قاہرہ میں پانچ دن ۔ مشاہدات، تاثرات اور محسوسات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۱ ستمبر ۱۹۸۷ء

بیرونی ممالک میں کام کرنے والے مصریوں کی چوتھی سالانہ کانفرنس گزشتہ روز ختم ہوگئی ہے۔ یہ کانفرنس پانچ روز جاری رہی، اس کے افتتاحی اجلاس سے صدرِ مصر جناب حسنی مبارک نے اور اختتامی اجلاس سے وزیراعظم جناب ڈاکٹر عاطف صدقی نے خطاب کیا۔ اس دوران مختلف وزارتوں اور محکموں کے سربراہوں نے کانفرنس کے شرکاء کے سامنے مصری حکومت کی پالیسیوں پر روشنی ڈالی اور بیرونِ ملک مقیم مصریوں کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس میں بیرون ملک کام کرنے والے مصریوں کے مسائل و مشکلات کے حل کے لیے متعدد تجاویز اور قراردادوں کے علاوہ یہ قرارداد بھی منظور کی گئی کہ بیرونِ ملک مقیم مصریوں کو اپنے ملک کے عام انتخابات میں حصہ لینے اور ووٹ دینے کا حق دیا جائے۔ وزیراعظم عاطف صدقی نے اختتامی خطاب میں اعلان کیا کہ وہ کانفرنس کی قراردادوں کی روشنی میں تین ماہ کے اندر بیرونِ ملک مقیم مصریوں کے لیے نئی سہولتوں کا اعلان کریں گے۔

میرا قاہرہ میں حاضری کا سب سے بڑا مقصد شیخ الازہر جناب ڈاکٹر جاد الحق علی جاد الحق سے ملاقات کرنا اور گوجرانوالہ میں جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ کے زیر اہتمام قائم کی جانے والی ’’شاہ ولی اللہ یونیورسٹی‘‘ کے نصاب و نظام کے علاوہ پاکستان میں نفاذِ شریعت سے متعلق اہم امور پر ان سے تبادلۂ خیالات کرنا تھا لیکن بدقسمتی سے یہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ جامعہ میں تعطیلات ہیں اور شیخ الازہر چھٹیاں گزارنے کے لیے قاہرہ سے باہر گئے ہوئے ہیں اس لیے ان سے ملاقات نہ ہو سکی، البتہ ان کے دفتر کے انچارج ڈاکٹر عبد العزیز عزت سے ملاقات ہوئی۔ ڈاکٹر عزت کچھ عرصہ پاکستان رہے ہیں اور اردو اچھی طرح بول لیتے ہیں۔ ان سے متعلقہ امور پر تبادلۂ خیالات ہوا اور ان کے ارشاد پر تمام ضروری گزارشات تحریری صورت میں شیخ الازہر کے لیے ان کے حوالے کر دیں جن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ شیخ الازہر کی واپسی کے بعد ان کے جوابات تحریری صورت میں ارسال کر دیے جائیں گے۔

