قیام مدینہ کی کچھ حسین یادیں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۱ اگست ۲۰۱۲ء

متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے سفر سے میں یکم اگست کو گوجرانوالہ واپس پہنچ گیا تھا لیکن آتے ہی مختلف اداروں میں دورۂ تفسیر قرآن کے آخری اسباق میں مصروف ہوگیا اس لیے قارئین کی خدمت میں حاضری قدرے تاخیر سے ہو رہی ہے۔ الشریعہ اکادمی اور جامعہ مدینۃ العلم جناح کالونی گوجرانوالہ میں دورۂ تفسیر کے اسباق میں خود شروع کرا کے گیا تھا۔ اول الذکر میں دو پارے اور ثانی الذکر میں ایک پارہ پڑھانے کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔ جبکہ الشریعہ اکادمی میں انسانی حقوق کے بین الاقوامی چارٹر کے ساتھ متعلقہ احکام قرآن کے تقابلی مطالعہ پر محاضرات کا سلسلہ بھی ہوا تھا اور واپسی پر دونوں جگہ آخری اسباق پڑھانے کا موقع ملا۔ ۲ اگست کو الشریعہ اکادمی میں تقسیم اسناد کی تقریب تھی جس کے مہمان خصوصی بزرگ عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی تھے جو پیرانہ سالی، علالت اور معذوری کے باوجود ہمیشہ شفقت فرماتے ہیں اور اکادمی کے مختلف پروگراموں میں شریک ہوتے ہیں۔ شہر کے علماء کرام اور دینی کارکنوں کی بڑی تعداد تقریب میں شریک تھی۔ حضرت مفتی صاحب کے علاوہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہ نما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے بھی تقریب کو شرف شمولیت بخشا۔ دونوں حضرات کے بیانات ہوئے اور حضرت مفتی صاحب نے دورۂ تفسیر کے شرکاء کو اسناد مرحمت فرمانے کے بعد اختتامی دعا فرمائی۔

گکھڑ کے قریب باگڑیاں نامی گاؤں میں بھی کئی سالوں سے دورۂ تفسیر ہو رہا ہے۔ حاجی محمد نعیم بٹ صاحب والد محترم حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کے خاص عقیدت مندوں میں سے ہیں، صاحب حیثیت اور صاحب خیر آدمی ہیں۔ انہوں نے اپنے خرچہ سے گاؤں میں مدرسہ تعلیم القرآن کے نام سے درسگاہ قائم کر رکھی ہے جس میں سینکڑوں طلبہ اور طالبات مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ حضرت والد محترم اس مدرسہ کی خصوصی سرپرستی فرماتے تھے اور اس کے لیے دعا گو رہتے تھے، وہی نسبت ہمیں بھی اس کے ساتھ وابستہ رکھے ہوئے ہے اور وقتاً فوقتاً حاضری کے علاوہ دورۂ تفسیر کی سالانہ کلاس میں چند اسباق پڑھانے کی سعادت بھی حاصل ہو جاتی ہے۔

باگڑیاں میں مولانا داؤد احمد میواتی ترجمہ و تفسیر کا بیشتر حصہ پڑھاتے ہیں۔ ان کے ساتھ اس سال مولانا عبد الکریم ندیم، مولانا عبد الحق خان بشیر، مولانا محمد الیاس گھمن اور مولانا محمد اسماعیل محمدی نے مختلف موضوعات پر لیکچر دیے جبکہ آخری دو پارے پڑھانے کا شرف مجھے حاصل ہوا۔ ۱۷ اگست کو اختتامی تقریب تھی جس کے مہمان خصوصی مخدوم العلماء حضرت مولانا عبد الستار تونسوی دامت برکاتہم تھے اور مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی، مولانا عبد القدوس خان قارن اور راقم الحروف کے علاوہ علامہ تونسوی مدظلہ کے فرزند مولانا عبد الغفار تونسوی نے بھی خطاب کیا۔ علماء کرام اور طلباء کا بھرپور اجتماع تھا۔ دورۂ تفسیر کے علاوہ دورۂ صرف و نحو اور حفظ قرآن کریم مکمل کرنے والے طلبہ کی بھی دستار بندی کی گئی۔ حاجی محمد نعیم بٹ کو اللہ تعالیٰ نے دولت، کشادہ دل اور حسن ذوق سے نوازا ہے۔ بہت سے دینی مدارس کی خدمت کرتے ہیں اور علماء حق سے خصوصی محبت رکھتے ہیں۔

