افغان طالبان اور پاکستانی طالبان ۔ مقاصد و اہداف

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مارچ ۲۰۱۳ء

صدر اوبامہ نے دوسری مدت صدارت کی پہلی پالیسی تقریر میں ۲۰۱۴ء کے آخر تک افغان جنگ ختم کر دینے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے اور کہا ہے کہ القاعدہ کو غیر مؤثر بنانے کا ان کا ہدف پورا ہوگیا ہے اس لیے اب جنگ کو مزید جاری نہیں رکھا جائے گا۔

یہ جنگ القاعدہ کے خلاف تھی یا افغان طالبان اس کا اصل ہدف تھے؟ جن افغان طالبان کی حکومت کو نیٹو افواج کی عسکری یلغار کے ذریعہ ختم کر دیا گیا تھا ان سے مذاکرات کی مسلسل کوششیں اس جنگ میں امریکہ اور نیٹو افواج کی ’’کامیابی‘‘ کی اصل کہانی بخوبی بیان کر رہی ہیں اور اس سلسلہ میں ہمیں کچھ عرض کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی۔ جبکہ خطہ سے امریکی اور نیٹو افواج کے بڑے حصے کے انخلا کے بعد صورت حال کیا ہوگی اس کے بارے میں کچھ کہنا شاید قبل از وقت ہو۔ البتہ پاکستان کی سیاسی اور فکری دانش کے بعض دائروں میں ممکنہ خطرات و خدشات پر جو واویلا بھی شروع ہوگیا ہے اس کے بارے میں کچھ عرض کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔

ہمارے بعض دانشوروں کو یہ خطرہ محسوس ہو رہا ہے کہ افغانستان میں افغان طالبان اپنی واپسی کی صورت میں پہلے سے زیادہ طاقت ور ہوں گے اور ایک بڑی قوت کے مقابلہ میں فتح کا احساس ان کی قوت کو دو آتشہ کر دے گا۔ اس لیے پاکستان پر ان کے فکر و فلسفہ کے اثر انداز ہونے کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، بالخصوص اس صورت میں کہ پاکستان میں طالبان کے فکر و فلسفہ کے حامل لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور بوقت ضرورت وہ ایک مؤثر قوت کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ اس پس منظر میں ہمارے ان دانش وروں کو اے این پی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کے اس متفقہ موقف کے بارے میں بھی تحفظات درپیش ہیں کہ پاکستانی طالبان کی طرف سے مذاکرات کی پیش کش کو قبول کیا جائے اور مذاکرات کے ذریعہ مسئلہ حل کر کے امن کے قیام کو ترجیح دی جائے۔ حالانکہ اے این پی کی اس اے پی سی کا یہ موقف پوری قوم کی دل کی آواز ہے اور موجودہ حالات کے تناظر میں باہمی جنگ و جدال کی دلدل سے نکلنے کا اس کے سوا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔ لیکن دانش کی ایک سطح کو یہ خوف لاحق ہے کہ اس سے طالبان کو اپنی سوچ اور وژن کے مطابق نفاذِ اسلام میں پیش رفت کا موقع مل سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں مزید کچھ عرض کرنے سے قبل اس بات کی وضاحت ضروری محسوس ہوتی ہے کہ ہم نے اپنی گزارشات میں ہمیشہ افغان طالبان اور پاکستانی طالبان کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھا ہے اور یہ فرق آج بھی پوری طرح ہمارے سامنے ہے۔

افغان طالبان جہادِ افغانستان میں روسی استعمار کی شکست اور سوویت فوجوں کی واپسی کے بعد رونما ہونے والی خانہ جنگی کے ردعمل میں منظر عام پر آئے تھے۔ یہ خانہ جنگی مغربی قوتوں نے جہادِ افغانستان کے ذریعے سوویت یونین کے خلاف اپنے مقاصد کے حصول کے بعد افغانستان کو تنہا چھوڑ دینے کی شعوری یا غیر شعوری پالیسی اختیار کر کے پیدا کی تھی۔ اور اس خانہ جنگی ختم کرنے کی کسی سنجیدہ کوشش کی بجائے افغان مجاہدین کی مغربی اتحادی قوتوں نے انہیں ان کے حال پر چھوڑ کر اس خانہ جنگی کی عملاً حوصلہ افزائی کی تھی۔ افغان طالبان نے جہاد افغانستان کے نظریاتی مقاصد کے حصول اور افغانستان کے اسلامی نظریاتی تشخص کے تحفظ کے لیے میدان میں قدم رکھا اور کامیابی حاصل کی جسے القاعدہ کی آڑ میں امریکہ اور نیٹو کی فوجوں نے عسکری یلغار کے ذریعہ ختم کر دیا۔ اس کے بعد سے وہ افغانستان پر غیر ملکی جارحیت کے خلاف آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور اسی جوش و جذبہ کے ساتھ لڑ رہے ہیں جس کے ساتھ انہوں نے سوویت یونین کی عسکری جارحیت کے خلاف جنگ لڑی تھی۔

