پرائیویٹ شریعت بل کو ترامیم کے بعد نئی شکل دےدی گئی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۴ اکتوبر ۱۹۸۶ء

سینٹ میں زیر بحث پرائیویٹ شریعت بل میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات اور مختلف مکاتب فکر کے اعتراضات کی روشنی میں ضروری ترامیم کے بعد اسے نئی شکل دے دی گئی ہے۔ گزشتہ دنوں لاہور میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ رہنماؤں کی ایک مشترکہ کمیٹی نے شریعت بل کے متن پر نظر ثانی کی۔ اس کمیٹی میں جمعیۃ علماء اسلام کے مولانا محمد اجمل خان، تنظیم المدارس پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا مفتی عبد القیوم ہزاروی، ممتاز اہل حدیث رہنما مولانا حافظ عبد الرحمان مدنی اور جماعت اسلامی کے رہنما محمد اسلم سلیمی کے علاوہ ممتاز قانون دان میاں شیر عالم ایڈووکیٹ شامل ہیں۔

کمیٹی نے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات سے مکمل اتفاق کیا ہے اور مختلف مذہبی مکاتب فکر کے اعتراضات کے پیش نظر شریعت بل کی شق نمبر ۲ اور شق نمبر ۱۲ میں ترمیم کر کے اسے ازسرنومرتب کر دیا ہے جس کے بعد شریعت بل کو تمام دینی مکاتب فکر کی متفقہ حمایت حاصل ہوگئی ہے۔ شریعت بل کے نئے مسودہ سے دیوبندی مکتب فکر کے تمام سرکردہ علماء کے علاوہ بریلوی مکتب فکر کے مولانا مفتی محمد حسین نعیمی، مولانا مفتی محمد ظفر علی نعمانی، مولانا عبد المصطفٰی الازہری، مولانا غلام علی اوکاڑوی، مولانا ابوداؤد محمد صادق، مولانا مفتی عبد القیوم ہزاروی اور اہل حدیث مکتب فکر کے مولانا عطاء اللہ حنیف، مولانا حافظ عبد القادر روپڑی، مولانا معین الدین لکھوی اور مولانا عبدا لرحمان سلفی نے مکمل اتفاق کیا ہے اور شریعت بل کے محرکین سینیٹر مولانا سمیع الحق اور سینیٹر مولانا قاضی عبد اللطیف نے بھی نئے مسودہ کو قبول کر لیا ہے۔

شریعت بل کے حق میں عوامی جدوجہد کو منظم کرنے کے لیے ۲۶ اکتوبر کو جامعہ نعیمیہ گڑھی شاہو لاہور میں تمام مکاتب فکر کا مشترکہ قومی کنونشن منعقد ہو رہا ہے جس کے انتظامات کے لیے مولانا مفتی محمد حسین نعیمی کی سربراہی میں مجلس استقبالیہ نے کام شروع کر دیا ہے۔ اس کنونشن میں ملک کے چاروں صوبوں سے ۵ ہزار سے زائد علماء کرام شریک ہوں گے اور اس موقع پر شریعت بل کی منظوری کے لیے متحدہ شریعت محاذ کی جدوجہد کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی کی طرف سے شریعت بل کا الگ مسودہ پیش کرنے کا اعلان نفاذِ شریعت کے معاملہ کو کھٹائی میں ڈالنے کی کوشش ہے تاہم ہمارے نزدیک یہ کریڈٹ کا مسئلہ نہیں اس لیے اگر شریعت بل کے سرکاری مسودہ میں ملک کے قانونی نظام کو شریعت بل کے مطابق تبدیل کرنے کا مقصد پورا کر دیا جائے تو ہمیں اس کی حمایت سے بھی کوئی انکار نہیں ہوگا۔ لیکن کسی برائے نام بل کے ذریعے مسئلہ کو ٹالنے کی کوشش کی گئی تو اس کی پوری قوت کے ساتھ مزاحمت کی جائے گی۔