ان مصروفیات سے فارغ ہو کر آج قلم ہاتھ میں لینے کا موقع ملا ہے تو قارئین کو ایک بار پھر سعودی عرب واپس لے جانے کو جی چاہ رہا ہے جہاں کے مناظر ابھی تک نگاہوں میں گھوم رہے ہیں۔ خاص طور پر دو باتوں کا تذکرہ زیادہ ضروری سمجھتا ہوں۔ ایک مسجد نبوی میں افطار کا منظر ہے جس کا مجھے پہلی بار تفصیل کے ساتھ مشاہدہ کرنے کا موقع ملا ہے۔ پہلے بھی کئی بار حاضری ہوئی ہے لیکن مسلسل پانچ چھ روز تک رہنے کی سعادت طویل عرصہ کے بعد ملی ہے۔ رمضان المبارک کا پہلا روزہ سعودی عرب میں جمعۃ المبارک کے دن تھا۔ میں اس روز وہیں تھا، شام کو افطار کا منظر دیکھ کر ایمان تازہ ہوگیا۔ مسجد نبوی کے اندر اور باہر چاروں طرف ہزاروں دستر خوان عصر کے بعد بچھ گئے اور مدینہ منورہ کے ہزاروں خاندانوں کے افراد مہمان نوازی کا جذبہ لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمانوں کی خدمت میں مصروف ہوگئے۔ چھوٹے چھوٹے بچے مہمانوں کو گھیر کر اپنے اپنے دستر خوان پر لانے کے لیے محنت کر رہے تھے۔ ایک خاندان کے تین چار بچوں کو میں نے دیکھا کہ وہ مسجد میں آنے والوں سے چمٹ رہے تھے اور انہیں اپنے دستر خوان پر کھنچ کھینچ کر لانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان بچوں کی عمریں آٹھ سے چودہ سال کے درمیان ہوں گی مگر اس وقت ان سب کی انتہائی کوشش یہ تھی کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان کے دستر خوان پر روزہ کھولیں۔ ایک لڑکے کو یہ کہتے ہوئے سن کر میری آنکھیں بھی نم ہوگئیں جو مسجد میں آنے والے ایک صاحب کا دامن پکڑے ہوئے اسے کہہ رہا تھا ’’تعال علیٰ سفرۃ الولد‘‘ کہ آؤ بیٹے کے دستر خوان پر روزہ کھولو۔ تین چار دن مسلسل یہ منظر دیکھتا رہا اور ایمان کی بیٹری چارج کرتا رہا، فالحمد للہ علیٰ ذلک۔

مدینہ منورہ میں میرا قیام عام طور پر ایک عزیز شاگرد قاری ابوبکر یحییٰ کے ہاں ہوتا ہے جو جامعہ نصرۃ العلوم کے فضلاء میں سے ہیں مگر اس دفعہ استاذ شاگرد پر غالب آگئے۔ میرے استاذ محترم قاری محمد انور صاحب نے حکماً فرما دیا کہ تم میرے ہاں رہو گے۔ ایک موقع پر قاری ابوبکر یحییٰ مجھے اپنے ہاں لے جانے کے لیے آئے تو استاذ محترم نے انہیں یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ مولوی میرے پاس رہے گا۔ البتہ جب جامعۃ الرشید کراچی کے استاذ قاری ابوبکر صاحب نے استاذ محترم سے یہ کہا کہ میں ان کو مشوروں کے لیے اپنے ہاں لے جانا چاہتا ہوں تو انہوں نے یہ کہہ کر اجازت دے دی کہ دینی ضرورت ہے اس لیے میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ ہوا یوں کہ حضرت مولانا مفتی عبد الرحیم صاحب سے اچانک مسجد نبوی میں ملاقات ہوگئی، وہ مجھے وہاں دیکھ کر بہت خوش ہوئے کہ پاکستان میں زیادہ موقع نہیں ملتا یہاں آپ میرے ہاں آجائیں اہم معاملات پر باہمی گفتگو رہے گی۔ میں نے عرض کیا کہ مجھے تو خوشی ہوگی مگر قاری صاحب محترم سے اجازت لینا پڑے گی۔ مفتی صاحب نے قاری صاحب سے خود بات کی تو انہوں نے اجازت دے دی، چنانچہ مدینہ منورہ میں چھ روزہ قیام کے دوران چار دن قاری صاحب محترم اور دو دن مفتی صاحب محترم کے ساتھ رہنے کا موقع مل گیا۔

سعودی عرب کے دینی حلقوں میں اس بار شام کے مظلوم اہل سنت کا تذکرہ عام طور پر سن کر اطمینان ہوا کہ مشرق وسطیٰ میں اہل سنت پر بعض علاقوں میں جو کچھ گزر رہی ہے یا مستقبل میں گزرتی نظر آرہی ہے اس کا احساس سعودی عرب کے دینی حلقوں میں موجود ہے۔ جدہ میں ایئرپورٹ کے قریب مسجد عائشہ میں ایک روز مغرب کی نماز پڑھنے کا اتفاق ہوا تو امام صاحب نے نماز مغرب میں مظلوم شامی اہل سنت بھائیوں کے لیے باقاعدہ قنوت نازلہ پڑھی۔ فقہی اختلاف کے باوجود مجھے اس پر خوشی ہوئی۔ احناف کے نزدیک قنوت نازلہ خاص حالات میں صرف نماز فجر میں پڑھی جا سکتی ہے مگر بعض دیگر فقہی مذاہب میں دوسری نمازوں میں بھی قنوت نازلہ پڑھنے کا معمول موجود ہے۔ اسی طرح ائمہ حرمین کی دعاؤں میں شامی مسلمانوں کے لیے دعاؤں کا سلسلہ جاری ہے اور وتر کے قنوت میں بھی ان کے لیے دعا شامل ہوتی ہے جبکہ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبد اللہ کی اپیل پر شام میں بشار الاسد کی حکومت کے جبر و ظلم کا شکار ہونے والے مظلوم مسلمانوں کے لیے امدادی فنڈ جمع کرنے کی مہم بھی جاری ہے۔

شام میں اہل سنت بالخصوص ان کے دینی حلقے گزشتہ چار عشروں سے جس ریاستی جبر کا شکار ہیں اور کرب و الم کی جس کیفیت سے دوچار ہیں، تاریخ کے طالب علم کی آنکھیں مستقبل قریب میں اس مکروہ منظر کو مشرق وسطیٰ کے دیگر علاقوں میں بھی پھیلتا دیکھ رہی ہیں۔ یہ سب کچھ ایک مستقل گفتگو کا متقاضی ہے، کوشش کروں گا کہ جلد ہی اس سلسلہ میں ضروری گزارشات قارئین کی خدمت میں پیش کروں۔