امریکہ میں قادیانی سرگرمیوں کی ایک جھلک

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۷ اگست ۲۰۰۸ء
اصل عنوان: 
شاید کہ اتر جائے کسی دل میں میری بات

۲ اگست اتوار سے میں امریکہ میں ہوں۔ گزشتہ سال دارالعلوم نیویارک کے مہتمم بھائی برکت اللہ نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ اگلے سال آپ آئیں گے تو کم از کم ایک ہفتہ ہمارے پاس رہیں گے۔ بھائی برکت اللہ ایک عرصہ سے دارالعلوم نیویارک کے نام سے حفظ قرآن کریم اور درس نظامی کے ایک مدرسہ کا نظام چلا رہے ہیں، بہت باذوق اور زندہ دل دوست ہیں اور برصغیر کے کسی بھی ملک کے علماء کرام کو کسی نہ کسی بہانے دارالعلوم میں لانے کے بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں۔ چنانچہ میں نے بھی ان سےوعدہ کر لیا کہ ایک ہفتہ ان کے پاس رہوں گا اور انہوں نے میری مصروفیت یہ طے کی کہ درس نظامی کے طلبہ کا اس وقت تک روزانہ امتحان لیتا رہوں۔ اس دوران دارالعلوم نیویارک میں روزانہ تین چار کتابوں کا امتحان ہوتا ہے جس میں تین گھنٹے کے لگ بھگ مصروفیت رہتی ہے، باقی وقت دارالعلوم کی لائبریری میں، دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں یا کسی دوست کے پاس جا کر گزار دیتا ہوں۔

دارالعلوم نیویارک میں ہمارے گوجرانوالہ کے پرانے دوست اور ساتھی مولانا حافظ اعجاز احمد بھی استاذ ہیں، جامعہ اشرفیہ لاہور کے فضلاء میں سے ہیں اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں بھی تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں۔ ایک روز میں ان کے بیٹے حافظ جواد اعجاز کا موقوف علیہ کے اسباق مشکوٰۃ، ہدایہ اور جلالین کا امتحان لے رہا تھا کہ مولانا اعجاز احمد آگئے اور مجھے مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ آپ میرے بیٹے کا جن کتابوں کا امتحان لے رہے ہیں، آپ کے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم نے آج سے اکتیس برس قبل ۱۹۷۷ء میں جامعہ فاروقیہ شیخوپورہ میں میرا انہی کتابوں کا امتحان لیا تھا۔ بھائی برکت اللہ یہ بات سن رہے تھے وہ کہنے لگے کہ یہ دیکھو باپ نے باپ کا جن کتابوں کا امتحان لیا تھا بیٹا بیٹے سے انہی کتابوں کا امتحان لے رہا ہے۔ اور یہ بھی دیکھو کہ باپ نے امتحان کس جگہ لیا تھا اور بیٹا کس جگہ مشکوٰۃ، ہدایہ اور جلالین کا امتحان لے رہا ہے۔

اس پر مولانا حافظ اعجاز احمد نے مجھے میرا ایک پرانا خواب یاد دلایا جو میں نے انہیں کسی زمانے میں سنایا تھا۔ کم و بیش ربع صدی پہلے کی بات ہے میں نے خواب میں دیکھا کہ گوجرانوالہ میں جی ٹی روڈ پر شیرانوالہ باغ سے باہر ایک گٹر کے پاس بیٹھا ہوں، گٹر بظاہر گندے پانی کا ہے مگر اس کے ڈھکن سے پانی ابل رہا ہے اور میں اس سے وضو کر رہا ہوں۔ بازو دھونے تک وضو کر لیا تو اچانک ذہن میں جھٹکا سا محسوس ہوا کہ کس جگہ بیٹھ کر کس پانی سے وضو کر رہا ہوں؟ میں نے ہاتھ روک لیے تھوڑی دیر تردد کیا پھر وہ پانی دونوں ہاتھوں کے چلو میں لے کر غور سے دیکھا تو پانی بالکل صاف شفاف تھا۔ میں نے تردد کو جھٹک دیا اور وضو مکمل کر لیا۔ اس خواب کا میں نے حضرت والد محترم سے ذکر کیا تو فرمایا کہ کسی غلط جگہ بیٹھ کر صحیح کام کرنے کی توفیق ہوگی۔ مولانا اعجاز احمد کے توجہ دلانے پر وہ خواب ذہن میں پھر تازہ ہوگیا، فالحمد للہ علیٰ ذلک۔

