بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی کے معاشرتی مسائل

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۶ جولائی ۲۰۱۲ء

میں ۸ جولائی کو پاکستان سے روانہ ہوا تھا اور پانچ دن متحدہ عرب امارات میں گزار کر ۱۶ جولائی کو جدہ پہنچا ہوں۔ متحدہ عرب امارات میں دوبئی، شارجہ، عجمان، جبل علی اور الفجیرہ میں دوستوں سے ملاقاتیں ہوئیں اور بہت سی باتیں مشاہدے میں آئیں۔ پہلی بار ۱۹۸۵ء میں دوبئی آنا ہوا تھا اس کے بعد یہاں کے متعدد سفر ہوئے لیکن اس بار جب دوبئی آیا تو قدرے اطمینان کے ساتھ گھومنے پھرنے کا موقع ملا او ریوں لگا جیسے ۱۹۸۵ء میں کسی قصبے میں آیا تھا اور اب کسی بڑے بین الاقوامی شہر میں چل پھر رہا ہوں۔ دوبئی، شارجہ اور عجمان الگ الگ ریاستیں ہیں لیکن راولپنڈی اور اسلام آباد کی طرح جڑواں شہر بن گئے ہیں اور ایک ریاست سے دوسری ریاست میں منتقل ہوتے ہوئے کوئی ساتھی آگاہ نہ کرے تو معلوم نہیں ہوتا۔ آبادی کے اتصال اور تسلسل نے ان تین ریاستوں کو ایک جڑواں شہر کی حیثیت دے دی ہے۔

میرا قیام شارجہ میں رہا، گوجرانوالہ کے پرانے دوست محمد فاروق شیخ گزشتہ ربع صدی سے یہاں مقیم ہیں، ہمارے ساتھ جمعیۃ طلباء اسلام اور جمعیۃ علماء اسلام کے پلیٹ فارم پر مختلف دینی تحریکوں میں شریک رہے ہیں، میرے جیل کے ساتھی بھی ہیں اور اب ربع صدی سے ایک کمپنی کے سرگرم ملازم کے طور پر اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنے میں مصروف ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد مقیم ہے جس میں پاکستان کے ہر حصے اور علاقے کے لوگ شامل ہیں لیکن ان کے اپنے مسائل ہیں اور جداگانہ مشکلات ہیں۔ کچھ عرصہ سے متحدہ عرب امارات میں مغربی طرز کے تعلیمی اداروں کا رجحان بڑھ رہا ہے جو مہنگے بھی ہیں اور معیاری بھی بعض حوالوں سے یقیناً ہیں، لیکن ان میں تعلیم پانے والے نوجوانوں کی نفسیات، ذہنی رجحانات اور معاشرتی ترجیحات اپنے خاندانوں سے مختلف ہوتی جا رہی ہیں جس سے پاکستانی، انڈین اور بنگلہ دیشی خاندانوں کی پریشانی بڑھ رہی ہے۔ ایشین خاندانوں بالخصوص مسلمان اور پاکستانی فیملیوں کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ ان کے بچے اور بچیاں تعلیم تو مغربی طرز کے اداروں میں حاصل کریں اور علوم و فنون میں ان کا معیار وہی ہو تاکہ اعلیٰ ملازمتیں ان کی رسائی میں رہیں لیکن ان کا معاشرتی ماحول اور ذہنی رجحانات اپنے خاندانوں کے دائروں میں محدود رہیں۔ یہ کام مشکل ہوگیا ہے کیونکہ مغربی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور طالبات کے خاندانوں کو اب تعلیمی معیار اور مشرقی ماحول میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑ رہا ہے اور خاندانوں کی الجھنیں دوچند ہوتی جا رہی ہیں۔

اس سفر میں ایک مقام پر بعض پاکستانی فیملیوں نے ایک اجتماعی ملاقات میں مجھ سے اس مسئلہ پر اہتمام کے ساتھ گفتگو کی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کے خاندانی اور تعلیمی مسائل پر حکومت پاکستان کی توجہ مبذول کرائی جائے اور ان کے حل کے لیے قومی سطح پر کوئی راستہ نکالا جائے۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ ہماری حکومتوں اور حکمران طبقات کو تو اپنے خود ساختہ مسائل و مشکلات سے ہی فرصت نہیں ہے۔ وہ کرپشن، قومی اداروں کی کشمکش، بیرونی اکاؤنٹس کے تحفظ اور اقتدار کے حصول یا بچاؤ جیسے خود پیدا کردہ مسائل سے فرصت پائیں تو پاکستانیوں کی مشکلات پر بھی توجہ دیں۔ انہیں تو پاکستان کے اندر رہنے والے پاکستانیوں کے مسائل و مصائب پر غور کرنے کا وقت نہیں ملتا، سمندر پار رہنے والے پاکستانیوں کی مشکلات کے حل کے لیے وہ کہاں سے وقت حاصل کر پائیں گے؟

