عامر عبد الرحمان شہیدؒ کی یاد میں ایک کانفرنس

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳۰ مئی ۲۰۱۰ء
اصل عنوان: 
تنقید اور استہزاء میں فرق کو ملحوظ رکھا جائے

۲۷ مئی جمعرات کو چند گھنٹے فیصل آباد کی نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی میں گزارنے کا موقع ملا اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت و ناموس پر جان کا نذرانہ پیش کرنے والے قوم کے قابل فخر سپوت عامر عبد الرحمان شہیدؒ کی یاد میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ عامر چیمہ شہید نے اسی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں ڈگری کے حصول کے بعد مزید تعلیم کے لیے جرمنی میں مقیم تھا کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخانہ خاکوں کی صورت میں سامنے آنے والی توہین و بے حرمتی پر بے چین ہوگیا اور حرمتِ رسولؐ پر جان کی قربانی کی سعادت پا گیا۔

نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی کی لٹریری سوسائٹی نے ’’عامر چیمہ شہید کانفرنس‘‘ کے عنوان سے اس تقریب کا اہتمام کیا۔ عامر شہیدؒ کے والد محترم پروفیسر محمد نذیر چیمہ اور ان کی اہلیہ محترمہ کانفرنس میں مہمان خصوصی تھے اور راقم الحروف کو مہمان مقرر کے طور پر اظہار خیال کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ میں پروفیسر نذیر احمد چیمہ صاحب اور ان کی اہلیہ محترمہ کے ساتھ ہی گوجرانوالہ سے فیصل آباد پہنچا تھا۔ یونیورسٹی میں جتنی دیر رہے، عامر چیمہ شہیدؒ کا تذکرہ رہا، اس کے متعدد اساتذہ سے گفتگو ہوئی۔ اس کے ساتھی طلبہ نے اپنے شہید ساتھی کے دلچسپ واقعات و حالات سے آگاہ کیا۔ بالخصوص شہیدؒ کے بے تکلف دوست اور ساتھی ہارون نے اپنے ساتھی کی زندگی کے کئی دلچسپ گوشوں سے پردہ اٹھایا جن میں سے ایک کا تذکرہ اس موقع پر کرنا چاہوں گا۔

ہارون نے بتایا کہ جب وہ دونوں تعلیم کے آخری سال میں تھے تو ٹیکسٹائل کالج میں داخلہ اور تعلیم کی فیسوں میں بہت زیادہ اضافہ کر دیا گیا جس پر احتجاج کے لیے انہوں نے ’’کالج بچاؤ تحریک‘‘ کا آغاز کیا۔ اور طلبہ کی تحریکیں جیسی ہوتی ہیں، اسی رخ پر یہ تحریک آگے بڑھی۔ اس موقع پر عامر شہیدؒ کے والد محترم پروفیسر نذیر چیمہ نے بتایا کہ انہوں نے عامر کو سمجھانے کی کوشش کی کہ تم آخری سال میں ہو اور فیسیں فرسٹ ایئر کی بڑھی ہیں، تمہیں اس قدر تردد کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ عامر شہیدؒ نے جواب دیا کہ فرسٹ ایئر والے تو احتجاج کی پوزیشن میں نہیں ہیں، انہیں معلوم ہی نہیں کہ کرنا کیا ہے، اس لیے یہ ذمہ داری ہم سینئرز کی ہے کہ ہم ان کے لیے جدوجہد کریں اور انہیں زیادتی سے بچانے کی کوشش کریں۔ ہارون نے بتایا کہ جب اس سلسلہ میں ہم گفتگو کے لیے متعلقہ محکمہ کے سیکرٹری کے پاس گئے تو ان سے بات چیت کرتے ہوئے عامر شہیدؒ نے کہا کہ سر! فیسیں جس طرح بڑھائی گئی ہیں، میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ آپ اپنی تنخواہ اور جائز مراعات کے دائرے میں اپنی اولاد میں سے کسی کو ٹیکسٹائل کالج میں پڑھانا چاہیں تو کیا موجودہ فیسوں کے ساتھ آپ اپنے کسی بچے کو یہ تعلیم دلا سکتے ہیں؟ ہارون کا کہنا ہے کہ عامر شہیدؒ کی یہ بات سیکرٹری صاحب کو اپیل کر گئی اور وہ فیسوں میں کمی کرانے کی مہم میں کامیاب ہوگیا۔

عامر چیمہ مرحوم کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ کالج میں کسی بھی حوالہ سے اور کسی بھی طرف سے زیادتی کا شکار ہونے والے طلبہ کی پناہ گاہ تھا۔ اور جس طالب علم کو کوئی شکایت ہوتی وہ اس اعتماد کے ساتھ عامر چیمہ شہید کی طرف رجوع کرتا کہ اب اس کا کام ہو جائے گا اور اکثر ایسا ہو جایا کرتا تھا۔

عامر چیمہ شہیدؒ کی یاد میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں اس کے والد محترم، والدہ محترمہ اور اس کے دوست ہارون کے علاوہ لٹریری سوسائٹی کے سرپرست جناب اسحاق بھٹی، صدر اسماعیل عثمان اور شہیدؒ کے دیگر ساتھیوں نے بھی خطاب کیا اور اپنے شہید ساتھی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ تحفظ ناموس رسالتؐ کے سلسل میں اس کے مشن کے ساتھ ہم آہنگی اور اسے جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ راقم الحروف نے جو گزارشات پیش کیں ان میں سے چند ایک کا خلاصہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔

مغرب کو یہ اعتراض ہے کہ مسلمان جذباتی قوم ہے، اس میں برداشت نہیں ہے، اختلاف سننے کا حوصلہ نہیں ہے اور قرآن کریم اور حضرت محمدؐ کے بارے میں ذرا سی بات پر مشتعل ہوجاتی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ہم قرآن کریم اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کے حوالہ سے جذباتی ہیں اور اسے ایمان و غیرت کی علامت سمجھتے ہیں۔ دنیا میں آج بھی کوئی مسلمان آپ کو ایسا نہیں ملے گا جو جناب رسول اللہؐ کی توہین یا قرآن کریم کی بے حرمتی کو برداشت کر لے۔ اسے اس پر غصہ آئے گا اور وہ کچھ نہ کچھ ضرور کرے گا۔ یہ قرآن کریم اور جناب رسالت مآبؐ کے ساتھ مسلمانوں کی محبت اور تعلق کی علامت ہے جو بحمد اللہ تعالیٰ آج بھی قائم ہے اور اس کی قوت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ مگر یہ بات قطعی طور پر غلط ہے کہ ہم اختلاف برداشت نہیں کرتے اور علمی تنقید پر بھی سیخ پا ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ تین صدیوں کی تاریخ گواہ ہے کہ مغرب کی یونیورسٹیاں اور دانش گاہیں اسلام پر، قرآن کریم پر، جناب نبی اکرمؐ کی ذات گرامی پر، اور اسلامی احکام و قوانین پر مسلسل اعتراضات کر رہی ہیں۔ بہت سے مستشرقین کا تو موضوع ہی یہی ہے، سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں مقالات اور کتابیں اب تک سامنے آچکی ہیں مگر کسی پر مسلمانوں نے برا نہیں منایا۔ دلیل کا جواب دلیل سے دیا ہے، کتاب کا جواب کتاب کی صورت میں آیا ہے اور تحقیق و استدلال کا سامنا تحقیق و استدلال کے ساتھ کیا گیا ہے۔ لیکن ہم نے اختلاف اور استہزاء میں فرق کو ہمیشہ ملحوظ رکھا ہے، تنقید اور توہین کے درمیان فاصلوں کو کراس کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی اور نہ ہی آئندہ کسی کو یہ اجازت دینے کے لیے تیار ہیں۔

سر ولیم میور نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ پر کتاب لکھ کر اعتراضات کیے تو اس کا جواب سرسید احمد خان مرحوم نے کتاب کی صورت میں دیا، لیکن سلمان رشدی نے اسی طرز کی باتیں تمسخر اور توہین کے لہجے میں لکھیں تو وہ مسلمانوں کے لیے ناقابل برداشت ہوگئیں۔

نامور ہندو مذہبی رہنما پنڈت دیانند سرسوتی نے اپنی کتاب ’’ستیارتھ پرکاش‘‘ میں قرآن کریم پر اور آنحضرتؐ کی ذات گرامی پر سینکڑوں اعتراضات کیے تو ان کا جواب مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے پنڈت دیانند سرسوتی کے ساتھ روبرو مناظرہ کی صورت میں دیا۔ جبکہ مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ نے اس کے جواب میں ’’حق پرکاش‘‘ کے نام سے کتاب لکھ کر اس کا قرض چکایا۔ لیکن جب راجپال نے ’’رنگیلا رسول‘‘ کے نام سے گستاخانہ کتاب لکھی تو اس کا جواب علماء کرام نے نہیں بلکہ غازی علم الدین شہیدؒ نے دیا۔

مغرب اور اس کے ہمنوا دانشوروں کو اس بات پر پریشانی ہوتی ہے کہ آزادیٔ رائے کے اس دور میں مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کو آخر جرم ہی کیوں سمجھتے ہیں؟ میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ دنیا کا کون سا ملک ہے جس میں ’’ازالۂ حیثیت عرفی‘‘ کے حوالہ سے قانون موجود نہیں ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں ہر صاحب حیثیت شخص کو اپنی ’’حیثیت عرفی‘‘ کے تحفظ اور دفاع کا حق حاصل ہے۔ اور کسی ملک میں یہ صورتحال نہیں ہے کہ اپنی حیثیت عرفی کے مجروح ہونے پر کوئی شخص قانون کا دروازہ کھٹکھٹائے تو اسے یہ جواب ملے کہ تحمل سے کام لو، برداشت کرو، صبر کرو اور خواہ مخواہ غصے میں نہ آؤ قانون ہر جگہ اس کو داد رسی کی سہولت دیتا ہے اور ہتک عزت اور حیثیت عرفی کے مجروح ہونے کا نوٹس لیتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ ہم میں سے تو ہر شخص کی حیثیت عرفی ہے جس کے دفاع کا اسے حق حاصل ہے، لیکن کیا جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ کے معصوم پیغمبروں کی (نعوذ باللہ) کوئی حیثیت عرفی نہیں ہے جس کے مجروح ہونے پر قانون کو حرکت میں لانا ضروری ہو؟ جناب رسول اکرمؐ کی ’’حیثیت عرفی‘‘ کے بارے میں مائیکل ہارٹ سے پوچھ لیجئے جو آج بھی دنیا کے سو بڑے آدمیوں کی فہرست بناتے ہوئے حضرت محمدؐ کو پہلا نمبر دینے پر خود کو مجبور پاتے ہیں۔