’’وار آن ٹیرر‘‘ کی قانونی و اخلاقی پوزیشن کا سوال

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۶ ستمبر ۲۰۰۸ء

میں امریکہ سے حسب معمول رمضان المبارک کے دوسرے جمعۃ المبارک کو گوجرانوالہ واپس پہنچ گیا تھا۔ امریکہ میں اپنے چالیس روزہ قیام کے دوران وہاں کے دوستوں کے تاثرات سے اس کالم میں قارئین کو آگاہ کرتا رہا ہوں۔ آخری چار روز میں نیویارک میں رہا، یہ دن وہ تھے جب جناب آصف علی زرداری ملک کے صدر منتخب ہو چکے تھے اور ان کی حلف برداری ہو رہی تھی۔ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کے تاثرات بھی اسی طرح کے ہیں جیسے یہاں ہیں، البتہ ایک فرق ہے کہ وہاں ملکی سیاسیات اور اس میں بیرونی دلچسپیوں اور مداخلت کا منظر زیادہ واضح دکھائی دیتا ہے۔ مجھے جتنے دوست بھی ملے کم و بیش سب ہی نے منفی تاثر کا اظہار کیا، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ میرا میل جول زیادہ تر مذہبی حلقوں اور افراد سے رہا ہے اور مذہبی حلقے گزشتہ انتخابات کے بعد پاکستان کی قومی سیاست اور ملکی پالیسیوں میں جن تبدیلیوں کی خواہش یا توقع کر رہے تھے، زرداری صاحب اور پیپلز پارٹی کی طرف سے ان کے بارے میں مثبت اور حوصلہ افزا رویہ سامنے نہیں آیا۔ ایک مجلس میں بعض دوستوں نے کہا کہ ہمیں تو اس کے سوا کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی کہ تھکے ہوئے گھوڑے کی جگہ تازہ دم گھوڑا آگیا ہے جبکہ سوار وہی ہے اور اس کا رخ بھی اسی جانب ہے جدھر پہلے تھا۔ ایک صاحب نے یہی بات دوسرے انداز میں کہی کہ ایجنڈا وہی ہے صرف ٹیم تبدیل ہوئی ہے۔

بہرحال ابھی تک تو حالات کا رخ اسی جانب ہے اور رفتار بھی قدرے تیز ہوگئی ہے لیکن بعض حلقوں میں امید کی یہ شمع ابھی تک روشن ہے کہ چونکہ آصف علی زرداری صاحب منتخب صدر ہیں، جمہوری و دستوری راستے سے آئے ہیں، ایک واضح منشور رکھنے والی قومی سیاسی پارٹی کی نمائندگی کرتے ہیں، انہیں معلوم ہے کہ حالیہ انتخابات میں عوام نے سابق صدر پرویز مشرف کی پالیسیوں کو اکثریت کے ساتھ مسترد کر دیا ہے اور ان کے ساتھ حکمران اتحاد میں دوسری سیاسی جماعتیں بھی شریک ہیں اس لیے انہیں کچھ نہ کچھ تبدیلی تو لانا ہی ہوگی اور عوام کو بہرحال کسی نہ کسی انداز میں یہ بتانا ہوگا کہ وہ جنرل پرویز مشرف سے مختلف طرز کے صدر ہیں اور ان کی پالیسیاں اور ترجیحات بھی جنرل پرویز مشرف سے الگ ہیں۔ دیکھیں صدر زرداری اس کے لیے کیا کرتے ہیں اور ان کے اتحادی عوامی انتخابات میں کھلم کھلا ظاہر ہونے والے عوامی مینڈیٹ کے ساتھ چلنے کے لیے انہیں کس حد تک تیار کر پاتے ہیں۔ ہماری دعا تو یہی ہے کہ خدا کرے کہ صدر زرداری عوامی امیدوں، دستوری تقاضوں اور قومی مفادات کی بہتر طور پر پاسداری کر سکیں اور اللہ تعالیٰ اور پاکستانی قوم کے سامنے سرخرو ہوں، آمین یا رب العالمین۔

