دینی مدارس میں جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۷ جنوری ۲۰۰۶ء
اصل عنوان: 
ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین کا دورہ پاکستان

ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا عیسیٰ منصوری ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں اور مختلف شہروں کے سرکردہ علماء کرام اور اہل دانش سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ ابراہیم کمیونٹی کالج لندن کے پرنسپل مولانا مشفق الدین اپنے دو رفقاء مولانا شمس الضحیٰ اور مولانا بلال احمد سمیت ان کے ہمراہ ہیں۔ یہ چاروں حضرات ۲ جنوری کو دہلی سے لاہور پہنچے، رات ہمارے ہاں گوجرانوالہ میں قیام کیا، ۳ جنوری کو مدرسہ نصرۃ العلوم میں گئے اور اسی شام الشریعہ اکادمی میں ایک نشست سے خطاب کے بعد جہلم اور اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گئے جہاں سے وہ لاہور اور کراچی جائیں گئے اور ۸ جنوری اتوار کو مجلس احرار اسلام پاکستان کے مرکزی دفتر نیو مسلم ٹاؤن لاہور میں دینی راہنماؤں اور کارکنوں کی ایک نشست میں شریک ہونے کے بعد واپس چلے جائیں گے۔ اس سے قبل انہوں نے دہلی اور لکھنؤ کا دورہ کیا اور دینی اجتماعات سے خطاب کے علاوہ سرکردہ علماء کرام اور ارباب دانش سے ملاقاتیں کیں۔

ابراہیم کمیونٹی کالج، ایسٹ لندن کی سنٹرل مسجد کے عقبی دروازے والی گلی میں واقع ہے اور مؤثر تعلیمی خدمت میں مصروف ہے۔ ورلڈ اسلامک فورم کی سرگرمیوں کا مرکز بھی وہی ہے اور مجھے متعدد بار وہا ں مختلف پروگراموں میں شرکت کا موقع مل چکا ہے۔ مولانا مشفق الدین نوجوان عالم دین ہیں، بنگلہ دیش کے شہر سلہٹ سے تعلق رکھتے ہیں، تعلیم برطانیہ کے مدارس میں حاصل کی ہے اور عالم اسلام کے مسائل کا گہرا ادراک اور احساس رکھتے ہیں۔ اس دفعہ مولانا محمد عیسیٰ منصوری کی سربراہی میں یہ ٹیم ایک خاص مشن کے ساتھ سفر کر رہی ہے اور پاکستان کے بعد ان علماء کرام کا بنگلہ دیش جانے کا بھی پروگرام ہے۔ ان کے اس دورہ کا مقصد اس امر کا جائزہ لینا ہے کہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے دینی مدارس کے نصاب میں آج کے علمی حالات اور ضروریات کے مطابق انگلش زبان، کمپیوٹر اور دیگر ضروری امور کو شامل کرنے کے کیا امکانات ہیں اور اگر اس کا امکان موجود ہے تو وہ اس سلسلے میں تکنیکی اور مشاورتی مدد فراہم کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ ان کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا کے بہت سے دینی مدارس کے ارباب حل و عقد انگلش زبان اور کمپیوٹر ٹریننگ کو دینی مدارس کے نصاب میں شامل کرنے کی ضرورت تسلیم کرتے ہیں اور کئی مقامات میں اس کا کسی حد تک اہتمام بھی موجود ہے۔ لیکن انہوں نے جہاں بھی دیکھا ہے یہ اہتمام برائے نام ہے اور صرف کہنے کی حد تک ہے جس سے وہ ضرورت کسی طرح بھی پوری نہیں ہوتی جو موجودہ عالمی صورتحال اور ضروریات کے مطابق علماء کرام کی نئی نسل کو اسلام کی صحیح ترجمانی کے لیے تیار کرنے کی غرض سے ناگزیر تصور کی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے میرے ساتھ ایک تفصیلی نشست کی اور الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں اساتذہ مولانا محمد یوسف، پروفیسر محمد اکرم ورک اور پروفیسر میاں انعام الرحمن کے ساتھ متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا۔

