نظامِ شریعت کنونشن کے سلسلہ میں چند اہم گزارشات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳ اکتوبر ۱۹۷۵ء

کل پاکستان جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ کے فیصلہ کے مطابق آل پاکستان نظامِ شریعت کنونشن ۱۸ و ۱۹ اکتوبر ۱۹۷۵ء بروز ہفتہ و اتوار گوجرانوالہ میں ان شاء اللہ پروگرام کے مطابق منعقد ہو رہا ہے۔ تمام صوبوں اور اضلاع کی جمعیتوں کو کنونشن کی تفصیلات سے بذریعہ سرکلر آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اس اعلان کے ذریعے مکرر گزارش ہے کہ تمام اضلاع کی جمعیتیں:

  1. مندوبین کی فہرست، ضلع کے ذمہ عائد شدہ چندہ اور فیس طعام کی رقم بلاتاخیر دفتر مجلس استقبالیہ مکی مسجد نزد ڈیوڑھا پھاٹک گوجرانوالہ ارسال فرمائیں۔
  2. سرکلر میں درج شدہ تفصیلات کے مطابق رضاکار ہمراہ لائیں۔
  3. ملک میں نظامِ شریعت کے نفاذ اور جمعیۃ علماء اسلام کے استحکام کے سلسلہ میں اپنی تجاویز کنونشن سے ایک ہفتہ قبل تک دفتر استقبالیہ کو بھجوا دیں۔
  4. بیرونی وفود کی سہولت کے لیے گوجرانوالہ میں مختلف اڈوں پر استقبالیہ کیمپ لگائے جائیں گے، وفود ان سے رابطہ قائم کریں، وہاں سے انہیں جائے قیام پر پہنچا دیا جائے گا۔
  5. مجوزہ پروگرام کے مطابق ۱۶ اکتوبر بروز جمعرات جمعیۃ کی مرکزی مجلس عاملہ اور ۱۸ اکتوبر کو صبح ۹ بجے مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس ہوگا۔ امیر مرکزیہ کی منظوری کے بعد دعوت نامے ارسال کر دیے جائیں گے، بہرحال متعلقہ بزرگ اس سے آگاہ رہیں۔
  6. کنونشن کی افتتاحی نشست ۱۸ اکتوبر بروز ہفتہ بعد نماز عصر، دوسری نشست اسی رات بعد نماز عشاء، تیسری نشست اتوار کو صبح ۸ تا ۱۱ بجے، چوتھی نشست ظہر تا مغرب اور آخری نشست جلسہ عام کی صورت میں بعد نماز عشاء ہوگی۔ بیرونی وفود کو ہفتہ کے دن ۲ بجے تا ۴ بجے کے درمیان گوجرانوالہ پہنچنا چاہیے۔
  7. تمام مندوبین و رضاکار موسم کے مطابق بستر ہمراہ لائیں۔
  8. اگر کوئی قانونی رکاوٹ نہ ہوئی تو کنونشن کی تمام نشستیں شیرانوالہ باغ ورنہ متبادل جگہ میں ہوں گی۔ اور متبادل جگہ کا اعلان عین موقع پر کیا جائے گا۔
  9. ۱۲ اکتوبر کو مجلس استقبالیہ کا اجلاس حضرت مولانا عبید اللہ انور مدظلہ کی زیر صدارت مکی مسجد گوجرانوالہ میں صبح ۹ بجے ہوگا جس میں انتظامات کو آخری شکل دی جائے گی اور اس کے بعد حضرت مولانا مدظلہ پریس کانفرنس میں تفصیلات کا اعلان کریں گے۔
  10. تمام اضلاع کی جمعیتیں کنونشن میں شرکت کے پروگرام اور تیاریوں سے صوبائی جمعیتوں کے دفاتر اور عہدہ داروں کو بھی مسلسل آگاہ رکھیں۔