جناب آصف علی زرداری کے صدارت سنبھالنے کے بعد ملک کے اندر خودکش حملوں اور ملک کی سرحدوں کے اندر ڈرون حملوں اور رات کی تاریکی میں جاسوس امریکی طیاروں کی خلاف ورزیوں میں تیزی آئی ہے۔ گورنر سرحد جناب اویس غنی نے گزشتہ روز ایک پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نظریاتی محاذ پر خاموشی ہے۔ اور ہمارے ایک محترم دانشور جناب مجیب الرحمان شامی صاحب نے فرمایا ہے کہ علماء کرام کو خودکش حملوں کے حرام ہونے کا فتویٰ دینا چاہیے۔ مجھے ان دونوں بزرگوں کی بات سے اتفاق ہے اور میں بھی یہ چاہتا ہوں کہ ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کے نام پر لڑی جانے والی اس جنگ کا نظریاتی منظر واضح ہونا چاہیے اور ملک کے پر امن شہریوں اور نہتے عوام کا خودکش حملوں کے ذریعے قتل عام کرنے کے عمل کی سختی کے ساتھ مذمت کی جانی چاہیے۔ لیکن دونوں بزرگوں سے یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ دونوں باتیں درست ہونے کے باوجود یکطرفہ اور ثانوی ہیں جبکہ ان سے قبل یہ ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے والی قوتیں ’’دہشت گردی‘‘ کی تعریف متعین کریں اور اس کی حدود واضح کریں۔ انہوں نے تو دہشت گردی کی تعریف اور اس کی حدود کے تعین کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے خود ہی ابہام قائم رکھا ہوا ہے۔ اس لیے جب ایک طرف سے لڑنے والے اندھیرے میں لڑنے کو ترجیح دے رہے ہیں تو دوسری طرف کے لڑنے والوں سے روشنی میں آنے کا مطالبہ کیوں کیا جا رہا ہے؟

جناب اویس غنی صاحب سے گزارش ہے کہ وہ با اختیار ہیں، اقوام متحدہ سے رجوع کریں اور اس سے مطالبہ کریں کہ وہ دہشت گردی کی تعریف طے کرے اور دہشت گردی اور جنگ آزادی کی حدود میں فرق واضح کرے۔ اس کے بعد اقوام متحدہ ہی ایک بین الاقوامی کمیشن قائم کر کے تحقیقات کرائے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی اس جنگ کی قانونی اور اخلاقی حیثیت کیا ہے؟ جناب اویس غنی اگر اس جنگ کے نظریاتی منظر کو واضح کرنے کے لیے دونوں فریقوں سے بات کریں اور دونوں کو اپنی اپنی نظریاتی اور اخلاقی پوزیشن واضح کرنے کے لیے کہیں تو یہ بات زیادہ قرین انصاف ہوگی۔

اسی طرح خودکش حملوں کا مسئلہ بھی ہے۔ بلاشبہ خودکش حملوں میں بے گناہ اور معصوم اور نہتے شہریوں کی ہلاکت انتہائی قابل مذمت ہے۔ اس کی کسی درجہ میں بھی حمایت نہیں کی جا سکتی لیکن دہشت گردوں کو کچلنے کے نام پر بے گناہ شہریوں کی ہلاکت اور غیر متعلقہ لوگوں پر آگ برسانے کا عمل بھی اس درجہ میں قابل مذمت ہے اور عقل و دانش کا تقاضا ہے کہ اس معاملہ میں بھی توازن اور اعتدال کو برقرار رکھا جائے اور کسی بھی حوالہ سے یکطرفہ بات سے گریز کیا جائے۔

