’’شریعت بل‘‘ پر اعتراضات ایک نظر میں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۲ ستمبر ۱۹۸۶ء

سینٹ آف پاکستان میں مولانا قاضی عبد اللطیف اور مولانا سمیع الحق کا پیش کردہ پرائیویٹ شریعت بل اس وقت قومی حلقوں میں زیربحث ہے اور اخبارات و جرائد میں اس کی حمایت اور مخالفت میں مسلسل مضامین شائع ہو رہے ہیں۔ زیربحث مضمون میں ان اہم اعتراضات پر ایک نظر ڈالنا مقصود ہے جو اس وقت تک شریعت بل سے اختلاف کے ضمن میں سامنے آئے ہیں۔

ان اعتراضات کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک حصہ ان اعتراضات پر مشتمل ہے جو سیاسی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں اور ان کے پس منظر میں سیاسی اختلافات کارفرما ہیں۔ اور دوسرے حصہ میں وہ اعتراضات شامل ہیں جو فنی اور علمی نوعیت کے ہیں اور ان کا مقصد ان فنی مشکلات اور عملی رکاوٹوں کو اجاگر کرنا ہے جو اعتراضات کرنے والوں کے بقول شریعت بل کی منظوری کی صورت میں پیش آسکتے ہیں۔ ہمارا مقصد ان دو قسم کے اعتراضات و اشکالات کا جائزہ لینا ہے تاکہ تصویر کا دوسرا رخ بھی قارئین کے سامنے آسکے اور ملک کے بالغ نظر حلقے اس ضمن میں رائے کا تعین کرتے وقت یک طرفہ گفتگو کے دائرہ میں محصور نہ رہیں۔

سیاسی پس منظر میں کیے جانے والے اہم اعتراضات یہ ہیں کہ

  • یہ سرکاری بل ہے جو حکومت کے ایماء پر پیش کیا گیا ہے۔
  • یہ مودودی ازم ہے۔
  • یہ بل فرقہ وارانہ ہے۔
  • ۱۹۷۳ء کے دستور کے منافی ہے۔
  • غیر نمائندہ حکومت کے سامنے شریعت بل پیش کر کے شریعت کو متنازعہ بنانے کی سازش کی گئی ہے۔

جبکہ فنی اور علمی نوعیت کے اعتراضات کچھ اس طرح سے کیے جا رہے ہیں کہ

  • شریعت بل سے اجتہاد کا دروازہ بند ہو جائے گا۔
  • قانونی بحران پیدا ہوگا۔
  • ملاّ ازم اور پاپائیت مسلط ہو جائے گی۔

سرکاری بل ہونے کا اعتراض

ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ان تمام اعتراضات کا ترتیب وار جائزہ لے کر اصل صورتحال قارئین کے سامنے واضح کی جائے۔ جہاں تک اس بل کے سرکاری ہونے کا تعلق ہے اس سلسلہ میں اگر شریعت بل کے بارے میں حکومت کے اب تک کے رویہ کو بھی سامنے رکھ لیا جائے تو اس الزام کا بے بنیاد ہونا واضح ہو جاتا ہے:

  • جب شریعت بل سینٹ میں پیش کیا گیا تو حکومتی بنچوں کی طرف سے اسے بحث کے لیے منظور کرنے تک کی مخالفت کی گئی اور اس مسئلہ پر باقاعدہ ووٹنگ ہوئی جس میں حکومت کو تین ووٹوں سے شکست ہوئی۔ اور اخبارات میں اسے سینٹ میں شریعت بل کے مسئلہ پر حکومت کی پہلی شکست کے عنوان سے شائع کیا گیا۔
  • بحث کے لیے منظور ہوجانے کے بعد حکمران پارٹی نے اسے تسلیم کرنے کی بجائے عوامی رائے کے لیے مشتہر کرنے کے بہانے شریعت بل کو سردخانے میں ڈالنے کی حکمت عملی اختیار کی۔ حکمرانوں کا خیال یہ تھا کہ لوگ زیادہ دلچسپی کا اظہار نہیں کریں گے اور اس طرح مسئلہ کو گول کرنے کی صورت نکل آئے گی۔ مگر ملک کے چاروں صوبوں میں عوام نے شریعت بل کے حق میں دستخطی مہم میں پورے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا اور سینٹ کے چیئرمین کو ایوان کے سامنے عوام کی گہری دلچسپی اور بھرپور حمایت کا اعتراف کرنا پڑا۔
  • اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے سامنے تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء اور عوام کے پرجوش مظاہرہ کے بعد حکمرانوں نے نویں آئینی ترمیمی بل کو فوری طور پر منظور کرا کے اسے شریعت بل کے نام سے سرکاری ذرائع ابلاغ کے ذریعے مشتہر کرایا جس کا مقصد اصل شریعت بل سے لوگوں کی توجہ ہٹانا تھا۔ لیکن متحدہ شریعت محاذ کی طرف سے اس صورتحال کو قبول کرنے سے انکار کے بعد یہ چال بھی ناکام ہوگئی۔
  • ان تمام حربوں میں ناکامی کے بعد حکومتی حلقوں نے علماء کے پیش کردہ شریعت بل کے مقابلے میں شریعت بل کا سرکاری مسودہ پیش کر دیا ہے جس میں اصل شریعت بل کی متعدد اہم دفعات کو حذف کر دیا گیا ہے اور قانونی نظام کو شریعت کے مطابق تبدیل کرنے کی اصل دفعہ کو بھی قطعی غیر مؤثر بنا دیا ہے۔ حتیٰ کہ اس سلسلہ میں حکومت نے خود اپنی قائم کردہ اسلامی نظریاتی کونسل کی متفقہ سفارشات کو بھی یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔
  • متحدہ شریعت محاذ نے سرکاری مسودہ مسترد کر دیا ہے جبکہ وفاقی وزراء علماء کے شریعت بل کو ناقابل قبول اور ناقابل عمل قرار دے کر اس کے خلاف پورے ملک میں مہم چلا رہے ہیں۔

