شیعہ سنی فسادات کون کرانا چاہتا ہے؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳ دسمبر ۱۹۷۶ء
اصل عنوان: 
ملکی سالمیت کی دہائی یا مذموم عزائم کی غمازی؟ شیعہ سنی فسادات کون کرانا چاہتا ہے؟

جدید ڈپلومیسی کی ایک تکنیک یہ بھی ہے کہ جو غلط کام خود کرنا چاہو اسے اپنے مخالف کی طرف منسوب کر کے اس قدر پراپیگنڈا کرو کہ عوام کی نظروں میں اس کارِ بد کی ذمہ داری سے خود بچ سکو اور مخالفین کو بدنام کرنے کا ایک بڑا بہانہ ہاتھ آئے۔ حکمران گروہ دراصل اسی تکنیک کو اختیار کر کے اپوزیشن رہنماؤں کی مسلسل کردار کشی میں مصروف ہے۔ پیپلز پارٹی کے برسر اقتدار آنے کے بعد سندھ میں لسانی فسادات، پٹ فیڈر کے جھگڑے، عراقی اسلحہ کا چکر اور شیرپاؤ مرحوم کے المناک قتل کے ضمن میں اپوزیشن لیڈروں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا حکمران گروہ کی اسی حکمتِ عملی کا شاہکار ہیں۔ اور اب حکمران گروہ کے مداح حلقوں کی طرف سے اپوزیشن قائدین کے بارے میں ایک اور خدشے کا اظہار کسی نئے طوفان کی آمد کی خبر دے رہا ہے۔

اس لیے ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ قومی حلقوں کو خطرے کی اس مدھم انداز میں بجنے والی گھنٹی کی طرف متوجہ کریں۔ گزشتہ دنوں جمعیۃ علماء اسلام کے قائد اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظمِ اعلیٰ حضرت مولانا مفتی محمود مدظلہ نے مدارس و مساجد کی آزادی و خودمختاری کے تحفظ کے سلسلہ میں غوروخوض کے لیے مختلف مکاتب فکر کے نمائندوں کا ایک اجلاس راولپنڈی میں طلب کیا جس کی مفصل رپورٹ ترجمانِ اسلام کے گزشتہ شمارے میں آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ قومی اخبارات میں اس عظیم اجلاس کی مفصل کاروائی کی اشاعت کو مخصوص ذرائع سے رکوانے کے بعد سرکاری اخبارات و جرائد نے وفاق المدارس کے کنونشن کے بارے میں جو تاثر پیدا کرنے کی کوشش شروع کر رکھی ہے اس سے حکمران گروہ کے مذموم عزائم کا اندازہ کرنا کچھ مشکل نہیں ہے۔ سب سے پہلے پیپلز پارٹی کے جماعتی آرگن روزنامہ مساوات لاہور نے مساجد و مدارس کنونشن کے بارے میں ’’ٹیبل نیوز‘‘ شائع کی اور اب اسی ٹیبل نیوز کو پارٹی کے نیم سرکاری آرگن ہفت روزہ تلوار راولپنڈی نے غیاث الدین جانباز ایڈیٹر تلوار کے قلم سے اس طرح نمایاں کیا ہے کہ

’’اسلام آباد میں مفتی محمود کی دعوت پر اسلامی مدارس کے علماء کا اجتماع بھی ہوا۔ میں اس اجتماع کی جو سن گن لگا سکا ہوں وہ انتہائی خطرناک ہے۔ میری معلومات کے مطابق مفتی صاحب نے ان علماء کو عاشورہ محرم کے لیے اہم ہدایات دی ہیں جن میں ایک ہدایت یہ بھی شامل ہے کہ عاشورہ کے دوران فرقہ پرستی پر مبنی ایک خاص فرقہ کے خلاف متعصبانہ تقریریں کی جائیں تاکہ ملک کے عوام کو فرقہ پرستی کے نام پر لڑایا جا سکے اور ملک میں لاء اینڈ آرڈر سچویشن پیدا کر کے جمہوریت اور جمہوری اداروں کے خلاف وہی کھیل کھیلا جا سکے جو ۱۹۵۹ء کے عام انتخابات کے انعقاد سے قبل ایوب خان نے ۷ اکتوبر ۱۹۵۷ء کو کھیلا تھا اور جس کے نتیجے میں ملک میں پارلیمانی جمہوریت کا چراغ روشن ہوتے ہوتے رہ گیا تھا اور پھر تیرہ سال تک قوم کو آمریت کا جبر و استحصال برداشت کرنا پڑا اور آخر ملک دولخت ہوا۔

