مولانا سید محمد شمس الدین شہیدؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۴ مارچ ۱۹۷۸ء

شہید حریت مولانا سید شمس الدین شہیدؒ کو ہم سے جدا ہوئے ۱۳ مارچ ۱۹۷۸ء کو چار برس ہو جائیں گے لیکن ان کی جرأت و استقامت اور عزم و استقلال کے مظاہر ابھی تک نظروں کے سامنے ہیں او ریوں لگتا ہے جیسے وہ ہم سے جدا ہو کر بھی ہمارے درمیان موجود ہیں متحرک ہیں اور سرگرم ہیں کہ جرأت و جسارت کا ہر واقعہ ان کی یاد کو دل میں تازہ کیے دیتا ہے۔

شہید نے کچھ زیادہ عمر نہیں پائی اور ۱۳ مارچ ۱۹۷۴ء کو ایک شقی القلب کے ہاتھوں گولی کا نشانہ بنتے وقت ان کی عمر بمشکل ۳۰ برس تھی لیکن اس مختصر ترین عمر میں انہوں نے خداداد صلاحیتوں کے باعث ملکی سیاسیات اور کاروانِ دعوت و عزیمت میں جو مقام حاصل کر لیا تھا وہ ہم جیسے نوجوانوں کے لیے یقیناً قابل رشک ہے۔ مرحوم ۱۳۶۴ء میں ژوب (سابق فورٹ سنڈیمن) بلوچستان کے معروف خان سادات کے بزرگ مولانا سید محمد زاہد مدظلہ کے ہاں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر میں والد محترم سے حاصل کی اور میٹرک ژوب کے ہائی سکول سے کیا۔ اس کے بعد دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک، مدرسہ عربیہ نیو ٹاؤن کراچی، مدرسہ مخزن العلوم خانپور اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں درس نظامی کا کورس مکمل کر کے ۱۹۶۹ء میں سند فراغت حاصل کی۔ دورۂ حدیث میں راقم الحروف اور مولانا ہم سبق تھے۔

طالب علمی کے دور میں مرحوم جمعیۃ طلباء اسلام سے وابستہ تھے، کچھ عرصہ کے لیے اس کی بلوچستان شاخ کے صدر بھی رہے، فراغت کے بعد انہوں نے فورٹ سنڈیمن کے صوبائی حلقہ سے جمعیۃ علماء اسلام کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ کر علاقہ کے بہت بڑے جاگیردار تیمور شاہ جوگیزئی کو شکست دی اور بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ قدرت نے انہیں جرأت، بے باکی اور بے خوفی کی انمول صلاحیتوں سے نوازا تھا اور بلوچستان کے لوگوں نے اس نوجوان میں چھپے جوہر کو اسی روز دیکھ لیا تھا جب سبی کے سالانہ دربار میں اذان کی آواز بلند ہوئی۔ گورنر نے لوگوں سے پوچھا یہ کون دیوانہ ہے، جواب ملا کہ یہ دیوانہ نہیں بلکہ بلوچستان اسمبلی کا نومنتخب رکن مولوی شمس الدین ہے۔ پھر اذان کے بعد مولوی صاحب گورنر صاحب مرحوم کے پاس آئے اور کہا کہ آپ ہمارے حاکمِ اعلیٰ ہیں اس لیے آج نماز آپ پڑھائیں گے مگر گورنر ریاض حسین نے معذرت کر دی۔ بظاہر یہ سیدھا سا واقعہ ہے مگر اس نے مولوی شمس الدین کے اندر چھپی ہوئی بے باکی اور بسالت کو نمایاں کر دیا۔

بلوچستان اسمبلی کے باقاعدہ آغاز پر مولانا شہید کو ڈپٹی اسپیکر چن لیا گیا اور جمعیۃ علماء اسلام کے سالانہ انتخاب میں جمعیۃ کے صوبائی امیر کی حیثیت سے جماعتی قیادت کی ذمہ داری بھی انہیں سونپ دی گئی اور اس طرح آپ نے ۲۷ برس کی عمر میں صوبائی سیاست میں ایک اہم مقام حاصل کر لیا۔ مولانا کی حق گوئی اور بے باکی کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ صوبائی اسمبلی میں جمعیۃ علماء اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی کی مشترکہ حکومت میں مینگل وزارت کا حلیف ہونے کے باوجود جن امور سے آپ کو اختلاف ہوتا ان پر کھلم کھلا اظہار خیال کرتے اور کسی مصلحت کو خاطر میں نہ لاتے۔ مینگل وزارت کی برطرفی کے بعد کٹھ پتلی وزارت کے لیے اکثریت حاصل کرنے کی غرض سے مولوی شمس الدین کو خریدنے، ورغلانے اور ڈرانے دھمکانے کی ہرممکن کوشش کی گئی مگر آخر دم تک وہ اپنے موقف اور پارٹی کی پالیسی پر قائم رہے۔

