امریکہ: لورے کیورن کی سیر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۷ جولائی ۲۰۰۴ء
اصل عنوان: 
امریکہ: تاریخی آثار کی سیر

میرے سفر کے مقاصد میں گھومنا پھرنا اور تاریخی آثار کو دیکھنا بھی شامل ہوتا ہے۔ قرآن کریم نے اس کی تلقین فرمائی ہے کہ زمین میں گھومو پھرو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار کے ساتھ ساتھ قوموں کے عروج و زوال کے اسباب و عوامل اور نشانات کے بارے میں معلومات بھی حاصل کرو۔ واشنگٹن ڈی سی کے علاقے میں دو پاکستانی دوست محمد اشرف خان (آف جوہر آباد) اور جناب ناہن علی (آف سیالکوٹ) اس سلسلہ میں میری معاونت و رفاقت کرتے ہیں۔ گزشتہ سال وہ مجھے آمشوں کے علاقے میں لے گئے تھے جس کے بارے میں قارئین کو اس کالم میں بتا چکا ہوں کہ وہ آج کے دور میں اور امریکہ میں رہنے کے باوجود بجلی، گیس اور ٹیلی فون وغیرہ کا استعمال نہیں کرتے، گھوڑا گاڑی پر سفر کرتے ہیں، دستی آلات کے ساتھ کھیتی باڑی کرتے ہیں اور صدیوں پہلے کے ماحول میں خود کو پابند رکھے ہوئے ہیں۔ اس بار ورجینیا کے ایک پہاڑی علاقے اور اس میں واقع طویل غار کو دیکھنے کا پروگرام بن گیا۔

۲۸ جون کو صبح ناشتے کے بعد ہم تینوں واشنگٹن سے روانہ ہوئے، کم و بیش نوے میل کی مسافت پر لورے کیورن (Luray Caverns) نامی غار ہے۔ مری کی طرز کا پہاڑی راستہ ہے، پہاڑوں کے گرد بل کھاتی ہوئی سڑک اور تھوڑے تھوڑے فاصلے پر اس سیر سے لطف اندوز ہونے کے لیے بنائے گئے مقامات دیکھ کر راولپنڈی سے مری کا سفر یاد آگیا۔ راولپنڈی سے مری جانے کا اب تک بلامبالغہ سینکڑوں بار اتفاق ہوا، پہاڑوں کے گرد گھومتی سڑک پر بلندی کی طرف جاتی ہوئی گاڑیوں کا منظر ذہن میں گھوم گیا۔ ورجینیا کے اس پہاڑی سلسلہ کو ’’سکائی لائن ڈرائیو‘‘ کہتے ہیں۔ پہاڑی سلسلہ کے ایک کونے سے علاقے میں داخل ہو کر دوسرے کونے سے میدانی علاقے میں اترنے تک کا فاصلہ ایک سو میل سے زیادہ بتایا جاتا ہے مگر ہم نے تقریباً تیس میل کا فاصلہ طے کیا اور پھر ’’لورے کیورن‘‘ دیکھنے کے لیے راستے کی ایک ایگزٹ سے نیچے اتر گئے۔ دورانِ سفر مجھ پر نیند کا غلبہ رہا کہ رات کو سونے کا وقت کم ملا تھا۔ یہاں ان دنوں عشاء کی نماز عام طور پر ساڑھے دس بجے ہوتی ہے جبکہ فجر کی نماز پانچ سوا پانچ ہو جاتی ہے۔

