بنگلہ دیش کے دینی مدارس

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۳ جنوری ۲۰۰۴ء

بنگلہ دیش میں گیارہ دن قیام کے بعد ۱۰ جنوری کو ہماری واپسی تھی، اس دوران ہم نے ڈھاکہ، چاٹگام، سلہٹ، سونام گنج، ہاٹ ہزاری، ٹیسیا، درگاپور، مدھوپور اور دیگر مقامات پر مختلف دینی اجتماعات میں شرکت کی اور سرکردہ علماء کرام سے ملاقاتیں کیں۔ ہمارے قافلے میں راقم الحروف کے علاوہ لندن سے ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری، ابراہیم کمیونٹی کالج وائٹ چیپل، لندن کے ڈائریکٹر مولانا مشفق الدین، دارالارقم کالج ایمسٹر (برطانیہ) کے ڈائریکٹر مولانا محمد فاروق، اور دارالارشاد میرپور ڈھاکہ کے ڈائریکٹر مولانا محمد سلمان ندوی شامل تھے۔

ہمارا سفر دراصل دارالارشاد میرپور ڈھاکہ کی دعوت پر سید ابوالحسن علی ندوی ایجوکیشن سنٹر کی افتتاحی تقریب کے حوالے سے ہوا تھا جو یکم جنوری کو منعقد ہوئی۔ اس میں مذکورہ بالا حضرات کے علاوہ دارالعلوم دیوبند سے مولانا مفتی حبیب الرحمان خیرآبادی اور ندوۃ العلماء لکھنو سے مولانا سید سلمان حسینی ندوی نے بھی شرکت کی۔ تقریب میں سنٹر کے تعلیمی سال کے افتتاح کے علاوہ مسجد بیت المکرم میں واقع اسلامک فاؤنڈیشن کے ہال میں ایک سیمینار کا پروگرام بھی شامل تھا جس کی صدارت جامع مسجد بیت المکرم کے خطیب مولانا عبید الحق نے کی اور اس سے ڈھاکہ کے بزرگ عالم دین مولانا محی الدین خان اور دیگر سرکردہ علماء کرام نے بھی خطاب کیا۔

اس کے بعد دارالارشاد کے مہتمم مولانا سلمان ندوی نے دوسرے شہروں میں چند پروگرام طے کر رکھے تھے جن کے لیے ہم نے مختلف علاقوں کا سفر کیا۔ مولانا سلمان ندوی بڑے باذوق اور متحرک عالم دین ہیں اور ایک عرصہ سے دینی مدارس کے نظام و نصاب میں عصر حاضر کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق اصلاحات کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے بہت سے بزرگوں مثلاً مولانا سید حسین احمدؒ مدنی، مولانا ابوالکلام آزادؒ، مولانا شمس الحق فرید آبادیؒ، مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ اور مولانا مناظر احسن گیلانی کے مقالات و مضامین کا بنگلہ زبان میں ترجمہ کر کے انہیں دینی حلقوں تک پہنچایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مولانا محمد عیسیٰ منصوری اور راقم الحروف کے بعض مضامین کا بھی ترجمہ کیا ہے۔ ان مضامین میں دور حاضر کی علمی، فکری اور ملی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے دینی مدارس کے نصاب و نظام میں اصلاحات تجویز کی گئی ہیں۔

اس سفر کے دوران ہمیں سلہٹ میں حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کا تحریر کردہ ایک تفصیلی نصاب ملا جو انہوں نے بیسیوں صدی عیسوی کے چوتھے عشرے کے دوران بنگال اور آسام کے دینی مدارس کے لیے ترتیب دیا تھا۔ اس سو سال پرانے نصاب میں وہ تمام امور بلکہ اس سے بھی زیادہ وسیع دائرے میں اصلاحات شامل ہیں جن کا ہم لوگ آج کل دینی مدارس کے ارباب حل و عقد سے تقاضا کر رہے ہیں۔

بنگلہ دیش کے اس سفر میں معلوم ہوا کہ وہاں بھی اسی طرح کی صورتحال ہے اور دورِ حاضر کے تقاضوں کا ادراک رکھنے والے بہت سے دانشور دینی مدارس کے منتظمین سے مسلسل گزارش کر رہے ہیں کہ وہ اپنے نصاب کی بنیادی روح اور مقاصد کو پوری طرح برقرار رکھتے ہوئے اور اپنی آزادی و خودمختاری پر قائم رہتے ہوئے ان ضروری تقاضوں کو اپنے نصاب و نظام میں سمو لیں جو آج عالمی سطح پر دینی حلقوں کے لیے چیلنج کی حیثیت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ یہی ہم خیالی اور ہم ذہنی ہمارے بنگلہ دیش کے اس سفر کا باعث بنی ورنہ اپنے میزبان اور داعی مولانا سلمان ندوی سے اس سے قبل ہمارا کوئی رابطہ اور پہچان نہ تھی۔

