حضرت مولانا محمد زکریاؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۸ مئی ۱۹۸۲ء

یہ خبر پورے عالم اسلام کے لیے انتہائی صدمہ اور گہرے رنج و غم کا باعث بنی ہے کہ ملت اسلامیہ کے بزرگ رہنما، تبلیغ اسلام کی عالمی تحریک تبلیغی جماعت کے سرپرست اعلیٰ، مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور کے سابق شیخ الحدیث اور لاکھوں مسلمانوں کے روحانی پیشوا شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریاؒ ۲۴ مئی کو مدینہ منورہ میں طویل علالت کے بعد خالق حقیقی سے جا ملے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔

مولانا محمد زکریاؒ کا تعلق علماء کے اس عظیم خاندان سے تھا جس نے دنیائے اسلام کو بانیٔ تبلیغی جماعت حضرت مولانا محمد الیاسؒ، حضرت مولانا محمد یحییٰ کاندھلویؒ اور حضرت مولانا محمد یوسف دہلوی جیسی عظیم شخصیات کے علوم و فیوض سے بہرہ ور کیا۔ اس علمی خانوادہ نے ایک طویل عرصہ تک دین حق کی تبلیغ و اشاعت اور ترویج کے لیے ٹھوس اور نتیجہ خیز خدمات سرانجام دیں اور ان کی جدوجہد کے مثبت ثمرات و نتائج آج پورے عالم اسلام میں نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

مولانا محمد زکریاؒ نے ایک عرصہ تک مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور میں شیخ الحدیث کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیے اور ہزاروں طلبہ کو ’’قال اللہ و قال رسول اللہ‘‘ کا درس دیا۔ مولانا مرحوم کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں سے متجاوز ہے جو آج اپنے شفیق استاذ کی جدائی کے غم میں نڈھال دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ عربی اور اردو میں متعدد وقیع کتابوں کے مصنف تھے جنہیں علمی و دینی حلقوں میں شاندار پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور تبلیغی نقطۂ نظر سے لکھے گئے چند اہم رسائل کے مجموعہ کو ’’تبلیغی نصاب‘‘ کے عنوان سے اللہ تعالیٰ نے قبولیت کا وہ مقام بخشا کہ ماضی قریب میں شاید ہی کسی اور تصنیف کو یہ قبولیت حاصل ہوئی ہو۔ دنیا کی کم و بیش ہر اہم زبان میں اس کتاب کے تراجم موجود ہیں اور عالم اسلام میں دعوت و تبلیغ سے تعلق رکھنے والا کوئی گھر، مرکز یا مسجد ایسی نہیں دکھائی دے گی جس میں تبلیغی نصاب موجود نہ ہو یا اس کا باقاعدہ درس نہ ہوتا ہو۔ اس مجموعۂ رسائل کو تبلیغ اسلام کی عالمی تحریک تبلیغی جماعت کے باقاعدہ نصاب کی حیثیت حاصل ہے۔

مولانا محمد زکریاؒ نے کچھ عرصہ قبل سہارنپور سے ہجرت کر کے دیار حبیب علی صاحبہا التحیۃ والسلام کو اپنا وطن بنا لیا اور آخر دم تک مدینہ منورہ میں ہی قیام پذیر رہے۔ ان کی تمام تر ہمدردیاں، تعاون اور خدمات تبلیغی جماعت کے لیے وقف تھیں اور انتہائی ضعف، علالت اور اعذار کے باوجود آخر دم تک اس تحریک کی عملی سرپرستی فرماتے رہے۔ اس علالت اور پیرانہ سالی میں افریقہ، پاکستان اور بھارت کے سفر، وہاں کئی کئی ہفتے قیام اور علماء و عوام سے ملاقاتیں اور وعظ و نصیحت کا سلسلہ حضرت شیخ رحمہ اللہ تعالیٰ کی ہمت اور حوصلہ سے زیادہ اس مشن کے ساتھ ان کے قلبی لگاؤ کا مظہر ہے۔

مولانا زکریاؒ قافلہ ولی اللہی اور کاروانِ علماء حق کے بزرگ ترین رہنما اور مربی تھے اور انہیں عوام کے علاوہ خواص اور اکابر علماء کے علمی و روحانی ملجاء و ماویٰ کی حیثیت حاصل تھی۔ اکابر و اصاغر ان کی دعاؤں کو اپنے لیے سعادت اور نجات کا ذریعہ خیال کرتے اور بڑے بڑوں کو یہ تمنا ہوتی کہ حضرت شیخ رحمہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ ان کے لیے اٹھیں، جب یہ ہاتھ اٹھتے تو ہر طرف سکون و انبساط کی لہر دوڑ جاتی اور پوری محفل روحانی کیف و لذت کے دائرے میں آجاتی۔ وہ بظاہر ایک درویش عالم دین اور منکسر المزاج بزرگ تھے لیکن عوام و خواص کے دلوں میں ان کی حکومت تھی۔ اور اس بات میں کوئی شبہ یا مبالغہ نہیں ہے کہ تحریک ولی اللہی اور دعوت و تبلیغ سے دلچسپی اور تعلق رکھنے والے دینی، علمی اور روحانی حلقوں کے دلوں کا بادشاہ دنیا سے اٹھ گیا ہے۔

حضرت مولانا محمد زکریاؒ تو سعادت اور نیک بختی کی شاہراہ پر اپنا زندگی کا سفر مکمل کر کے ہم سے رخصت ہوگئے اور جنت البقیع میں حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے قدموں میں جا بسے ہیں، لیکن عالم اسلام میں علمی، روحانی اور دینی اعتبار سے جو خلا چھوڑ گئے ہیں وہ کبھی پورا نہیں ہوگا۔ خصوصاً اس دور میں جبکہ اہل علم و فضل ایک ایک کر کے دنیا سے اٹھتے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ لینے والا کوئی دکھائی نہیں دے رہا۔ اس لحاظ سے ان کی وفات سے ملت اسلامیہ کو ہونے والے نقصان کی گہرائی و گیرائی میں ہوشربا اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور یقیناً یہ صدمہ عالم اسلام کے لیے بہت بڑا صدمہ ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت رحمہ اللہ تعالیٰ کے درجات بلند فرمائیں، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور ہم سب کو ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دین حق کی مثبت اور مؤثر خدمات سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