اس صورتحال میں اگر کوئی صاحب شریعت بل کو سرکاری قرار دینے پر مصر ہیں تو ان کی اس ضد اور ہٹ دھرمی کا آخر کیا جواب دیا جا سکتا ہے؟

مودودی ازم ہونے کا اعتراض

دوسرا اعتراض یہ کیا جا رہا ہے کہ شریعت بل ’’مودودی ازم‘‘ ہے اور اس کے ذریعے مودودیت کو ملک پر مسلط کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ شریعت بل مولانا قاضی عبد اللطیف اور مولانا سمیع الحق نے پیش کیا ہے جن کا تعلق جمعیۃ علماء اسلام سے ہے، اس بل کے حق میں عوامی دستخطوں کی مہم ملک بھر میں جمعیۃ علماء اسلام نے سواد اعظم اہل سنت کراچی کے تعاون سے چلائی ہے، اور اس ساری مہم کے بعد متحدہ شریعت محاذ کی تشکیل کے مرحلہ میں جماعت اسلامی پاکستان اس جدوجہد میں باضابطہ طور پر شریک ہوئی ہے۔

دوسری گزارش یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے ساتھ علماء اہل سنت کے اختلافات معروف ہیں، ان اختلافات کے حوالہ سے شریعت بل کی کسی ایک دفعہ کی نشاندہی اب تک نہیں کی گئی ہے جسے ان اختلافات کے پس منظر میں علماء اہل سنت کے موقف کے خلاف اور جماعت اسلامی کے مخصوص نظریات پر مبنی قرار دیا جا سکتا ہو۔ اور اگر شریعت بل کو مودودی ازم قرار دینے والوں کو اپنے موقف پر اصرار ہے تو انہیں محض الزام پر اکتفا کرنے کی بجائے شریعت بل کے ان حصوں کی نشاندہی کرنی چاہیے جس کی بنیاد پر وہ اسے مودودی ازم قرار دے رہے ہیں۔

ہم شریعت بل کے سلسلہ میں جماعت اسلامی کی غیر مشروط اور بھرپور حمایت پر شکرگزار ہیں لیکن اس بل کو مودودی ازم قرار دینے کے الزام کی صحت سے انکار کرتے ہیں۔

فرقہ وارانہ ہونے کا اعتراض

تیسرا اعتراض یہ ہے کہ شریعت بل فرقہ وارانہ ہے اور ملک کے تمام فرقوں کے لیے قابل قبول ہونے کی بجائے صرف ایک فرقہ کے نظریات پر مبنی ہے۔ یہ الزام بھی قطعی بے بنیاد ہے کیونکہ شریعت بل کو دیوبندی مکتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کے علاوہ بریلوی مکتب فکر کے مولانا مفتی محمد حسین نعیمی، پروفیسر محمد طاہر القادری، مولانا عبد المصطفٰی الازہری، مولانا مفتی مختار احمد نعیمی، مولانا غلام علی اوکاڑوی اور مولانا ابوداؤد محمد صادق، اور اہل حدیث مکتب فکر کے مولانا معین الدین لکھوی، مولانا حافظ عبد القادر روپڑی، مولانا عبد الرحمان سلفی اور مولانا حافظ عبد الغفور جہلمی جیسے سرکردہ علماء کرام کی حمایت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ روزنامہ جنگ کی سروے رپورٹ کے مطابق عام شیعہ آبادی میں سے بھی ۷۵ فیصد حضرات شریعت بل کی حمایت کر رہے ہیں۔ جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل میں شامل تمام مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء کرام نے اس سلسلہ میں جو متفقہ سفارشات کی ہیں وہ بھی شریعت بل کی حمایت میں ہیں۔

