تھوڑی دیر امریکہ کی ایک جیل میں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۱ جون ۲۰۰۳ء

محترم ڈاکٹر محمد اسماعیل میمن صاحب شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی نوراﷲ مرقدہ کے خلفاء میں سے ہیں اور ایک عرصہ سے کینیڈا اور پھر امریکہ میں دینی و تعلیمی خدمات میں مصروف ہیں۔ نیو یارک سٹیٹ میں کینیڈا کی سرحد پر نیا گرا آبشار کے قریب ایک شہر بفیلو میں ’’دارالعلوم المدینہ‘‘ کے نام سے ایک دینی درسگاہ انہوں نے قائم کی ہے اور اپنے لائق فرزندوں اور مخلص رفقاء کی ایک ٹیم کے ہمراہ اس کی بہتری اور ترقی کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ نیاگرا آبشار اس سے قبل بھی آچکا ہوں۔ غالباً ۱۹۸۸ء کی بات ہے ٹورانٹو جانے کا اتفاق ہوا تھا، ساہیوال پاکستان میں ہمارے ایک بزرگ حضرت مولانا عبد العزیزؒ صاحب ہوا کرتے تھے جو قطب العلماء حضرت مولانا احمد علی لاہوری قدس اﷲ سرہ العزیز کے خلیفہ مجاز تھے، ان کے فرزند حافظ سید سعید احمد صاحب ٹورانٹو میں مقیم تھے اور انہی کی دعوت پر کینیڈا جانے کا موقع ملا تھا۔

اس دفعہ مجھے محمد اشرف خان صاحب کی رفاقت حاصل رہی، وہ جوہر آباد کے ہمارے پرانے بزرگ حکیم علی احمد خان صاحب کے فرزند ہیں اور کئی برسوں سے واشنگٹن ڈی سی میں مقیم ہیں۔ انہوں نے فون پر محترم ڈاکٹر صاحب سے میری بات کرائی تو انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اصرار فرمایا کہ مجھے ان کے پاس بفیلو ضرور آنا ہو گا۔ میرا شیڈول محدود تھا جبکہ بفیلو آنے اور جانے کے لیے دو دن درکا ر تھے اس لیے معذرت کرنا چاہی جو قبول نہ ہوئی اور محمد اشرف صاحب نے ہوائی جہاز کے ذریعے وہاں جانے کا پروگرام بنا لیا۔

۲۱ مئی بدھ کو ہم دونوں صبح بالٹیمور ایئرپورٹ سے ایک ساتھ ویسٹ ایئرلائن کی فلائیٹ پر بفیلو کے لیے روانہ ہوئے۔ اشرف صاحب نے خیال ظاہر کیا کہ لوکل پرواز ہے اس لیے آپ کو چیکنگ میں پاسپورٹ دکھانا ہو گا اور شاید سامان کی چیکنگ میں بھی سختی ہو۔ پاسپورٹ ہر وقت جیب میں رکھنے کی ضرورت سعودی عرب میں پیش آتی ہے جہاں کسی بھی موڑ پر پولیس مین آپ سے پاسپورٹ کے بارے میں پوچھ سکتا ہے اور پاسپورٹ یا اقامہ کا پاس نہ ہونا جرم تصور ہوتا ہے۔ برطانیہ میں اس سے بالکل مختلف تجربہ ہوتا ہے کہ ایئرپورٹ سے باہر نکلنے کے بعد ہم سرے سے پاسپورٹ بھو ل ہی جاتے ہیں کہ وہ کہاں پڑا ہے، جب برطانیہ سے واپس آنا ہوتا ہے تب ایئرپورٹ پر پاسپورٹ دکھانے کی ضرورت پڑتی ہے جبکہ اس دوران آپ برطانیہ میں ہفتوں رہیں یا مہینوں قیام کریں اور برطانیہ کی حدود کے اندر آپ کہیں بھی جائیں پاسپورٹ دکھانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ میں ۱۹۸۵ء سے مسلسل ہر سال برطانیہ جا رہا ہوں، بعض دفعہ چھ چھ ماہ تک میرا قیام رہا ہے، برطانیہ کے مختلف شہروں میں اتنا گھوما پھرا ہوں کہ لندن میں بیس بیس سال سے رہنے والے حضرات بھی اتنا نہیں گھومے ہوں گے مگر اس پورے عرصہ میں صرف ایک بار پاسپورٹ دکھانے کا تقاضا ہوا۔ ساؤتھال میں قیام کے دوران میں ایک مرتبہ بیمار ہوا اور علاج کے لیے ایلنگ ہسپتال گیا تو انہوں نے پاسپورٹ کے بارے میں دریافت کیا اور مجھے پاسپورٹ دکھانا پڑا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ برطانیہ میں شہریوں کو علاج معالجہ کے سلسلہ میں جو سہولتیں حاصل ہیں باہر سے بطور وزٹر آنے والو ں کو وہ سہولتیں حاصل نہیں ہیں، اس لیے ان کا تقاضا درست تھا۔

