متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کے بعض اہم مسائل

   
مجلہ: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۴ ستمبر ۱۹۸۷ء

مجھے ۹ اگست سے ۱۷ اگست تک متحدہ عرب امارات کے مختلف حصوں کا دورہ کرنے کا موقع ملا اور اس دوران دوبئی، شارجہ، عجمان اور ابو ظہبی میں متعدد دینی اجتماعات میں شرکت کے علاوہ پاکستانی باشندوں کی مختلف تقریبات میں حاضری کا بھی اتفاق ہوا۔ جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ متحدہ عرب امارات اس دورہ کی میزبان تھی اور جمعیۃ کی طرف سے دیگر اجتماعات کے علاوہ یوم پاکستان کے موقع پر ۱۴ اگست کو ابوظہبی کی قدیمی جامع مسجد میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر جلسۂ عام کا بھی اہتمام کیا گیا جس سے راقم الحروف کے علاوہ جمعیۃ اہل السنۃ کے راہنما جناب اشتیاق حسین عثمانی نے بھی خطاب کیا اور اس موقع پر پاکستان کی سالمیت و وحدت کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

دوبئی میں پاکستان کے قونصل جنرل جناب محمد قربان اور وائس قونصل جناب منور بھٹی سے ملاقات ہوئی اور ان علاقوں میں مقیم پاکستانیوں کو درپیش مشکلات و مسائل پر ان سے تبادلۂ خیالات ہوا۔ دوبئی میں پاکستانیوں کی تنظیم پاکستان ایسوسی ایشن کے صدر جناب ملک محمد اسلم اور دیگر راہنماؤں حاجی محمد کریم اور جناب غازی درویش کے ساتھ متعدد نشستیں ہوئیں اور پاکستان کے مسائل زیربحث آئے۔

بیرون ملک پاکستانی باشندوں کو وطن عزیز میں تخریب کاری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر بے حد تشویش ہے اور یہ تشویش و اضطراب اس وقت دوچند ہو جاتا ہے جب اپنے ملک کی تڑپتی ہوئی لاشوں کے تصور کے ساتھ وطن سے دوری کا احساس اجاگر ہوتا ہے۔ اور اس کے ساتھ جب ان علاقوں میں مقیم دیگر پڑوسی ممالک کے باشندوں بالخصوص غیر مسلم حضرات کی طنزیہ نگاہوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو محب وطن پاکستانیوں کی حالت غیر ہو جاتی ہے۔ ایک ہم وطن بھائی نے انتہائی دکھ بھرے لہجے کے ساتھ کہا کہ جب پاکستان کے کسی شہر میں دھماکے اور اس سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کی خبر آتی ہے تو اس المیہ پر دلی صدمہ و رنج کے علاوہ ایک طرف تو ہمیں یہ احساس ستاتا ہے کہ ہم وطن سے دور ہیں اور کچھ بھی نہیں کر سکتے اور دوسری طرف پاکستان کے بعض پڑوسی ممالک کے غیرمسلم باشندے جب ہماری طرف طنزیہ نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور طنز آمیز لہجہ میں واقعہ کی تفصیلات پوچھتے ہیں تو جگر چھلنی ہو جاتا ہے لیکن بے بس ہوتے ہیں آخر کیا کر سکتے ہیں!

