ہجرت و پناہ گزینی، کل اور آج

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۷ جولائی ۲۰۱۱ء

ہفت روزہ ’’پاکستان پوسٹ‘‘ نیویارک نے جون ۲۰۱۱ء کے آخری شمارے میں پناہ گزینوں کے بارے میں اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن کی سالانہ رپورٹ کی کچھ تفصیلات شائع کی ہیں جو پناہ گزینوں کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں اس وقت ایک کروڑ پچپن لاکھ افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسرے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہیں اور ان پناہ گزینوں میں سے ۸۰ فیصد کے میزبان غریب ممالک ہیں۔ جبکہ ۲۰۱۰ء کے دوران پونے تین کروڑ افراد اندرون ملک نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور ساڑھے آٹھ لاکھ سے زائد افراد نے مختلف ممالک میں سیاسی پناہ طلب کی۔ رپورٹ کے مطابق ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ پناہ گزینوں میں سے ایک چوتھائی سے زیادہ افراد پاکستان، ایران اور شام میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور پاکستان میں دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ پناہ گزین مقیم ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزیناں انتو نیوگزز کا کہنا ہے کہ اگرچہ ترقی یافتہ مغربی ممالک پناہ گزینوں کی ممکنہ آمد کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے رہتے ہیں لیکن ان کے یہ خدشات درست نہیں کیونکہ دنیا میں پناہ گزینوں کا زیادہ تر بوجھ غریب ممالک ہی اٹھا رہے ہیں۔ ہائی کمشنر کے بقول اگرچہ بڑے پیمانے پر نقل مکانی سے مسائل کھڑے ہوتے ہیں لیکن مغربی ممالک حالات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں کیونکہ وہ خود بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ۱۹۵۰ء میں کمیشن کے قیام کے بعد سے حالات بہت بدل چکے ہیں۔ اس وقت دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد اکیس لاکھ تھی مگر اب ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ افراد نقل مکانی کر کے دوسرے ملکوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ان میں اگر اندرون ملک نقل مکانی پر مجبور ہونے والوں کو بھی شامل کیا جائے تو یہ تعداد چار کروڑ سینتیس لاکھ تک جا پہنچتی ہے اور سیاسی پناہ طلب کرنے والوں کی تعداد ساڑھے آٹھ لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں پناہ گزینوں کی ایک تہائی تعداد فلسطینیوں کی ہے جو پچاس لاکھ کے لگ بھگ کی تعداد میں دنیا کے مختلف حصوں میں قیام پذیر ہیں۔ ان کے بعد بیس فیصد افغانستان کے لوگ ہیں جن کی زیادہ تر تعداد پاکستان اور ایران میں ہے۔ پھر عراق سے سترہ لاکھ، صومالیہ سے سات لاکھ ستر ہزارہ اور کانگو سے پونے پانچ لاکھ پناہ گزین ہمسایہ ممالک میں ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہمسایہ ممالک اکثر ان پناہ گزینوں کو اپنے ہاں سیاسی پناہ نہیں دیتے جس سے وہ ان معاشروں میں ضم نہیں ہو پاتے اور ان کی مشکلات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ پناہ دینے والے غریب ممالک کی سخاوت قابل تعریف ہے اس لیے کہ ان میں اکثر وہ ممالک ہیں جن کے وسائل خود ان کی آبادی کے لیے بھی کافی نہیں ہیں۔

ہجرت اور پناہ گزینی کی تاریخ بہت پرانی ہے اور عام طور پر تین چار باتیں اس کے بڑے اسباب کے طور پر شمار کی جاتی ہیں:

  1. اپنے عقیدہ و ایمان کے مطابق زندگی بسر کرنے میں رکاوٹ کی وجہ سے بہت سے لوگ ترک وطن پر مجبور ہوتے ہیں اور ہماری شرعی اصطلاح میں اسے ’’ہجرت‘‘ کے عنوان سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
  2. معاشی تنگی، قحط سالی اور ضروریات زندگی فراہم نہ ہونے کی وجہ سے لوگ ترک وطن پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
  3. سیاسی مخالفین کے تسلط، ریاستی جبر اور خانہ جنگی کے باعث بھی بہت سے لوگوں کو وطن چھوڑنا پڑتا ہے۔
  4. بہتر معاش کی تلاش میں لوگ دوسرے وطن میں جا بستے ہیں لیکن اس آخری صورت کو پناہ گزینی کے دائرے میں شمار نہیں کیا جاتا کیونکہ یہ اختیاری ہوتی ہے اور جبر یا دباؤ کا عنصر اس میں شامل نہیں ہوتا۔

سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بابل کے حکمران نمرود اور اپنے والد آذر کے جبر سے مجبور ہو کر اپنے عقیدہ اور ایمان کی خاطر فلسطین کی طرف ہجرت کی تھی۔ جس میں ان کی اہلیہ محترمہ حضرت سارہؓ اور بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام ان کے ساتھ تھے جبکہ راستہ میں مصر کے بادشاہ کی طرف سے ہدیہ کی جانے والی حضرت ہاجرہؓ بھی اس قافلہ کا حصہ بن گئی تھیں۔ قرآن کریم نے اس ہجرت کی وجہ کے طور پر وہ مکالمہ بیان کیا ہے جو باپ اور بیٹے یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے والد آذر کے درمیان ہوا تھا اور جس میں توحید کی دعوت دینے پر باپ نے بیٹے کو دھمکی دی تھی کہ مجھے میرے حال پر چھوڑ دے ورنہ میں تجھے سنگسار کر دوں گا۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ کو الوداعی سلام کہہ کر گھر سے رخصت ہوگئے تھے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنے خاندان بنی اسرائیل کی حمایت میں حکمران خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک قبطی کے بلا ارادہ قتل ہوجانے پر اپنی جان کے تحفظ کے لیے وطن چھوڑنا پڑا تھا۔ اور وہ دس سال تک مدین میں حضرت شعیب علیہ السلام کی خدمت میں رہنے کے بعد ان کی دختر سے شادی کر کے وطن واپس پلٹے تھے اور راستے میں کوہِ طور پر نبوت سے سرفراز ہوئے تھے۔

بابل کے حکمران بخت نصر نے بیت المقدس پر حملہ کر کے اسے تاخت و تاراج کر دیا تھا اور مقدس عبادت گاہ سمیت پورے شہر کو ملیا میٹ کر کے ہزاروں یہودیوں کو قیدی بنا کر بابل لے گیا تھا جو ’’جبری ہجرت‘‘ کی ایک شکل تھی۔

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب قرآن کریم اور توحید کی طرف دعوت دینے پر اہل مکہ نے ظلم و ستم کا بازار گرم کر دیا اور آنحضرتؐ کے ساتھ آپؐ کے ساتھیوں کو بھی مسلسل ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا تو صحابہ کرامؓ کی اچھی خاصی تعداد جناب نبی کریمؐ کے حکم پر حبشہ کی طرف ہجرت کر گئی تھی جہاں کے عیسائی بادشاہ اصحمہؓ نے نہ صرف انہیں سیاسی پناہ دی اور انہیں واپس لے جانے کے لیے آنے والے قریش کے وفد کو ناکام واپس کر دیا بلکہ جناب رسول اللہؐ کی تعلیمات اور قرآن کریم سے متاثر ہو کر اسلام بھی قبول کر لیا تھا۔

پھر مدینہ منورہ (یثرب) کی طرف جناب رسول اکرمؐ اور آپؐ کے ساتھیوں کی ہجرت تو اسلامی تاریخ کا ایک انتہائی روشن باب ہے جس کے نتیجے میں پہلی باقاعدہ اسلامی ریاست قائم ہوئی اور رفتہ رفتہ یہ بستی پوری دنیائے عرب کا سب سے بڑا سیاسی اور تہذیبی مرکز بن گئی اور قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے محبوب شہر قرار پائی۔ اس ہجرت میں مدینہ منورہ کی لوکل مسلم آبادی نے، جو انصار مدینہ کے لقب سے متعارف ہوئے، ایثار و قربانی کا وہ مظاہرہ کیا اور اس محبت و اعتماد کے ساتھ اپنے مہاجر بھائیوں کو سنبھالا کہ نسل انسانی کی تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ مگر ماضی کی ان حسین یادوں میں محو ہونے کی بجائے پناہ گزینی کے موجودہ عالمی تناظر میں ایک دو گزارشات پیش کرنا چاہوں گا:

  1. ایک یہ کہ آج پناہ گزینوں کی مجموعی تعداد کا ایک تہائی حصہ فلسطینیوں پر مشتمل ہے جو یہودیوں کے ہاتھوں دنیا میں دربدر ہوئے ہیں۔ جبکہ کم و بیش ایک ہزار برس تک دنیا نے یہ منظر کھلی آنکھوں سے دیکھا کہ مسیحی حکومتوں کے ریاستی جبر او رخوفناک عناد کا شکار ہونے والے یہودیوں کے لیے سب سے بڑی پناہ گاہ اندلس کی مسلم حکومت اور ترکی کی خلافت عثمانیہ رہی ہے۔ اور خود یہودی مؤرخین کے بقول اس دور میں اندلس اور پھر ترکی ان کی سب سے محفوظ پناہ گاہیں تھیں۔ اسے تاریخ کی ستم ظریفی یا یہودی قوم کی روایتی غدر مزاجی کے علاوہ اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ آج انہی یہودیوں کے ہاتھوں پچاس لاکھ کے لگ بھگ فلسطینی مسلمان دنیا کے مختلف ملکوں میں پناہ گزین کے ٹائٹل کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں۔
  2. دوسری گزارش یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کا ہلکا اور سرسری جائزہ لیا جائے تو ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ پناہ گزینوں میں مسلمانوں کی تعداد ایک کروڑ کے لگ بھگ بنتی ہے جو کم و بیش دو تہائی ہے۔ یہ بات آج کی مسلم امہ کے لیے صرف لمحۂ فکریہ نہیں بلکہ ایک عظیم المیہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ہمارے خیال میں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلمان آج عالمی سطح پر سیاسی مرکزیت سے محروم ہیں۔ ہم نے خلافت سے دستبردار ہو کر سیاسی مرکزیت کے جو متبادل راستے تلاش کیے تھے وہ دشمن کا دام ہمرنگ زمین ثابت ہوئے ہیں اور ہم اپنے گرد خود اپنے ہی بنے ہوئے جال میں مسلسل پھڑپھڑائے جا رہے ہیں۔