جاہلی اقدار و روایات اور جدید تہذیب

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۴ جولائی ۲۰۰۴ء

۲۵ جون کو میں نے جمعہ کی نماز واشنگٹن ڈی سی کے علاقے اسپرنگ فیلڈ کی مسجد دارالہدٰی میں پڑھائی اور اس سے قبل خطبہ و بیان کا موقع بھی ملا۔ میں اس سے قبل کئی بار یہاں آچکا ہوں اور ہر بار یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ نمازیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ سال یہاں آیا تو معلوم ہوا کہ جمعۃ المبارک کے موقع پر زیادہ رش ہونے کی وجہ سے ایک ایک گھنٹے کے وقفے کے ساتھ تین بار جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے۔ ایک نماز مسجد میں پڑھی جاتی ہے اور اس کے بعد مسجد کے ساتھ ملحقہ وسیع ہال میں دو بار نماز ادا کی جاتی ہے۔ آج جب نماز جمعہ کے لیے مسجد میں کھڑے ہوئے تو دیکھا کہ اجتماع مسجد کے ہال سے زیادہ ہے، صفیں تنگ کی گئیں تو بھی سارے لوگ نہ سما سکے۔ یہاں مسجد کے ہال سے باہر کھلے آسمان تلے نماز کی ادائیگی قانوناً جائز نہیں ہے اس لیے مسجد کی انتظامیہ کو نمازیوں سے معذرت کے ساتھ یہ اعلان کرنا پڑا کہ اگلے جمعہ سے مسجد میں جمعہ کی دو نمازیں ہوا کریں گی۔

دارالہدٰی میں طلبہ اور طالبات کے لیے اسلامی اسکول اور حفظ قرآن کریم کی کلاسیں چل رہی ہیں۔ جبکہ اس سال طالبات کے لیے کے لیے ’’عالم کورس‘‘ کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے جس میں طالبات درس نظامی کا وہی کورس پڑھیں گی جو ہمارے ہاں وفاق المدارس کے تحت طالبات کو پڑھایا جاتا ہے۔ دارالہدٰی کے منتظم مولانا عبد الحمید اصغر بہاولپور سے تعلق رکھتے ہیں، انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں استاذ رہے ہیں، انجینئرنگ میں ایم ایس سی کرنے کے بعد ڈاکٹریٹ کے لیے ۱۹۸۲ء میں امریکہ گئے مگر یہاں آکر لائن بدل گئی، تب سے مسجد و مدرسہ کے نظام سے منسلک اور دینی تعلیم کے فروغ میں ہمہ تن مصروف ہیں۔

جمعہ سے قبل بیان میں جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ حجۃ الوداع کے حوالہ سے میں نے کچھ گزارشات پیش کیں جن میں مغرب اور مسلمانوں کی تہذیبی کشمکش بھی زیربحث آگئی۔ اس پہلو پر ہونے والی گفتگو کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے تاریخی خطبہ میں بہت سے اعلانات فرمائے جن میں ایک جملہ تاریخ کے ایک فیصلہ کن موڑ اور نسل انسانی کی تہذیبی زندگی کے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’کل امر الجاھلیۃ تحت قدمی‘‘ کہ جاہلیت کی ہر بات میرے پاؤں کے نیچے ہے۔ جناب رسول اکرمؐ نے اپنی بعثت سے قبل کے عرب معاشرے کو جاہلیت کا معاشرہ اور ان کی تہذیب و ثقافت کو جاہلی ثقافت قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ میں اس جاہلی معاشرے اور تہذیب کی تمام جاہلی اقدار و روایات کو اپنے پاؤں تلے روند کر آگے بڑھ رہا ہوں۔ یہ ایک تاریخی اعلان تھا جو صرف اعلان ہی نہیں تھا بلکہ ایک زندہ حقیقت تھی کہ جناب نبی اکرمؐ نے اپنی بعثت کے پہلے دن سے لے کر حجۃ الوداع تک کی مسلسل جدوجہد کے ساتھ عرب معاشرے کو بہت سی اقدار سے پاک کر دیا تھا اور بہت سی جاہلی روایات سے نجات دلا دی تھی۔

یہ تہذیبی روایات و اقدار جو جناب رسول اللہؐ کی جدوجہد کے ساتھ ختم ہوگئی تھیں اور معاشرہ ان سے پاک ہوگیا تھا، انہی کے بارے میں آنحضرتؐ نے حجۃ الوداع کے خطبے میں اعلان فرمایا تھا کہ ’’جاہلیت کی ہر قدر آج میرے پاؤں کے نیچے ہے‘‘۔ آئیے ذرا ایک نظر ڈال لیں کہ نبی اکرمؐ کے پاؤں کے نیچے جاہلیت کی کون کون سی قدر مسلی گئی تھی اور اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبرؐ نے انسانی معاشرے کو کون کون سی جاہلی اقدار سے نجات دلائی تھی۔ اس مختصر وقت میں ان سب کا احاطہ تو مشکل ہوگا مگر بطور نمونہ ان میں سے چند کا تذکرہ کرنا ضروری ہے:

  • نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے عرب معاشرے کو شرک اور بت پرستی سے نجات دلائی اور نہ صرف بیت اللہ اور حرمِ مکہ کو بتوں سے پاک کیا بلکہ جزیرۂ عرب میں جہاں جہاں بت خانے موجود تھے انہیں فتح مکہ مکرمہ کے بعد مسمار کرا دیا اور جزیرۂ عرب کو شرک اور بت پرستی سے نجات دلا دی۔
  • بدکاری عرب معاشرے میں رچ بس گئی تھی، شادی کے بغیر باہمی رضامندی سے جنسی تعلق کو جرم نہیں سمجھا جاتا تھا اور بدکاری کی مختلف صورتیں نہ صرف رائج تھیں بلکہ انہیں معاشرتی تحفظ بھی حاصل تھا۔ مگر جناب رسول اکرمؐ نے باقاعدہ نکاح کے سوا تمام صورتوں کو ختم کرا دیا۔
  • شراب اس سوسائٹی کے معمولات کا حصہ تھی اور اس پر فخر کیا جاتا تھا مگر نبی اکرمؐ نے اسے حرام قرار دیا اور ایسا ماحول پیدا کیا کہ زندگی بھر شراب پینے والوں نے شراب گلیوں میں بہا دی اور شراب کے مٹکے سرِ بازار توڑ دیے۔
  • بے پردگی اور عریانی عرب معاشرے میں عام تھی حتیٰ کہ بیت اللہ کا طواف بھی بہت سے مرد اور عورتیں بے لباس ہو کر کرتے تھے۔ بعض قبائل یہ کہتے تھے کہ انسان کی فطرت اور نیچر یہ ہے کہ وہ دنیا میں ننگا آیا تھا اس لیے ہم اللہ تعالیٰ کے گھر کا طواف اسی فطری اور نیچرل کیفیت میں کرتے ہیں۔ نیچر کا یہ تصور آج کی جدید تہذیب کے پیروکاروں میں بھی پایا جاتا ہے اور وہ ’’نیچرل کلب‘‘ اسی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں جہاں مرد اور عورت بے لباس ہو کر جاتے ہیں اور بیت اللہ کا ننگے طواف کرنے والے عربوں کی طرح یہ کہتے ہیں کہ ہم یہاں نیچرل حالت میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔
  • اس حوالہ سے ایک لطیفہ عرض کرنا چاہوں گا جو ہمارے ایک بزرگ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ نے سنایا کہ ایک صاحب سے ان کی ڈاڑھی کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاڑھی سنت رسولؐ ہے اس لیے رکھنی چاہیے۔ وہ صاحب کہنے لگے کہ ڈاڑھی فطرت اور نیچر کا حصہ نہیں ہے اس لیے کہ انسان جب دنیا میں آتا ہے تو اس کی ڈاڑھی نہیں ہوتی۔ حضرت درخواستیؐ نے ان صاحب کو جواب دیا کہ اس اصول پر تو دانت بھی نیچر کا حصہ نہیں ہیں کیونکہ وہ بھی پیدائش کے وقت موجود نہیں ہوتے بلکہ بعد میں نمودار ہوتے ہیں، اس لیے نیچر کا تقاضا پورا کرنے کے لیے انہیں بھی تڑوا دینا چاہیے۔

    یہ نیچر کی عجیب سی بات لوگوں کے ہاتھ آگئی ہے۔ ورنہ لباس کے حوالے سے انسان کی فطرت اور نیچر وہ ہے جو قرآن کریم نے حضرت آدم و حوا علیہ السلام کے حوالے سے بیان کی ہے کہ جب جنت میں ممنوعہ درخت کا پھل کھانے سے ان دونوں کے لباس اتر گئے تو وہ دونوں بے ساختہ جنت کے درختوں کے پتے اکھاڑ کر اپنی شرم گاہوں کو ڈھانپنے لگے۔ انسان کی اصل فطرت اور نیچر قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق یہ ہے جسے آج کی دنیا نے خدا جانے کیا سے کیا رنگ دے دیا ہے۔ بہرحال جناب نبی اکرمؐ نے اس عریانی اور بے حیائی کا خاتمہ کیا اور نہ صرف بیت اللہ کے ننگے طواف کو قیامت تک کے لیے ممنوع قرار دے دیا بلکہ عام زندگی میں بھی حجاب کے اصول و قواعد بیان کیے۔

