امریکی مسلمانوں کا دین کی طرف رجوع

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۱ نومبر ۲۰۰۳ء

تقریباً ۴۸ روز کے قیام کے بعد گزشتہ ہفتے امریکہ سے واپسی ہوئی۔ ۱۸ ستمبر کو نیویارک پہنچا تھا اور ۴ نومبر کو شام واشنگٹن کے ڈلس ایئرپورٹ سے روانہ ہو کر ۶ نومبر کو صبح ۹ بجے کے لگ بھگ لاہور واپس پہنچ گیا۔ یہ سفر امریکی دارالحکومت کے نواح میں واقع دارالہدٰی، سپرنگ فیلڈ، ورجینیا کی دعوت پر کیا تھا جہاں سیرت النبیؐ کے مختلف پہلوؤں پر دس لیکچرز کے علاوہ متعدد دینی عنوانات پر سلسلہ وار خطابات کا پروگرام تھا۔ احباب کی فرمائش پر بخاری شریف، مسلم شریف اور مشکوٰۃ کے بعض ابواب کا درس دیا اور نماز تراویح میں چند پارے سنانے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس دوران نیویارک، بفلو، بالٹی مور، برمنگھم، بوسٹن، پراویڈنس اور دیگر شہروں میں جانے اور دینی اجتماعات میں شرکت کا موقع بھی ملا۔

۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے سانحہ کے بعد حالات میں جو تبدیلیاں آئی ہیں ان میں امریکہ کی داخلی صورتحال کے حوالے سے ایک تبدیلی یہ بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ عام مسلمانوں کا دین کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے اور اسلام کے خلاف میڈیا کی مسلسل مہم نے مسلمانوں کو یہ احساس دلا دیا ہے کہ وہ جہاں بھی ہوں اور جس حالت میں رہیں مسلمان کا لیبل ان پر بہرحال رہے گا اور مغرب انہیں اسی نظر سے دیکھے گا۔ اس کے اثرات یہ ہیں کہ مساجد میں رونق بڑھ رہی ہے اور مساجد کی تعداد کی کم پڑتی جا رہی ہے۔ اب سے تیرہ چودہ برس قبل جب میں یہاں آتا تھا تو اکا دکا مساجد تھیں اور گنتی کے نمازی ہوتے تھے جو بیس بیس میل سے سفر کر کے نماز کے لیے آیا کرتے تھے۔ لیکن اب صورتحال بہت مختلف ہے۔ دارالہدٰی کا یہی مرکز جس میں میرا قیام رہا اس زمانے میں الیگزینڈریا کے علاقے میں ایک بلڈنگ کے کرائے کے اپارٹمنٹ میں ہوتا تھا مگر اب سپرنگ فیلڈ کے تجارتی علاقے میں اہم راستوں کے سنگم پر خرید شدہ وسیع بلڈنگ میں قائم ہے۔ اس میں اسکول اور قرآن کریم کی تعلیم کے ساتھ ساتھ مسجد کی الگ بلڈنگ ہے اور نماز جمعہ کا بھی اہتمام ہے جس میں مسجد بھری ہوتی ہے اور خاصی تعداد میں خواتین بھی شریک ہوتی ہیں۔

دارالہدٰی کی مسجد میں جمعۃ المبارک کے پانچ یا چھ اجتماعات سے خطاب کرنے کا موقع ملا ، میرا خطاب اردو میں ہوتا ہے جو بحمداللہ تعالیٰ دلچسپی سے سنا جاتا ہے۔ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی بڑی تعداد ہے جو وہاں جمعہ پڑھنے آتی ہے۔ رش کی کیفیت کا اندازہ آپ اس بات سے کر سکتے ہیں کہ رمضان المبارک کا پہلا جمعہ تین بار ادا کرنا پڑا۔ مغربی ممالک میں مسجد سے باہر صفیں بچھا کر نماز ادا کرنے کی گنجائش نہیں ہوتی اس لیے زیادہ رش کی صورت میں جمعہ اور عید کی نماز مسجد کے ہال میں دو دو تین تین بار ادا کی جاتی ہے۔ مختلف خطباء نماز پڑھاتے ہیں اور الگ الگ اوقات کا اعلان ہوتا ہے جس کی وجہ سے علاقہ کے سب مسلمانوں کو باری باری نماز میں شرکت کا موقع مل جاتا ہے۔ ایک مرتبہ ساؤتھال لندن کی مرکزی مسجد کے دوستوں نے بتایا کہ گزشتہ عید الفطر کی نماز کا انہیں چار بار اہتمام کرنا پڑا حالانکہ وہ خاصی وسیع مسجد ہے۔ دارالہدٰی میں تراویح کے وقت بھی مسجد کا ہال تقریباً بھرا ہوتا تھا حالانکہ اس سال اس علاقے میں دو اور مقامات پر بھی تراویح کا اہتمام موجود تھا لیکن اس کے باوجود مسجد دارالہدٰی کی حاضری میں کوئی خاص کمی نہیں ہوئی۔ دارالہدٰی کے منتظم مولانا عبد الحمید اصغر نے بتایا کہ گزشتہ سال رمضان المبارک میں اس قدر رش تھا کہ کئی دوستوں کو جگہ نہ ملنے کی وجہ سے واپس جانا پڑتا تھا مگر اس سال دوسری جگہوں پر تراویح کا سلسلہ شروع ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کو سہولت ہوگئی ہے۔