اس قسم کی الجھنوں سے دوچار خاندانوں کی پریشانیوں کا میں گزشتہ تین عشروں سے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ یورپ اور امریکہ میں مقیم پاکستانی آبادیوں میں بھی مشاہدہ کرتا آرہا ہوں اور میں نے عام طور پر تین قسم کے رجحانات دیکھے ہیں:

  1. ایک رجحان مکمل گریز کا ہے کہ یہاں سے ڈالر، ریال، درہم اور پونڈ تو کماؤ مگر اپنی اولاد کو مکمل طور پر کیموفلاج رکھو اور یہاں کی معاشرت کے قریب مت پھٹکنے دو۔ یہ رجحانات اِکا دُکا فیملیوں میں ہیں جو ناقابل عمل ہونے کی وجہ سے اب بالکل ہی کم ہوتے جا رہے ہیں۔
  2. دوسرا رجحان مکمل خودسپردگی کا ہے کہ اب آہی گئے ہیں تو پیچھے کی طرف دیکھنے کی ضرورت کیا ہے؟ کچھ عرصہ قبل امریکہ کے ایک شہر میں کچھ دوستوں نے مجھے ایک پاکستانی کی طرف توجہ دلائی کہ ان کا ایک نوجوان بیٹا عیسائی ہوگیا ہے اور وہ بالکل بے فکر ہیں، آپ ان سے بات کریں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے اس فیملی کے سربراہ سے بات نہیں کی؟ وہ لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر صاحب تھے، دوستوں نے کہا کہ ہم کچھ دوست مل کر ان کے پاس گئے تھے انہوں نے اس مقصد کے لیے ہماری ملاقات کا برا مانتے ہوئے صرف اتنا کہا تھا کہ میرا بیٹا عیسائی ہوگیا ہے تو پھر کیا ہوا؟ میں نے ان سے عرض کیا کہ کیا اس کے بعد میری ان سے ملاقات اور کچھ عرض کرنے کی کوئی گنجائش باقی رہ گئی ہے؟ یہ رجحان مکمل خودسپردگی کا ہے کہ ’’جب سر اوکھلی میں دے دیا تو ڈر کاہے کا؟‘‘
  3. لیکن ایک تیسرا رجحان بھی ہے جو آہستہ آہستہ ترقی کر رہا ہے اور ان دونوں رجحانوں پر غالب ہوتا دکھائی دے رہا ہے کہ جن ممالک میں رہ رہے ہیں ان کی معاشرت سے مکمل لاتعلقی تو نہ رکھی جائے اور ان کے ساتھ گھل مل کر رہا جائے البتہ اپنے جداگانہ معاشرتی ماحول اور کلچر سے اپنی نئی نسل کو واقف اور وابستہ رکھنے کے لیے اپنے طور پر الگ انتظامات کیے جائیں۔ مغربی ممالک میں اس کا راستہ یہ اختیار کیا گیا ہے کہ مساجد میں بچوں کے لیے شام کے قرآنی مکاتب، اس ملک کے معیار و نصاب کے مطابق اپنے الگ اسکولوں کا قیام، اور دینی تعلیم کے لیے ملکی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مدارس کا نظام قائم کیا جا رہا ہے جو مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں اور کامیاب ثابت ہو رہے ہیں۔

اس حوالے سے مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کے مسائل الگ نوعیت کے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں رہائش پذیر پاکستانی کمیونٹی کے مسائل کی نوعیت اس سے مختلف ہے۔ اس تناظر میں متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی خاندانوں کی یہ الجھن میں نے اس سفر میں بطور خاص محسوس کی ہے کہ مغربی طرز کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کو اپنے ملک کے کلچر اور معاشرتی ماحول سے دلچسپی نہیں رہی اور وہ اپنے ملک میں واپس آنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں، جبکہ ان کی اس لاتعلقی کو نفرت میں بدلنے کے لیے ملک کا عمومی ماحول، کرپشن، لوڈشیڈنگ، لاقانونیت، مہنگائی اور اقتدار کی کشمکش مسلسل کردار ادا کر رہی ہے۔ مگر اس لاتعلقی اور کسی حد تک نفرت کے باوجود اپنے ملک کے حوالہ سے شناخت ان کے لیے مسئلہ بنی ہوئی ہے اور اعلیٰ معیار کی تعلیم حاصل کرنے اور تجربہ رکھنے والوں کے لیے اپنے معیار کی ملازمت کا حصول ان کے بقول پاکستانی پاسپورٹ کی وجہ سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ بہت سے نوجوانوں کو میں نے دیکھا کہ وہ برطانیہ یا کسی اور مغربی ملک کا پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے صرف اس وجہ سے کوشاں ہیں کہ انہوں نے جو تعلیم اور ٹریننگ حاصل کی ہے اس کے مطابق انہیں ملازمت مل جائے۔ اسے لمحۂ فکریہ سے تعبیر کیا جائے یا المیے کا عنوان دیا جائے مگر یہ حقیقت ہے کہ اس مسئلہ کی شدت اور سنگینی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اب میں جدہ میں ہوں اور حرمین شریفین کی حاضری کی تیاری کر رہا ہوں، یہاں کی باتیں اگلی ملاقات میں ان شاء اللہ تعالیٰ۔