قاہرہ میں مختلف مقامات تک آنے جانے میں ژوب پاکستان کے ایک طالب علم جناب احمد شیرانی میرے ساتھ تھے جو جامعہ ازہر میں ایم اے کے آخری سال میں ہیں۔ انہوں نے رفاقت اور خدمت کا حق ادا کر دیا، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دیں۔ بادشاہی مسجد لاہور کے خطیب مولانا سید عبد القادر آزاد کے چھوٹے بھائی سید عبد الخالق پیرزادہ بھی ازہر یونیرسٹی میں ایم اے کے آخری سال کے طالب علم ہیں اور ’’مولانا محمد الیاس دہلویؒ اور ان کی دعوت‘‘ کے موضوع پر یونیورسٹی کے لیے ایم اے کا مقالہ لکھ رہے ہیں۔ ان کی رہائش گاہ پر متعدد بار جانے اور ایک دو راتیں بسر کرنے کا اتفاق ہوا، میرے ہوٹل میں رہنے پر ناراض ہوئے مگر میں ان کی ناراضگی دور نہ کر سکا۔ اس کے باوجود انہوں نے فیاضانہ میزبانی کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ ان کی رہائش گاہ پر پاکستانی سفارت خانہ کے ایک افسر جناب مشتاق احمد سے ملاقات ہوئی۔ موصوف کراچی کے رہنے والے ہیں اور قاہرہ میں پاکستانی سفارت خانہ کے ویزا سیکشن میں ملازم ہیں۔ ان سے مختلف امور پر تبادلۂ خیالات ہوا، کھلی طبیعت اور بے تکلف مزاج کے دوست ہیں۔ انوہں نے ایک رات ہماری دعوت بھی کی جس میں میرے ساتھ جناب عبد الخالق پیرزادہ اور جناب احمد شیرانی شریک ہوئے اور رات گئے تک گپ شپ رہی۔

احمد شیرانی ایک دن مجھے الاہرام دکھانے کے لیے لے گئے، وہاں سیاحوں کی خاصی رونق ہوتی ہے، زیادہ تعداد یورپین سیاحوں کی تھی۔ آسمان سے باتیں کرتے ہوئے تین بلند و بالا اہرام اور ابوالہول کا مجسمہ دیکھ کر انسان کے عزم و حوصلہ اور محنت و مشقت کی عظمت ذہن میں اجاگر ہوتی ہے اور یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت انسان کو کس قدر حوصلہ اور قوت سے نوازا ہے۔ مگر ان اہراموں کے اندر فرعونوں کی قبریں ہر دیکھنے والے پر واضح کر دیتی ہیں کہ یہ سب کچھ عارضی اور فانی ہے اور قوت و شوکت کے ہر عروج نے بالآخر زوال اور فنا کا شکار ہو کر طاقِ نسیاں کی زینت بن جانا ہے۔ بس رہے نام خدا کا۔

مجھے ۱۷ اگست سے ۲۲ اگست تک قاہرہ میں ہی گھومنے پھرنے کا موقع ملا اس کے علاوہ کہیں او رنہیں جا سکا۔ اس لیے میرے مشاہدات و محسوسات صرف قاہرہ تک محدود رہیں گے۔ ایک دوست نے آج مجھے کہا کہ سارے مصر کو قاہرہ پر قیاس نہ کرنا، یہ دارالحکومت ہے اور بین الاقوامی شہر ہے۔ یہاں مختلف اقوام کے لوگ رہتے ہیں جن کے معاشرتی امتزاج نے قاہرہ کو بالکل ایک نیا رنگ دے دیا ہے۔ اس لیے اگر مصر کی اصل معاشرت کو دیکھنا چاہتے ہو تو دوچار بڑے شہروں کو چھوڑ کر باقی مصر کو دیکھو تمہیں مصری معاشرت قاہرہ سے مختلف نظر آئے گی۔ بہرحال میں نے تو صرف قاہرہ کو دیکھا ہے اور وہ بھی چار پانچ روز میں ایک سرسری نظر دیکھنے کا موقع ملا ہے اس لیے اسی کے بارے میں کچھ عرض کر سکوں گا۔

