جمعیۃ طلباء اسلام کی ذمہ داریاں: مولانا عبید اللہ انور کے ارشادات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۳ جنوری ۱۹۷۶ء
اصل عنوان: 
مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی آرزو اور جمعیۃ طلباء اسلام کی ذمہ داری

جمعیۃ علماء اسلام پنجاب کے امیر حضرت مولانا عبید اللہ انور مدظلہ العالی نے جمعیۃ طلباء اسلام کی مرکزی مجلس عمومی کے انتخابی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے طلبہ پر زور دیا کہ وہ علم کے حصول کے ساتھ ساتھ دینی و اخلاقی تربیت بھی حاصل کریں کیونکہ عمل و تربیت کے بغیر محض علم گمراہی کا باعث بنتا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اسلام علم کا مذہب ہے، قرآن کرم کی سب سے پہلی آیات کریمہ جو نازل ہوئی تھیں یہ تھیں:

اقراء باسم ربک الذی خلق، خلق الانسان من علق، اقراء وربک الاکرم، الذی علم بالقلم، علم الانسان مالم یعلم (سورۃ القلم)

’’اس رب کے نام سے پڑھیں جس نے انسان کو پیدا کیا، انسان کو ایک لوتھڑے سے بنایا، پڑھیں اور آپ کا رب عزت والا ہے، جس نے قلم سے علم سکھایا، انسان کو ان باتوں کا علم دیا جو اسے پہلے معلوم نہ تھیں۔‘‘

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

انما بعثت معلما (الحدیث)

’’میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔‘‘

علم اور طالب علم کی جتنی توقیر و تعظیم اسلام میں ہے اور کسی مذہب میں نہیں اور اسلام یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہر وقت علم حاصل کرتے رہو۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

اطلبوا العلم من المہد الی اللحد (الحدیث)

’’ماں کی گود سے قبر تک علم حاصل کرتے رہو۔‘‘

علم کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب یہ بات فرما دی تھی کہ روئے زمین پر ان سے بڑا کوئی عالم نہیں تو اللہ تعالیٰ نے اسی لیے انہیں خضر علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا کہ بعض باتوں کا علم ایسا بھی ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نہیں دیا گیا۔ غرضیکہ علم جتنا زیادہ بھی حاصل ہو جائے کم ہے اور ایک مسلمان ساری زندگی طالب علم ہی رہتا ہے۔

مولانا عبید اللہ انور نے فرمایا کہ اسلام نے علم کے ساتھ عمل اور تربیت کو بھی لازم قرار دیا ہے کیونکہ عمل کے بغیر علم شیطنت اور گمراہی کا باعث بن جاتا ہے اور بے عمل اور غیر تربیت یافتہ عالم دین کا دماغ شیطان کا آلہ کار بن کر دنیا میں الحاد پھیلانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ ہمارے اکابر نے علم کے ساتھ عمل اور تربیت پر بہت زیادہ زور دیا ہے۔ اکابر پر ایک نظر ڈالیں، جو بزرگ جتنا بڑا عالم ہے اس کا یقین بھی اتنا پختہ ہے، یقین جس قدر پختہ ہے استقامت بھی اسی قدر ہے۔ حضرت مولانا حسین احمدؒ مدنی، مولانا ابوالکلام آزادؒ اور دوسرے اکابر کا یہی حال تھا۔ ہمارے موجودہ اکابر میں بھی حضرت درخواستی دامت برکاتہم اور حضرت مفتی صاحب مدظلہ کی مثال سامنے ہے۔ حضرت مفتی صاحب کا علم جتنا پختہ ہے اللہ تعالیٰ نے اسی قدر ایمان کامل اور عزم بالجزم کی دولت سے انہیں بہرہ ور کر رکھا ہے۔ اکابر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وہ اپنے آپ کو اب بھی طالب علم سمجھتے ہیں، انہیں اپنے علم پر غرور اور گھمنڈ نہیں ہے، یہی ہمارے اکابر کا طریق ہے اور ہمیں اسی کی پیروی کرنی چاہیے۔