ایک بات جو بطور خاص میں نے محسوس کی وہ یہ ہے کہ یہاں کے مسلمانوں میں دینی تعلیم کے حوالے سے تشنگی کا احساس دوسرے ممالک کی بہ نسبت زیادہ پایا جاتا ہے۔ عربی زبان، قرآن کریم کا ترجمہ اور حدیث نبویؐ کی کوئی نہ کوئی کتاب باقاعدہ پڑھنے کی خواہش رکھنے والے کئی دوست ملے جن کا تقاضہ تھا کہ ان کے لیے عربی گرائمر اور قرآن و سنت کے کسی مختصر کورس کا اہتمام کیا جائے مگر ڈیڑھ دو ماہ کے عرصہ میں کیا ہو سکتا تھا؟ میں نے محسوس کیا کہ اگر ان حضرات کے لیے سال یا دو سال کا کوئی کورس مرتب ہو اور شام کی کلاس کے طور پر تعلیمی نظام تشکیل دیا جائے تو بہت سے لوگ اس سے فائدہ اٹھانا چاہیں گے اور ایک مفید تعلیمی سلسلہ کا یہاں اجراء ہو سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں بعض اداروں کو میں نے مشورہ دیا ہے اور متعدد ادارے اس پر غور کر رہے ہیں۔

خواتین میں بھی دینی تعلیم کا رجحان بڑھ رہا ہے، یہاں کی بعض طالبات برطانیہ میں دینی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ امریکہ کے شہر بفلو میں بنات کی دینی تعلیم کا ایک معیاری ادارہ ہے جو شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی قدس اللہ سرہ العزیز کے خلیفہ مجاز حضرت ڈاکٹر محمد اسماعیل میمن مدظلہ کی نگرانی میں کام کر رہا ہے۔ طالبات کا ہاسٹل ہے اور درس نظامی کی باقاعدہ تعلیم ہوتی ہے۔ اس سال بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی نے دیا اور اس موقع پر مجھے بھی کچھ گزارش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ سپرنگ فیلڈ ورجینیا میں بھی اگلے سال سے ’’عالم کلاس‘‘ کا آغاز ہو رہا ہے اور اس کی تیاریاں جاری ہیں، شکاگو جانے کا مجھے اس بار اتفاق نہیں ہوا لیکن معلوم ہوا ہے کہ وہاں بھی خواتین کی دینی تعلیم کا ایک معیاری ادارہ موجود ہے۔

مجھ سے کئی دوستوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اپنے بچوں کو قرآن کریم حفظ کرانا چاہتے ہیں انہیں پاکستان میں ایسے مدارس کے بارے میں بتایا جائے جہاں وہ بچوں کو بھیج سکیں۔ میں نے گزارش کی کہ تعلیمی لحاظ سے تو حفظ قرآن کریم کے بہت سے اچھے اور معیاری مدارس موجود ہیں لیکن رہن سہن کے حوالہ سے امریکہ میں پرورش پانے والے بچوں کے لیے ماں باپ کے بغیر پاکستان کے مدارس میں رہنا مشکل ہوگا۔ اس لیے حفظ قرآن کریم کے لیے امریکہ میں ہی کوئی مناسب نظام قائم ہو تو بہتر ہوگا۔ ویسے مختلف جگہوں پر امریکہ میں قرآن کریم کی درسگاہیں کام کر رہی ہیں۔ نیویارک کے کوئینز کے علاقہ میں بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کا ادارہ ’’دارالعلوم نیویارک‘‘ میں نے خود دیکھا ہے جہاں حفظ قرآن کریم کا انتظام موجود ہے اور حفظ کلام پاک کی ایک کلاس سے میں نے ان کے استاذ کی فرمائش پر مختصر خطاب بھی کیا جس میں بچوں کو حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ اور حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے بچپن کے دور کے تعلیمی ذوق و شوق کے چند واقعات سنائے۔