اس لیے اگر شریعت بل میں کوئی فرقہ وارانہ بات ہوتی تو اسے تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کی ہمہ گیر حمایت حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔ اس کے ساتھ ہی اس گزارش کو دہرا لینا بھی ضروری محسوس ہوتا ہے کہ اعتراض کرنے والوں کو شریعت بل کی ان دفعات کا حوالہ دینا چاہیے جن کی بنیاد پر وہ اسے فرقہ وارانہ قرار دے رہے ہیں۔

البتہ اس ضمن میں ایک بات ذہن میں آتی ہے کہ فقہ جعفریہ کو دوہرے پبلک لاء کے طور پر نافذ کرنے کا مطالبہ کرنے والے انتہا پسند شیعہ عناصر صرف اس وجہ سے شریعت بل کی مخالفت کر رہے ہیں کہ اس میں ان کے اس غیر اصولی مطالبہ کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ اس لیے اگر شریعت بل کو اس پس منظر میں فرقہ وارانہ قرار دیا جا رہا ہے تو یہ الزام لگانے والوں کو اس ضمن میں خود اپنے موقف کی بھی وضاحت کرنی چاہیے کہ دوہرے پبلک لاء کے طور پر فقہ جعفریہ کے نفاذ کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر کیا ہے۔ اگر وہ خود بھی اس ضمن میں شریعت بل پیش کرنے والوں کے موقف سے اصولی طور پر متفق ہیں تو پھر انہیں اس پس منظر میں شریعت بل پر فرقہ وارانہ بل کی پھبتی کسنے کا کوئی اصولی یا اخلاقی حق حاصل نہیں ہے۔

۱۹۷۳ء کے دستور سے متصادم ہونے کا الزام

چوتھا اعتراض یہ ہے کہ شریعت بل ۱۹۷۳ء کے دستور سے متصادم ہے اور اس سے ۱۹۷۳ء کے دستور کی اسلامی دفعات مجروح ہوں گی۔ سچی بات یہ ہے کہ انتہائی غوروخوض کے باوجود ابھی تک ہم خود یہ بات نہیں سمجھ پائے کہ شریعت بل سے ۱۹۷۳ء کے دستور پر آخر کیا زد پڑتی ہے؟ کیونکہ عملی صورتحال یہ ہے کہ مارشل لاء دور کی دستوری ترامیم اور موجودہ پارلیمنٹ کی منظور کردہ دستوری ترامیم سے متاثر ہونے والی دفعات کے علاوہ ۱۹۷۳ء کا دستور اس وقت ملک میں عملاً نافذ ہے اور اس میں یہ دفعہ بھی موجود ہے کہ ملک کے تمام قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق بنایا جائے گا۔ اس لیے ہمارے نزدیک تو شریعت بل ۱۹۷۳ء کے دستور کی اس دفعہ کی تکمیل کی ایک عملی کوشش ہے۔ لیکن شریعت بل کو ۱۹۷۳ء کے دستور کے منافی قرار دینے کے الزام کا جائزہ لینا بھی بہرحال ضروری ہے اس لیے گزارش ہے کہ

  • اگر اس سے مراد یہ ہے کہ ۱۹۷۳ء کا دستور مکمل طور پر اسلامی ہے اور اس کی موجودگی میں کسی نئے شرعی قانون یا ضابطہ کی گنجائش نہیں ہے تو ہم اس موقف کو تسلیم نہیں کرتے۔ ۱۹۷۳ء کے دستور کی اس حیثیت کا ہم احترام کرتے ہیں کہ یہ ملک کے چاروں وفاقی یونٹوں کے منتخب نمائندوں کا بنایا ہوا متفقہ دستور ہے۔ سابقہ دساتیر کی بہ نسبت اس میں زیادہ اسلامی دفعات شامل ہیں اور خدانخواستہ اس دستور کی منسوخی کی صورت میں کسی نئے دستور کی متفقہ منظوری کے امکانات مخدوش ہیں۔ اسی وجہ سے ہم ۱۹۷۳ء کے دستور کے تسلسل کو قائم رکھنے کی حمایت کرتے ہیں لیکن اسے نہ تو صحیفۂ آسمانی ماننے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی مکمل اسلام سمجھتے ہیں۔ کیونکہ اگر ۱۹۷۳ء کا دستور ہی مکمل اسلام ہے اور اس کی موجودگی میں کسی نئے شرعی بل کی گنجائش نہیں ہے تو پھر ۱۹۷۷ء کی اس عظیم تحریک نظام مصطفٰیؐ کا کوئی اصولی اور نظریاتی جواز باقی نہیں رہ جاتا جس میں ہزاروں مسلمانوں نے نظام مصطفٰیؐ کے نفاذ کے جذبہ کے ساتھ اپنے مقدس خون کا نذرانہ پیش کیا۔ اس لیے کہ جب ۱۹۷۳ء کے دستور کی صورت میں مکمل اسلام نافذ تھا تو پھر لوگوں کو نفاذِ اسلام کے لیے سڑکوں پر لانے اور تشدد کا نشانہ بنوانے کا کوئی جواز نہیں تھا۔
  • اور اگر اس الزام کا مقصد یہ ہے کہ ۱۹۷۳ء کے دستور کی کچھ دفعات شریعت بل کے نفاذ میں رکاوٹ ہیں اور شریعت بل کی منظوری سے ان دفعات کے مجروح ہونے کا خدشہ ہے تو کسی تامل کے بغیر ہماری گزارش ہے کہ ۱۹۷۳ء کے دستور کی ان دفعات کو بلاتاخیر ختم ہوجانا چاہیے جو شریعت کے نفاذ میں رکاوٹ ہیں۔ ہم ایسی دفعات کو شریعت کے نفاذ کے تقاضوں پر ترجیح دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ آخر ۱۹۷۳ء کے دستور کی سب سے بڑی علمبردار ایم آر ڈی نے بھی تو ملک کے سیاسی تقاضوں کے لیے ۱۹۷۳ء کے دستور میں دی گئی صوبائی خودمختاری کو مسترد کر کے صوبوں کے اختیارات کے لیے نئی حدود کا تعین کر لیا ہے۔ اگر ان کے اس اقدام سے ۱۹۷۳ء کے دستور پر زد نہیں پڑتی تو شریعت کے نفاذ کی خاطر کچھ دفعات کے اِدھر اُدھر ہونے سے دستور پر کوئی آفت نہیں آجائے گی۔

