حضرت مولانا سید گل بادشاہؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۰ جولائی ۱۹۷۳ء

مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ اور خورشید المشائخ حضرت مولانا پیر خورشید احمدؒ کے وصال کے کچھ وقفہ بعد ہی شیر سرحد، مجاہد ملت اور بطل حریت حضرت مولانا سید گل بادشاہ ؒ بھی داغ مفارقت دے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت مولانا سید گل بادشاہؒ اس قافلۂ حریت کی باقیات صالحات میں سے تھے جس نے لہو کے چراغ جلا کر اس ملک میں آزادی اور مذہب کے متوالوں کو شعور کی روشنی بخشی اور اپنا سب کچھ لٹا کر قوم کی متاع مذہب و حریت کو لٹنے سے بچایا۔

مفتیٔ اعظم حضرت مفتی کفایت اللہ دہلویؒ، شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی، سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعیدؒ اور مجاہد اعظم حضرت مولانا حفظ الرحمان سیوہارویؒ کی قیادت و معیت میں حضرت مولانا سید گل بادشاہؒ نے استخلاص وطن کی مقدس تحریک میں جو عظیم کردار ادا کیا اور پھر آزادیٔ وطن کے بعد قطب الاقطاب حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ، مفتی اعظم مولانا مفتی محمود، بقیۃ السلف حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی اور بطل حریت حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی کی معیت میں اسلامی نظام و آئین کی جدوجہد کو جس پامردی اور جرأت کے ساتھ پروان چڑھایا وہ سید صاحبؒ ہی کا حصہ ہے۔

آج کا مصلحت پرست پریس سید صاحبؒ اور ان کے قافلہ کے عظیم کردار کو مخفی رکھنے اور مسخ کرنے میں حد سے زیادہ دلچسپی لینے کے باوجود مستقبل کے مؤرخ کو حقیقت بیان کرنے سے روک نہیں سکے گا۔ اور جب بھی مؤرخ نے برصغیر میں استخلاص وطن اور پاکستان میں اسلامی آئین کی جدوجہد کو عدل و انصاف کے ساتھ سپرد قلم کرنا چاہا اسے مولانا سید گل بادشاہؒ کی عظیم خدمات اور بے مثال قربانیوں کا اعتراف کرنا پڑے گا۔ اور اس کا قلم، اگر مصلحت بینی کا شکار نہ ہوا تو، یہ لکھنے پر مجبور ہوگا کہ یہ وہ قافلۂ عزم و ہمت تھا جس کے اخلاص و بے سروسامانی نے فرنگی سامراج کو شکست سے دوچار کیا اور یہی وہ گروہ تھا جسے ہر بیرونی و اندرونی باطل نے اپنی راہ میں ناقابل شکست چٹان پایا۔

آج مولانا سید گل بادشاہؒ ہم میں نہیں ہیں لیکن ان کی مجاہدانہ زندگی ایک کھلی کتاب کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ یہ زندگی دعوت و عزیمت کی تابندہ مثال اور جرأت و استقلال کا درخشندہ مظہر ہے۔ یہ زندگی اخلاص، ایثار، جرأت اور عمل پیہم کا حسین امتزاج اور ایک مردِ مومن کی زندگی کی سچی تصویر ہے۔ اللہ تعالیٰ اس مرد مومن کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور ہم کارکنوں کو ان کی زندگی سے سبق حاصل کرتے ہوئے ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق ارزانی فرمائے، آمین یا رب العالمین۔