اس سے قبل رات کو میری لینڈ کے علاقے میں واقع ’’مسلم کمیونٹی سنٹر‘‘ میں مغرب کے بعد بیان تھا۔ یہ سنٹر یہاں کا سب سے قدیمی مسلم سنٹر بتایا جاتا ہے جسے اب بڑے خوبصورت انداز میں تعمیر کیا گیا ہے۔ سنٹر کے ساتھ مسجد ہے جو باقاعدہ مسجد کی شکل میں تعمیر کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک خوبصورت چرچ ہے جس پر تین گنبد ہیں اور انہیں سنہری رنگ کیا گیا ہے۔ جب اس علاقے میں داخل ہوں تو پہلے چرچ کے سنہری گنبدوں پر نظر پڑتی ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہی مسلم سنٹر اور مسجد ہے۔ دارالہدٰی کے ڈائریکٹر مولانا عبد الحمید اصغر اور میرا چھوٹا بیٹا حافظ عامر خان اس سفر میں ہمراہ تھے جو گزشتہ ایک سال سے دارالہدٰی کے شعبہ کمپیوٹر سے وابستہ ہے۔ جب ہم مسلم کمیونٹی سنٹر کے قریب پہنچے تو چرچ کے سنہری گنبد کو دیکھ کر میں نے بے ساختہ ماشاء اللہ کہا اور لاہور کی سنہری مسجد کا جملہ میری زبان پر تھا کہ گنبد پر صلیب دیکھ کر زبان ٹھٹھک گئی۔ مولانا عبد الحمید اصغر نے، جو گاڑی ڈرائیو کر رہے تھے، بتایا کہ مسجد یہ نہیں اس سے آگے ہے۔ اتنے میں مسجد پر نگاہ پڑ چکی تھی۔ مسجد اور سنٹر میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے حضرات کا عمل دخل زیادہ ہے۔ کامرہ (اٹک) سے تعلق رکھنے والے نوجوان عالم دین مولانا محمد عادل اس کے امام و خطیب ہیں، ان کے والد محترم طویل عرصہ سے یہاں مقیم ہیں۔ مولانا محمد عادل نے برطانیہ کے تبلیغی مرکز ڈیوزبری کے مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کی اور دارالعلوم کراچی میں دورۂ حدیث کر کے سند فراغت پائی۔ وہ یہاں خطابت و امامت کے ساتھ ساتھ بچوں کی دینی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں اور بہت سے نوجوان اپنے فارغ اوقات میں آکر ان سے درس نظامی کے مختلف اسباق پڑھتے ہیں۔

نماز مغرب کے بعد اس مسجد میں میرا بیان تھا، عشاء کے بعد مولانا عادل صاحب کے گھر کھانا تھا، وہاں سے فارغ ہو کر دارالہدٰی پہنچے تو رات خاصی بیت چکی تھی اس لیے نیند کے لیے وقت کم ملا اور صبح نماز سے فارغ ہوتے ہی محمد اشرف خان لینے کے لیے آگئے۔ اس لیے سکائی لائن ڈرائیو کا سفر زیادہ تر غنودگی میں گزرا، البتہ راستے میں جہاں کہیں گھاٹیوں کے درمیان سے سرسبز میدان کا نظارہ کرنے کا موقع آتا اشرف صاحب مجھے متوجہ کر کے ضرور دکھاتے۔ مری کے سفر جیسی صورتحال تھی البتہ دو تین باتوں کا فرق ضرور محسوس ہوا۔ ایک یہ کہ راولپنڈی سے مری جانے والی سڑک اور سکائی لائن ڈرائیو کی سڑک میں اتنا ہی فرق نظر آرہا تھا جتنا خود پاکستان اور امریکہ میں فرق ہے۔ دوسرا یہ کہ مری کی پہاڑیوں کی بلندی زیادہ ہے اور ورجینیا کے اس پہاڑی سفر میں ہم زیادہ سے زیادہ ساڑھے تین ہزار فٹ کی بلندی تک جا سکے۔ اور تیسرا فرق یہ ہے کہ راولپنڈی سے مری جاتے ہوئے راستے میں لوئر ٹوپہ اور کمپنی باغ جیسے سٹاپ فطری ہیں جہاں آبادیاں بھی ہیں، مگر سکائی لائن ڈرائیو کے درمیان اسٹاپ مصنوعی ہیں اور وہاں کوئی آبادی نہیں البتہ جگہ جگہ کھلے میدان سجائے گئے ہیں جہاں آپ کیمپ لگا کر خیموں میں کچھ دنوں تک رہ سکتے ہیں۔