گزشتہ روز میں شام کے وقت مولانا عبد الرزاق عزیز کے ہاں چلا گیا تھا اور رات ان کے پاس گزاری۔ وہ ہزارہ سے تعلق رکھتے ہیں، کراچی میں شیر شاہ کی جامع مسجد طور کے ایک عرصہ تک خطیب رہے ہیں، جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم راہنماؤں میں ان کا شمار ہوتا تھا بلکہ ۱۹۹۰ء میں جب میں نے جمعیۃ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات کے منصب سے استعفیٰ دیا تو میری جگہ انہی کو جمعیۃ کا مرکزی سیکرٹری اطلاعات منتخب کیا گیا۔ ہزارہ سے ایک بار قومی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑا اور اچھے خاصے ووٹ حاصل کر لیے لیکن جب سے دینی سیاست مسجد کے حجروں سے فائیو اسٹار ہوٹلوں کے کمروں میں، پبلک ٹرانسپورٹ سے لگژری گاڑیوں میں اور کھلے بندوں آزادانہ نقل و حرکت سے کلاشنکوفوں او رپہرہ داریوں کے حصار میں منتقل ہوئی ہے کسی مشنری کارکن کے لیے ان سارے نخروں کا بوجھ اٹھانا ممکن ہی نہیں رہا، مولانا عبد الرزاق عزیز کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ چنانچہ وہ کئی برسوں سے لانگ آئی لینڈ نیویارک کے سلڈن اسلامک سینٹر میں امام و خطیب کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور ’’فائیو اسٹار سیاست‘‘ کے لگائے ہوئے زخموں کو سہلانے میں مصروف ہیں۔ کافی عرصہ کے بعد ہم نے ایک دن اکٹھے گزارا خوب گپ شپ ہوئی پرانی یادیں تازہ کیں ملک کے تازہ ترین حالات پر ایک دوسرے سے تعزیت کی اور دل کے پھپھولے پھوڑ کر غم ہلکا کیا۔ کہنے لگے کہ آپ نے متحرک سیاست سے کنارہ کشی کا فیصلہ بہت بروقت کر لیا تھا۔ میں نے عرض کیا کہ میری یہ عادت ہے کہ کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اس کی ’’فزیبلٹی‘‘ چیک کر لیا کرتا ہوں کہ اپنی صلاحیتوں، وسائل اور مواقع کے دائرے میں یہ کام کر سکوں گا یا نہیں؟ اور اگر مجھے محسوس ہو کہ یہ کام میں نہیں کر سکوں گا تو خواہ وہ کام کتنا ہی ضروری کیوں نہ دکھائی دیتا ہو ’’لا یکلف اللہ نفساً الا وسعھا‘‘ کا ارشاد باری تعالیٰ یاد کر کے اس سے صاف معذرت کر دیا کرتا ہوں اور اس ذوق و عادت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں۔

یہاں پاکستانی اخبارات تو میسر نہیں آتے البتہ وقتاً فوقتاً ٹی وی پر پاکستانی چینلز کی خبریں دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔ کوئی دوست انٹرنیٹ پر کسی پاکستانی اخبار کی جھلک دکھا دیتا ہے اور پاکستانی کمیونٹی میں شائع اور تقسیم ہونے والے درجن بھر ہفتہ وار اخبارات سے بھی کچھ نہ کچھ معلومات ملتی رہتی ہیں۔ ان اخبارات کا بیشتر حصہ اشتہارات پر مشتمل ہوتا ہے اور یہ پاکستانی اسٹوروں پر مفت تقسیم ہوتے ہیں لیکن بہرحال کچھ کام کی خبریں اور رپورٹیں بھی ان کے ذریعے میسر آجاتی ہیں۔ گزشتہ روز ایک ساتھی سے کہا تو وہ کسی پاکستانی اسٹور سے چھ سات بھاری بھر کم اخبارات اٹھا لایا۔ ان پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے معلوم ہوا کہ قادیانی حضرات پھر سے اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ان کے اجتماعات کی رپورٹیں، بیانات اور اشتہارات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ قادیانی مسئلہ سے امریکہ میں مقیم مسلمانوں کی بے خبری سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے موڈ میں ہیں۔ ان کی طرف سے دو اخباروں میں پورے صفحہ کا ایک اشتہار شائع ہوا جس میں کہا گیا ہے کہ وہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت اور قرآن کریم کے آخری کتاب ہونے پر یقین رکھتے ہیں، کسی ایسی نئی وحی کے قائل نہیں ہیں جو دین میں کوئی تبدیلی لاتی ہو، خدا نے ان پر ’’ختم نبوت‘‘ کی حقیقت کو کھولا ہے جبکہ ان کے مخالفوں نے صرف ختم نبوت کا نام سن رکھا ہے اور وہ اس کے معنٰی اور حقیقت کو سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ قادیانی جماعت دنیا کے پانچوں براعظموں کے ایک سو نوے ممالک میں قائم ہے اور مسلم احمدیہ ٹی وی کی چوبیس گھنٹے کی نشریات دنیا بھر میں ہر وقت اسلام کا اصلی چہرہ دکھاتی ہیں، محبت سب سے اور نفرت کسی سے نہیں وغیرہ وغیرہ۔

