علامہ محمد اقبالؒ اور تجدد پسندی ۔ ڈاکٹر محمد یوسف گورایہ صاحب کے خیالات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۲ دسمبر ۱۹۸۶ء
اصل عنوان: 
علامہ اقبالؒ، تجدد پسندی، شریعت بل

روزنامہ نوائے وقت کی ۱۸ و ۱۹ نومبر کی اشاعت میں ’’جدید اسلامی ریاست میں تعبیرِ شریعت کا اختیار‘‘ کے عنوان سے محترم ڈاکٹر محمد یوسف گورایہ کا مضمون شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے علامہ محمد اقبالؒ کے حوالہ سے اس عنوان پر بحث کی ہے کہ بدلتے ہوئے حالات میں ایک اسلامی ریاست کی تشکیل کے لیے قانون سازی اور تعبیر شریعت کا دائرہ کار اور دائرہ اختیار کیا ہونا چاہیے۔ یہ مضمون اس لحاظ سے قابلِ قدر ہے کہ اس کے ذریعے اس قومی بحث کو ایک واضح رخ دینے کی کوشش کی گئی ہے جو قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح، قانون سازی کے اسلامی تصور اور پارلیمنٹ کے اختیارات و حقوق کے ضمن میں کچھ عرصہ سے جاری ہے۔ لیکن صاحبِ مضمون نے علامہ محمد اقبالؒ کی نسبت سے کچھ ایسی باتیں کہنے کی کوشش کی ہے جو اگر خود علامہ محمد اقبالؒ کی زندگی میں کہی جاتیں تو شاید ان کے رد کے لیے سب سے پہلے علامہ مرحوم ہی کا قلم حرکت میں آتا۔

علامہ محمد اقبالؒ یقیناً اس اعتبار سے ماضی قریب کے خوش قسمت ترین راہنما گزرے ہیں کہ انہیں کم و بیش تمام طبقوں سے یکساں احترام ملا ہے۔ لیکن ان کی ہمہ پہلو شخصیت کا یہ رخ بھی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے کہ ہر باطل نظریے کے علمبرداروں نے انہی کے فلسفیانہ کلام کو اپنے لیے پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے کو ترجیح دی ہے۔ مارکسی نظریات کے فروغ سے لے کر سنت رسولؐ کی حجیت سے انکار کے لیے علامہ محمد اقبالؒ کے کلام اور افکار کو جس بے دردی کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے اور یہ ان کی شخصیت کا ایسا پہلو ہے جسے مظلومیت کے سوا اور کوئی عنوان نہیں دیا جا سکتا۔

ہمارے نزدیک یہ بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے کہ آج علامہ محمد اقبالؒ کو ایک ایسی حیثیت سے قوم کے سامنے لایا جائے جس کا نہ انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی دعویٰ کیا اور نہ ہی ان کے رفقاء و اعوان میں سے کسی کے حاشیۂ خیال میں آیا۔ اور پھر علامہ محمد اقبالؒ کے افکار کی تصویر کو اس نئی حیثیت کے فریم میں فٹ کر کے ان سے وہ کچھ کہلوا لیا جائے جو آج کے دور میں تجدد پسندی کے پسپا ہوتے ہوئے رجحانات کو سہارا دینے کے لیے ضروری ہو۔ ایک قومی مفکر، فلسفی، شاعر اور دردمند راہنما کی حیثیت سے علامہ محمد اقبالؒ کی شخصیت ہمیشہ مسلم اور قابل احترام رہی ہے۔ اور ان کا یہ کارنامہ تاریخ کا ایک ناقابل فراموش باب ہے کہ انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے دلوں میں مدت سے پرورش پانے والے جذبات کو ایک واضح سوچ اور فکر کے طور پر پیش کر کے احمد شاہ ابدالیؒ کے معرکۂ پانی پت، شہدائے بالاکوٹ کے جہادِ حریت اور مسلمانوں کے دینی و سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے دیوبند اور علی گڑھ کی فکری و علمی جدوجہد کے تسلسل کو اس کے منطقی عروج تک پہنچا دیا۔