ہم جب پہاڑی سلسلہ میں داخل ہوئے تو ایک ٹول پلازہ پر ہمیں دس دس ڈالر کے ٹکٹ خریدنا پڑے جو اس سڑک پر سفر کا اجازت نامہ بھی تھے اور راستے میں کسی جگہ خیمہ لگا کر سات دن تک رہ سکنے کی اجازت بھی اس ٹکٹ میں شامل تھی۔ مگر ہم تو صرف چند گھنٹوں کے مسافر تھے اس لیے ہم ’’فرنٹ رائیل‘‘ سے پہاڑی سلسلے میں داخل ہو کر ’’پینوراما‘‘ سے نیچے اتر گئے جہاں ’’لورے کیورن‘‘ نامی غار کا دھانہ ہے اور اسے سیاحتی مرکز کے طور پر خوب اہتمام کے ساتھ سجایا گیا ہے۔ غار کے دہانے پر گاڑیوں کی پارکنگ، ریسٹورنٹ اور دیگر سہولتوں کے علاوہ پرانی گاڑیوں کا ایک میوزیم بھی ہے جو سیاحوں کی خاصی توجہ حاصل کرتا ہے۔ ورکنگ ڈے ہونے کے باوجود سیاحوں کا خوب رش تھا۔ سیاحوں کو گروپ کی شکل میں غار میں گھمایا جاتا ہے اور ایک گائیڈ انہیں وقفے وقفے سے تفصیلات سے آگاہ کرتا رہتا ہے۔ ٹکٹ خرید کر ہم غار میں داخل ہوئے تو ہمارے آگے آگے ایک گروپ چل رہا تھا اور تھوڑے وقفے کے ساتھ ایک نوجوان لڑکی کی گائیڈنس میں ہم بھی غار کے اندرونی حصے کی سیر کر رہے تھے۔ غار کے اندر راستے پر اینٹوں کا فرش کیا گیا ہے جبکہ باقی سب کچھ اصلی ہے جسے چھیڑا نہیں گیا۔ البتہ روشنی کا مناسب انتظام ہے جبکہ ہوا اور ٹمپریچر کو ضرورت کے مطابق رکھنے کا بھی بندوبست کیا گیا ہے۔ ہم نے غار میں داخل ہو کر گھومتے ہوئے راستے سے دوبارہ غار کے دہانے تک پہنچنے میں ایک گھنٹہ گزارا جبکہ اس کی مسافت سوا میل بتائی گئی۔

یہ غار ۱۸۷۸ء میں تین برٹش افراد نے دریافت کیا تھا۔ ۱۹۰۷ء میں اسے باقاعدہ سیاحوں کے لیے تیار کرنے کا مرحلہ شروع ہوا۔ غار میں ایک لڑکی کی قبر بھی بنائی گئی ہے جس کے بارے میں گائیڈ نے بتایا کہ یہ لڑکی ایک گروپ کے ساتھ غار میں داخل ہونے کے بعد گم ہوگئی تھی اس کی یادگار کے طور پر قبر بنائی گئی ہے۔ غار ہزاروں سال سے اسی کیفیت میں ہے البتہ مٹی اور قدرتی کیمیکلز کے ملاپ کے ساتھ چھوٹے بڑے ستون بنتے رہتے ہیں جو زمین پر بھی ہیں اور ان سے کہیں زیادہ چھت کے ساتھ لٹکے ہوے ہیں۔ وہ اب پتھر کی طرح سخت ہیں اور طرح طرح کی شکل اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ایک جگہ دیواروں کے ساتھ اس طرح کی بہت سی شکلیں مچھلی سے ملتی ملتی ہیں۔ اسی مناسبت سے غار کے اس حصے کو ’’فش مارکیٹ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ایک جگہ مٹی، پانی اور کیمیکلز کے اس ملاپ نے کتے سے ملتی جلتی شکل اختیار کر لی ہے۔ اور ایک مقام پر ایسے لگتا ہے جیسے باقاعدہ پردے بنا کر چھت سے لٹکا دیے گئے ہوں حتیٰ کہ ایک پردے کو دیکھ کر پہلی نظر میں بالکل یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے نہانے کے بعد تولیہ دیوار پر لٹکا دیا ہے۔