قاہرہ کی عمومی زندگی کو دیکھ کر مجھے یوں محسوس ہوا کہ قاہرہ نے اپنی معاشرت کو یورپ کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔ مگر صرف مرد و عورت کے آزادانہ اختلاط اور ایک حد تک عورت کے لباس کے بارے میں یورپی معاشرت سے استفادہ کرنے کے علاوہ عمومی معاشرت میں اسے اس میں کامیابی نہیں ہوئی۔ استعماری قوتوں سے آزادی حاصل کرنے والے مسلم ممالک اور تیسری دنیا کے دیگر اکثر ممالک کا حال یہی ہے، ان میں ہم پاکستانی بھی ہیں۔ ہمیں یورپی معاشرت کے صرف وہ حصے اچھے لگے ہیں جن کا تعلق مرد و عورت کے آزادانہ اختلاط، جنسی بے راہ روی اور پردہ و حیا کی اسلامی مشرقی اقدار کو خیرباد کہہ دینے سے ہے۔ ان باتوں کو اپنانے میں ہم نے خاصی محنت کی ہے۔ خود کو یورپین ظاہر کرنے میں ہم نے ہر ملامت اور اعتراض کو یکسر رد کر دیا ہے اور اپنے اپنے ظرف اور ہاضمے کے مطابق اس میں ایک حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ لیکن یورپی معاشرت کے جن حصوں کا تعلق اصول پرستی، فرض شناسی، دیانت، محنت اور انسان دوستی سے ہے ان کی طرف ہمارا دھیان بالکل نہیں جاتا اور نہ ہی ان باتوں میں یورپی معاشرہ کی تقلید کی طرف کوئی رغبت ہوتی ہے۔ شاید ہمارے لاشعور میں یہ احساس کارفرما ہو کہ یہ ساری چیزیں یورپ کو ہم نے ہی تو دی ہیں اور دی ہوئی چیز واپس لینا کوئی اچھی بات نہیں ہوتی۔ خیر میں بات قاہرہ کی کر رہا تھا۔یہاں کی عمومی زندگی کو دیکھ کر ذہن میں جو تصور ابھرا اسے میں نے الفاظ کی شکل دینے کی کوشش کی تو بار بار یہ جملہ ذہن میں گردش کرنے لگا کہ ’’یار تو وہی پاکستان ہے‘‘۔ خدا جانے یہ جملہ کس وقت میرے ذہن کے پردۂ اسکرین پر ابھرا مگر کوشش کے باوجود اسے اسکرین سے ابھی تک ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوا بلکہ پے در پے مشاہدات نے اسے مستقل نقش بنا دیا ہے۔

۱۷ اگست کو میں الامارات کی فلائٹ کے ذریعے دوبئی سے قاہرہ پہنچا مگر مجھ سے غلطی یہ ہوئی کہ احمد شیرانی کو میں نے مصری ایئرلائن کی فلائٹ کا نمبر دے دیا۔ دونوں جہازوں نے تقریباً بیس منٹ کے وقفے سے دوبئی ایئرپورٹ سے اڑنا تھا اور ایک ہی وقت میں قاہرہ اترنا تھا۔ میرے علم میں نہیں تھا کہ یہاں دو ایئرپورٹ ہیں اور دونوں فلائٹوں نے الگ الگ ایئرپورٹوں پر اترنا ہے جن کے درمیان خاصا فاصلہ ہے۔ اس لیے میں جب قاہرہ میں اترا تو احمد شیرانی صاحب کو موجود نہ پا کر پریشان ہوگیا کیونکہ ان کے سوا کسی کو میری آمد کی اطلاع نہیں تھی اور نہ ہی میرے پاس کسی کا پتہ تھا۔ وہ مصری ایئرلائن والے ایئرپورٹ پر مجھے مسافروں میں نہ پا کر الگ پریشان ہوئے جس کا مجھے بعد میں پتہ چلا۔ خیر غلطی میری تھی اور مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ احمد شیرانی جامعہ ازہر کے جس ہاسٹل میں مقیم ہیں وہاں کسی بیرونی شخص کے داخلے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ اس لیے ہوٹل کی تلاش کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔

اسی پریشانی اور شش و پنج میں تھا کہ ٹیکسی ڈرائیوروں نے میرا گھیراؤ کر لیا۔ مجھے ایک لمحہ کے لیے شک گزرا کہ کہیں غلطی سے کراچی تو نہیں آگیا مگر ان کی زبان خالص مصری تھی اس لیے یہ شک تو باقی نہ رہا البتہ ایک ہوشیار قسم کے ڈرائیور نے میرا سامان خودبخود اٹھا لیا اور ’’تفضل یا حاج‘‘ (حاجی صاحب تشریف لائیے) کہہ کر چل پڑا۔ میرے پاس دو بیگ تھے، ایک ڈرائیور نے خود اٹھا لیا اور دوسرا اس کے ساتھ ایک لڑکے نے لے لیا۔ میں نے بھی باقی ڈرائیوروں کی یلغار سے بچنے کے لیے اس کے ساتھ چلنے میں عافیت سمجھی۔ ٹیکسی میں بیٹھنے سے پہلے میں نے اپنی قدیم عربی میں اس سے کرایہ پوچھا تو دل فریب مسکراہٹ کے ساتھ اس نے کہا ’’تفضل انت ضیف‘‘ (تشریف رکھیں آپ مہمان ہیں)۔ اور میں اچھا خاصا مہمان بن کر اس کے ساتھ براجمان ہوگیا۔ ٹیکسی روانہ ہوئی تو میں نے ہوٹلوں کے کرایوں کی تفصیلات دریافت کیں۔ اس نے کہا کہ ستر اسی پونڈ میں اچھا ہوٹل مل جاتا ہے۔ ایک مصری پونڈ تقریباً آٹھ روپے کے برابر ہوتا ہے۔ میں نے کہا اس سے کم بتاؤ، اس نے کہا کہ پچاس ساٹھ میں بھی بعض ہوٹلوں میں کمرہ مل جائے گا، میں نے کہا اور کم کرو۔ کہنے لگا تیس چالیس والے ہوٹل میں لے جاتا ہوں۔ میں نے کہا کہ نہیں مجھے اس سے بھی کم نرخ کا کمرہ درکار ہے۔ اس نے کہا ’’واللہ‘‘ (خدا کی قسم) تیس سے کم میں کمرہ نہیں ملے گا۔ میں اس کی ’’واللہ‘‘ سے واقعتاً ڈر گیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ واللہ مصریوں کے ہاں قسم کے لیے نہیں بلکہ تکیہ کلام کے طور پر استعمال ہوتا ہے مگر میرے لیے تو اس کے بعد گنجائش باقی نہیں رہی تھی۔ اس لیے ’’راضی برضائے قاضی‘‘ اس پر ’’نعم‘‘ کہہ دیا۔ چنانچہ وہ مجھے ایئرپورٹ سے کم و بیش دو کلو میٹر دور ایک ہوٹل میں لے گیا جس کا نام ’’آوازیس ہوٹل‘‘ ہے اور ہمارے ہاں کے فورسٹار ہوٹلوں کے برابر شمار کیا جاتا ہے اگرچہ سروس کے لحاظ سے تھری سٹار کے معیار پر بھی شاید پورا نہ اترے۔

ہوٹل والوں نے ستائیس پونڈ یومیہ پر ایک کمرہ دے دیا۔ میں نے احتیاطاً کمرہ دو دن کے لیے لیا تاکہ اگر احمد شیرانی یا دوسرے دوستوں کو تلاش کرنے میں دقت ہو تو بلاوجہ پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ٹیکسی والے نے مجھے ہوٹل والوں کے حوالے کر کے جب تقریباً دو کلو میٹر کا کرایہ بیس پونڈ طلب کیا تو مجھے مہمان بننے کی قدر صحیح طور پر معلوم ہوئی۔ چاروناچار اسے بیس پونڈ (کم و بیش ایک سو ساٹھ پاکستانی روپے) دیے مگر وہ مجھ سے زیادہ حوصلے والا نکلا۔ اس نے فورًا ساتھ والے لڑکے کو آگے کر دیا کہ اسے بھی کچھ دیں اس نے بھی آپ کی خدمت کی تھی یعنی ایک بیگ کو ہاتھ لگایا تھا۔ میرے پاس اس وقت پانچ پونڈ سے کم کا کوئی نوٹ نہیں تھا، ہوٹل والوں سے چینج طلب کیا جو نہ ملا۔ ڈرائیور سے پوچھا اس کے پاس تو ریزگاری ملنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا اس لیے پانچ پونڈ کا یہ نوٹ بھی بڑی ڈھٹائی کے ساتھ داغِ مفارقت دے گیا۔ بعد میں مجھے کسی دوست نے ایک ٹیکسی ڈرائیور کو کرایہ دیتے ہوئے سمجھایا کہ یہاں کسی ڈرائیور کو کرایہ کی مالیت سے زیادہ کا نوٹ نہ دینا یہاں بقایا واپس کرنے کا رواج نہیں ہے۔ یہ قاہرہ پہنچ کر میری پبلک ڈیلنگ کی اوپننگ تھی اس سے یہ حوصلہ ہوا کہ خیر سے کسی اجنبی معاشرہ میں نہیں ہوں۔