مگر پاکستانی طالبان کا دائرہ اس سے مختلف ہے۔ انہوں نے پاکستان میں نفاذ شریعت کے لیے ہتھیار اٹھائے اور ان کا آغاز حکومت پاکستان کے ساتھ نفاذ شریعت کے ایسے معاہدات سے ہوا تھا جو ملک کے دستوری فریم ورک کے اندر تھے مگر ان سے کیے گئے وعدوں کو عمدًا توڑ دیا گیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر پہلے صوفی محمد کے ساتھ اور پھر پاکستانی طالبان کے ساتھ کیے جانے والے معاہدوں کی پاسداری کی جاتی تو آج یقیناًیہ صورت حال نہ ہوتی جو ہمارے ان دانش وروں کو پریشان کر رہی ہے۔ ہم نے پاکستانی طالبان کے ہتھیار اٹھانے کی کبھی حمایت نہیں کی اور نہ ہی اب اسے درست سمجھتے ہیں لیکن ان کے اس مطالبہ کی سچائی سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کے ساتھ مختلف مواقع پر جو معاہدات کیے گئے ہیں ان کی پابندی کی جائے اور ان پر عملدرآمد کیا جائے۔ بلکہ ہم اس سے آگے بڑھ کر یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ ریاست سوات، بہاول پور اور قلات کو پاکستان میں شامل کرتے وقت ان کے عدالتی نظام کے بارے میں جو معاہدے کیے گئے تھے اگر انہیں سرد خانے میں نہ ڈال دیا جاتا تو صوفی محمد یا پاکستانی طالبان اور عسکریت پسندوں کا دور دور تک کوئی وجود نہ ہوتا۔

اس لیے ہم اس تاریخی تسلسل کو کسی طرح نظر انداز نہیں کر سکتے کہ آج کی صورت حال ان مذکورہ معاہدات کی خلاف ورزی کا رد عمل اور منطقی نتیجہ ہے اور اس صورت حال سے نکلنے کے لیے قوم کو بحیثیت قوم ان معاہدات کی طرف واپس جانا ہوگا، اس کے بغیر ان خطرات و خدشات کے سدباب کی کوئی صورت ممکن نہیں ہے جس کا ہمارے دانش وروں کی طرف سے اظہار کیا جا رہا ہے۔ ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ بعد کی ساری باتیں چھوڑ دیجئے صرف ان معاہدوں کی گرد جھاڑ کر انہیں سامنے لائیے جو سوات، قلات اور بہاول پور کی ریاستوں کو پاکستان میں شامل کرتے وقت کیے گئے تھے اور ان پر عملدرآمد کا اہتمام کر لیجئے، اس ساری شدت پسندی اور عسکریت کی ہوا اکھڑ جائے گی۔

باقی رہی بات نفاذ اسلام کے وژن کی، ہم اپنے محترم دانش وروں کو یاد دلانا چاہیں گے کہ پاکستان بننے کے بعد جمہور علماء اسلام نے علامہ اقبالؒ کا وژن قبول کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے ذریعہ نفاذ اسلام کا راستہ اختیار کیا تھا اور قادیانیوں کو مرتد قرار دے کر قتل کرنے کی بجائے ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر قبول کر لینے کا فیصلہ بھی اقبالؒ کے وژن پر ہی کیا گیا تھا۔ مگر ہمارے ان مہربان دانشوروں نے جمہور علماء اسلام کے اس اجتہادی فیصلے کا کتنا احترام کیا ہے؟ قرارداد مقاصد، پاکستان کی اسلامی نظریاتی شناخت، قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا فیصلہ، ناموس رسالتؐ کے تحفظ کا قانون، اور دستور کی دیگر اسلامی دفعات منتخب پارلیمنٹ کے فیصلے ہیں۔ اور ان میں سے بیشتر فیصلے پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی سرکردگی میں ہوئے ہیں۔ لیکن ہمارے بعض دانش وروں نے منتخب پارلیمنٹ کے ان جمہوری فیصلوں کے خلاف جو مورچہ لگا رکھا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ علماء کرام تو اقبالؒ کے وژن پر آگئے تھے، انہوں نے اقبالؒ کا وژن قبول کر کے اس کے مطابق جمہوری اسلامی ریاست کا راستہ اختیار کر لیا تھا اور جمہور علماء پاکستان آج بھی اس وژن پر قائم ہیں۔ لیکن حکمران طبقوں اور سیکولر دانش وروں نے عوام کے منتخب نمائندوں کے جمہوری فیصلوں کے خلاف جو روش گزشتہ ساٹھ برس سے اختیار کر رکھی ہے اس کے رد عمل میں اس شدت پسندی اور عسکریت نے جنم لیا ہے جو پوری قوم کے لیے اضطراب کا باعث بنی ہوئی ہے۔ ہم ایک لمحہ کے لیے اس شدت پسندی اور عسکریت کے حامی نہیں ہیں لیکن جس روش نے حالات کو یہاں تک پہنچایا ہے اسے تبدیل کیے بغیر اس پر قابو آخر کیسے پایا جا سکتا ہے؟ اس شدت پسندی اور عسکریت کے سد باب کے لیے دستور کی اسلامی بنیادوں کو تسلیم کرنے کا اعلان کیجئے اور ان پر خلوص دل کے ساتھ عملدرآمد کا اہتمام کیجئے، شدت پسندی کا راستہ خود بخود بند ہو جائے گا اور ان کے لیے قوم کے اجتماعی فیصلے کے سامنے سرنڈر ہونے کے سوا کوئی آپشن باقی نہیں رہے گا۔