اہلِ سنت کے مقدسات اور جناب آیت اللہ خامنہ ای کا فتویٰ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۸ دسمبر ۲۰۱۰ء
اصل عنوان: 
’’بین المذاہب امن سیمینار‘‘ کی روداد

محرم الحرام سن قمری و ہجری کا پہلا مہینہ ہے جس کے ساتھ اہل اسلام کی بہت سی یادیں وابستہ ہیں اور یوم عاشورہ یعنی دس محرم الحرام کے بارے میں فضیلت و اہمیت کی متعدد روایات احادیث نبویہؐ کے ذخیرہ میں موجود ہیں لیکن نواسۂ رسول حضرت امام حسینؓ اور ان کے خانوادے کی محترم شخصیات و افراد کی المناک شہادت کا تذکرہ ان دنوں پورے عالم اسلام میں سب سے زیادہ کیا جاتا ہے جو بلاشبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر امتی کے لیے رنج و صدمے کا باعث ہے اور دنیا بھر میں مسلمان اپنے اپنے انداز میں ہر جگہ اس کا اظہار کرتے ہیں۔

جبکہ ہمارے ہاں ایک اور روایت بھی اس سلسلہ میں پائی جاتی ہے کہ محرم الحرام سے پہلے ڈویژنل اور ضلعی سطح پر انتظامیہ مستعد و متحرک ہو جاتی ہے کہ محرم الحرام امن و امان کے ساتھ گزر جائے اور کوئی ایسا واقعہ رونما نہ ہونے پائے جو مسلمانوں میں بد امنی اور سنی شیعہ فرقوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا باعث بن جائے۔ اس کی وجہ عام طور پر یہ ہوتی ہے کہ

  • اہل تشیع کا اس سانحۂ عظمیٰ پر جذبات اور رنج و غم کے اظہار کا اپنا طریقہ ہے کہ وہ مجالس منعقد کرتے ہیں، ماتمی جلوسوں کا اہتمام کرتے ہیں اور کھلے بازاروں میں ماتم کرتے ہوئے گزرتے ہیں۔ اہل سنت کے نزدیک اظہار رنج کا طریقہ مختلف ہے کہ وہ مساجد میں بیانات اور خطبات و دروس کی صورت میں خانوادۂ اہل بیت کے ساتھ اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہیں جبکہ ماتم کی مروجہ صورتوں کو وہ درست نہیں سمجھتے۔ چنانچہ اس وجہ سے بعض مقامات پر باہمی کشیدگی بڑھ جاتی ہے اور مختلف شہروں میں اس کے باعث متعدد مواقع پر اس کا افسوسناک اظہار ہو چکا ہے۔ اسی لیے انتظامیہ ہر جگہ محرم الحرام کے آغاز سے قبل علماء کرام اور سنی شیعہ رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیتی ہے او رمختلف سطحوں پر امن کمیٹی کے اجلاسوں کا آغاز ہو جاتا ہے۔
  • اس کے ساتھ ہی ایک اور بات بھی کشیدگی اور بسا اوقات تصادم کا باعث بن جاتی ہے کہ بعض شیعہ ذاکرین کی طرف سے ماتمی جلوسوں میں صحابہ کرامؓ کی اکابر شخصیات بالخصوص حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت عائشہؓ اور حضرت معاویہؓ کا ذکر ایسے انداز سے ہوتا ہے جو اہل سنت کے لیے قابل قبول بلکہ بعض صورتوں میں قابل برداشت نہیں ہوتا جس سے باہمی منافرت میں اضافہ ہوتا ہے اور افسوسناک واقعات رونما ہو جاتے ہیں۔

البتہ اہل تشیع کے سنجیدہ علماء کرام اور باشعور رہنما اس قسم کی باتوں کو پسند نہیں کرتے اور باہمی رواداری اور امن و مصالحت کے قیام کی کوششوں میں انتظامیہ اور اہل سنت سے ہمیشہ تعاون کرتے ہیں۔ اس سال اس حوالے سے ایک خوشی کی خبر بروقت سامنے آئی ہے جو اس مسئلہ کی شدت اور سنگینی کو کم کرنے میں خاصی معاون ہو سکتی ہے اور وہ اثنا عشریہ اہل تشیع کے عالمی رہنما اور ایران کے رہبرِ انقلاب جناب آیت اللہ خامنہ ای کا وہ فتویٰ ہے جو انہوں نے صحابہ کرامؓ اور امہات المومنینؓ کی حرمت و تعظیم کے بارے میں جاری کیا ہے۔ اس کی کچھ تفصیلات دہلی سے شائع ہونے والے جریدے سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نے ۱۶ اکتوبر ۲۰۱۰ء کے شمارے میں اور اسلام آباد سے شائع ہونے والے اہل تشیع کے جریدہ ماہنامہ ’’پیام‘‘ نے نومبر ۲۰۱۰ء کے شمارے میں شائع کی ہیں۔ ماہنامہ پیام کی رپورٹ کے مطابق یہ فتویٰ یوں ہے کہ