ہماری طرح یہاں بھی سارے مکانوں کا کوڑا کرکٹ گلیوں میں اور گلیوں کا سارا گند سڑکوں پر ڈھیر کرنے کا رواج ہے۔ میں اس وقت قاہرہ کی اندرونی آبادی میں ’’فندق الاسلامی‘‘ نامی ایک ہوٹل میں رہائش پذیر ہوں، اس ہوٹل میں سنگل بیڈ کا کمرہ سات پونڈ میں اور ڈبل بیڈ کا چودہ پونڈ میں ہے مگر ان کے پاس سنگل بیڈ کمرہ خالی نہیں ہے اس لیے انہوں نے مجھے ڈبل بیڈ کمرہ رعایتی نرخ یعنی دس پونڈ (کم و بیش اسی روپے پاکستانی) میں دیا ہوا ہے۔ صاف ستھرا، کشادہ اور ہوا دار کمرہ ہے، اٹیچ باتھ ہے، اے سی نہیں ہے اور اس کی ضرورت بھی نہیں ہے کیونکہ ان دنوں یہاں کا موسم ہمارے ہاں کے اکتوبر کے موسم جیسا ہے، پنکھا ہے۔ پہلے ہوٹل میں اے سی کے علاوہ رنگین ٹی وی بھی تھا لیکن اس میں نہیں ہے۔ وہاں لفٹ تھی یہاں نہیں ہے اور تیسری منزل کے کمرے تک آنے جانے میں ورزش بھی ضرورت کے مطابق ہو جاتی ہے۔ پانی کے لیے جگ گلاس نہ وہاں تھا نہ یہاں ہے۔ خیر میں ذکر کوڑا کرکٹ کا کر رہا تھا، میرے والے کمرے کی کھڑکی پچھواڑے میں کھلتی ہے جو ایک خالی جگہ ہے اور ایک طرف کے چھوٹے سے راستے کو چھوڑ کر چاروں طرف سے مکانوں کا پچھواڑہ ہے۔ یہاں چاروں طرف کے مکانات کا کوڑا کرکٹ پتہ نہیں کب سے جمع ہے جو پہلی منزل کی چھت سے اونچا ہو چکا ہے اور روز بروز اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گلیوں بازاروں میں اسی طرح کوڑا کرکٹ جا بجا دکھائی دیتا ہے جیسے ہمارے ہاں یہ منظر نظر آتا ہے۔

