موجودہ عالمی صورتحال میں علماء کرام کی ذمہ داریاں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۷ نومبر ۲۰۰۱ء

برطانیہ کے جن دینی و تعلیمی اداروں کا کام دیکھ کر خوشی ہوتی ہے اور کچھ امید قائم ہوتی ہے ان میں لیسٹر کی اسلامک دعوہ اکیڈمی سرفہرست ہے جو مولانا محمد سلیم دھورات کی سربراہی میں کام کر رہی ہے اور جس کا تذکرہ پہلے بھی ان کالموں میں ہو چکا ہے۔ اس سال اسلامک دعوہ اکیڈمی اور اس کے ساتھ منسلک جامعہ ریاض العلوم اور مدرسہ ریاض القرآن کا سالانہ جلسہ ۱۰ نومبر کو تھا جس میں شرکت کا موقع ملا اور کچھ گزارشات بھی پیش کیں۔ جلسہ میں مدرسہ ریاض القرآن میں حفظ قرآن کریم مکمل کرنے والے نو حفاظ نے آخری سبق سنایا اور جامعہ ریاض العلوم کے سالانہ امتحانات میں اچھی پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو انعامات دیے گئے۔ جبکہ دارالعلوم بری کے استاذ حدیث حضرت مولانا مفتی محمد شیر نے بھی خطاب کیا۔

حفاظ کا آخری سبق سننے سے قبل جلسہ میں اس اعلان سے میں چونک گیا کہ حفظ قرآن کریم مکمل کرنے والے ان طلبہ کا آج صرف آخری سبق سنا جائے گا لیکن ان کی دستار بندی نہیں ہوگی۔ اس لیے کہ ہمارے ہاں معمول یہ ہے کہ عام طور پر آخری سبق سننے کے ساتھ ہی حافظ صاحب کو کسی بزرگ کے ہاتھوں دستار بندھوا کر حافظ کا خطاب دے دیا جاتا ہے اور اس کے بعد قرآن کریم کو یاد رکھنے کے لیے اسے دہرانا اور بار بار سنا کر اسے پختہ کرنا اس حافظ کی اپنی صوابدید پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بہت سے حفاظ بے پروائی کی وجہ سے قرآن کریم بھول جاتے ہیں اور ثواب و اجر کی بجائے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اس لیے جلسہ میں مدرسہ ریاض القرآن کے مہتمم مولانا محمد سلیم دھورات کی طرف سے کیا گیا یہ اعلان مجھے بہت اچھا لگا کہ آج ان حفاظ کا صرف آخری سبق سنا جائے گا اور ان کی دستار بندی اس وقت ہوگی جب یہ بیس مرتبہ قرآن کریم دہرا لیں گے، کم از کم پانچ پارے ایک نشست میں سنانے کے قابل ہو جائیں گے اور پورے قرآن کریم کا تفصیلی امتحان دے کر اسے پاس کر لیں گے۔ ان مراحل سے گزر کر جب یہ دستار فضیلت کے مستحق ہو جائیں گے تو دستار بندی اور سند کے ساتھ ساتھ انہیں عمرہ کا ٹکٹ بھی دیا جائے گا۔

جلسہ سے قبل مولانا محمد سلیم دھورات نے علماء کرام کے ساتھ ایک خصوصی نشست کا بھی اہتمام کر رکھا تھا جس میں مختلف شعبوں سے علماء کرام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور مجھے کہا گیا کہ میں ان علماء کرام سے موجودہ عالمی صورتحال اور علماء کرام کی ذمہ داریوں کے حوالہ سے گفتگو کروں۔ چنانچہ جو گزارشات اس وقت اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت سے پیش کی جا سکیں ان کا خلاصہ قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ علماء کرام میری برادری ہے اس لیے ان سے گفتگو کرنے اور بہت سی گزارشات پیش کرنے کو جی چاہتا ہے لیکن ڈر بھی لگتا ہے کہ کوئی ایسی بات نہ ہو جائے جو ان کے شایان شان نہ ہو، اور یہ خوف بھی دامن گیر ہوتا ہے کہ کوئی بات کسی نازک مزاج پر گراں گزر گئی تو پھر وہی کچھ نہ ہو جائے جو ایسے مواقع پر ہوجایا کرتا ہے۔ اس لیے پیشگی معذرت خواہی کے ساتھ ڈرتے ڈرتے کچھ معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں جو موجودہ عالمی صورتحال میں علماء کرام کی ذمہ داریوں کے حوالہ سے ہوں گی اور جن میں تین امور کو واضح کرنے کی کوشش کروں گا۔

