امریکی امداد کی شرائط اور قادیانیت کی سرپرستی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۲ مئی ۱۹۸۷ء
اصل عنوان: 
امریکی امداد کی شرائط میں اسلامی قوانین کو روکنا اور قادیانیوں کا تحفظ شامل ہے

پاکستان کو دی جانے والی امریکی امداد کی شرائط میں اسلامی قوانین کے نفاذ کو روکنے اور قادیانیوں کو تحفظ دینے کی شرائط بھی شامل ہیں اور اس قسم کی شرطوں کے ساتھ امداد کو قبول کرنا قومی غیرت اور دینی حمیت کے منافی ہے۔ امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے پاکستان کو امداد دینے کی سفارش جس قرارداد کے ذریعے کی ہے اس میں امداد کو جمہوری عمل، انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی تین شرطوں کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔ اس قرارداد کی منظوری کے ساتھ ہی پاکستان میں انسانی حقوق کمیشن کی سیکرٹری جنرل بیگم عاصمہ جہانگیر نے انسانی حقوق کے حوالہ سے ایک ڈیکلیریشن قومی پریس کے لیے جاری کیا ہے جس میں ہاتھ کاٹنے، سنگسار کرنے، کوڑے مارنے اور موت کی اسلامی سزاؤں کو انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف جدوجہد کا اعلان کیا ہے، اور ہر معاملہ میں مرد اور عورت کی برابری اور قادیانیوں سمیت تمام مذہبی اقلیتوں کو مکمل آزادی دلانے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

بیگم عاصمہ جہانگیر ایک قادیانی ایڈووکیٹ ملک جہانگیر کی اہلیہ ہیں اور انہوں نے امریکی سینٹ کی قرارداد کے ساتھ ہی انسانی حقوق کے حوالہ سے جس جدوجہد کا اعلان کیا ہے اس سے پاکستان کی امداد کے سلسلہ میں امریکی شرائط کا مقصد پوری طرح واضح ہوگیا ہے اور یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ امریکہ نے پاکستان میں اسلامی قوانین کے نفاذ کو روکنے اور قادیانیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے براہِ راست دلچسپی اور مداخلت کی پالیسی اختیار کی ہے۔ حکومتِ پاکستان کے ذمہ دار حضرات کئی بار اعلان کر چکے ہیں کہ پاکستان کے لیے امریکی امداد غیرمشروط ہوگی لیکن یہ صورتحال ان کے اعلانات کے قطعی برعکس ہے اس لیے ہم وزیراعظم اور وزیرخارجہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ امریکی امداد کی شرائط کے سلسلہ میں اپنی پوزیشن واضح کریں۔

ہمارا موقف شروع سے یہ ہے کہ روس اور امریکہ دونوں عالمی قوتیں عالمِ اسلام کی دشمن ہیں اور ملتِ اسلامیہ کی دینی بیداری اور نفاذِ اسلام کی تحریکات سے خائف اور ان کے خلاف پوری طرح سرگرم ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ روس کھلی دشمنی کر رہا ہے جبکہ امریکہ دوستی اور امداد کے پردے میں مسلم ممالک کو اسلامی نظام سے دور رکھنے کی پالیسی پر عمل پیدا ہے۔ ہم ملک کے تمام دینی حلقوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ امریکی شرائط کا نوٹس لیں اور گروہی سیاست سے بالاتر ہو کر قومی اور دینی مفاد کے لیے ان شرائط کے خلاف مؤثر آواز اٹھائیں۔