  • سود اور جوا اس معاشرے میں عام تھا اور لوگ کھلم کھلا سود اور جوئے کا کاروبار کرتے تھے۔ مگر نبی اکرمؐ نے ان دونوں معاشی لعنتوں کا خاتمہ کیا اور معاشرے کو ان سے نجات دلائی۔
  • ناچ گانے کی محفلیں عرب معاشرے میں روز مرہ زندگی کا حصہ اور تفریح کا ایک بڑا ذریعہ تصور ہوتی تھیں مگر جناب رسول اللہؐ نے ان کو برقرار رکھنے اور ان کی حوصلہ افزائی کی بجائے انہیں ختم کیا اور سوسائٹی کو ناچ گانے کی بہت سی مروجہ صورتوں سے نجات دلائی۔
  • کہانت او رنجوم کا کاروبار کھلے بندوں ہوتا تھا، ستاروں کی چال سے لوگ قسمت کا حال دریافت کرتے تھے، زائچے بنوا کر مستقبل کی خبریں معلوم کرتے تھے اور کاہنوں کے مشوروں سے اپنے پروگرام ترتیب دیا کرتے تھے۔ مگر نبی اکرمؐ نے اسے گوارا نہ کیا اور معاشرے سے اس کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا۔

ان جاہلی اقدار کے خاتمے پر ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج جاہلیت کی ہر قدر میرے پاؤں کے نیچے ہے، جن میں سے چند ایک کا میں نے بطور نمونہ تذکرہ کیا ہے۔ اس حوالے سے میں دو سوال آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں:

  1. پہلا سوال تو خود اپنے آپ سے، آپ دوستوں اور دنیا بھر کے مسلمانوں سے ہے کہ جن جاہلی اقدار کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے پاؤں کے نیچے روندنے کا اعلان فرمایا تھا، ہماری آج کی سوسائٹی میں ان کی صورتحال کیا ہے؟ اور جاہلیت کی وہ کون سی قدر ہے جو حجۃ الوداع میں جناب رسول اللہؐ کے قدموں تلے تھی اور آج پھر دوبارہ بن سنور کر ہماری سوسائٹی میں واپس نہیں آگئی؟ یہ ہم سب مسلمانوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے اور ہمیں اس سلسلہ میں اپنی صورتحال اور ذمہ داریوں کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا چاہیے۔
  2. دوسرا سوال آج کی ترقی یافتہ تہذیب کے علمبرداروں سے ہے جن کا دعویٰ ہے کہ ان کی تہذیب یعنی ویسٹرن سولائزیشن سب سے زیادہ ترقی یافتہ، جدید ترین او رمکمل تہذیب ہے اور یہ ’’اینڈ آف ہسٹری‘‘ ہے جس کے بعد تہذیب میں کسی مزید ارتقاء کی گنجائش نہیں ہے۔ میرا ان سے سوال یہ ہے کہ آپ نے تہذیب و ثقافت کی دنیا میں کون سی ایسی نئی قدر کا اضافہ کیا ہے جو اس جاہلی تہذیب میں نہ تھی جسے نبی اکرمؐ نے پاؤں کے نیچے روندنے کا اعلان فرمایا تھا؟ آپ نے کوئی نئی بات نہیں کی اور کسی نئی قدر اور روایت کا اضافہ نہیں کیا۔ وہی جاہلی تہذیب ہے جس کی پامال شدہ اقدار و روایات کو آپ نے نئے میک اپ اور اوورہالنگ کے ساتھ ایک بار پھر بنا سنوار کر انسانی سوسائٹی کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ اور ہم پر آپ کا الزام یہ ہے کہ ہم انسانی سوسائٹی کو آج سے چودہ سو سال قبل کے ماحول میں واپس لے جانا چاہتے ہیں، ہمیں اس سے انکار نہیں ہے، لیکن آپ نے تو انسانی سوسائٹی کو اس سے بھی ہزاروں سال قبل کے ماحول میں پہنچا دیا ہے۔ آپ تو اپنے کلچر اور ثقافت کے حوالے سے حضرت لوط علیہ السلام کے زمانے میں کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔

آج کی یہ عالمی تہذیبی کشمکش ہمارے شعور و ادارک کے لیے چیلنج کی حیثیت اختیار کر چکی ہے، ارباب فکر و دانش کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس چیلنج کا سنجیدگی کے ساتھ سامنا کریں۔