علامہ مرحوم نے مسلمانوں کے ملی تشخص کو اجاگر کرنے اور مسلم نوجوانوں کو جذبۂ حریت و استقلال سے سرشار کرنے کے ساتھ ساتھ یقیناً کچھ علمی مباحث پر بھی گفتگو کی ہے اور مختلف عنوانات پر قلم اٹھایا ہے۔ لیکن انہوں نے نہ تو خود کو کبھی امام اعظم ابوحنیفہؒ، امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ اور امام مالکؒ کی سطح پر ’’مجتہد مطلق‘‘ کی حیثیت سے پیش کیا ہے اور نہ ہی اپنے علمی مباحث و افکار کو اپنی تجویز کردہ نئی اسلامی مملکت کی علمی اور فکری بنیاد قرار دیا ہے۔

علامہ محمد اقبالؒ نے مسلمانوں کے لیے الگ ریاست پاکستان کا مطالبہ کیا تو اس ریاست کی فکری بنیاد انہی مسلمانوں کے اجماعی عقائد و رجحانات پر طے شدہ تھی، ایسا نہیں تھا کہ علامہ محمد اقبالؒ نئی ریاست کا مطالبہ تو عام مسلمانوں کے لیے کر رہے تھے لیکن اسلام کی تعبیر و تشریح کے لیے وہ انہی مسلمانوں کے عمومی رجحانات و مسلمات سے ہٹ کر کوئی نئی سوچ ان پر مسلط کرنے کے درپے تھے۔ اس لیے ہمارے خیال میں علامہ محمد اقبالؒ کے مضامین کے اقتباسات جوڑکر ان میں سے مرحوم کے لیے ’’مجتہد مطلق‘‘ کا منصب کشید کرنا نہ صرف واقعات کے منافی ہے بلکہ خود علامہ مرحوم کے ساتھ بھی سراسر زیادتی اور نادان دوستی کے مترداف ہے۔

جہاں تک ایک قومی مفکر اور دردمند راہنما کی حیثیت سے علامہ محمد اقبالؒ کے علمی افکار ہیں ان سے یقیناً اختلاف کی گنجائش موجود ہے اور اگر خود ان کے بقول امام ابوحنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے افکار و نظریات حتیٰ کہ صحابہ کرامؓ کے اجتہادات حرفِ آخر نہیں ہیں تو علامہ اقبالؒ کے اپنے اجتہادات کو بھی حرفِ آخر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اور نہ ہی انہیں یہ حیثیت دی جا سکتی ہے کہ انہیں روبہ عمل لانے کے لیے چودہ سو سالہ اجماعی فکری تسلسل اور ملت اسلامیہ کی غالب اکثریت کے اجتماعی رجحانات کی پوری بساط ہی لپیٹ کر ایک طرف رکھ دی جائے۔

زیرِ نظر مضمون میں سب سے زیادہ اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ علماء نے اجتہاد کا دروازہ بند کر دیا ہے جس سے اسلام جیسے متحرک دین کو جامد مذہب میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ قطعی خلاف واقعہ بات ہے۔ اجتہاد کا دروازہ بند ہونے کی بات آج تک کسی نے نہیں کی اور آج بھی ہر مسلم معاشرہ میں مفتیانِ کرام نئے پیش آمدہ مسائل کا حل اجتہاد ہی کی روشنی میں تجویز کر رہے ہیں۔ ہاں یہ بات علماء کی طرف سے ضرور کہی جا رہی ہے اور وہ بالکل منطقی اور اصولی بات ہے کہ جن مسائل میں ماضی میں اجتہادات ہو چکے ہیں اور ان اجتہادات کے اسباب و علل اور مقتضیات بھی جوں کے توں ہیں ان میں محض اجتہاد کا شوق پورا کرنے کے لیا نیا اجتہاد نہ کیا جائے بلکہ ماضی کے اجتہاد کو ترجیح دی جائے۔ باقی رہے نئے پیش آمدہ مسائل یا ماضی کے وہ اجتہادات جن کے اسباب وعلل اور مقتضیات تبدیل ہو چکے ہیں ان میں اجتہاد سے کس نے روکا ہے؟ جہاں ضرورت ہے وہاں اجتہاد کا دروازہ آج بھی کھلا ہے اور جہاں ضرورت نہیں ہے وہاں ہر روز نئے اجتہاد میں کوئی تک نہیں ہے۔ کسی عمارت میں ایک نیا شخص رہائش پذیر ہوا ہے تو اپنی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق ردوبدل کا اسے حق حاصل ہے لیکن کوئی عقل مند یہ نہیں کہے گا کہ چونکہ اسے ردوبدل کا اختیار حاصل ہے اس لیے ہر چھت میں سوراخ کرنا اور ہر دیوار کو توڑنا بھی اس کا فرض بن گیا ہے۔