مولانا عبید اللہ انور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے صرف کتاب نہیں اتاری کہ اسے پڑھ کر عمل کرتے رہو بلکہ عملی تربیت کے لیے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مبعوث فرمایا اور جناب نبی اکرمؐ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تربیت فرمائی اور ایسی سیرت سازی کی کہ یہ قدوسی گروہ انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد دنیا کا مقدس ترین قافلہ بن گیا۔ پھر اس کے بعد صحابہؓ نے تابعین کی، تابعینؒ نے اتباع تابعینؒ کی اور انہوں نے بعد میں آنے والے بزرگوں کی تربیت فرمائی اور یہ سلسلہ اب تک بدستور چل رہا ہے۔ آپ نے کہا کہ انگریز کے آنے کے بعد اور ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد برصغیر میں مسلمان دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک گروہ کواپریٹو تھا جس نے علی گڑھ سکول کی بنیاد رکھی اور انگریز سے تعاون کی پالیسی اختیار کی، انگریز کو کلرک اور ٹوڈی فراہم کیے جنہوں نے سرخان بہادر، رائے بہادر کے خطابات کے علاوہ جاگیریں اور مراعات حاصل کر کے انگریز کا ساتھ دیا۔ اسی گروہ کے کچھ لوگوں نے دین اسلام کے بنیادی عقائد سے انحراف کی راہ اپنائی چنانچہ بعض بنیادی اسلامی عقائد کا انکار سب سے پہلے سرسید احمد خان نے کیا پھر اس کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی، علامہ مشرقی، غلام احمد پرویز اور دوسرے لوگ ان کے نقش قدم پر چلے۔ دوسری طرف نان کواپریٹو گروپ تھا جس کے سرخیل ہمارے اکابر تھے انہوں نے انگریز سے عدم تعاون کی پالیسی اپنائی، انگریزی تعلیم، تہذیب، کلچر، زبان، لباس اور نظام کو قبول کرنے کی بجائے دینی تعلیم کے مکاتب جاری کیے، انگرزی زبان سے تنفر کی فضا قائم کی اور اسلامی طرز بود و باش اور تہذیب کو زندہ رکھا۔ آج دونوں گروہوں کی خدمات اور ان کے نتائج ہمارے سامنے ہیں اور ان بزرگوں کی اصابت رائے کی داد دینا پڑتی ہے جنہوں نے انگریزی تعلیم و تہذیب اور زبان و کلچر کے دینی خطرات سے آغاز میں ہی ملت اسلامیہ کو آگاہ کر دیا تھا اور انہوں نے اس کے نقصانات کو بخوبی محسوس کر لیا تھا۔

مولانا عبید اللہ انور نے فرمایا کہ ہمارے اکابر نے دین حق کی حفاظت اور دینی اقدار و روایات کے تحفظ کے لیے جو خدمات سرانجام دی ہیں ان کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ اس سے پہلے چونکہ انفرادی خدمات کا دور تھا اس لیے مجدد بھی انفرادی طور پر آتے تھے لیکن اب اجتماعیت کا دور آچکا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرات علماء دیوبند سے اجتماعی طور پر تجدید دین کا کام لیا ہے اور مجددین کی ایک جماعت نے خدمات سرانجام دی ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ بدقسمتی سے دینی مدارس اور عصری سکولوں کی تفریق نے ہمارے معاشرہ میں ایک واضح تقسیم پیدا کر دی ہے اور یہ تفاوت اس قدر وسیع ہو چکا ہے کہ ایک ہی گھرانے کے افراد میں سے ایک دینی مدرسہ سے تربیت حاصل کرتا ہے اور دوسرا عصری سکول میں پڑھتا ہے تو دونوں کی بود و باش، زبان، اخلاق اور کردار میں فرق اتنا واضح ہوتا ہے کہ حقیقی بھائی تو کجا ایک قوم کے افراد بھی معلوم نہیں ہوتے۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ نے ایک دفعہ اس تفریق کو ختم کرنے کے لیے علی گڑھ کے ارباب حل و عقد سے گفت و شنید فرمائی تھی اور طے پایا تھا کہ علی گڑھ سے فارغ التحصیل ۵ طلبہ دارالعلوم دیوبند میں دینی تعلیم حاصل کریں گے اور دارالعلوم دیوبند سے فارغ ۵ طلبہ علی گڑھ میں جا کر عصری علوم کی تکمیل کریں گے۔ لیکن علی گڑھ سے دیوبند آنے والے طلبہ کے پہلے بینچ نے ہی انگریز کے لیے جاسوسی شروع کر دی جس کے نتیجہ میں یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ اس کے بعد بھی متعدد بار کوشش ہوئی لیکن کوئی نمایاں کامیابی نہ ہوئی۔