اب یہاں بالٹیمور ایئرپورٹ پر شناخت کے لیے پاسپورٹ دکھانا پڑا اور واپسی پر بفیلو ایئرپورٹ پر متعلقہ افسر نے پاسپورٹ کو تسلی کے ساتھ چیک کیا جو کسی مغربی ملک میں میرے لیے ایک نامانوس سی با ت تھی۔ اور اس سے زیادہ نامانوس بات یہ تھی کہ دستی بیگ کو سکریننگ مشین سے گزارنے کے ساتھ جوتے بھی پاؤں سے اتار کر اس کے ساتھ رکھنا پڑے۔ بہرحال یہ یہاں کے حکام کے نقطۂ نظر سے سکیورٹی کے حوالہ سے ضروری امور ہیں جو ناقابل فہم نہیں ہیں، البتہ اس سے زیادہ چیکنگ کے دوران اور کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔ بفیلو ایئرپورٹ پہنچے تو محترم ڈاکٹر محمد اسماعیل میمن صاحب اپنے فرزند مولانا حسین احمد میمن کے ہمراہ ایئرپورٹ پر خود تشریف لائے ہوئے تھے، ان کے گھر حاضری ہوئی، ناشتہ سے فارغ ہوئے تو دارالعلوم المدینہ کی وسیع مسجد دیکھی جو شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا مہاجر مدنی رحمہ اللہ سے منسوب ’’زکریا مسجد‘‘ کہلاتی ہے۔ ایک بڑا چرچ خرید کر اسے مسجد کی شکل دی گئی ہے، چرچ کے میناروں پر صلیب کی جگہ ہلال نصب کیا گیا ہے اور اندرونی ہال کو مسجد میں تبدیل کیا گیا ہے۔ ۱۱ ستمبر کے سانحہ کے بعد جو مسلمان ادارے ردعمل میں تشدد کا نشانہ بنے ان میں یہ مسجد بھی ہے جسے آگ لگا دی گئی تھی اور اس کا خاصا حصہ جل گیا تھا۔ اب اس کی تعمیر نو ہو رہی ہے اور بڑا جصہ ازسرنو قابل استعمال بنا لیا گیا ہے۔ ہم نے ظہر اور عصرکی نمازیں اسی مسجد میں ادا کیں اس کے بعد ہم دارالعلوم گئے وہ بھی ایک چرچ کی عمارت خرید کر بنایا گیا ہے۔ دارالعلوم میں ایک سو سے زائد طلبہ ہاسٹل میں مقیم ہیں، درس نظامی کی تعلیم اس سال رابعہ تک ہے، ایک دو سال تک کلاس میسر آنے پر دورۂ حدیث بھی شروع ہوگا، حفظ قرآن کریم کی مختلف کلاسیں کام کر رہی ہیں، طلبہ کا ہاسٹل دیکھا اور درسگاہوں میں اساتذہ کو مصروف پایا۔ شام کو چار بجے طلبہ میں بیان رکھا گیا، مجھے بتایا گیا کہ طلبہ میں نصف کے لگ بھگ ایسے ہیں جو اردو سمجھتے ہیں لیکن بیان میں سب ہی موجود ہوں گے۔ طلبہ کو رئیس المفسرین حضرت عبد ﷲ بن عباسؓ کی حیات مبارکہ کے بعض واقعات سنائے کہ کس طرح سے انہوں نے پندرہ سال سے کم عمر میں جناب نبی اکرمؐ سے فیض حاصل کیا اور امت کے مفسرین کرامؒ کے سردار کہلائے۔