ایک جگہ بلکہ دو مقامات پر میں نے دیکھا کہ ایک آدمی چوک میں رسید بک لیے کھڑا ہے اور مسجد کے نام پر چندہ مانگ رہا ہے۔ ایک نے تو باقاعدہ میگافون گلے میں لٹکایا ہوا تھا اور سارا چوک اس کی آواز سے گونج رہا تھا۔ ایک جگہ ایک پل کے ساتھ ایک لڑکے کو دیکھا کہ وہ بالکل لاہوریوں کی طرز پر لکڑی کی دو بڑی میخوں کے ساتھ ڈور تان کر اسے مانجھا لگا رہا تھا۔ میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا کہ یہاں بھی پتنگ بازی ہوتی ہے؟ اس نے کہا ہاں ہوتی ہے۔ ایک مسجد میں نماز کے لیے داخل ہوا تو سامنے بورڈ لگا ہوا تھا ’’احفظ حاجتک امامک‘‘ (اپنے سامان کو حفاظت کے لیے اپنے سامنے رکھو)۔

بازاروں، چوکوں اور گلیوں میں جابجا انتخابی پوسٹر نظر آتے ہیں جن میں اکثر پھٹے ہوئے ہیں مگر بعض کی عبارت پڑھی جاتی ہے۔ ایک پوسٹر کا عنوان ہے ’’الاسلام ھو الحل فھیا الی العمل‘‘ (اسلام ہی مسائل کا حل ہے، عمل کے لیے آگے بڑھو)۔ ایک پوسٹر پر ایک باریش بزرگ کی تصویر تھی جس کے ساتھ لکھا تھا ’’لاجل تطبیق الشریعۃ الاسلامیۃ تتخب بالاجماع‘‘ (اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے ہم انہیں متفقہ طور پر منتخب کرتے ہیں) پوسٹر کے نیچے اس بزرگ کا نام نہیں پڑھا جا سکا۔ ایک پوسٹر میں انتخابی امیدوار کے ساتھ لکھا تھا کہ ہم پارلیمنٹ میں حکومت کا جرأت مندانہ سامنا کرنے کے لیے انہیں چن رہے ہیں۔ ایک پوسٹر میں لکھا تھا کہ قیمتوں میں استحکام پیدا کرنے کے لیے ہمارے امیدوار کو منتخب کیا جائے۔

اومنی بس میں دھکم پیل کا وہی حال ہے جو ہمارے ہاں ہے۔ اسٹاپ پر ہجوم ہوتا ہے، بس تھوڑی دیر کے لیے رکتی ہے، نوجوان اکثر چلتی بس پر سوار ہوتے بلکہ لٹک جاتے ہیں۔ اندر دو رویہ سیٹوں کے ساتھ کھڑے لوگوں کی قطاریں لگتی ہیں اور جھگڑے بھی ہوتے ہیں، البتہ یہاں میٹرو کا نظام ہم سے مختلف ہے۔ یہ سڑک کے اوپر چلنے والی چھوٹی ریل گاڑی ہے جو کسی دور میں کراچی میں چلنے والی ٹرام سے ملتی جلتی ہے۔ ون وے ٹریفک کی دو رویہ سڑکوں کے درمیان دوہری لائن بچھائی ہوئی ہے اس پر میٹرو گاڑیاں چلتی ہیں۔ ان کے اسٹاپ جابجا ہیں مگر ٹکٹنگ کا نظام باہر نہیں ہے گاڑی کے اندر اومنی بس کی طرح کنڈکٹر ہوتا ہے۔ سڑکوں پر ان گاڑیوں کے لیے پھاٹک نہیں ہیں بلکہ انہیں بھی چوک میں بسوں کی طرح اشارے پر رکنا پڑتا ہے اور اسی نظام کے مطابق یہ چلتی ہیں۔ اس سے یہاں آمد و رفت میں خاصی سہولت ہے۔

یہاں بھی راستہ روک کر ریڑھیاں لگاتے ہیں بلکہ زمین پر سودا لگانے کا رواج عام ہے۔ آپ کو جابجا اسی قسم کے فرشی اسٹال نظر آئیں گے جن میں کتابوں سمیت ہر قسم کا سودا بیچا جاتا ہے۔ بلکہ ایک اومنی بس میں ہم سفر کر رہے تھے تو میٹھی گولیاں بیچنے والا وہاں بھی آگیا جو آواز لگا رہا تھا وہ میں نہیں سمجھ سکا البتہ گولیاں اسی طرح کی تھیں جیسی ہمارے ہاں بسوں میں کھانسی کے لیے بیچی جاتی ہیں۔