میں نے ان سے گزارش کی ہے کہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ دینی مدارس سے تعلیم پانے والے فضلاء کو ایک بین الاقوامی زبان اور عالمی ذریعہ اظہار کے طور پر انگلش زبان کی مہارت حاصل کرنی چاہیے جو مضمون نویسی اور فی البدیہہ گفتگو اور تقریر کے معیار کی ہو۔ اسی طرح انہیں کمپیوٹر کے استعمال پر قدرت ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ لابنگ اور بریفنگ کی جدید ترین تکنیک بھی ان کی دسترس میں ہونی چاہیے۔ اس سے کوئی باشعور شخص انکار نہیں کرسکتا اور ہم گزشتہ بیس سال سے اسی احساس کو اجاگر کرنے کے لیے مصروف عمل ہیں لیکن اس حوالے سے دینی مدار س کے ذہنوں میں جو تحفظات پائے جاتے ہیں انہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً وہ یہ سمجھتے ہیں کہ دینی مدارس کے نصاب میں جدید علوم کی شمولیت سے ان کے طلبہ کے ذہنوں کا رخ تبدیل ہو سکتا ہے اور ایسا ہونے کی صورت میں دینی مدارس کے موجودہ نظام کا وہ بنیادی کردار مجروح ہو گا جس کے لیے اس کا قیام عمل میں لایا گیا تھا کہ مسلم معاشرہ میں اسلامی عقائد، عبادات، دینی تعلیم اور اسلامی ثقافت کے تحفظ کا نظام قائم رہے اور مسجد و مدرسہ کے ادارے اپنی موجودہ شکل میں موجود و متحرک رہیں۔ دینی مدارس کے ذہنوں میں پایا جانے والا یہ تحفظ ایسا نہیں ہے جو سمجھ میں نہ آتا ہو اور اگر وہ اپنے بنیادی کردار کے تحفظ کے لیے احتیاط کے دامن کو مضبوطی کے ساتھ تھا مے رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں اس پر ملامت نہیں کیا جانا چاہیے۔ میں نے عرض کیا کہ دینی مدارس اس وقت عالمی میڈیا کے منفی اور کردارکش پرو پیگنڈا کی زد میں ہیں اور بین الاقوامی لابیاں انہیں ان کے گزشتہ دو صدیوں سے جاری کردار سے محروم کرنے کے لیے مسلسل مصروف عمل ہیں، اس لیے ایسے علوم جن پر مغرب کی اجارہ داری ہے اور مغرب ان علوم و فنون کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بر سرپیکار ہے ان علوم و فنون کا نام سنتے ہی دینی مدارس کے منتظمین اور اساتذہ کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہ ’’دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے‘‘ کے مصداق اپنے گرد احتیاط کا حصار قائم کر لیتے ہیں جو فطری بات ہے۔ اس لیے دینی مدارس کے ان تحفظات کو نظر انداز کر کے ان سے اس سلسلہ میں کی جانے والی کوئی بات کار گر نہیں ہوسکتی اور نہ ہی کسی کو ایسی کسی گفتگو کے نتیجہ خیز ہونے کی توقع کرنی چاہیے۔

میں نے گزارش کی کہ انگلش زبان، کمپیوٹر ، لابنگ اور بریفنگ کی صلاحیت، مغربی فکر و فلسفہ سے مکمل آگاہی، دنیا کی معروضی صورتحال سے کماحقہ واقفیت، گلوبلائزیشن کی طرف تیزی سے بڑھتی ہوئی انسانی سوسائٹی کی مستقبل کی علمی و فکری ضروریات اور اس طرح کے بہت سے دیگر حوالوں سے دینی مدارس کے نصاب و نظام میں ضروری اضافوں کے ہم خود داعی ہیں اور ان کی طرف دینی مدارس کے ارباب بست وکشاد کو مسلسل توجہ دلا رہے ہیں، لیکن یہ دینی مدارس کے دینی اور تعلیمی کردار کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارے نزدیک تبدیلیوں اور ترامیم کا مقصد دینی مدارس کے کردار کو زیادہ بہتر اور مؤثر بنانا ہے لیکن اگر ان تبدیلیوں کا ہدف اس کردار کو کمزور کرنا اور دینی مدارس کی علمی، فکری اور تہذیبی جدوجہد کا رخ تبدیل کرنا ہو تو ایسی کسی تبدیلی کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔

بہر حال ابراہیم کمیونٹی کالج کے مذکورہ دوستوں کا مشن یہ ہے کہ دینی مدارس کو نصاب میں مذکورہ بالا مضامین کے حوالے سے تبدیلی کے لیے تیار کیا جائے اور اگر وہ اس کے لیے تیار ہوں تو انہیں اس سلسلے میں تکنیکی معاونت فراہم کی جائے۔ اصولی طور پر یہ جدوجہد بہت اچھی ہے اور اگر دینی مدارس کے مذکورہ بالا تحفظات کا لحاظ رکھتے ہوئے ایسی کوئی صورت قابل عمل دکھائی دیتی ہو تو ہمارے خیال میں اس کی طرف ضرور پیش رفت ہونی چاہیے۔ ابھی ان تک ان دوستو ں نے بھارت اور پاکستان کے چند ادارے دیکھے ہیں اور متعدد شخصیات سے ملاقات کی ہے جبکہ ان کے دورے کے نتائج کی صحیح صورت بنگلہ دیش کے دورے کے بعد سامنے آئے گی۔

مولانا محمد عیسیٰ منصوری کی تشریف آوری پر جلدی میں الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی طرف سے ایک نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں سر کردہ علماء کرام، پروفیسر صاحبان اور وکلاء نے شرکت کی۔ ہمارے فاضل دوست پروفیسر حافظ محمد ظفر اللہ شفیق نے نشست کی صدارت کی جبکہ ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا عیسیٰ منصوری نے تفصیلی خطاب کیا ۔ ان کے خطاب کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ آج جن علوم وفنون میں ہم مغرب سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں ان میں اپنی کم مائیگی اور کوتاہی کا ہمیں صحیح پر احساس ہونا چاہیے اور ان کوتاہیوں کی تلافی کے لیے ہمیں سنجیدگی کے ساتھ محنت کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ مغرب کا فلسفہ اور تہذیب جن علوم اور وسائل کے ذریعے غلبہ حاصل کرتی جارہی ہے ان علوم اور وسائل تک رسائی کے بغیر ہم علم و فکر اور فلسفہ و تہذیب کی دنیا میں مغرب کا مقابلہ نہیں کرسکتے اور نہ ہی اس کی بڑھتی ہوئی یلغار کو روک سکتے ہیں، اس لیے مسلم ارباب علم و دانش کو اس صورتحال کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا ہو گا۔