محترم ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ دارالعلوم کے لیے یہ جگہ تنگ پڑ گئی ہے اس لیے ہم نے قریب ہی ایک نئی عمارت خریدی ہے جو اس سے قبل نوجوانوں کی جیل تھی اور نیلامی میں فروخت ہوئی ہے، چونکہ ان کی بولی سب سے زیادہ تھی اس لیے انہیں مل گئی ہے البتہ ایک دینی درسگاہ کے طورپر اس کے استعمال کی اجازت میں ابھی کئی مراحل باقی ہیں اور ان مراحل سے گزرنے کے بعد جلد ہی دارالعلوم اس عمارت میں منتقل کر دیا جائے گا۔ ہم نے وہ عمارت دیکھی جو کم وبیش چھ ایکڑ اراضی پر مشتمل ہے اور اس میں تین بڑی بڑی بلڈنگیں ہیں جنہیں تعلیمی مقاصد کے لیے قابل استعمال بنانے کی غرض سے کام ہو رہا ہے، مجھے اس سابقہ جیل کی ان بارکوں کو دیکھنے کی دل چسپی تھی جہاں قیدیوں کو رکھا جاتا تھا کیونکہ میں بھی ایک دور میں پاکستان کی جیلوں میں جاتا رہا ہوں اس لیے پاکستانی اور امریکی جیلوں کی بارکوں میں فرق دیکھنا چاہتا تھا۔ ہم نے اس جیل کی دو بارکیں دیکھیں ایک پرانی تھی اور ایک کے بارے میں بتایا گیا جو بعد میں تعمیر ہوئی تھی۔ پتھر کی مضبوط عمارت ہے، ایک بڑے ہال کے چاروں طرف چھوٹے چھوٹے سیل ہیں جو بند کمرہ کی شکل میں ہیں اور ایک سیل میں ایک آدمی آسانی کے ساتھ گزارا کر سکتا ہے۔ سیل میں قیدی کو فوم دیا جاتا ہے لیکن چادر وغیرہ نہیں ملتی کہ کہیں خودکشی کا ذریعہ نہ بنا لے۔ ہال کے درجہ حرارت کو اس مقدار میں رکھا جاتا ہے کہ بستر کی ضرورت نہیں پڑتی، دروازے کے ساتھ نگران کا کمرہ ہے جو چاروں طرف نظر رکھ سکتا ہے، غسل خانے اور ٹوائلٹس مشترک ہیں البتہ زیادہ خطرناک مجرموں کو ان کے کمرہ میں ہی سٹیل کا فلش مہیا کیا گیا ہے اور انہیں سیل سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ قیدیوں کے رہن سہن کے بارے میں جو معلومات حاصل ہوئیں اس سے اندازہ ہوا کہ امریکی جیلوں میں عام قیدیوں کو وہ سہولتیں حاصل ہوتی ہیں جو ہمارے ہاں پاکستان کی جیلوں میں بی کلاس کے قیدیوں کو دی جاتی ہیں۔ اس طرح تھوڑی دیر ہم امریکہ کی ایک سابق جیل میں رہے، میں مزید معلومات کے لیے کچھ دیر اور رکنا چاہتا تھا مگر واپسی میں جلدی تھی اس لیے دو بیرکیں دیکھنے کے بعد ہم واپس آگئے۔

دارالعلوم کا ایک شعبہ طالبات کا بھی ہے جو الگ عمارت میں ہے، سو کے لگ بھگ طالبات ہاسٹل میں ہیں اور دورۂ حدیث تک تعلیم ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی دارالعلوم کی لائبریری ہے، اشرف صاحب کی بیٹیاں اس درسگاہ میں زیر تعلیم ہیں اس لیے وہ ان سے ملاقات کے لیے چلے گئے اور میں لائبریری کی کتابیں دیکھنے میں مصروف ہو گیا۔ لائبریریوں کو دیکھ کر زیادہ خوشی ہوئی کہ مختلف موضوعات پر اہم اور ضروری کتابوں کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کیا گیا ہے جو اس علاقہ کے حوالہ سے بہت وقیع ذخیرہ ہے اور اساتذہ و طلبہ کے لیے بہت مفید ہے۔ لائبریری کے علاوہ دارالعلوم کی طرف سے ایک بک شاپ بھی قائم ہے جہاں پاکستان اور بھارت کے اکابر علماء کرام کی تصنیفات فروخت کے لیے پیش کی جاتی ہیں۔ دارالعلوم کی اپنی مطبوعات بھی ہیں جن کا ایک سیٹ مجھے تحفہ کے طور پر دیا گیا، ان میں حجاب کے موضوع پر محترم ڈاکٹر اسماعیل میمن صاحب کی تصنیف اردو اور انگریزی دو زبانوں میں، اور طہارت کے ضروری مسائل پر ان کے فرزند مولانا محمد ابراہیم میمن کی جامع کتاب بہت زیادہ افادیت اور اہمیت کی حامل ہے۔ بہرحال اس طرح ایک دن ایک دینی ادارہ کے ماحول میں مصروف گزار کر ہم شام کو ڈاکٹر صاحب محترم کی دعاؤں کے ساتھ واشنگٹن واپس روانہ ہو گئے۔