حضرت مولانا عبد الحقؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۷ مئی ۲۰۱۲ء

حضرت مولانا عبدالحق رحمۃ اللہ علیہ کا شمار پاکستان ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کی ان عظیم شخصیتوں میں ہوتا ہے جو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ وسطی ایشیا میں علوم دینیہ کی ترویج واشاعت اور اسلامی اقدار و روایات کے تحفظ وفروغ کا ذریعہ بنیں۔ تعلیمی اور تہذیبی حوالے سے مولانا عبدالحقؒ کی دینی، علمی، تدریسی اور فکری خدمات جنوبی ایشیا اور اس کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیا میں دینی جدوجہد کی اساس کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اور جہاد افغانستان کو دیکھا جائے تو اس کی پشت پر مولانا عبدالحقؒ کی شخصیت پوری آب و تاب کے ساتھ کھڑی دکھائی دیتی ہے جو بظاہر ایک منحنی سا وجود رکھتے تھے، لیکن علم وفضل اور عزم و ہمت کے اس کوہِ گراں کے ساتھ کمیونزم کے فلسفہ و نظام نے سر پٹخ پٹخ کر اپنا حلیہ بگاڑ لیا اور آج کا مؤرخ یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ جہاد افغانستان کی علمی، فکری اور دینی اساس مولانا عبدالحقؒ کی شخصیت اور ان کی نگرانی میں کام کرنے والا تعلیمی ادارہ دارالعلوم حقانیہ ہے جس کے اثرات افغانستان اور وسطی ایشیا کو اپنے حصار میں لیے ہوئے ہیں۔

جہاد افغانستان کی علمی و فکری آبیاری میں ہمارے بہت سے بزرگوں کا حصہ ہے، مگر میں تاریخ کے ایک طالب علم اور اس جدوجہد کے ایک شعوری کارکن کے طور پر تین شخصیات کو ان سب کا سرخیل سمجھتا ہوں۔ ان میں سے سب سے پہلا نام حضرت مولانا عبدالحقؒ کا ہے اور ان کے بعد جہاد افغانستان کے علمی وفکری سرپرستوں میں میرے خیال میں حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کا نام آتا ہے جنہوں نے نہ صرف پاکستان کے علماء و طلبہ کو جہاد افغانستان کے لیے ذہنی طور پر تیار کیا اور افغان مجاہدین کی سیاسی و اخلاقی پشت پناہی کی بلکہ جہاد افغانستان کے خلاف مختلف اطراف سے اٹھائے جانے والے شکوک واعتراضات کا جواب دیا اور جہاد افغانستان کی ہر لحاظ سے پشتیبانی کی۔

حضرت مولانا عبدالحقؒ کی خدمات کو میں ایک اور حوالہ سے بھی تاریخ کا اہم حصہ شمار کرتا ہوں، اور وہ پاکستان میں نفاذاسلام کی دستوری جدوجہد کا باب ہے۔ پاکستان کی دستورساز اسمبلیوں میں شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کے بعد جس شخصیت نے دستور سازی میں سب سے زیادہ سنجیدہ کردار ادا کیا ہے اور دستور سازی کے تمام مراحل میں پوری توجہ اور تیاری کے ساتھ محنت کی ہے، وہ حضرت مولانا عبدالحقؒ ہیں۔ ۱۹۷۳ء کے دستور کی تیاری کے مرحلہ میں حضرت مولانا مفتی محمودؒ قائدحزب اختلاف تھے اور حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا صدرالشہیدؒ، مولانا نعمت اللہؒ، مولانا عبدالحکیمؒ، مولانا شاہ احمدؒ نورانی، مولانا محمد ذاکرؒ، مولانا ظفراحمد انصاریؒ اور بہت سے دیگر بزرگوں نے اس دستور کو زیادہ سے زیادہ اسلامی بنانے کے لیے محنت کی۔ مگر دستورساز اسمبلی کی کارروائی کا مطالعہ کیا جائے اور دستورسازی کے مختلف مراحل پر نظرڈالی جائے تو حضرت مولانا عبدالحقؒ کے جداگانہ اور امتیازی کردار کا تذکرہ بہرحال ضروری ہوجاتا ہے۔