امریکہ سے واپسی کے بعد ایک ہفتہ کے لگ بھگ گکھڑ میں معارف اسلامیہ اکادمی کے زیراہتمام سالانہ دورۂ تفسیر قرآن کریم میں مصروفیت رہی۔ ہر سال شعبان اور رمضان المبارک میں ترجمہ قرآن کرم کا یہ دورہ ہوتا ہے۔ ہمارے فاضل دوست مولانا داؤد احمد میواتی اور دوسرے علماء کرام پڑھاتے ہیں، دو تین پارے میرے لیے چھوڑ دیے جاتے ہیں جو میں واپس آکر رمضان المبارک کے دوسرے ہفتے میں پڑھاتا ہوں، اس سال میری فرمائش پر سورہ بقرہ چھوڑ دی گئی تھی جو میں نے پڑھائی، اور فہم قرآن کریم کے بنیادی اصول اور انسانی حقوق کے عالمی چارٹر پر کچھ محاضرات بھی ہوئے۔ اس کے بعد رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی مصروفیات اور تراویح میں ختم قرآن کریم کی تقریبات کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور بحمد اللہ تعالیٰ رمضان المبارک خوب بھاگ دوڑ اور گہما گہمی میں گزر رہا ہے۔

رمضان المبارک کے بعد الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں درس نظامی کے فضلاء کے لیے خصوصی تربیتی کورس کے آغاز کی تیاری ہو رہی ہے۔ یہ کورس ایک سال کے دورانیہ کا ہوتا ہے جو شوال کے وسط میں شروع ہو کر رجب کے آخر تک مکمل ہو جاتا ہے۔ ہم نے تین چار سال تک یہ کورس کیا تھا جس میں بہت سے فضلاء درس نظامی نے شرکت کی۔ ان میں سے بیشتر حضرات کا کہنا ہے کہ انہیں بہت فائدہ ہوا ہے اور ہمارا خیال بھی ہے کہ ہم نے تجربہ حاصل کیا ہے۔ گزشتہ دو سال بعض انتظامی اعذار کی وجہ سے کلاس نہ ہو سکی جبکہ اس سال رمضان المبارک کے بعد یہ کورس دوبارہ شروع کرنے کا پروگرام بنایا گیا ہے۔

اس کورس کا بنیادی ہدف درس نظامی کے فضلاء میں لکھنے پڑھنے اور مطالعہ و تحقیق کا ذوق بیدار کرنا اور اس کے لیے ان کی راہنمائی کے ساتھ ساتھ عملی ٹریننگ کا اہتمام کرنا ہے۔ اس کے علاوہ تاریخ عالم اور تاریخ اسلام کا مطالعہ، معاشیات، نفسیات اور سیاسیات کا تعارفی مطالعہ، معاصر ادیان و مذاہب، افکار و نظریات اور مغربی فلسفہ و ثقافت کا تعارف، کمپیوٹر سائنس اور انگریزی و عربی بول چال کی مشق بھی تعلیمی پروگرام کا حصہ ہوگا۔ جبکہ میرے ذمہ حجۃ البالغہ کے منتخب ابواب، مؤطا امام مالکؒ، نیز انسانی حقوق کے عالمی چارٹر اور بین الاقوامی ثقافتی معاہدات کے تناظر میں بنیادی اسلامی احکام و قوانین کی تدریس ہوگی۔ پروگرام کے مطابق ۱۵ شوال المکرم تک کلاس کا آغاز کر دیا جائے گا ان شاءا للہ تعالیٰ، جس کے لیے مطالعہ و تحقیق کا ذوق رکھنے والے درس نظامی کے فضلاء رمضان المبارک کے دوران مزید معلومات کے لیے پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک (فون ۰۳۴۵۶۲۸۹۶۲۷) یا حافظ محمد سلمان (فون ۰۳۰۲۶۷۶۲۳۶۶) سے رابطہ کر سکتے ہیں، یا الشریعہ اکادمی پوسٹ بکس ۳۳۱ جی پی او گوجرانوالہ کی معرفت ان میں سے کسی کو خط لکھ سکتے ہیں۔