نفاذ اسلام کی کوششیں اور قومی خودمختاری کا مسئلہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۳ جولائی ۲۰۰۳ء
اصل عنوان: 
قومی خودمختاری کی بحالی اور ہمارا اصل مسئلہ

’’آن لائن‘‘ کی رپورٹ کے مطابق گورنر سرحد سید افتخار حسین شاہ نے سرحد اسمبلی کے منظور کردہ ’’حسبہ ایکٹ‘‘ کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے واپس کر دیا ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ گورنر کی طرف سے حسبہ ایکٹ پر سات اعتراضات کیے گئے ہیں جن میں آئین سے تجاوز اور عدالتوں کو نظر انداز کرنے کے دو اعتراض بھی شامل ہیں۔ جبکہ صوبائی وزارت قانون نے چھ صفحات پر مشتمل جواب میں ان اعتراضات کو غلط فہمی پر مبنی قرار دیا ہے۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ حسبہ ایکٹ ممتاز آئینی اور قانونی ماہرین کی مشاورت سے بنایا گیا ہے اور اس میں جو طریق کار اختیار کیا گیا ہے اس کی آئین میں گنجائش موجود ہے۔ اس سے قبل خبر آئی تھی کہ گورنر سرحد نے ۷ جون کو منظور کردہ سرحد اسمبلی کے ’’شریعت ایکٹ‘‘ پر دستخط نہیں کیے۔

ہمیں پہلے سے اندازہ تھا کہ سرحد اسمبلی ’’شریعت ایکٹ‘‘ اور ’’حسبہ ایکٹ‘‘ کے نام سے جو کچھ کرنے جا رہی ہے اگرچہ اس میں آئینی حدود کی پاسداری کی مکمل ضمانت دی گئی ہے، صوبائی اختیارات کی دستوری حدود میں رہنے کا اعلان کیا گیا ہے، سرحد اسمبلی نے متفقہ طور پر اس کی منظوری دی ہے اور صوبہ سرحد کے عوام نے موجودہ سرحد اسمبلی کو اسی بات کا مینڈیٹ دیا ہے لیکن اس سب کچھ کے باوجود یہ بیل منڈھے نہیں چڑھے گی۔ کیونکہ ملک کی اصل حکمران ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ کے لیے یہ بات کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہوگی کہ ملک کے کسی حصے میں شرعی قوانین اور احکام کے نفاذ کی طرف اس طرز کی کوئی پیش رفت ہو جس سے موجودہ سسٹم اور نظام کے کسی بھی حصے کے متاثر ہونے کا کوئی امکان نظر آتا ہو۔ اس لیے گورنر سرحد کے یہ اعتراضات اور اسمبلی کے منظور کردہ ایکٹ پر دستخط کرنے سے ان کا گریز ہمارے لیے قطعاً غیر متوقع نہیں ہے۔