  1. موجودہ حالات میں اسلام کی دعوت و تبلیغ کے حوالہ سے ضروریات کیا ہیں اور ہم اس سلسلہ میں کیا کر رہے ہیں؟
  2. عالمی استعمار کی فکری اور ثقافتی یلغار کے علمی و فکری پہلوؤں اور مغالطوں کی نشاندہی اور انہیں بے نقاب کرنے کے لیے ہم کیا کر رہے ہیں اور ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
  3. مغرب کے ذرائع ابلاغ جس طرح اسلام کی تصویر کو بگاڑ کر پیش کر رہے ہیں اس کو سامنے رکھتے ہوئے دنیا کے سامنے اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے کے لیے ہم کیا کر رہے ہیں؟

دعوتِ اسلام

جہاں تک دعوت اسلام کا تعلق ہے، اسلام عالمگیر مذہب ہے اور دعوت کا مذہب ہے۔ اس لیے دنیا کے ہر شخص تک اسلام کی دعوت پہنچانا اور پوری نسل انسانی کو اسلام کی تعلیمات سے متعارف کرا کے اسے اسلام کے دائرہ میں لانے کی کوشش کرنا ملت اسلامیہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے جس میں سب سے اہم کردار علماء کرام کا بنتا ہے۔ جبکہ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے سانحات کے بعد دنیا کے حالات میں عالمگیر تبدیلی کے ماحول میں دعوت اسلام کی اس ذمہ داری میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس کے دو پہلوؤں پر بطور خاص نظر رکھنی چاہیے۔

ایک یہ کہ گیارہ ستمبر کے بعد مغربی ممالک کے کتب خانوں میں اسلام اور قرآن کریم کے بارے میں موجود کتابیں بعض اخباری اطلاعات کے مطابق ہاتھوں ہاتھ بک گئی ہیں اور ان کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے بارے میں جاننے اور باخبر ہونے کی خواہش بڑھ رہی ہے اور اسلام کو سمجھنے کے خواہاں لوگوں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ ہمیں اس مانگ اور طلب کو محسوس کرنا چاہیے اور اسے پورا کرنے کے لیے سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے ورنہ مارکیٹ کی مانگ تو پوری ہو جایا کرتی ہے لیکن جو لوگ اس خلا کو پر کریں گے ان کے بارے میں آپ ہی کو شکایت ہوگی کہ یہ اسلام کے نام پر کیا پیش کیا جا رہا ہے؟