ژوب میں قادیانیوں کے خلاف موثر تحریک چلانے پر انہیں گرفتار کر کے میوند میں محصور کر دیا گیا۔ اس دوران دولت و اقتدار میں حصہ دار بننے کی پیش کشیں ہوئیں حتیٰ کہ ایک بار خود نام نہاد وزیر اعلیٰ جام غلام قادر بھی انہیں رام کرانے کے لیے آئے مگر کوئی حربہ کارگر نہ ہوا۔ وزارتِ اعلیٰ کی پیشکش کو اس درویش نے یوں مضحکہ میں ٹال دیا کہ ’’ایک قیدی کس طرح وزیر اعلٰی بن سکتا ہے؟‘‘ اور ایک بہت بڑے سرکاری آدمی کی طرف سے دیے گئے بلینک چیک کو اس کے سامنے یہ کہہ کر پھاڑ دیا کہ

’’جو شخص خدا کے آگے بک چکا ہو اسے اور کوئی نہیں خرید سکتا۔‘‘

الغرض تخویف و تحریص کا کوئی حربہ کارگر نہ ہوا اور بالآخر حکومت کو انہیں غیر مشروط طور پر رہا کرنا پڑا۔

مجھے شہید کا بتایا ہوا یہ واقعہ کبھی نہیں بھول سکتا کہ ذوالفقار علی بھٹو جیسے شاطر اور زیرک سیاستدان نے انہیں ملاقات کے لیے بلا کر انہیں اصول پرستی اور ایثار و اخلاص کا واسطہ دیا اور کہا کہ آپ جیسے بااصول لوگ میرے ساتھ آجائیں تو میں ملک و قوم کے لیے بہت کچھ کر سکتا ہوں مگر اس جہاندیدہ سیاستدان کو ۲۹ سالہ نو آموز سیاسی کارکن نے یہ جواب دے کر خاموش کر دیا کہ

’’بھٹو صاحب! کیا ہم اقتدار کے لیے نیشنل عوامی پارٹی کا ساتھ چھوڑ کر بھی با اصول رہیں گے؟‘‘

سید شمس الدین شہیدؒ کی یہی بے خوفی اور جرأت و جسارت ظلم و جبر کے نظام کو نہیں بھائی اور بالآخر ۱۳ مارچ ۱۹۷۴ء کو جب وہ اپنی سرکاری گاڑی پر کوئٹہ سے فورٹ سنڈیمن جا رہے تھے، مبینہ طور پر ان کے رفیق سفر شاہ وزیر نے خل گئی کے مقام پر گولی مار کر انہیں شہید کر دیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ شہید کے المناک قتل پر وقت کے حکمرانوں نے کہا تھا کہ انہیں جمہوریت کے دشمنوں نے قتل کیا ہے اور قاتلوں کو بلاتاخیر کیفر کردار تک پہونچایا جائے گا مگر قاتل ابھی تک قانون کی دسترس سے باہر ہے۔ تحقیقات کا عمل چار برس گزر جانے کے باوجود معطل ہے اور ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ حکومت ایک صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر اور سیاسی جماعت کے صوبائی سربراہ کے مبینہ قاتل کو حراست میں نہیں لے سکی اور قتل کی سازش کا سراغ نہیں لگا سکی۔

شہید کے ورثا نے عبوری حکومت کے سربراہ جنرل محمد ضیاء الحق سے بھی درخواست کی ہے کہ اس المناک قتل کے مقدمہ کو ازسرِنو انکوائری کی میز پر لایا جائے اور قاتلوں کو گرفتار کرنے کے ساتھ ساتھ اس سازش کو بھی پوری طرح بے نقاب کیا جائے۔ امید ہے کہ عبوری حکومت اس سسلے میں جلد کوئی موثر قدم اٹھائے گی۔