سفارتی عملہ کی کمی

متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی باشندوں کو جن مشکلات و مسائل کا سامنا ہے ان کے حل کے لیے پاکستانی سفارت خانہ اور قونصل خانہ اور پاکستان ایسوسی ایشن کے عہدہ دار خاصی تگ و دو کرتے ہیں لیکن بسا اوقات مسائل کی وسعت بساط کی حدود سے تجاوز کر جاتی ہے۔ مجھے دوبئی کے پاکستانی قونصل خانہ میں ویزا سیکشن کے کام کی وسعت اور ہجوم دیکھ کر عملہ کی کمی کا شدت کے ساتھ احساس ہوا۔ جمعیۃ اہل السنۃ کے امیر مولانا محمد فہیم، حافظ بشیر احمد چیمہ اور جناب محمد ابراہیم کے ہمراہ ویزا سیکشن کے انچارج جناب منور بھٹی صاحب کے پاس مجھے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ بیٹھنے کا اتفاق ہوا لیکن دستخطوں کے لیے پاسپورٹوں کے انبار کے علاوہ ملاقاتیوں کے ہجوم اور ٹیلی فونوں کی بھرمار کا یہ عالم تھا کہ ہم کسی ایک مسئلہ پر بھی اطمینان سے گفتگو نہ کر سکے۔ منور بھٹی صاحب بار بار معذرت کرتے لیکن بات نہ بنی اور ہمیں بالآخر اپنی دیگر مصروفیات کے باعث جلدی اٹھنا پڑا۔ البتہ قونصل جنرل صاحب سے گفتگو بہت تفصیل کے ساتھ اور بے حد اطمینان و سکون کے ماحول میں ہوئی۔ قونصل خانہ میں غالباً ویزا سیکشن کا کام ہی سب سے زیادہ ہوتا ہے اس لیے اگر اس سیکشن میں ایک مزید وائس قونصل کا اضافہ کر کے کام کا بوجھ تقسیم کر دیا جائے تو زیادہ مناسب بات ہوگی۔

تجارتی تعلقات

متحدہ عرب امارات کے ساتھ پاکستان کے تجارتی روابط کی صورتحال باشعور تاجر حلقوں کے نزدیک کچھ زیادہ تسلی بخش نہیں ہے۔ یہاں پاکستانی مصنوعات کی بہت زیادہ کھپت ہو سکتی ہے لیکن اس کا رجحان بڑھنے کی بجائے کم ہوتا جا رہا ہے جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی مصنوعات کے معیار کے بارے میں اعتماد قائم نہیں رہا۔ متعدد واقعات ایسے پیش آئے ہیں کہ پاکستان کی تجارتی کمپنیوں نے مطلوبہ مال کا نمونہ اور دکھایا ہے اور جب مال یہاں پہنچا ہے تو وہ نمونہ کے مطابق نہیں نکلا جس سے پاکستان کی ساکھ کو سخت نقصان پہنچا ہے۔ حالانکہ کپڑے اور دیگر پاکستانی مصنوعات کے بارے میں یہاں کے تاجر حلقوں کا خیال ہے کہ وہ اس قدر معیاری ہوتی ہیں کہ دوسرے ممالک ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی مصنوعات کے معیار کے بارے میں اعتماد کو بحال کرنے کے لیے ازسرِنو ٹھوس محنت کی جائے۔ اس سلسلہ میں دو تجاویز پاکستان ایسوسی ایشن کے عہدہ داروں کی طرف سے پیش کی گئی ہیں:

  • ایک یہ کہ پاکستانی سفارت خانہ میں کمرشل اتاشی کا منصب کسی تجربہ کاور محب وطن تاجر کے سپرد کیا جائے جو تجارت کے اصولوں اور مزاج سے پوری واقفیت کے ساتھ مشنری جذبہ سے اس فریضہ کو سرانجام دے۔
  • دوسری تجویز یہ ہے کہ دوبئی میں پاکستان کا ٹریڈ سنٹر قائم کیا جائے جہاں حکومتی سطح پر پاکستانی مصنوعات کو متعارف کرانے اور ان کے معیار پر اعتماد بحال کرانے کے لیے محنت کی جائے۔

یہاں دوبئی کے بارے میں ایک عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ کچھ سالوں کے بعد ہانگ کانگ کے عوامی جمہوریہ چین کی تحویل میں چلے جانے کے بعد بین الاقوامی تجارتی منڈی کے طور پر دوبئی کو اس کی جگہ لینے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس پس منظر میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ پاکستان کے تجارتی تعلقات کو وسعت دینے اور ان میں اعتماد اور استحکام پیدا کرنے کی اور بھی زیادہ ضرورت بڑھ جاتی ہے۔

