ورلڈ اسلامک فورم کا دوسرا سالانہ تعلیمی سیمینار

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
ستمبر ۱۹۹۶ء

ورلڈ اسلامک فورم نے یورپ کے مسلم طلبہ اور طالبات کے لیے ’’اسلامک ہوم اسٹڈی کورس‘‘ کے نام سے خط و کتابت کورس کا آغاز کر دیا ہے اور دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمود احمد غازی نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی نئی نسل کا نظریاتی اور عملی رشتہ اسلام کے ساتھ باقی رکھنے کے لیے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو اس کورس کے ساتھ وابستہ کریں۔ اس سلسلہ میں ورلڈ اسلامک فورم کا دوسرا سالانہ تعلیمی سیمینار اسلامک کلچرل سنٹر پارک لندن منعقد ہوا جس میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام اور دانشوروں نے مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کے دینی مسائل اور نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے تقاضوں پر اظہار خیال کیا۔

سیمینار کی پہلی نشست کی صدارت مکہ مکرمہ کے ممتاز عالم دین فضیلۃ الشیخ محمد مکی حجازی نے کی اور اس میں ڈاکٹر محمود احمد غازی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے، جبکہ دوسری نشست کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سربراہ مولانا خواجہ خان محمد نے کی اور دارالعلوم دیوبند کے استاذ حدیث مولانا سید ارشد مدنی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے ۔ سیمینار سے ہفت روزہ تکبیر کراچی کے مدیر محمد صلاح الدین، ڈربن یونیورسٹی جنوبی افریقہ کے شعبہ اسلامیات کے سربراہ ڈاکٹر سید سلمان ندوی، ماہنامہ محدث لاہور کے مدیر مولانا حافظ عبدالرحمان مدنی، مرکز اسلامی ڈھاکہ کے ڈائریکٹر مولانا روح الامین، مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ کے استاذ مولاناسعید احمد عنایت اللہ، جمعیۃ اہلحدیث برطانیہ کے امیر ڈاکٹر صہیب حسن، پنجاب کے سابق وزیر مولانا قاری سعید الرحمان اور ورلڈ اسلامک فورم کے راہنماؤں مولانا محمد عیسیٰ منصوری، پروفیسر عبد الجلیل ساجد، مولانا سید اسد اللہ طارق کیلانی اور راقم الحروف کے علاوہ مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا قاری سعید الرحمان تنویر، مولانا عبد الرشید ربانی، مولانا امداد الحسن نعمانی، قاری تصور الحق، دارالعلوم فلاح دارین (انڈیا) کے سربراہ مولانا محمد عبد اللہ پٹیل اور قاری عبد الرشید رحمانی نے خطاب کیا۔