حکومت کے غیر نمائندہ ہونے کا الزام

پانچواں اعتراض یہ ہے کہ موجودہ حکومت غیر نمائندہ ہے اور اس کی آئینی حیثیت متنازعہ ہے اس لیے اس کے سامنے شریعت بل کو پیش کرنا شریعت کے نفاذ کے مسئلہ کو متنازعہ بنانے کے مترادف ہے۔ اس کے جواب میں عرض ہے کہ اصولی طور پر ہم اس موقف کو تسلیم نہیں کرتے کہ اگر حکومت کا وجود اور اس کی حیثیت متنازعہ ہو تو اس کے سامنے شرعی مطالبات پیش نہیں کرنے چاہئیں۔ کیونکہ ہمارے اکابر فرنگی اقتدار کے دور میں ایک طرف آزادی کی جنگ میں مصروف تھے اور فرنگی حکمرانوں سے برصغیر چھوڑ دینے کا مطالبہ کر رہے تھے اور دوسری طرف اسی دور میں ’’شریعت ایکٹ‘‘ منظور کرانے کے لیے مصروف عمل تھے۔ شریعت ایکٹ اسی دور میں پیش کیا گیا اور صوبہ سرحد کے علماء نے عورتوں کو وراثت میں حصہ دلانے کا شرعی قانون اسی دور میں عوامی جدوجہد کے ساتھ منظور کرایا۔

لیکن حکومت کو غیر نمائندہ قرار دے کر اس حوالہ سے شریعت بل کی مخالفت کرنے والے حضرات اگر اپنے موقف کو درست سمجھتے ہیں تو ہم ان سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ انہوں نے ۲۰ ستمبر تک الیکشن کی تاریخ کا اعلان کر دینے کا مطالبہ کس حکومت سے کیا ہے؟ اور الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہوجانے کی صورت میں تفصیلات طے کرنے کے لیے مذاکرات کی پیش کش کس حکومت کو کی ہے؟ کس قدر ستم ظریفی کی بات ہے کہ یہ حضرات اپنے مطالبات کے لیے وقت کی حکومت کو مخاطب کریں تو اس کا غیرنمائندہ ہونا رکاوٹ نہیں بنتا لیکن اگر نفاذ شریعت کے لیے اسی حکومت سے مطالبہ کیا جائے تو اس کا متنازعہ ہونا شریعت بل کی مخالفت کا عنوان بن جاتا ہے۔

اسی سال کے آغاز میں وزیراعظم محمد خاں جونیجو کے ساتھ تحریک ختم نبوت کے قائدین کے براہ راست مذاکرات ہوئے۔ مذاکراتی ٹیم اور ان مذاکرات کی توثیق کرنے والی مرکزی کونسل میں ایک ایسی جماعت کے چار ذمہ دار حضرات موجود تھے جو ایم آر ڈی میں شامل ہے اور شریعت بل کی مخالفت میں پیش پیش ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ حکومت غیر نمائندہ ہے تو ختم نبوت کے عنوان سے اس کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا کیا جواز تھا؟ اور اگر ختم نبوت کے مطالبات کے لیے حکومت کے ساتھ براہ راست گفتگو جائز تھی تو شریعت بل کے نفاذ کے لیے موجودہ حکومت سے مطالبہ کی مخالفت آخر کس اصول کی بنیاد پر کی جا رہی ہے؟