لیبر کے مسائل

متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی باشندوں کو ایک اور اہم مسئلہ یہ درپیش ہے کہ جو مزدور پیشہ غریب لوگ مختلف کمپنیوں کی وساطت سے روزگار کی تلاش میں یہاں آتے ہیں ان کے ساتھ بسا اوقات یہ صورتحال پیش آجاتی ہے کہ آٹھ دس مہینے کام لینے کے بعد کمپنیاں بھاگ جاتی ہیں اور ان افراد کو نہ صرف یہ کہ متبادل روزگار نہیں ملتا بلکہ گزشتہ آٹھ آٹھ دس دس ماہ کی تنخواہیں بھی رکی ہوئی ہوتی ہیں جن کی وصولی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ یہاں کی حکومت اس سلسلہ میں کسی ذمہ داری کو قبول نہیں کرتی اور پاکستانی قونصل خانہ بھی بے بسی کا اظہار کر دیتا ہے جس سے وہ غریب لوگ جو گھروں کے اثاثے بیچ کر اور قرضے اٹھا کر بمشکل یہاں پہنچ پاتے ہیں ان کی حالت انتہائی قابل رحم ہو جاتی ہے۔

حکومت پاکستان کو اس سلسلہ میں متحدہ عرب امارات کی حکومت سے باضابطہ بات کرنی چاہیے اور اس کے ساتھ ہی سفارت خانے کے لیبر سیکشن کو زیادہ فعال اور متحرک بنانے کے لیے بھی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ملک میں ایسے محب وطن لیبر لیڈروں کی کمی نہیں جو ان معاملات کو سمجھتے ہیں اور سلجھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اگر لیبر اتاشی کے طور پر ان معاملات کا تجربہ رکھنے والے محب وطن حضرات کو ملک و قوم کی خدمت کا موقع دیا جائے تو حالات میں کافی حد تک سدھار پیدا ہو سکتا ہے۔

کسٹم حکام کا غلط رویہ

بیرون ملک مقیم پاکستانی باشندوں کو پاکستان کے کسٹم حکام سے بھی بہت شکایات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم جب دو سال یا تین سال کے بعد وطن واپس جاتے ہیں تو کسٹم کے عملہ کا غیر متوقع رویہ ہمارے اندر یہ احساس پیدا کر دیتا ہے کہ شاید ہم کوئی بہت بڑا جرم کر کے جا رہے ہیں اور ہمیں کسٹم افسران کے سامنے اس کی پیشی بھگتنی ہے۔ کیونکہ ان کا رویہ ایسا بے رحمانہ اور توہین آمیز ہوتا ہے کہ شاید جیل کا عملہ بھی قیدیوں کے ساتھ ایسا سلوک نہ کرتا ہوگا۔ بالخصوص وہ شرفاء جو اپنے طور پر اس امر کا اہتمام کرتے ہیں کہ قانون اور ضابطہ کے دائرہ میں رہتے ہوئے سامان لے جائیں اور کوئی ایسی صورت پیدا نہ ہو کہ انہیں رشوت جیسے ملعون عمل سے گزرنا پڑے، ان لوگوں کو کسٹم حکام کی چیرہ دستیوں کا زیادہ نشانہ بننا پڑتا ہے۔

پاکستان ایسوسی ایشن دوبئی کے ایک عہدہ دار نے اس سلسلہ میں یہ تجویز دی ہے کہ پاکستان کے تمام ایئرپورٹوں پر علماء، سماجی کارکنوں اور معزز شہریوں کی نگران کمیٹیاں قائم کی جائیں جو کسٹم کے عملہ کی کارکردگی پر نظر رکھیں اور جو لوگ ان کی زیادتیوں کا نشانہ بنتے ہیں ان کی شکایات سن کر ان کا بروقت ازالہ کریں۔