مولانا عبید اللہ انور نے کہا آج اس بات کی ضرورت ہے کہ اس تفریق کو ختم کیا جائے اور جدید دور کے تقاضوں اور مسائل کا اسلامی حل دنیا کو پیش کیا جائے۔ اسلام کے بغیر دنیا کے مسائل کا کوئی حل نہیں ہے اور اسلام کو پیش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دینی علوم حاصل کرنے والے علماء اور عصری علوم پر عبور رکھنے والے افراد مشترکہ تحقیقاتی گروپ بنا کر یہ خدمات سرانجام دیں۔ آپ نے بتایا کہ جب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ جلا وطنی کے بعد وطن واپس تشریف لائے تو ان سے لوگوں نے دریافت کیا کہ لوگ تو تمنا کرتے ہیں کہ حرمین میں ان کو موت نصیب ہو لیکن آپ بڑھاپے میں حرمین کی بجائے ہندوستان تشریف لائے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ مولانا سندھیؒ نے کہا کہ میں قوم کو ووٹ کی قیمت سمجھانے آیا ہوں اور یہ بتانے آیا ہوں کہ آئندہ قومی تحریکوں میں معاشی مسائل کو اہمیت حاصل ہوگی اور ہمارے علماء و محدثین میں مسائل پر شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے زیادہ ان مسائل پر کسی نے گفتگو نہیں کی۔ حضرت شاہ صاحب نے کارل مارکس کی پیدائش سے بھی ۱۰۰ سال قبل معاشی مسائل کا اسلامی حل پیش فرما دیا تھا لیکن اشاعت کی قوت اور ذرائع میسر نہ ہونے کی وجہ سے ان کی تعلیمات دنیا کے سامنے نہ آسکیں اور ان سے ایک صدی بعد کارل مارکس صرف پراپیگنڈا کے زور سے معاشی انقلاب کا داعی بن گیا۔ مولانا سندھیؒ فرماتے تھے کہ میں چاہتا ہوں کہ شاہ ولی اللہ کی تعلیمات اور کارل مارکس کے افکار کا طلبہ کو تقابلی مطالعہ کراؤں اور یہ بتاؤں کہ دنیا کی معاشی مشکلات اور اقتصادی مسائل کا جو حل قرآن و سنت کی روشنی میں حضرت شاہ ولی اللہ نے پیش فرمایا ہے وہی دنیائے انسانیت کو معاشی و اقتصادی الجھنوں سے نجات دلا سکتا ہے۔

مولانا عبید اللہ انور نے جمعیۃ طلباء اسلام کے باہمت کارکنوں کی خدمات اور ان کی جرأت و حوصلہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ نے تحریک ختم نبوت اور تحریک سول نافرمانی میں جس طرح استقامت و جرأت اور صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور آپ نے کالجوں اور دینی مدارس کے طلبہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا جو تاریخی کارنامہ سرانجام دیا ہے اس کے پیش نظر مجھے امید ہے کہ آپ حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی اس خواہش کی تکمیل کے لیے مثبت اور مفید کام کر سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اور ہم سب کو اکابر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دین حق کی خدمات سرانجام دینے کی توفیق مرحمت فرمائے، آمین یا الہ العالمین۔