چاٹگام میں اس تعلیمی محاذ پر ایک اور عالم دین کو بھی متحرک پایا اور ان کا کام دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی۔ یہ مولانا سلطان ذوق ہیں جو دارالمعارف کے نام سے ایک معیاری درسگاہ اور تعلیمی مرکز چلا رہے ہیں۔ ان کا فکری تعلق بھی حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ سے ہے اور مولانا ندویؒ ان کی دعوت پر دو بار چاٹگام تشریف لا چکے ہیں۔ وہ اس محاذ پر نہ صرف توجہ دلانے کا کام کر رہے ہیں بلکہ عملی طور پر نصابی کتابوں کی تدوین، مروجہ نصابی کتابوں کو نئے اسلوب میں ڈھالنے اور نئی کتابوں کی تلاش و نشاندہی کی محنت میں بھی مصروف ہیں۔

سلہٹ میں اس سلسلہ میں سب سے زیادہ فکرمندی مولانا عبد العزیز دیامیری میں نظر آئی جو مدینۃ العلم دارالسلام کے شیخ الحدیث ہیں اور علماء کرام کو عصر حاضر کے تقاضوں کی طرف توجہ دلاتے رہتے ہیں۔ حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کا پون صدی قبل تحریر کردہ نصاب ہمیں انہی سے ملا اور انہوں نے قومی ادبی مجلس کے ’’سلمان ہال‘‘ میں اس حوالے سے ایک سیمینار کا بھی اہتمام کیا۔

واپسی پر ۱۰ جنوری کو شام کے وقت میری کراچی کے لیے اور مولانا منصوری کی ممبئی کے لیے فلائٹ تھی اس لیے ہم ڈھاکہ کا معروف عالیہ مدرسہ دیکھنے کا پروگرام بنا لیا۔ بنگلہ دیش میں عالیہ مدارس ان دینی درسگاہوں کو کہا جاتا ہے جو حکومت کے زیر انتظام چلتے ہیں اور انہیں محکمہ تعلیم کے تحت مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کنٹرول کرتا ہے۔ اس بورڈ کے ساتھ ہزاروں مدارس کا الحاق ہے جن میں سے بعض مدارس کے اخراجات حکومت برداشت کرتی ہے جبکہ بعض مدارس اپنے انتظامات خود چلاتے ہیں اور حکومت ان کی تھوڑی بہت مالی امداد کرتی ہے۔ البتہ ان سب کا تعلیمی نظام مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے تحت محکمہ تعلیم کنٹرول کرتا ہے۔ اس کے برعکس ہماری طرح کے آزاد دینی مدارس ’’قومی مدارس‘‘ کہلاتے ہیں جو مالی اور انتظامی خودمختاری کے ساتھ ساتھ نصاب و نظام کے معاملات بھی خود طے کرتے ہیں۔ مگر اس فرق کے ساتھ کہ ہمارے ہاں پاکستان میں دینی مدارس نے اپنے اپنے مسالک کے حوالے سے وفاق قائم کر رکھے ہیں اور ان کے تحت ملک بھر کے ہر سطح کے دینی مدارس پانچ وفاقوں کی صورت میں آپس میں بھی پوری طرح مربوط و منظم ہیں، لیکن بنگلہ دیش میں یہ صورتحال نہیں ہے، وہاں اگرچہ مسلکی حوالے سے دیوبندی مکتب فکر ہی کے مدارس عام طور پر پائے جاتے ہیں مگر وہ الگ الگ گروپوں کی صورت میں کام کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش میں درس نظامی کی باقاعدہ تعلیم دینے والے قومی مدرسوں کی تعداد آٹھ ہزار کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے جبکہ وفاق المدارس العربیہ بنگلہ دیش کے نام سے جو سب سے بڑا وفاق ہے اس سے صرف پندرہ سو مدارس ملحق ہیں۔ اور اتحاد المدارس العربیہ کے نام سے دوسرے وفاق سے ملحق مدارس کی تعداد پانچ سو بتائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ وہاں حکومتی سطح پر دباؤ کی وہ صورت موجود نہیں جو پاکستان میں پائی جاتی ہے اور جس کی شدت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