اجتہاد کا دروازہ بند ہونے کا اعتراض

چھٹا اعتراض یہ ہے کہ شریعت بل میں شرعی احکام کی تعبیر و تشریح کے لیے قرآن و سنت کے ساتھ اجماعِ امت، تعاملِ صحابہ کرامؓ اور مسلمہ مجتہدین کے ارشادات و آراء کو مآخذ قرار دے کر اجتہاد کا دروازہ بند کر دیا گیا ہے حالانکہ اجتہاد آج کے دور کی اہم ترین ضرورت ہے اور اجتہاد کے بغیر جدید دور کے مسائل کا حل نکالنا ممکن ہی نہیں ہے۔

اس ضمن میں ہم قدرے وضاحت کے ساتھ چند اصولی گزارشات ضروری سمجھتے ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ اجتہاد کا مطلب کیا ہے اور اس کی حدود کیا ہیں؟ کیونکہ آج کے دور میں صرف اجتہاد کا لفظ بول کر اس سے جو مفہوم مراد لیا جا رہا ہے وہ شریعت کی نظر میں اجتہاد نہیں ہے۔ آج کل عام طور پر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ اجتہاد کا مطلب یہ ہے کہ شریعت کے جس پہلے سے بیان شدہ مسئلہ کا جدید دور کے تقاضوں سے ٹکراؤ ہو جائے یا اسے ٹکراؤ کی شکل دے دی جائے اس میں شریعت کے مسئلہ میں ایسی لچک اختیار کر لی جائے کہ اس سے جدید تقاضوں کو اختیار کرنے میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔

قطع نظر اس سے کہ جس مسئلہ میں اجتہاد کیا جا رہا ہے اس میں اجتہاد کی گنجائش بھی ہے یا نہیں اور قطع نظر اس سے کہ جو لوگ اجتہاد کے نام سے یہ ساری کاروائی کر رہے ہیں ان میں اجتہاد کی صلاحیت موجود ہے یا نہیں، اجتہاد کا یہ تصور نہ صرف یہ کہ شرعاً اجتہاد کہلانے کا مستحق نہیں ہے بلکہ یہ بعینہ اسی طرح کی تحریف کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہے جس قسم کی تحریف کے ذریعے بنی اسرائیل کے علماء نے تورات، زبور اور انجیل کا حلیہ بگاڑ دیا تھا اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی خواہش کی تکمیل کرتے کرتے دنیا سے ان کتابوں کا اصلی وجود تک معدوم ہوگیا ہے اور ان کی شریعتیں چند مذہبی راہنماؤں کی من مانی تعبیرات تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

جبکہ اجتہاد کا شرعی تصور یہ ہے کہ جس مسئلہ میں قرآن کریم یا سنت نبویؐ میں واضح ہدایت نہ ملتی ہو یا قرآن و سنت کی نصوص بظاہر ایسی متعارض ہوں کہ تطبیق کی صورت مشکل دکھائی دیتی ہو، اس مسئلہ میں قرآن و سنت اور ان سے متعلقہ علوم پر گہری مہارت رکھنے والے علماء قرآن و سنت کے اصولوں ہی کی روشنی میں کسی واضح حکم کا فیصلہ کر دیں۔ اس میں دو باتیں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں:

  1. قرآن و سنت میں جو احکام واضح طور پر بیان ہو چکے ہیں ان میں اجتہاد کی گنجائش نہیں ہے۔ اور ایسے منصوص مسائل میں اجتہاد کے نام پر کی جانے والی کوئی بھی کاروائی شرعاً اجتہاد نہیں بلکہ الحاد اور تحریف کہلائے گی۔
  2. غیر منصوص مسائل میں بھی اجتہاد کا حق ہر کس و ناکس کو حاصل نہیں بلکہ صرف وہی حضرات اس کی اہلیت رکھتے ہیں جو قرآن و سنت اور دیگر متعلقہ ضروری علوم کی مطلوبہ مہارت رکھتے ہیں۔ کیونکہ کسی بھی شعبہ میں اس سے متعلقہ ضروری معلومات رکھے بغیر رائے دینے کے حق کو دنیا کے کسی بھی اصول میں تسلیم نہیں کیا جاتا۔ جب انجینئرنگ سے متعلقہ امور پر انجینئر، طب سے متعلقہ معاملات پر ڈاکٹر، اور قانون سے متعلقہ مسائل پر وکیل ہی کی رائے کو سنا جاتا ہے تو قرآن و سنت سے متعلق امور پر قرآن و سنت کے مطلوبہ علم کے بغیر کسی کو رائے کا حق دینا بھی انصاف کے خلاف ہے۔

