حضرت مولانا مفتی محمودؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳۰ اکتوبر ۱۹۸۱ء

مولانا مفتی محمودؒ کو ہم سے جدا ہوئے ایک برس ہو چکا ہے۔ مفتی محمودؒ بنیادی طور پر ایک عالم دین تھے لیکن ان کی صلاحیتیں اور خوبیاں اس قدر متنوع تھیں کہ ان کے باعث موافق اور مخالف سب حلقوں میں ان کا دلی احترام پایا جاتا تھا اور ان کا بڑے سے بڑا مخالف بھی ان کے علم، تدبر اور حوصلہ کا معترف تھا۔ مرحوم کا نمایاں وصف ٹھوس اور ہمہ گیر علم تھا جو انہوں نے اپنے وقت کے جید علماء اور اساتذہ کی صحبت میں حاصل کیا اور پھر اسے افتاء و تدریس کی برس ہا برس کی علمی و تجرباتی زندگی میں پختہ کیا۔ انہیں حدیث اور فقہ کے ساتھ ساتھ معقولات اور عربی ادب پر بھی دسترس حاصل تھی۔ مسلسل سیاسی مشاغل، مصروفیات، علالت اور ذہنی پریشانیوں کے باوجود مختلف علوم کی جزئیات تک ان کو مستحضر تھیں۔ کوئی بھی مسئلہ چھیڑ دیں مرحوم اس پر دلائل کے انبار لگاتے چلے جاتے۔

مولانا مفتی محمودؒ اپنے دورہ حدیث کے سبق میں جدید سیاسی و معاشی مسائل پر کھل کر بحث کرتے، طلبہ کو ان کی اہمیت سے آگاہ کرتے، جمہوریت اور اسلام، سرمایہ داری او رکمیونزم، سود اور بینکاری اور ان جیسے دیگر مسائل ان کا خصوصی موضوع بحث ہوتے۔ بلکہ وفاق المدارس العربیہ کے سالانہ امتحانات میں جو پرچے وہ خود مرتب کرتے ان میں ان مسائل سے متعلق سوالات بھی شامل کرتے تاکہ طلبہ میں ان مسائل سے واقفیت حاصل کرنے کا شوق و ذوق پیدا ہو۔

مفتی صاحبؒ جب اسلامی اصولوں کا جدید تقاضوں سے تقابل کرتے تو ان کا موقف دفاعی نہیں ہوتا تھا، اسلامی اصول و احکام کا مقدمہ جدید منطق کی زبان میں بڑی کامیابی سے پیش کرتے۔ مولانا مرحوم کی ایک خصوصیت ان کی دینی حمیت تھی، وہ دین اور دین کے مسلمہ اصولوں کے خلاف کوئی بات کسی حالت میں بھی برداشت نہیں کرتے تھے۔ انکارِ حدیث، انکارِ ختم نبوت، عائلی قوانین، خاندانی منصوبہ بندی اور ڈاکٹر فضل الرحمان کی تحریفات کے خلاف جدوجہد میں مفتی صاحبؒ کا سرگرم کردار ان کی دینی حمیت کا آئینہ دار ہے۔

مفتی محمود مرحوم کی ایک امتیازی خصوصیت ان کا حلم اور بردباری تھی۔ وہ مخالفین کی کڑوی کسیلی باتوں سے اشتعال میں نہیں آتے تھے بلکہ انتہائی تحمل اور بردباری کے ساتھ صرف قابلِ جواب باتوں کا جواب دیتے اور نامناسب باتوں پر خاموشی اختیار کر لیتے۔ ہمارے ہاں کردار کشی قومی سیاست کا لازمی عنصر شمار ہوتی ہے اور سابقہ دورِ حکومت میں اس ضمن کی باقاعدہ سرکاری طور پر سرپرستی کی جاتی رہی مگر سرکاری ذرائع ابلاغ سے مسلسل کردارکشی کے باوجود مفتی صاحبؒ اپنے اختلافات کا اظہار صرف دلائل اور اصولوں کے حوالے سے کرتے اور سیاسی مخالفین کے بارے میں کوئی نامناسب بات ان کی زبان پر نہ آتی۔

اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے وہ بے پایاں جذبہ رکھتے تھے۔ مولانا مرحوم کہا کرتے تھے کہ مجھے اسلامی نظام چاہیے جن ہاتھوں سے بھی آئے، اگر صحیح اسلام ہوا تو میں اسے بخوشی قبول کروں گا۔ جن دنوں ’’پاکستان قومی اتحاد‘‘ کے نمائندے صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی کابینہ میں شامل تھے، کچھ آزاد خیال دوستوں کی طرف سے اس پر اعتراض ہوا کہ جمہوریت کے علمبردار غیر نمائندہ حکومت میں کس طرح شامل ہوگئے۔ مفتی صاحبؒ اس کے جواب میں فرمایا کرتے تھے کہ نظریاتی تحریکوں کے لیے جمہوریت مقصد نہیں بلکہ مقصد کے حصول کا ذریعہ ہوتی ہے۔ اب یہاں کمیونسٹ بھی جمہوریت کی بات کرتے ہیں اور ہم بھی جمہوریت کی بات کرتے ہیں، لیکن جمہوریت نہ ان کا مقصود ہے نہ ہمارا۔ وہ جمہوریت کے ذریعہ کمیونزم لانا چاہتے ہیں اور ہم جمہوری عمل کو اسلامی نظام کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اگر کمیونسٹوں کو اپنے مقصد کے حصول کے لیے جمہوریت کے سوا کوئی اور سہل ذریعہ مل جائے تو وہ اسے اختیار کرنے میں تامل نہیں کرتے، اس لیے ہم اگر اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے غیر نمائندہ حکومت میں شمولیت کا تجربہ کر رہے ہیں تو یہ ہمارے مقصد کے خلاف نہیں ہے۔ اور پھر جب چند اسلامی قوانین کے نفاذ کا اعلان ہوا تو مفتی صاحبؒ جلسوں میں اسے حکومت میں اپنی شمولیت کے ثمرہ کے طور پر بڑے فخر سے ذکر کرتے اور فرماتے کہ باقی لوگ کنارے پر کھڑے نمائندہ و غیر نمائندہ کے چکر میں الجھے رہے لیکن ہم سمندر میں کود کر یہ موتی نکال لائے ہیں۔ مگر صد افسوس کہ یہ خوشی اور مسرت زیادہ دنوں تک جاری نہ رہ سکتی اور جن قوانین کے نفاذ کا مرحوم انتہائی فخر سے اعلان کیا کرتے تھے ان پر عملدرآمد کی منفی صورتحال پر ان کا ردعمل بھی اتنا ہی شدید تھا۔

مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ کی قومی جدوجہد کا دوسرا نکتہ ان کی عوام دوستی تھی۔ عوامی حقوق کے بارے میں وہ کسی لچک کے روادار نہ تھے۔ انہوں نے صوبہ سرحد کی وزارتِ اعلیٰ کے دور میں بھی عوامی حقوق کی پاسداری کو قائم رکھا۔ ان کے خلاف مظاہرے ہوئے، ٹرسٹ کے اخبارات نے نازیبا رویہ اختیار کیا حتیٰ کہ وفاقی وزراء ان کے خلاف ان کے صوبہ میں تقریریں کرتے رہے لیکن کیا انہوں نے ایک لمحہ کے لیے دفعہ ۱۴۴ یا کسی امتناعی قانون کا سہارا لیا؟ بلکہ وہ چیلنج دیا کرتے تھے کہ اگر کوئی یہ ثابت کر دے کہ ان کے دورِ حکومت میں ایک دن کے لیے بھی دفعہ ۱۴۴ لگی ہے یا پولیس نے کسی پر لاٹھی چارج کیا ہے تو وہ سیاست سے دستبردار ہو جائیں گے۔ ان کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ عوام کو یہ حقوق اسلام نے دیے ہیں اور اسلام کے عطا کردہ حقوق کی تنسیخ یا تعطیل کا کسی کو حق نہیں پہنچتا۔

مولانا مرحوم کی قومی جدوجہد کا تیسرا نکتہ ان کی اصول پرستی تھی۔ انہوں نے اصولوں کی خاطر واضح اکثریت رکھتے ہوئے بھی وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ دے دیا۔ جس بات کو صحیح سمجھا اس پر ڈٹ گئے، اپنے موقف کی خاطر بعض رفقاء سے ہاتھ دھونے پڑے مگر اس کی پرواہ نہ کی۔

مفتی صاحبؒ کی سیاسی جدوجہد کا چوتھا پہلو ان کی حب الوطنی ہے۔ وہ اگرچہ تحریک پاکستان میں شامل نہیں تھے بلکہ جمعیۃ علماء ہند کے پلیٹ فارم پر انہوں نے تقسیم ہند کی مخالفت کی تھی۔ لیکن قیامِ پاکستان کے بعد ہر دور میں پاکستان کی سالمیت کے تحفظ کی جدوجہد میں انہوں نے شاندار کردار ادا کیا۔

افغانستان میں روسی جارحیت کی پرزور مذمت اور افغان عوام کی جدوجہد کی غیر مشروط حمایت کے پیچھے جہاں اسلامی و انسانی ہمدردی کے جذبات کارفرما تھے وہاں مفتی صاحب مرحوم کا یہ احساس بھی اس معاملہ میں کافی حد تک دخیل تھا کہ افغانستان میں روسی جارحیت کے سامنے سپرانداز ہونے کا مطلب خود پاکستان کی سالمیت سے ہاتھ دھونا ہے۔ اس لیے وہ کہا کرتے تھے کہ افغان مجاہدین صرف اپنے ملک کی آزادی کے لیے ہی نہیں بلکہ پاکستان کی سالمیت کے تحفظ کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں۔