آج جمعہ کی نماز کے بعد میں حرم حسینؓ کے قریب گھوم رہا تھا تو ایک طرف اوقاف کے دفتر کے پاس دو درجن کے قریب افراد کو بازار میں دھمال ڈالتے ہوئے دیکھا، چار پانچ آدمی رباب بجا رہے تھے جبکہ باقی لوگ تالیاں بجاتے ہوئے دھمال ڈال رہے تھے اور کوئی لفظ سر کو دائیں بائیں گھماتے ہوئے بیک آواز پکارتے تھے، وہ لفظ انتہائی کوشش کے باوجود میں سمجھ نہیں سکا۔ حرمین حسینؓ یہاں جامعہ ازہر کی قدیم ترین عمارت کے ساتھ ایک مسجد ہے جس کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ اس میں حضرت امام حسینؓ کا سر مبارک دفن ہے۔ بلکہ سر مبارک کا مزار بھی موجود ہے جہاں لوگ کثرت کے ساتھ آتے ہیں اور وہی کچھ کرتے ہیں جو ہمارے ہاں مزاروں پر ہوتا ہے۔ تاریخی طور پر قاہرہ میں حضرت امام حسینؓ کے سر مبارک کی موجودگی کا کوئی یقینی ثبوت موجود نہیں ہے لیکن یہاں کے لوگ اسے امام حسینؓ کے سر مبارک کا مزار ہی سمجھتے ہیں۔

مصر کا ویزا لگوانے کے لیے یہ شرط ہے کہ آپ ڈیڑھ سو امریکی ڈالر ساتھ لے کر آئیں جو ایئرپورٹ پر سرکاری نرخ کے مطابق مصری پونڈ سے تبدیل کرائیں۔ اس کے بعد آپ کے پاسپورٹ پر انٹری کی مہر لگے گی۔ پھر یہ پونڈ واپسی پر یہ حضرات تبدیل نہیں کریں گے آپ کو انہیں بہرحال خرچ کرنا ہوگا۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہوا، میں نے مصر کا ویزا دوبئی سے لگوا لیا تھا مگر جب قاہرہ ایئرپورٹ پر انٹری کی مہر لگوانے کے لیے کاؤنٹر پر آیا تو مجھے واپس بینک بھیج دیا گیا کہ پہلے ڈیڑھ سو ڈالر تبدیل کرا کے رسید لائیں پھر مہر لگے گی۔ چاروناچار ڈالر تبدیل کرائے ورنہ میں بیرونی سفر میں ٹریولر چیک احتیاطاً ساتھ رکھا کرتا ہوں مجھے بحمد اللہ تعالیٰ ان کے خرچ کرنے کی ضرورت بہت کم پیش آتی ہے۔ مگر مصری پونڈ طاقتور ثابت ہوا جو زبردستی میری جیب میں گھس آیا اور آج جبکہ قاہرہ میں میرا آخری دن ہے اور کل صبح نیویارک کے لیے میری فلائٹ ہے روزنامہ ’’الاہرام‘‘ نے صفحہ اول پر خبر شائع کی ہے کہ باہر سے آنے والوں کے لیے ڈیڑھ سو ڈالر تبدیل کرانے کی شرط فوری طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ مجھے میلے کی چادر والا قصہ یاد آرہا ہے اور یوں لگتا ہے کہ یہ سب کچھ شاید میرے ڈیڑھ سو ڈالر ہتھیانے کے لیے تھا، وہ ان کی جیب میں چلے گئے ہیں تو ان کو قرار آگیا ہے اور اب اس شرط کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

ہائے اس زودِ پشیماں کا پشیماں ہونا