اس اصولی وضاحت کے بعد ایک اور نکتہ کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ جن مسائل پر ماضی میں مسلمہ مجتہدین اپنے اجتہاد کے ذریعے کوئی واضح رائے اختیار کر چکے ہیں اور ان کے اجتہاد کے اسباب و علل اور مقتضیات میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی تو ان کو بلاوجہ ترک کرنا اور تمام مسائل کو ازسرنو چھیڑنا بھی بلاجواز ہوگا۔ ماضی کے یہی اجتہاد اگر اجتماعی صورت میں ہوں تو اجماعِ امت کہلاتے ہیں اور انفرادی صورت میں ہوں تو مجتہدین کے ارشادات و آراء کی صورت میں شریعت بل میں ان کو بطور مآخذ تسلیم کیا گیا ہے۔ ہاں جن اجتہادات کے اسباب و علل اور مقتضیات بدل چکے ہیں ان میں ازسرِنو اجتہاد میں کوئی حرج نہیں ہے۔

ان گزارشات کے بعد اب ہم یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ شریعت بل میں کون سے اجتہاد کا دروازہ بند کیا گیا ہے۔ اگر تو اس سے مراد یہ ہے کہ قرآن و سنت کے منصوص مسائل اور ماضی کے طے شدہ اجماعی اجتہادات میں نیا اجتہاد نہ کیا جائے تو یہ درست ہے۔ اور یہ شریعت کا مطلوب و مقصود ہے کیونکہ ان طے شدہ مسائل میں اجتہاد اصل میں اجتہاد نہیں بلکہ تحریف ہے جس کی کسی صورت میں اجازت نہیں دی جا سکتی۔ البتہ ان مسلمہ اصولوں کی روشنی اور مسلمات کے دائرہ میں رہتے ہوئے جدید مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے جس اجتہاد کی ضرورت ہے، شریعت بل نے نہ صرف یہ کہ اس کی نفی نہیں کی بلکہ اس میں علماء کرام کے ساتھ شریعت کورٹ کے حوالہ سے جسٹس صاحبان کو بھی شریک کر کے ایسی وسعت کا مظاہرہ کیا گیا ہے جس کا اعتراف نہ کرنا یقیناً کم حوصلگی کے مترادف ہوگا۔

سوال یہ ہے کہ جب شریعت بل قرآن و سنت، تعاملِ صحابہؓ، اجماعِ امت اور مسلمہ مجتہدین کے ارشادات کی روشنی میں مقدمات کے فیصلہ کا حق ہر سطح کی عدالت کو اور قوانین کی شرعی حیثیت کے تعین کا حق وفاقی شرعی عدالت کو دے رہا ہے تو کیا یہ عملاً اجتہاد کا حق نہیں ہے؟ اجتہاد اسی کا نام ہے اور اسے شریعت بل میں تسلیم کرتے ہوئے اس کے دائرہ کو علماء کے ساتھ جج صاحبان تک وسعت دے دی گئی ہے۔

قانونی بحران پیدا ہونے کا اعتراض

ساتواں اعتراض شریعت بل کے سلسلہ میں یہ سامنے آیا ہے کہ شریعت بل اگر من و عن منظور کر لیا گیا تو اس کی دفعہ ۴ سے ملک کے قانونی نظام میں یکبارگی بحران پیدا ہو جائے گا۔ دفعہ ۴ میں یہ کہا گیا ہے کہ

’’ملک کی عدالتیں تمام امور و مقدمات میں شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کی پابند ہوں گی۔‘‘

بحران کی صورت یہ بیان کی جا رہی ہے کہ اس دفعہ کے نفاذ کے ساتھ ہی ہر سطح پر قانون یکبارگی تبدیل ہو جائے گا اور سپریم کورٹ سے سول کورٹ تک تمام عدالتوں کو شریعت کے قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہوں گے جس کے لیے تمام جج صاحبان کو قرآن و سنت کا مطلوبہ علم حاصل نہیں ہے اور ان کی تربیت اور ٹریننگ بھی اسلامی نظامِ قانون کے مطابق نہیں ہوئی اس لیے اس سے دو نقصانات ہوں گے:

  • جج صاحبان قرآن و سنت کا مطلوبہ علم نہ ہونے کی وجہ سے اکثر غلط فیصلے کریں گے۔
  • موجودہ عدالتی نظام میں بدعنوانیوں، رشوت اور سفارشات کی بنیاد پر فیصلوں کی جو صورتحال ہے اس کی موجودگی میں شرعی قوانین کو ان عدالتوں کے حوالے کرنے سے شرعی قوانین کی افادیت اور ساکھ متاثر ہوگی۔