ڈاکٹر محمود احمد غازی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ تعلیم و تربیت کے نظام کو صحیح خطوط پر استوار کرنے کا ہے کیونکہ اس کے بغیر ہم نئی نسل کو وقت کے چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ ملت اسلامیہ ہر دور میں مخالف تہذیبوں کی یلغار کا کامیابی کے ساتھ سامنا کیا ہے اور یونانی فلسفہ، تاتاریوں اور ہندومت کے حملوں کے باوجود اپنے نظریات و افکار اور تہذیب و ثقافت کی حفاظت کی ہے، لیکن مغربی فلسفہ جس طرح مختلف جہات سے اسلامی عقائد و نظریات اور معاشرت پر حملہ آور ہوا ہے اس نے عالم اسلام کی تاریخ کا سب سے بڑا بحران پیدا کر دیا ہے جس سے عہدہ برآ ہونے کے لیے مسلم دانشور وں اور علماء کو گہرے غور و فکر کے ساتھ منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مغرب کے نظریاتی اور ثقافتی حملوں کے نتیجہ میں مسلمان سیاسی اور عسکری طورپر کمزور اور معاشی طورپر بدحال ہوچکے ہیں اور فکری غلامی کی جڑیں گہری ہوتی جارہی ہیں جس کی وجہ سے ہم مغرب کی حاشیہ نشین اور نقال بنتے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام مالکؒ نے فرمایا تھا کہ اس امت کے آخری حصہ کی اصلاح بھی اسی طریقہ سے ہوگی جس طریقہ سے امت کے پہلے حصہ کی اصلاح ہوئی، یعنی ہمیں اصلاحِ احوال کے لیے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور طریق کار کو اپنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نبی اکرمؐ نے سب سے پہلے لوگوں کے فکر و عقیدہ کی اصلاح کی تھی اور ان کی ذہنی تربیت کا اہتمام کیا تھا، اس لیے آج ہمیں امت مسلمہ کے احوال کی اصلاح کے کام کا آغاز فکری تربیت اور ذہنی تطہیر سے کرنا چاہیے کیونکہ ذہنی اور فکری تربیت اور اصلاح کی صورت میں ہی ایک اچھی قیادت مسلمانوں میں ابھر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے انہی خطوط پر تعلیمی جدوجہد کا آغاز کیا ہے کہ جدید علوم کے ساتھ مسلم نوجوانوں کو قرآن وسنت کی تعلیمات اور اسلامی افکار و اخلاق سے آراستہ کیا جائے، چنانچہ ریگولر تعلیمی نظام کے علاوہ خط و کتابت کے ذریعے بھی اسلامی تعلیمات کے متعدد کورس شروع کیے گئے ہیں جن سے اب تک بیس ہزار سے زائد افراد گھر بیٹھے استفادہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپ کے مسلم طلبہ کے لیے مطالعۂ اسلام کا ایک سالانہ کورس بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے جو ورلڈ اسلامک فورم کے زیراہتمام شروع کیا گیا ہے اور اس کے لیے مدنی مسجد (گلیڈ سٹون سٹریٹ، فارسٹ فیلڈ، نوٹنگھم) میں دفتر نے کام شروع کر دیا ہے۔

جناب محمد صلاح الدین نے ’’اسلامی نظام تعلیم و تربیت میں ذرائع ابلاغ کا کردار‘‘ کے موضوع پر تفصیلی مقالہ پیش کیا جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مسلمانوں کو تعلیم و تربیت کے محاذ پر ابلاغ کے جدید ذرائع سے استفادہ کرناچاہیے اور الیکٹرانک میڈیا کو کفر، باطل اور فحاشی کے لیے فارغ نہیں کر دینا چاہیے کیونکہ ذرائع محض ذرائع ہوتے، انہیں اگر اچھے مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو خیر کا ذریعہ بن جاتے ہیں اور برے کاموں کے لیے استعمال کیا جائے تو شر کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دنیا وسائل کی دنیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے انسان کے اعمال کو وسائل سے وابستہ کیا ہے لیکن آج ہم وسائل کے لیے کافر قوموں کے محتاج ہو کر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم معاشرہ کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ابلاغ کے تمام ذرائع خواہ وہ سرکاری کنٹرول میں ہوں یا نجی ہاتھوں میں ان سب پر اباحیت پسند اور زر پرست طبقے کا قبضہ ہے جس کے نزدیک دینی و اخلاقی اقدار کوئی اہمیت نہیں رکھتیں بلکہ یہ اقدار اس طبقہ کے سیاسی، معاشرتی اور معاشی مفادات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسی تحریک مزاحمت شروع کی جائے جو مسلسل دباؤ ڈال کر ذرائع ابلاغ کا رخ صحیح کر سکے۔

ڈاکٹر سید سلمان ندوی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سب سے زیادہ ضرورت نوجوانوں کی طرف توجہ دینے کی ہے کیونکہ انہی کی اصلاح سے معاشرہ میں کوئی خوشگوار تبدیلی آسکتی ہے، اس لیے علماء اور دینی اداروں کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کو قریب لانے اور ان تک رسائی حاصل کرنے کے لیے مثبت طرز عمل اختیار کریں۔

مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ تعلیم و تربیت اور دعوت و ابلاغ میں لوگوں کی مشکلات اور ضروریات کا خیال رکھنا جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے جیسا کہ جناب نبی اکرمؐ نے قرآن کریم کو، جو عربی زبان میں قریش کی لغت پر نازل ہوا مگر جب دوسرے قبائل کے نئے مسلمان لوگوں کو قریش کی لغت پر قرآن کریم کی تلاوت کرنے میں دقت پیش آئی تو ان کی اس دقت کے پیش نظر انہیں دوسری مشہور لغات میں قرآن کریم پڑھنے کی اجازت دے دی۔ لیکن بعد میں حضرت عثمانؓ کے دور میں غیر عرب مسلمانوں میں اختلافات پیدا ہونے کے خدشہ کے پیش نظر اس گنجائش کو متفقہ طور پر ختم کر دیا گیا۔ اس لیے آج بھی ہمیں اسلام کی دعوت و تعلیم میں لوگوں کی ضروریات کا خیال رکھنا چاہیے اور تمام اقوام تک اسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے حکمت و تدبر سے کام لینا چاہیے۔

مولانا محمد مکی حجازی نے کہا کہ مغرب کے فکر و فلسفہ کے مقابلہ میں کام کو منظم کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس سے مرعوب ہونے کی بجائے پوری جرأت و حوصلہ کے ساتھ اس کا سامنا کرنا چاہیے۔

مولانا حافظ عبد الرحمان مدنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو محبت اور شفقت کے ساتھ اور ان کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے اسلامی عقائد و احکام کے ساتھ مانوس کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ بچے میں میلان اور نقالی کا مادہ ہوتا ہے اور ماں باپ ان کے سامنے اخلاق و کردارکا اچھا نمونہ بن کر انہیں بہتر کردار کے سانچے میں ڈھال سکتے ہیں۔

مولانا قاری سعید الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم نوجوان جس نے مسلمان گھرانے میں پرورش پائی ہے، جس قسم کی خراب صورت حال سے بھی دوچار ہو، توحید اور رسالت کے عقیدہ سے منحرف نہیں ہو سکتا مگر کلچر کے سیلاب میں جلدی بہہ جاتا ہے اس لیے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں کو اسلامی کلچر سے وابستہ رکھنے کی بھر پور محنت کی جائے۔

مولانا محمد عبد اللہ پٹیل نے علماء اور دینی اداروں پر زور دیا کہ وہ دعوت اور تعلیم کے محاذ پر اپنے طریق کار کا ازسرنو جائزہ لیں اور آج کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے تعلیمی نظام کی اصلاح کریں تاکہ وہ نئی نسل کو اس کی ملی ذمہ داریوں کے لیے صحیح طور پر تیار کر سکیں۔

ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے گزشتہ سال کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ تعلیمی نظام کی اصلاح اور میڈیا کی جنگ میں عملاً شرکت کی اہمیت کا احساس اجاگر کرنے کے لیے جو محنت شروع کی تھی اس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آرہے ہیں اور اہل فکر و دانش بتدریج اس کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔

راقم الحروف نے آئندہ سال کے پروگراموں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگلے سال کے دوران اسلامی تعلیمات کے خط و کتابت کورس ’’اسلامک ہوم اسٹڈی کورس‘‘ کے علاوہ میڈیا کے حوالہ سے ایک سیمینار منعقد کیا جائے گا اور علماء و طلبہ کے لیے خصوصی تربیتی کورسز کا اہتمام کیا جائے گا۔ اور اہل خیر سے اپیل کی کہ وہ اس طرف متوجہ ہوں اور نئی نسل کی اصلاح و تربیت اور میڈیا کے چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے فورم کے ساتھ بھر پور تعاون کریں۔