اس سے قبل حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے دورِ حکومت میں بھی ہم اس قسم کی صورتحال کا سامنا کر چکے ہیں، مجھے یاد نہیں کہ یہ داستان میں نے اس سے پہلے قارئین کی خدمت میں کسی موقع پر پیش کی ہے یا نہیں البتہ موقع کی مناسبت سے اب اس کی ضرورت محسوس کر رہا ہوں۔ یہ ۱۹۷۲ء کی بات ہے مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن چکا تھا، باقی ماندہ پاکستان پر جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب مرحوم ملک کے صدر کی حیثیت سے کاروبار حکومت چلا رہے تھے، صوبہ سرحد میں نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیۃ علماء اسلام کی کولیشن کو اکثریت حاصل تھی اور مولانا مفتی محمودؒ کو صوبہ کا وزیراعلیٰ منتخب کیا گیا تھا، ارباب سکندر خان خلیل مرحوم صوبہ سرحد کے گورنر تھے اور دونوں درویش صفت سیاستدانوں کا جوڑ صوبائی منظر پر عجیب سی بہار دکھا رہا تھا۔ مفتی صاحب نے صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھایا اور سب سے پہلے اعلان یہ کیا کہ صوبہ سرحد میں شراب بنانے، بیچنے اور پینے پلانے پر پابندی ہوگی اور یہ قابل دست اندازی پولیس جرم ہوگا۔ مولانا مفتی محمودؒ نے شراب پر مکمل پابندی کے اعلان کے ساتھ صوبہ سرحد میں اپنی حکومتی ذمہ داریوں کا آغاز کیا اور اس کے ساتھ اردو کو سرکاری زبان قرار دینے، تقاویٰ قرضوں پر سود کی معافی اور اسکولوں میں دینیات کے استاد مقرر کرنے سمیت متعدد دیگر اصلاحات بھی کیں۔ مگر شراب پر پابندی کا اعلان ملک بھر میں موضوع بحث بن گیا۔ جدید حلقوں میں اسے ’’دقیانوسیت‘‘ سے تعبیر کیا گیا، ترقی اور تہذیب کے منافی قرار دیا گیا اور ماضی کی طرف واپس جانے کے طعنے دیے گئے، بعض زیادہ من چلوں نے اسے طنز و تشنیع اور تمسخر و استہزاء کا نشانہ بھی بنایا اور مختلف محافل میں شراب کی بوتلوں کو ’’چھوٹا مفتی‘‘ اور ’’بڑا مفتی‘‘ کا نام دے کر اسلام مخالف عناصر نے دل کی بھڑاس نکالنے کا راستہ اختیار کیا۔

اس سلسلہ میں سب سے دلچسپ بات وہ خط و کتابت تھی جو وفاق نے اس مسئلہ پر صوبائی حکومت کے ساتھ کی اور جس کی تفصیل حضرت مولانا مفتی محمودؒ نے خود ایک موقع پر جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں ہمیں سنائی۔ مفتی صاحبؒ نے بتایا کہ صوبہ سرحد میں شراب پر پابندی کے اعلان کے بعد وفاق کی طرف سے صوبائی حکومت کو پہلا خط یہ موصول ہوا کہ شراب پر پابندی کے بعد اس کے حوالہ سے صوبائی حکومت کو ٹیکس کی جو آمدنی ہوتی تھی وہ موقوف ہو جائے گی اور صوبائی بجٹ میں اس سے خسارہ ہوگا، صوبہ اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کرے گا کیونکہ مرکز اس سلسلہ میں صوبے کی کوئی مدد نہیں کر سکے گا؟ صوبائی حکومت نے جواب دیا کہ ہم اپنے اخراجات میں کمی کر کے اس خسارے سے نمٹ لیں گے اور وفاق کو اس سلسلہ میں زحمت نہیں دیں گے۔ اس کے بعد دوسرا خط وفاق کی طرف سے یہ آیا کہ صوبے میں غیر مسلم بھی رہتے ہیں جو شراب کو حرام نہیں سمجھتے، انہیں شراب مہیا کرنے کے لیے صوبائی حکومت کیا اقدامات کر رہی ہے؟ اس کا جواب مفتی صاحبؒ کی حکومت نے یہ دیا کہ جو غیر مسلم شراب کو حرام نہیں سمجھتے ان پر شراب کی پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا لیکن انہیں شراب مہیا کرنا اور اس کا اہتمام کرنا حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے اس لیے ہم اس سلسلہ میں کچھ نہیں کر سکتے۔ اس کے بعد تیسرا خط آگیا کہ شراب بعض بیماریوں کا علاج ہے اس لیے بیماروں کے علاج کے لیے ہسپتالوں میں شراب مہیا کرنے کا اہتمام ضروری ہے۔ صوبائی حکومت نے اس کے جواب میں صوبائی ہیلتھ سیکرٹری کی سربراہی میں ممتاز ڈاکٹر صاحبان پر مشتمل میڈیکل بورڈ بنا دیا اور اس کے ذمہ یہ بات لگائی کہ ایسی بیماری کی نشاندہی کی جائے جو جان لیوا ہو اور شراب کے علاوہ اس کا کوئی متبادل علاج نہ ہو۔ مفتی صاحبؒ کا کہنا تھا کہ اگر میڈیکل بورڈ کسی ایسی بیماری کی نشاندہی کر دیتا تو ہم اس کے لیے شرعی اصولوں کی روشنی میں شراب مہیا کرنے کی کوئی صورت ضرور نکالتے لیکن میڈیکل بورڈ کی رپورٹ یہ تھی کہ ایسی کوئی بیماری دنیا میں نہیں ہے جو جان لیوا ہو اور اس کا شراب کے علاوہ کوئی اور متبادل علاج موجود نہ ہو۔ شراب کے مسئلہ پر وفاق اور صوبے کی یہ ’’کاغذی جنگ‘‘ ابھی اس مرحلہ تک پہنچی تھی کہ بھٹو صاحب مرحوم نے بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیۃ علماء اسلام کی مشترکہ حکومت کو، جو سردار عطاء اللہ خان مینگل کی سربراہی میں کام کر رہی تھی، اچانک برطرف کر دیا جس پر احتجاج کرتے ہوئے سرحد کے گورنر ارباب سکندر خان خلیل مرحوم اور وزیراعلیٰ مفتی محمودؒ نے استعفٰی دے دیا اور اس طرح تقریباً دس ماہ تک کام کرنے کے بعد سرحد اور بلوچستان دونوں صوبوں میں نیپ اور جمعیۃ کی مشترکہ حکومتیں ختم ہوگئیں۔