ظاہر ہے کہ یہ باتیں ایسے مسلمانوں کو متاثر کرنے کے لیے کافی ہیں جو قادیانیوں کے اصل لٹریچر اور ان کی صد سالہ تاریخ و کردار سے واقف نہیں ہیں اور مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی غالب اکثریت کی کیفیت یہی ہے کہ دوسری طرف مسلمان حلقوں میں یہاں اس حوالے سے کوئی محنت دکھائی نہیں دے رہی۔ مجھے اخبارات میں شائع ہونے والی قادیانیوں کی ایک درجن کے لگ بھگ رپورٹوں کے ساتھ صرف دو مسلمان علماء کرام مولانا حافظ غلام یاسین قادری رضوی اور مولانا مفتی عبد الرحمان قمر کے دو مختصر مضامین دکھائی دیے جن میں قادیانیوں کے اصل عقائد اور کردار کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

قادیانی جماعت کے لب و لہجہ کا اندازہ جماعت احمدیہ برونکس کے صدر نذیر احمد چیمہ کے اس بیان سے کیا جا سکتا ہے جو ہفت روزہ ’’پاکستان پوسٹ‘‘ نیویارک کی ۳۱ جولائی تا ۱۶ اگست ۲۰۰۸ء کی اشاعت میں شائع ہوا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ

’’پاکستان بنانے والی جماعت احمدیہ کی نسل کشی کی جا رہی ہے اور تحریک پاکستان کی مخالف جماعتوں کو پاکستان میں دوسرے فرقوں پر مسلط کیا جا رہا ہے۔ نہ تو ہمارے بچوں کو اسکولوں کالجوں میں داخلے دیے جا رہے ہیں او رنہ ہی ہمارے ملازمین کو دوسرے فرقوں کےملازمین کے ساتھ ترقیاں اور مراعات دی جا رہی ہیں۔ ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جماعت کے ساتھ بے انصافی کو ختم کر کے حقوق بحال کیے جائیں اور ستمبر ۱۹۷۴ء کے فیصلے کی مکمل رپورٹ شائع کی جائے تاکہ دنیا کو پتہ چل سکے کہ مسلمان کون اور غیر مسلم کون ہے؟‘‘

میں نے اس سلسلہ میں یہاں کے متعدد علماء کرام سے بات کی ہے اور ان سے عرض کیا ہے کہ حالات کی نامساعدت کا مجھے بھی احساس ہے لیکن بالکل خاموشی درست نہیں ہے۔ قانون اور معروضی حالات کے دائرے میں رہتے ہوئے یہاں کے مسلمانوں بالخصوص ان کی نئی نسل کو مثبت انداز میں اصل حقائق سے باخبر کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ تو کیا ہی جا سکتا ہے اور جو کچھ کیا جا سکتا ہے اس سے گریز اور پہلوتہی جائز نہیں ہے۔ اور میری اس گزارش پر امریکہ میں مقیم مسلمان علماء کرام کے ساتھ ساتھ پاکستان میں تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والی جماعتوں کو بھی ضرور توجہ دینی چاہیے۔

شاید کہ اتر جائے کسی دل میں مری بات