سیاسی طور پر مسلمانوں میں عام طور پر یہ احساس دیکھنے میں آرہا ہے کہ گزشتہ صدارتی الیکشن میں مسلمانوں نے مجموعی طور پر جارج ڈبلیو بش کی حمایت کر کے غلطی کی ہے اور ان کی حمایت سے کامیاب ہونے والے صدر بش نے افغانستان اور عراق میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کیا ہے اور جس طرح عالمی سطح پر اسلام اور عالم اسلام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اس پر صدر بش کی حمایت کرنے والے مسلمانوں میں خاصی پریشانی پائی جاتی ہے۔ صدر بش نے اگرچہ اپنے خطابات میں یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ وہ اسلام کو دہشت گردی کا ذمہ دار نہیں سمجھتے اور ان کے نزدیک اسلام جمہوریت کا مخالف نہیں ہے لیکن امریکی مسلمانوں کے نزدیک اب ایسی باتوں کا کوئی وزن نہیں رہا۔ ڈیڑھ ماہ کے قیام کے دوران میری جس مسلمان سے بھی اس مسئلہ پر بات ہوئی اسے صدر بش سے شاکی پایا اور اس کی باتوں میں درپردہ یہ عزم جھلکتا دکھائی دیا کہ امریکی مسلمان آئندہ صدارتی الیکشن میں گزشتہ غلطیوں کی تلافی کر دیں گے۔ صدر بش کی عمومی حمایت میں بھی مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے اور عام تاثر یہی پایا جاتا ہے کہ اگر اس دوران کوئی بہت بڑی تبدیلی واقع نہ ہوئی تو جارج ڈبلیو بش کا امریکہ کا آئندہ صدارتی الیکشن میں کامیاب ہونا مشکل ہے۔

۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد امریکہ میں مقیم مسلمانوں بالخصوص عربوں اور پاکستانیوں کے خلاف جو وسیع تر ہنگامی اقدامات کیے گئے تھے ان کی وجہ سے بہت سے مسلمان امریکہ چھوڑ گئے ہیں۔ نیویارک کا بروک لین کا علاقہ جو ’’منی پاکستان‘‘ کہلاتا تھا اس کا خاص طور پر نشانہ بنا ہے اور ہزاروں پاکستانیوں کو مختلف وجوہ کے باعث وہاں سے جانا پڑا ہے۔ لیکن اب حالات میں کسی حد تک بہتری آئی ہے اور مسلمان اپنے معمولات کی طرف دھیرے دھیرے واپس لوٹ رہے ہیں۔ مگر یہ بات بھی محسوس کی جا رہی ہے کہ مسلمانوں کی حوصلہ شکنی اور غیر قانونی طور پر رہنے والے مسلمانوں کے بارے میں اداروں کی سابقہ پالیسی کی تبدیلی کے ضمن میں جو اقدامات ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد ہنگامی انداز میں کیے گئے تھے انہیں اب باقاعدہ قانونی شکل دی جا رہی ہے اور ایسے قوانین و ضوابط سامنے آرہے ہیں جو پالیسی اور طرز عمل کی اس تبدیلی کو مستقل حیثیت دے دیں گے۔

مجھ سے وہاں کئی محافل میں یہ سوال ہوا کہ امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے؟ میرا جواب ہر جگہ یہی تھا کہ وہی جو یہودی کر رہے ہیں۔ یہودیوں کی تعداد اب امریکہ میں مسلمانوں سے زیادہ نہیں رہی۔ اب سے پون صدی قبل تک ان کی صورتحال بھی یہی تھی جو اب مسلمانوں کی ہے لیکن انہوں نے باقاعدہ سوچ بچار کر کے منصوبہ بندی کی اور اس کے لیے مسلسل محنت کی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ آج امریکہ میں سب سے مضبوط سیاسی اور معاشی قوت کی حیثیت رکھتے ہیں اور ہر فیصلہ اور پالیسی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مسلمان شاید اتنا کچھ تو نہ کر سکیں لیکن اس قدر محنت ضرور کر سکتے ہیں کہ توازن قائم ہو جائے اور امریکی رائے عامہ یکطرفہ طور پر یہودیوں کی یرغمال نہ بنی رہے۔ مسلمان اگر ہوشمندی اور محنت کے ساتھ کسی حد تک توازن قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو موجودہ صورتحال میں نمایاں تبدیلی واقع ہو سکتی ہے۔