محترم گورایہ صاحب نے فقہی مذاہب اور مکاتب فکر کے الگ الگ تشخصیات کو ’’دورِ ملوکیت‘‘ کی یادگار قرار دے کر اس کا حل یہ پیش فرمایا ہے کہ فقہی مسالک کے نمائندوں سے اجتہاد کا حق واپس لے کر منتخب اسمبلی کو دے دیا جائے۔ لیکن اس بات کی وضاحت نہیں فرمائی کہ صوبائی خودمختاری کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے اس دور میں اگر کسی مسئلہ پر دو صوبائی اسمبلیوں کے اجتہادات مختلف ہوگئے اور ان اجتہادات کی بنیاد پر دو صوبوں میں الگ الگ فقہی قانون تشکیل پا کر نافذ ہو گئے تو اس فقہی اختلاف کو وہ کس نام سے یاد کریں گے؟ اور ان دو جدا فقہی نقطۂ ہائے نظر کے پیروکاروں کے الگ الگ تشخص پر کس دور کی یادگار ہونے کی پھبتی کسیں گے؟

جناب والا! جہاں اجتہاد ہوگا وہاں اختلاف بھی ہوگا اور فطری نتیجہ کے طور پر مختلف فقہی مکاتب فکر تشکیل پائیں گے۔ آپ کے نئے تجویز کردہ حل سے صرف اتنا فرق پڑے گا کہ اس کے نتیجہ میں فقہی فرق حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی کہلانے کی بجائے پنجابی، سندھی، بلوچستانی اور سرحدی فقہ کے پیروکار کہلائیں گے۔ اس لیے فقہی اختلاف سے گھبرانے کی کوئی بات نہیں، یہ اجتہاد کا لازمی اور منطقی نتیجہ ہے۔ اور ’’اجتہادِ مطلق‘‘ کو امام ابوحنیفہؒ امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ تک محدود رکھنے میں حکمت کی بات یہی ہے کہ فقہی اختلافات کو جزئیات کے دائرہ میں محصور رکھا جائے اور اجتہادِ مطلق کا دروازہ کھلا رکھنے کے شوق میں کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ چار فقہی مسالک سے چھٹکارا حاصل کرتے ہوئے چار سو نئے فقہی مسالک کی دلدل میں امت کو دھکیل دیا جائے۔

علامہ محمد اقبالؒ کے حوالہ سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ نئے دور میں اجتہاد کا حق منتخب اسمبلی کو ہونا چاہیے اور اس کو یہ اختیار ہو کہ وہ حالاتِ زمانہ کی روشنی میں دین کی تعبیر و تشریح کرے۔ لیکن صاحبِ مضمون اس اہم پہلو کے بارے میں بالکل خاموش رہے ہیں کہ اسمبلی کو اجتہاد کا حق دیتے ہوئے وہ ارکانِ اسمبلی کے لیے اجتہاد کی اہلیت کو بھی ضروری سمجھتے ہیں یا نہیں؟ کیونکہ اجتہاد نام ہے قرآن و سنت کے اصولوں سے مسائل و احکام کے استنباط کا۔ اور یہ استنباط وہ استخراج وہی شخص یا ادارہ کر سکتا ہے جو قرآن و سنت سے پوری طرح واقف ہو، ان کے اصولوں سے احکام کے استنباط کے طریق کار سے آگاہ ہو اور اس کی علمی اہلیت سے بہرہ ور ہو۔ کسی کام کی اہلیت کے بغیر کسی شخص یا ادارہ کو وہ کام سپرد کر دینا دنیا کے کسی اصول کے مطابق دانشمندی نہیں ہے۔ اور خود علامہ محمد اقبالؒ کا یہ اقتباس بھی اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے جو صاحبِ مضمون نے نقل کر دیا ہے:

’’در حقیقت قرآن کی تفاسیر اور سنت کی شروح کا ذخیرہ اس کثرت سے مدون اور عام ہو چکا ہے کہ آج کے مجتہد کے پاس تعبیرِ شریعت کے لیے اس کی ضرورت سے بھی زیادہ مواد موجود ہے۔‘‘

ظاہر بات ہے کہ جب آج کے مجتہد نے تعبیرِ شریعت کے لیے قرآن کی تفاسیر اور سنت کی شروح کے ذخیرہ سے استفادہ کرنا ہے تو اس استفادہ کی اہلیت سے بہرہ ور ہونا ایک ناگزیر شرط ہے جس کے بغیر مجتہد اجتہاد کا عمل مکمل نہیں کر سکتا۔ اس لیے ہم بڑے ادب کے ساتھ عرض کریں گے کہ ہمیں منتخب اسمبلی کو دین کی تعبیر اور اجتہاد کا حق دینے سے قطعاً کوئی انکار نہیں لیکن یہ ضروری ہے کہ اجتہاد کا حق استعمال کرنے والی اسمبلی کی رکنیت کے لیے ’’قرآن کی تفسیر اور سنت کے شروح کے ذخیرہ‘‘ سے استفادہ کی اہلیت کو شرط قرار دے دیا جائے، اس کے بغیر اسمبلی کو اجتہاد کا حق دینا خود اجتہاد کے ساتھ سنگین مذاق ہوگا۔

ڈاکٹر محمد یوسف گورایہ صاحب نے روایتی سیاست دانوں کی طرح اپنے مضمون کی تان اس بات پر آ کر توڑی ہے کہ

’’جو لوگ تحریکِ پاکستان میں علامہ محمد اقبالؒ کے خلاف سیاسی جنگ ہار گئے تھے وہ قیامِ پاکستان کے بعد تعمیرِ پاکستان سے متعلق علامہ کے افکار کو دبانے اور انہیں شکست سے دوچار کرنے میں کامیاب ہوگئے۔‘‘

ہم اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کہ قانون سازی اور اجتہاد کے حق کی علمی بحث کا قیامِ پاکستان کی مخالفت سے کیا تعلق ہے، کیونکہ یہ ایک فیشن بن گیا ہے کہ جب علماء کے خلاف اور کوئی بات کہنے کے لیے نہ رہ جائے تو قیامِ پاکستان کی مخالفت کے طعنے کی آڑ میں دل کی بھڑاس نکال لی جائے گی۔ لیکن اس سے قطع نظر ہم ڈاکٹر گورایہ صاحب سے یہ ضرور پوچھنا چاہیں گے کہ مولانا اشرف علی تھانویؒ، مولانا شبیر احمدؒ عثمانی، مولانا ظفر احمدؒ عثمانی، مولانا عبد الحامد بدایونیؒ، پیر صاحب مانکی شریفؒ، مولانا ابراہیم میرؒ سیالکوٹی، مولانا مفتی محمد شفیعؒ، مولانا سید سلیمان ندویؒ او ران کے ہزاروں رفقاء کو وہ کس زمرہ میں شمار کریں گے جنہوں نے نہ صرف تحریکِ پاکستان میں حصہ لیا اور تحریک کی بہت سی کامیابیوں میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ اور اگر بات اسی رخ پر کرنا ضروری ہے تو ہم یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ قیامِ پاکستان کے بعد قراردادِ مقاصد اور علماء کے ۲۲ نکات کی صورت میں تعمیرِ پاکستان کی فکری بنیادیں متعین کرنے والے یہی علماء تھے جنہوں نے قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں حصہ لیا اور علامہ محمد اقبالؒ کی تحریک کو تکمیل تک پہنچایا۔ اس لیے علامہ محمد اقبالؒ کے افکار کی ترجمانی میں وہ دوسروں سے زیادہ مستند حیثیت رکھتے ہیں۔