دوسرا پہلو یہ کہ اس وقت مغربی ممالک میں صورتحال یہ ہے کہ اسلام کی بات اگر سلیقے اور دانش مندی سے کی جائے تو نفع اٹھانے والے اور اس پر غور کرنے والے موجود ہیں۔ اور ابھی اس بات کی گنجائش دکھائی دے رہی ہے کہ آپ حکمت و دانش کے ساتھ اسلام کی بات کریں تو آپ کی بات کو سنا جائے اور اس پر غور بھی کیا جائے۔ لیکن صورتحال میں تبدیلی آ رہی ہے اور مغرب اور اسلام کے درمیان کشمکش اور فاصلے میں جس رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے اس کے پیش نظر میں نہیں سمجھتا کہ یہ فضا زیادہ دیر تک قائم رہے گی۔ اور شاید دو چار سال کے بعد آپ کو اسلام کی دعوت کے حوالہ سے اپنی بات کہنے اور لوگوں کو متوجہ کرنے کے لیے آج کی طرح کا سازگار ماحول نہ ملے۔ اس لیے میری رائے میں مغرب میں اسلام کی دعوت و تعارف کا یہ چانس خدانخواستہ آخری ہو سکتا ہے اور ہمیں اس کو کسی حال میں ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہاں کے دینی اور تعلیمی ادارے اس سلسلہ میں زیادہ کردار ادا کر سکتے ہیں اور ان کی ذمہ داری بھی زیادہ بنتی ہے۔ اس کے لیے میری تجویز یہ ہے کہ یہاں کی ضروریات، نفسیات اور ماحول کو سامنے رکھتے ہوئے اسلام کی بنیادی تعلیمات کا سادہ سا تعارف اور اس کے ساتھ اسلام کی دعوت کو اس ملک کے ہر فرد تک پہنچانے کے لیے منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اگر ہم اس کام کا سنجیدگی کے ساتھ ارادہ کر لیں اور اس کی صحیح طریقہ سے منصوبہ بندی کر لیں تو اس کے لیے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ درکار ہوگا۔ ہم ایک سال یا زیادہ سے زیادہ دو سال میں یہ کام کر سکتے ہیں اور میں یہاں کے علماء کرام، تعلیمی اداروں اور دینی مراکز سے اس پر سنجیدہ توجہ کی درخواست کر رہا ہوں۔

فکری اور ثقافتی یلغار

دوسرا مسئلہ عالمی استعمار کی فکری اور ثقافتی یلغار میں اس کی پیدہ کردہ نظریاتی و فکری گمراہیوں اور مغالطوں کا ہے جن کی نشاندہی علماء کرام کی ذمہ داری ہے لیکن ہمیں سرے سے اس کا ادراک ہی نہیں ہے۔ ہم صرف یہ واویلا کرنے اور شور کرنے پر قناعت کیے ہوئے ہیں کہ مغرب ہماری ثقافت کو برباد کر رہا ہے اور ہمارے دین و عقیدہ کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، لیکن عملی طور پر کیا ہو رہا ہے اور وہ کون سے مسائل ہیں جو گمراہی کا عنوان ہیں، ان کی طرف سرے سے توجہ نہیں ہے۔ ہم صرف مغرب کی ثقافتی یلغار کا شور مچا کر خوش ہیں کہ ہم اپنا فرض ادا کر رہے ہیں جو میرے نزدیک انتہائی سادہ لوحی کی بات ہے۔

دو عملی مسائل کے حوالہ سے اپنی بات واضح کرنا چاہوں گا۔ ایک تو گلوبلائزیشن کا مسئلہ ہے جو اس وقت دنیا کا سب سے بڑا موضوع ہے اور دنیا کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ نسل انسانی اور انسانی معاشرہ قومیت اور علاقائیت کے دائروں سے نکل کر اور زبان و نسل کے فرق سے بالاتر ہو کر عالمگیریت کی طرف بڑھ رہا ہے اور ایک مشترک عالمی معاشرہ تشکیل پا رہا ہے۔ جی ایٹ کے نام سے آٹھ سرمایہ دار ملکوں نے اس کی قیادت سنبھال رکھی ہے، وہ عالمگیریت اور بین الاقوامیت کے اس رجحان کو اپنی خواہشات اور پروگرام کے مطابق ڈھال کر پوری دنیا پر اپنی تہذیبی، تجارتی اور سیاسی بالادستی مسلط کرنے کے درپے ہیں، اور اس راہ میں حال ہونے والی ہر رکاوٹ کو قوت و طاقت کے ساتھ بلڈوز کر دینے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ بظاہر یہ عالمی معاشرہ قائم کرنے اور انسانوں کو قومیتوں اور علاقائیت کے دائروں سے نکال کر بین الاقوامیت کے وسیع دائرہ میں لانے کا پروگرام ہے لیکن دراصل یہ آٹھ سرمایہ دار اور طاقتور ملکوں کے مشترکہ پروگرام اور قیادت کو پوری دنیا پر مسلط کرنے کی منصوبہ بندی ہے جسے گلوبلائزیشن کے نام سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

