم حضرت مولانا محمد عبید اللہ المفتی دامت برکاتہم ایک سال سالانہ امتحان کے لیے مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں تشریف لائے تو میری کلاس کا قطبی کا امتحان ان کے سپرد کر دیا گیا جو یونانی منطق کی زیر درس کتابوں میں سب سے مشکل سمجھی جاتی ہے۔ حضرت مولانا عبید اللہ کا شمار اس فن کے ائمہ میں ہوتا ہے جبکہ امتحان دینے والا میں تھا۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ صفر کی شکل میں ہی ہونا تھا۔ چنانچہ وہ زیرو اب تک ذہن میں تازہ ہے اور مجھے اپنی نالائقی کا احساس دلاتا رہتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ خیر، بات حضرت مولانا رسول خان کی ہو رہی تھی۔ میں نے جامعہ اشرفیہ میں اپنی پہلی حاضری کے موقع پر سب سے پہلے ان کی زیارت کی اور ان کے ارشادات سے سماع کی حد تک مستفید ہوا، اس لیے وہ منظر اب تک ذہن کی سکرین پر موجود ہے اور اس کو سامنے لا کر کبھی کبھی حظ اٹھاتا ہوں۔ حضرت مولانا رسول خانؒ صاحب ہمار ے ہم وطن تھے، وہ ضلع مانسہرہ میں اچھڑیاں نامی بستی کے رہنے والے تھے اور وہیں ان کی قبر ہے۔ ہمارا گاؤں بھی وہی ہے اور ہماری برادری اچھڑیاں میں اور اس کے ارد گرد اب بھی آباد ہے۔ اس کے بعد ان کی خدمت میں کئی بار حاضری ہوئی اور مشفقانہ دعاؤں سے فیض یاب ہوا۔

   
Flag Counter