گائیڈ لڑکی جگہ جگہ کمنٹری اور بریفنگ سے بہرہ ور کرتی رہی جو انگلش میں ہونے کی وجہ سے میرے پلے نہیں پڑی تھی البتہ اشرف صاحب اور ناہن صاحب ضروری باتیں ترجمہ کر کے مجھے بتاتے رہے جس سے میرا بھی تھوڑا بہت گزارا ہوگیا۔ غار سے نکلے تو اسی ٹکٹ پر پرانی گاڑیوں کے میوزیم میں داخل ہوگئے جس میں ۱۷۲۵ء سے ۱۹۴۲ء تک بننے والی ایک سو چالیس کاریں دو رویہ گول قطاروں میں کھڑی ہیں اور ان کے ساتھ کتبوں پر ان کی تاریخ اور دیگر ضروری معلومات درج ہیں۔

غار کی ایک دلچسپ بات اب یاد آئی کہ اس میں ایک جگہ پانی کا حوض ہے جس پر کھڑے ہو کر کچھ لوگ دعا کرتے ہیں اور پانی میں سکے پھینکتے ہیں۔ ہر سال حوض کی صفائی کی جاتی ہے، سکے نکالے جاتے ہیں اور انہیں گن کر ریکارڈ میں درج کیا جاتا ہے۔ میں نے اشرف صاحب سے پوچھا کہ ان سکوں کا کیا کرتے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ غالباً غرباء میں تقسیم کر دیتے ہیں۔ یہ دیکھ کر مجھے اپنی جامع مسجد (شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ) کا حوض یاد آگیا جس میں سنہرے رنگ کی مچھلیاں ہیں، بچے شوق سے یہ مچھلیاں دیکھنے آتے ہیں اور حوض میں سکے پھینکتے ہیں۔ خود میں بھی بچپن میں مچھلیاں دیکھنے یہاں آیا کرتا تھا۔ یہیں شیرانوالہ باغ کے سامنے ریلوے لائن کی دوسری طرف رام بستی کی ایک مسجد میں میرے نانا مولوی محمد اکبر صاحب مرحوم امام تھے۔ ہم کبھی ننھیال آتے تو نانا مرحوم ہمیں سنہری مچھلیاں دکھانے کے لیے جامع مسجد میں لایا کرتے تھے۔ الحمد للہ میں اسی جامع مسجد میں گزشتہ پینتیس برس سے خطیب ہوں مگر ہمارے حوض میں اتنے سکے نہیں ہوتے کہ انہیں بانٹا جا سکے۔ سال میں ایک بار حوض کی صفائی ضرور کی جاتی ہے اور وہ سکے صفائی کرنے والوں کا حق سمجھے جاتے ہیں۔

سکائی لائن ڈرائیو اور لورے کیورن کی یہ سیر میرے اس سفر کی واحد ’’آؤٹ ڈور‘‘ یا ’’غیر نصابی‘‘ سرگرمی تھی البتہ محمد اشرف اور ناہن علی کا کہنا ہے کہ اگلے سفر میں وہ مجھے ریڈ انڈینز کے علاقے میں لے جائیں گے اور ان سے گپ شپ کرائیں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ گزشتہ سفر میں میرے پاس وقت کافی تھا اس لیے برمنگھم (الاباما) میں افتخار رانا، لانگ آئی لینڈ (نیویارک) میں مولانا عبد الرزاق عزیز اور اسپرنگ فیلڈ (ورجینیا) میں مولانا عبد الحمید اصغر نے مجھے بہت سے تاریخی آثار کی سیر کرائی تھی جن کی کچھ تفصیلات اس کالم میں اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کر چکا ہوں۔ اس بار وقت کی کمی اور ’’نصابی سرگرمیوں‘‘ کی کثرت کی وجہ سے ان دوستوں سے اس طرح کا استفادہ نہیں کر سکا اور دو ہفتے کی تعطیلات واشنگٹن ڈی سی اور نیویارک میں گزار کر پروگرام کے مطابق ۴ جولائی کو گوجرانوالہ واپس پہنچ گیا، الحمد للہ ۔