متبادل روزگار کا مسئلہ

بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانی باشندوں کے مسائل کے سلسلہ میں ایک اور اہم بات کافی عرصہ سے محسوس ہو رہی ہے اور قومی پریس میں اس کا وقتاً فوقتاً اظہار بھی ہوتا رہتا ہے لیکن ابھی تک حکومت کی طرف سے کسی پیش رفت کے آثار نظر نہیں آتے۔ اور وہ ان پاکستانیوں کی وطن واپسی کے بعد ان کا متبادل روزگار کا مسئلہ ہے جو لاکھوں کی تعداد میں بیرونی ممالک میں مقیم ہیں اور جن کی واپسی کا عمل دن بدن تیز ہوتا جا رہا ہے۔

یہ پاکستانی جو اپنے وطن اور اہل خاندان سے ہزاروں میل دور رہ کر مسافرت اور محنت کی مشقت برداشت کر کے اپنے وطن کے لیے اربوں روپے کے زرمبادلہ کماتے ہیں اور ملکی معیشت کو نازک وقت میں سہارا دے رہے ہیں، ان کے مستقبل کے بارے میں منصوبہ بندی کرنا حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ اور یہ منصوبہ بندی اس طرز کی ہونی چاہیے کہ بیرون ملک سے واپس آنے والے پاکستانیوں کی مناسب راہنمائی کا اہتمام کیا جائے کہ وہ اپنی بچائی ہوئی رقم کو ایسے طریقے سے خرچ کریں جس سے ان کا اپنا مستقبل بھی محفوظ ہو اور اس سے ملک و قوم کو بھی فائدہ پہنچے۔ اور راہنمائی کے ساتھ ساتھ عملی طور پر چھوٹی چھوٹی صنعتوں کے قیام کے لیے قرضوں اور دیگر سہولتوں کا اہتمام کیا جائے تاکہ باہر سے آنے والی رقم ترقیاتی کاموں پر صرف ہو۔

اس وقت صورتحال یہ ہےکہ مناسب راہنمائی اور ترغیب نہ ہونے کی وجہ سے باہر سے آنے والی رقم کا بیشتر حصہ سہولت اور تعیش کے سامان پر صرف ہو رہا ہے۔ اس کے بعد باقی ماندہ رقم بلڈنگوں میں بلاک ہو رہی ہے اور پھر جو کچھ بچ جاتا ہے اس میں سے تجارت اور صنعت کا بھی تھوڑا بہت حصہ نکل آتا ہے۔ عام طور پر اسے عمومی مزاج قرار دے کر اس مسئلہ سے صرف نظر کی کوشش کی جاتی ہے لیکن یہ طرز عمل درست نہیں ہے۔ اگر عمومی مزاج کا رخ قومی مفاد کی طرف نہیں ہے تو اسے بدلنے کے لیے راہنمائی اور ترغیب کا اہتمام کرنا حکومت اور قومی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے بالکل چھوٹی سطح پر صنعتی یونٹ لگانے کے لیے بیرونی ممالک سے آنے والے پاکستانیوں کی راہنمائی کی جائے، انہیں بلاسود قرضے دیے جائیں اور ٹیکسوں وغیرہ میں ایسی سہولتیں دی جائیں جو ان کے لیے کشش کا باعث ہوں۔

اس کے لیے قومی سطح پر ٹھوس منصوبہ بندی اور منظم جدوجہد کی ضرورت ہے ورنہ بیرونی ممالک سے آنے والی رقم کا بیشتر حصہ غیر ترقیاتی مصارف پر صرف ہو کر بے مقصد ہو جائے گا اور اس کے ساتھ لاکھوں افراد کے متبادل روزگار کا مسئلہ الگ پریشانی اور بحران کا باعث بن سکتا ہے۔