عالیہ مدارس میں ڈھاکہ کا عالیہ مدرسہ سب سے بڑا سمجھا جاتا ہے جس کی ایک مستقل تاریخ ہے۔ ہم جب اس کے پرنسپل پروفیسر منصور الرحمان کے دفتر میں پہنچے اور ان سے اپنا تعارف کرایا تو وہ ہمیں غیر ملکی مہمان گردانتے ہوئے مدرسہ عالیہ کے تاریخی پس منظر سے آگاہ کرنے کے لیے پوری طرح مستعد ہوگئے۔ پروفیسر صاحب دلچسپ بزرگ ہیں، میں نے جب بتایا کہ پاکستان سے آیا ہوں تو زیرلب ان کی زبان پر مشرقی پاکستان کا لفظ آگیا۔ انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ کیا میں اس سے قبل بھی یہاں آیا ہوں؟ میں نے جواب دیا کہ ہاں اس سے قبل ایک بار آچکا ہوں مگر مشرقی پاکستان میں نہیں بلکہ بنگلہ دیش میں ہی آیا تھا۔ یہ ۱۹۹۷ء کی بات ہے جب میں نے والد محترم حضرت مولانا سرفراز خان صفدر کے ہمراہ بنگلہ دیش کا سفر کیا تھا۔

اس کے بعد انہوں نے مدرسہ عالیہ کے تاریخی پس منظر پر گفتگو شروع کر دی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ مدرسہ عالیہ سب سے پہلے ۱۷۸۰ء میں کلکتہ میں انگریزوں نے قائم کیا تھا جبکہ ابھی بنگال کے آخری مسلم حکمران سراج الدولہ شہیدؒ کو شکست دے کر بنگال پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے قبضے کو صرف تئیس برس گزرے تھے۔ اس میں درس نظامی کے پورے نصاب کے ساتھ انگریزی اور دیگر جدید مضامین کو شامل نصاب کیا گیا تھا اور اس کے پرنسپل ۱۹۲۵ء تک غیر ملکی اور غیر مسلم ہی چلے آتے رہے۔ ۱۹۲۵ء میں پہلے مسلمان پرنسپل شمس العلماء خان بہادر کمال الدین احمد تھے جنہوں نے پرنسپل کے طور پر اس کا کنٹرول سنبھالا۔ ۱۹۴۷ء میں جب پاکستان قائم ہوا تو اس عالیہ مدرسہ کو ڈھاکہ منتقل کر دیا گیا اور اس کی لائبریری اور فرنیچر کو بحری جہاز کے ذریعے یہاں لایا گیا، تب سے یہ مدرسہ ڈھاکہ میں کام کر رہا ہے۔

ہماری خواہش تھی کہ عالیہ مدرسہ میں پڑھائے جانے والے نصاب کی تفصیل مل جائے تاکہ ہم اندازہ کر سکیں کہ قومی مدرسوں اور عالیہ مدرسوں کے نصاب میں کیا فرق ہے۔ پروفیسر منصور الرحمان صاحب نے کافی تگ و دو کے بعد یہ نصاب مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے دفتر سے منگوا کر دیا مگر یہ سب کا سب بنگلہ زبان میں تھا جس سے استفادہ ہمارے بس میں نہیں تھا۔ بہت کوشش کی کہ اردو، عربی یا انگلش میں کچھ تفصیل مل جائے مگر کامیابی نہ ہوئی۔ اس لیے ہم نے یہ نصابی کتابچے اپنے میزبان مولانا سلمان ندوی کے سپرد اس درخواست کے ساتھ کر دیے کہ وہ ہمیں اردو میں اس کا خلاصہ کر کے ارسال کر دیں۔ پروفیسر منصور الرحمان صاحب نے بتایا کہ وہ ذاتی طور پر قومی مدرسوں کو زیادہ پسند کرتے ہیں اور ان سے محبت رکھتے ہیں مگر ان سے ایک شکایت ہے کہ وہ وقت کے تقاضوں کا پوری طرح احساس نہیں کرتے اور جو اصلاحات ان کے اپنے مفاد میں ضروری ہوتی ہیں ان کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے، ورنہ وہ دینی تعلیم کے فروغ کے لیے زیادہ بہتر کام کر رہے ہیں۔

مدرسہ عالیہ ڈھاکہ سے ہم تبلیغی مرکز چلے گئے اور ظہر کی نماز وہاں ادا کر کے ایئرپورٹ کی طرف روانہ ہوگئے جہاں سے مجھے کراچی کے لیے اور مولانا منصوری نے ممبئی کے لیے سفر کرنا تھا۔