اس سلسلہ میں عرض یہ ہے کہ جہاں تک کسی نظام کی تبدیلی سے وقتی طور پر بحران پیدا ہونے کی بات ہے، جب بھی ملک میں قانونی نظام کی تبدیلی کی بات ہوگی اس بحران کا سامنا بہرحال کرنا پڑے گا۔ البتہ اس کا حل تلاش کرنا ضروری ہے اور ہمارے نزدیک اس بحران کی شدت کو کم کرنے اور اس سے پیدا شدہ مسائل کے حل کے لیے قابلِ عمل راستے اختیار کیے جا سکتے ہیں:

  1. ایک یہ کہ قانونی تعلیم کے نظام میں تبدیلی کی جائے اور شرعی قوانین کو نصاب میں شامل کر کے تربیت کا ایسا اہتمام کیا جائے تاکہ نئے آنے والے جج صاحبان شرعی قوانین کے مطابق فیصلے کرنے کی اہلیت سے بہرہ ور ہوں۔
  2. دوسرا یہ کہ نئے جج صاحبان کی آمد اور عدالتوں میں ان کی بتدریج تقرری تک کے عارضی دور کے لیے ہر جج کے ساتھ ایک عالم دین کو بطور مشیر مقرر کیا جائے تاکہ وہ ضروری امور میں اس سے راہنمائی حاصل کر سکے۔ یہ انتظام مستقل نہ ہو بلکہ عارضی ہو اور ہر عدالت میں یہ اہتمام اس وقت تک ہو جب تک نئے تربیتی اور تعلیمی نظام کے تحت تربیت یافتہ جج بطور قاضی عدالتی نظام کے مطابق اس عدالت میں نہ آجائے۔ یہ کوئی مشکل بات نہیں اور نہ ہی کوئی نئی بات ہے، مارشل لاء کے دور میں فوجی افسران اور جج صاحبان پر مشتمل عدالتیں کام کر چکی ہیں، وفاقی شرعی عدالت میں اشتراک عمل کے اس اصول کو تسلیم کیا جا چکا ہے اور آزادکشمیر میں ججوں کے ساتھ علماء کے تقرر کا تجربہ کامیابی کے مراحل طے کر رہا ہے۔

باقی رہی بدعنوانیوں والی بات تو ہمارے نزدیک عدالتوں میں بدعنوانیوں کے فروغ کی وجوہ میں ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ مروجہ قوانین اور قانونی نظام جج صاحبان کے مذہبی معتقدات اور قلبی جذبات سے ہم آہنگ نہیں ہیں اس لیے جب شرعی قوانین کی صورت میں ایک جج کے اعتقادی جذبات اور قانونی نظام میں ہم آہنگی پیدا ہوگی اور اس ایک تربیت یافتہ عالم کی رفاقت بھی میسر ہوگی تو یہ تبدیلی اس کے کردار پر یقیناً اثر انداز ہوگی۔ پھر شرعی قوانین کی اپنی برکات ہیں جن کا عملی مشاہدہ نفاذ کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے اس سے پہلے الفاظ میں انہیں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔

ہمارے خیال میں پرائیویٹ شریعت بل کی مذکورہ دفعہ ۴ کی بجائے سرکاری مسودہ میں جو متبادل صورت اختیار کی گئی ہے وہ زیادہ خطرناک بحران بلکہ پورے قانونی نظام کے تعطل کا باعث بن سکتی ہے۔ سرکاری مسودہ کی دفعہ ۴ یہ ہے:

’’کوئی عدالت کسی ایسے قانون کی بنیاد پر کسی مقدمے کا فیصلہ نہیں کرے گی جو شریعت کے منافی ہو۔ اور اگر یہ سوال پیدا ہو کہ ایسا کوئی قانون شریعت کے منافی ہے تو یہ معاملہ وفاقی شرعی عدالت کو فیصلے کے لیے سپرد کر دیا جائے، سوائے اس کے کہ اس سوال کا اس عدالت یا سپریم کورٹ کے شریعت بینچ نے پہلے ہی فیصلہ صادر کر دیا ہو۔‘‘

یہ اس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ موجودہ قوانین جوں کے توں برقرار رہیں اور قوانین کو یکبارگی تبدیل کرنے کی بجائے وفاقی شرعی عدالت کے ذریعے تدریجی عمل کے ساتھ بدلنے کا راستہ اختیار کیا جائے۔ اس طریق کار پر ہمارے ذہن میں دو اشکال ہیں:

  1. یہ بہت لمبا اور پیچیدہ طریق کار ہے جس کے ذریعے قوانین کو شریعت کے مطابق ڈھالنے کے عمل کو شرعی کورٹ میں ایک لمبی قانونی جنگ کے حوالے کیا جا رہا ہے۔
  2. اگر ہر مقدمہ کے کمزور فریق نے تھوڑی بہت سہولت کی خاطر متعلقہ قانون کو وفاقی شرعی کورٹ میں لے جانے کا راستہ اختیار کر لیا اور یہ روایت چل پڑی تو ہر سطح کی عدالتیں اس وقت تک معطل ہو کر رہ جائیں گی جب تک ان کے زیرغور مقدمات کے قوانین کے بارے میں وفاقی شرعی کورٹ کا فیصلہ نہیں آجاتا۔ اس لیے ہمارے نزدیک بہتر صورت یہی ہے کہ ایک عارضی اور وقتی بحران کا سامنا کر لیا جائے چنانچہ اگر اس بحران کا سامنا کرنے کا سنجیدگی کے ساتھ فیصلہ کر لیا گیا تو اس پر قابو پانا کچھ زیادہ مشکل بات نہیں ہوگی۔