میں اس حوالہ سے دو پہلوؤں کا بطور خاص تذکرہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ ایک یہ کہ یہ بات سراسر گمراہی اور مغالطہ آفرینی ہے کہ گلوبلائزیشن کا آغاز اب ہو رہا ہے اور جی ایٹ میں شامل ممالک دنیا کو اس سے متعارف کرا رہے ہیں۔ اس لیے کہ عالمگیریت اور گلوبلائزیشن کا آغاز اس زمین پر اسی وقت ہوگیا تھا جب جناب نبی اکرم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری نسل انسانی کے لیے بطور نبی مبعوث ہونے کا اعلان فرمایا تھا اور رنگ، نسل، زبان اور قومیت کے تمام دائروں کو توڑتے ہوئے پوری نسل انسانی کو ایک دین، نظام حیات اور فلسفہ زندگی کی لڑی میں پرو دیا تھا۔ اور یہ صرف نظری بات نہیں تھی بلکہ عملی طور پر خلفاء راشدینؓ کے دور سے ایک ایسی ریاست وجود میں آگئی تھی جس میں عرب، افریقہ اور ایشیا کے علاقے اور اقوام رنگ و نسل کے کسی امتیاز کے بغیر ایک نظام حیات اور ایک ہی نظام حکومت میں بھائیوں کی طرح شریک تھے۔ اور خلافت کا یہ تسلسل تیرہ صدیوں تک دنیا کے نقشے پر عملاً موجود رہا ہے۔

۱۹۲۴ء میں ختم ہونے والی ترکی کی خلافت عثمانیہ کو دیکھ لیجئے، اس کی تمام تر کمزوریوں اور خرابیوں کے باوجود اس میں آخر دم تک یورپ، ایشیا اور افریقہ کے بہت سے ممالک اور اقوام شامل رہی ہیں جو ایک ہی نظام حیات کے علمبردار تھے اور ایک ہی ریاستی سسٹم کے تحت زندگی بسر کر رہے تھے۔ مغرب نے سازشوں کے ذریعے اس کا خاتمہ کیا اور اب ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ تک دنیا کے نقشے پر موجود رہنے والی عالمگیریت کی نفی کر کے دنیا کو عالمگیریت کے آغاز کی نوید دی جا رہی ہے جو سراسر دھوکہ اور فراڈ ہے۔ کیونکہ عالمگیریت اور گلوبلائزیشن تو پہلے سے موجود ہے اور چودہ سو سال سے عملاً چلتی آرہی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اسلام کی عالمگیریت کی بنیاد وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات پر تھی اور آج مغرب کی طرف سے مسلط کی جانے والی عالمگیریت کی بنیاد انسانی خواہشات پر ہے کہ سوسائٹی کی اکثریت جو چاہے وہی قانون ہے اور وہی حلال و حرام کی بنیاد ہے۔ انسانی سوسائٹی کی اکثریت جسے چاہے جائز قرار دے اور جسے چاہے ناجائز قرار دے ڈالے، اس میں انسانی خواہشات کے سوا اور کسی بات کا دخل نہیں ہے اور نہ ہی وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات کا اس سے کوئی تعلق ہے۔

بلکہ یہاں تو بات اس سے بھی مختلف ہے اور جی ایٹ کی قیادت میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے فورم سے جو عالمگیریت دنیا پر زبردستی مسلط کی جا رہی ہے اس کی بنیاد نسل انسانی کی اجتماعی خواہشات پر بھی نہیں بلکہ صرف آٹھ ممالک کی بالادستی پر ہے اور غریب ممالک و اقوام پر سرمایہ دار اور طاقتور ملکوں کی اجارہ داری قائم کرنے پر ہے، مگر بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اسے گلوبلائزیشن اور عالمگیریت قرار دے کر مسلسل فروغ دیا جا رہا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون کا پہلا حصہ ہے، دوسرا حصہ دستیاب نہیں ہو سکا۔