یہ اس دور کی بات ہے جب پاکستان کے معاملات میں بیرونی مداخلت اگرچہ موجود تھی لیکن اس قدر ہمہ گیر اور اعلانیہ نہیں تھی البتہ ہمارے حکمران طبقات اپنے ’’خفیہ سرپرستوں‘‘ کی ناراضگی سے بچنے کے لیے کسی بھی ایسے اقدام میں روڑے اٹکانا اپنی ذمہ داری سمجھا کرتے تھے جس سے کسی اسلامی قانون پر عملدرآمد کی کوئی صورت دکھائی دیتی ہو۔ اب تو صورتحال ہی مختلف ہے کیونکہ اب امریکہ کی قیادت میں ’’ورلڈ اسٹیبلشمنٹ‘‘ کھلم کھلا ہمارے معاملات کو کنٹرول کر رہی ہے اور اس کے اہداف میں سرفہرست یہ بات ہے کہ پاکستان کو ایک عملی اسلامی ریاست بننے سے روکا جائے، اس لیے ان حالات میں ملک کی داخلی اسٹیبلشمنٹ سے یہ توقع رکھنا ہی عبث ہے کہ وہ نفاذ اسلام کی طرف کسی معمولی سی پیش رفت میں تعاون کرے گی یا کم از کم اسے برداشت ہی کر لے گی۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نفاذ شریعت کے اقدامات کے حق میں نہیں ہیں، یہ تو ہمارے فرائض میں سے ہے اور جس شخص یا جماعت کو جس سطح پر اور جس درجے میں بھی اس کا کوئی موقع ملتا ہے اسے ضائع کرنا ہمارے نزدیک شرعی طور پر کوتاہی اور جرم ہے۔ البتہ ایسے کسی اقدام کے نتیجہ خیز ہونے کی توقع رکھنا اور یہ سمجھ لینا کہ مروجہ سسٹم کے ہوتے ہوئے ہم اس ملک میں نفاذ اسلام کی طرف کوئی عملی پیش رفت کر سکیں گے خود فریبی کی بات ہوگی۔ ہمارا اصل مسئلہ قومی خودمختاری کی بحالی کا ہے او ریہ حق حاصل کرنے کا ہے کہ ہم اپنے فیصلے خود کر سکیں اور ہمیں اپنے ملک کے لیے کوئی نظام پسند کرنے یا قومی زندگی کے طور طریقے طے کرنے کے حوالہ سے طاقت کے زور پر ڈکٹیشن نہ دی جائے۔ کیونکہ جب تکہ ہم اپنے فیصلے خود کرنے اور اپنے معاملات خود طے کرنے کا حق بحال نہیں کرا لیتے تب تک پاکستان میں نفاذ اسلام یا نظام میں کسی بھی قسم کی اصلاح کے کسی بھی عمل کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے۔