ملاّئیت مسلط ہونے کا اعتراض

آٹھواں اعتراض شریعت بل کے حوالہ سے یہ کیا جا رہا ہے کہ اس طرح تو ملّائیت اور پاپائیت مسلط ہو جائے گی۔ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ اس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ پاکستان کے علماء اتنے تنگ دل نہیں ہیں کہ وہ ہر معاملہ میں اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے خواہش مند ہوں۔ بلکہ یہ ان کی وسعت نظری کی علامت ہے کہ وہ موجودہ عدالتی اور انتظامی ڈھانچوں کو یکسر ختم کرنے کی بجائے انہی کی صلاحیت کو بہتر بنانے کی بات کر رہے ہیں اور انہی کو دعوت دے رہے ہیں کہ وہ قرآن و سنت کی مطلوبہ واقفیت حاصل کر کے ملک کا نظام چلاتے رہیں۔

علماء کا مطالبہ اور تقاضہ صرف یہ ہے کہ جو لوگ عدالتوں اور انتظامی مسندوں میں بیٹھیں انہیں قرآن و سنت کی واقفیت حاصل ہو اور ان کی ذہنی اور عملی تربیت اس کے مطابق ہو تاکہ وہ ملک کا نظام قرآن و سنت کے مطابق چلا سکیں۔ یہ ایک منطقی اور اصولی تقاضہ ہے جس کی صحت سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا۔ اور اگر کوئی کرتا ہے تو اس کا مطلب صرف یہ ہوگا کہ اسے اس ملک میں نفاذِ اسلام کی بنیاد سے ہی اختلاف ہے لیکن اس کے اظہار کی جرأت نہ پا کر ’’ملاازم‘‘ کے حوالہ سے اپنے بغض کا اظہار کر رہا ہے۔

جمہوری اقدار مجروح ہونے کا اعتراض

نواں اعتراض یہ ہے کہ شریعت بل کے ذریعے وفاقی شرعی عدالت کو ہر معاملہ میں آخری اتھارٹی دے کا درجہ کر جمہوری اداروں کی آزادانہ حیثیت اور رائے عامہ کی آزادی کو ختم کر دیا گیا ہے جس سے جمہوری اقدار مجروح ہوں گی۔

اس کے جواب میں عرض ہے کہ جمہوریت کا جو تصور مغرب اور یورپ کا ہے وہ نہ تو مکمل طور پر اسلام سے ہم آہنگ ہے اور نہ ہی پاکستان جیسی نظریاتی ریاست میں اس کی گنجائش ہے۔ مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال مرحوم کے کلام میں اس فرق کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے جو اسلام اور جمہوریت میں ہے۔ عوام کے حقوق، آزادیٔ رائے، حکومت پر تنقید کا حق اور دیگر بنیادی حقوق کو اسلام نہ صرف تسلیم کرتا ہے بلکہ ان کی ضمانت دیتا ہے لیکن قرآن و سنت کے منصوص مسائل میں رائے اور فیصلہ کا اختیار نہ جمہوری اداروں کو ہے اور نہ ہی ایسا کوئی حق رائے عامہ کو حاصل ہے۔ قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے واضح طور پر ارشاد فرما دیا ہے کہ

’’کسی مومن مرد یا عورت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کسی معاملہ کا فیصلہ کر دیں تو وہ اس بارے میں اپنی رائے اختیار کریں۔‘‘ (سورۃ الاحزاب)

جمہوری اداروں اور رائے عامہ کے تمام تر احترام کے باوجود انہیں یہ حق کسی صورت میں نہیں دیا جا سکتا کہ وہ قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح کا جو راستہ چاہیں اختیار کر لیں۔ اس کے لیے وہی لوگ اتھارٹی ہیں جو قرآن و سنت اور دیگر ضروری علوم سے کماحقہ واقفیت رکھتے ہیں اور آج کے دور میں اس کے ضروری تقاضوں کو جسٹس صاحبان اور جید علماء کرام پر مشتمل مشترکہ وفاقی شرعی عدالت ہی کے ذریعے پورا کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں شریعت بل میں جو طریق کار اختیار کیا گیا ہے وہ اسلامی جمہوریت کے موجودہ تقاضوں کی روشنی میں بالکل صحیح اور منطقی راستہ ہے۔