سنا ہے کہ مفتی محمود نے ان تمام علماء کو اکٹھا کیا تھا جو ذہنی اور نظریاتی اعتبار سے پاکستان کے قیام کی جدوجہد کے مخالف تھے یا ان مخالفین کے قرب کے سبب ان کا دل و دماغ بھی پاکستان کو قبول نہیں کرتا۔ بہرحال اگر میری سن گن صحیح ہے تو پھر وطنِ عزیز کے لوگوں کو آئندہ ایک ڈیڑھ ماہ تک اپنی آنکھیں کھلی رکھنی ہوں گی اس لیے کہ وطنِ عزیز میں جمہوریت کے خلاف اگر کوئی سازش کامیاب ہوگئی تو پھر پاکستان کی بقاء و سالمیت کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ گزشتہ پندرہ دنوں کے دوران مولانا نورانی، میاں طفیل، مولانا مودودی، مفتی محمود اور اصغر خان کے بیانات کا جو لب و لہجہ رہا ہے اس سے بھی حزبِ اختلاف کے عزائم کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر مبشر حسن واحد رہنما ہیں جنہوں نے اس لب و لہجہ کو محسوس کیا ہے ورنہ تو انتخابات کی ہماہمی میں کسی نے بھی وفاقی مدارس کے معلموں کے اجتماع اور ہفتہ نفاذ شریعت کے پس پردہ عوامل کا نوٹس لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔‘‘ (ہفت روزہ تلوار، راولپنڈی ۔ ۲۳ نومبر ۱۹۷۶ء)

اس طویل اقتباس کو ایک بار پھر ملاحظہ کیجئے اور وفاق المدارس کے کنونشن پر عائد کی جانے والی ’’چارج شیٹ‘‘ کے پس منظر میں حکمران گروہ کے عزائم کو تلاش کیجئے۔ ذرا سے غور کے بعد حکمران گروہ کے ارادے عریاں ہو کر آپ کے سامنے آجائیں گے۔ جہاں تک کنونشن میں مفتی محمود صاحب کے خطاب او رکنونشن کے فیصلوں کا تعلق ہے اس سلسلہ میں خفا کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور شرکاء کنونشن اس امر کے عینی شاہد ہیں کہ اس میں مدارس و مساجد کی آزادی اور حقوق نسواں کمیٹی کی سفارشات کے علاوہ کوئی مسئلہ زیربحث نہیں آیا اور محرم یا اس کی مناسبت سے فرقہ وارانہ مسائل کا تو کوئی محل ہی نہیں تھا۔

البتہ روزنامہ مساوات اور ہفت روزہ تلوار کا یہ واویلا حکمران گروہ کے عزائم کی خوب نشاندہی کرتا ہے اور یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے حکمران گروہ نے انتخابات کے عمل کو سبوتاژ کرنے اور اپوزیشن کو آئندہ انتخابات سے قبل مکمل طور پر کرش کر دینے کے لیے راہ ہموار کرنا شروع کر دی ہے۔ اس لیے قومی حلقوں کا فرض ہے کہ وہ صورتحال پر فوری توجہ دیں اور قوم کو فرقہ وارانہ اختلافات کے نام سے لڑانے کی اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے مشترکہ لائحۂ عمل اختیار کریں۔ مساوات اور تلوار نے خطرہ کی گھنٹی بجا دی ہے اور اگر اس آواز کی طرف توجہ نہ دی گئی تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے اور ان کا فائدہ ایک فاشسٹ گروہ کے آمرانہ عزائم کی تقویت ہی کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