’’برادرانِ اہل سنت کے مقدسات کی توہین کرنا حرام ہے چہ جائیکہ بالخصوص زوجۂ رسولؐ پر تہمت لگائی جائے جس سے ان کے شرف و عزت پر حرف آتا ہو۔ بلکہ تمام انبیاءؑ کی خصوصاً سید الانبیاؐ کی ازواج کی توہین ممنوع ہے۔‘‘

سہ روزہ دعوت دہلی نے یہ فتویٰ اس طرح نقل کیا ہے کہ جناب خامنہ ای نے فرمایا ہے کہ

’’ہمارے سنی بھائیوں کی علامتوں اور مقدسات کی توہین و تحقیر بالخصوص رسول اکرمؐ کی ازواج پر تہمت باندھنا جو ان کے شرف میں خلل پڑنے کا باعث ہو حرام ہے۔ بلکہ یہ امر تمام انبیاء کی ازواج اور خاص طور پر ان کے سردار و سرور رسولِ اعظمؐ کی زوجات کے لیے محال ہے۔‘‘

اس کا پس منظر یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ کوئی صاحب خود کو شیعہ رہنما ظاہر کر کے ویب سائٹ پر ام المومنین حضرت عائشہؓ کے بارے میں بطور خاص ہرزہ سرائی کر رہے ہیں جس سے مختلف ممالک میں ہیجان کی صورت پیدا ہو رہی ہے۔ اس پر جناب خامنہ ای سے استفسار کیا گیا تو انہوں نے اس سلسلہ میں باقاعدہ فتویٰ جاری کیا ہے جس کی بہت سے دیگر شیعہ اکابر نے بھی تائید کی ہے اور شیخ الازہر سمیت عالم اسلام کے متعدد سنی رہنماؤں اور حکومت کویت نے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔

ہمارے خیال میں جناب خامنہ ای کا یہ فتویٰ بہت اہم اور بروقت ہے جس سے ایسے لوگوں کی زبانوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی جو حضرات صحابہ کرامؓ اور امہات المومنینؓ کے بارے میں نازیبا الفاظ اور لہجہ اختیار کر کے اہل سنت کے جذبات کو مجروح کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اس فتویٰ سے ان سنجیدہ اور صاحبِ علم شیعہ رہنماؤں کو بھی حوصلہ ملے گا جو باہمی رواداری اور امن و مصالحت کے فروغ کے لیے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں۔

محرم الحرام میں امن و امان برقرار رکھنے کی کوششوں کے سلسلہ میں راقم الحروف کو بھی ایک مشترکہ اجلاس میں شرکت کا موقع ملا جو بین المذاہب امن کمیٹی پنجاب کے چیئرمین مولانا قاری محمد سلیم زاہد کی دعوت پر کمشنر آفس گوجرانوالہ میں کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن جناب سعید واہلہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس میں ڈویژن کے تمام اضلاع سے مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کے علاوہ ضلعی افسران اور مسیحی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ کم و بیش سبھی مقررین نے باہمی رواداری کے فروغ پر زور دیا اور پیش آمدہ مسائل و معلومات کو افہام و تفہیم کے ساتھ حل کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ گوجرانوالہ کے چیمبر آف کامرس کے صدر شیخ ثروت اکرام نے اس موقع پر ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا کہ وہ ایک صنعتی نمائش کے سلسلہ میں کسی بیرونی ملک میں تھے کہ ایک سکھ تاجر کو انہوں نے کہا کہ سردار صاحب آپ اگر تقسیم ہند کے وقت ہمارے ساتھ رہتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ ان سردار صاحب نے جواب میں کہا کہ ہم نے صحیح فیصلہ کیا تھا اور تجربہ نے اس بات کو درست ثابت کیا ہے اس لیے کہ میرا تعلق ساہیوال سے تھا مگر میں جب کم و بیش ساٹھ سال کے بعد وہاں گیا تو ایسے ویسا ہی پایا جیسے نصف صدی پہلے تھا، جبکہ اس کے مقابلے میں جالندھر نے ترقی کے بہت سے مراحل طے کر لیے ہیں۔ دوسری بات سکھ سردار نے یہ کہی کہ ہمارے ہاں مسلمانوں کی مساجد میں امن کے ساتھ عبادت ہوتی ہے بلکہ وہ جب نماز سے فارغ ہو کر مسجد سے نکلتے ہیں تو ہندو اور سکھ خواتین اپنے بچوں کو لے کر دروازوں پر کھڑی ہوتی ہیں تاکہ مسجد میں عبادت کرنے والے مسلمان ان بچوں کو دم کر دیں، جبکہ پاکستان میں آپ مسلمان حضرات مسجد کے دروازے پر گن مین کھڑا کیے بغیر اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی نہیں کر سکتے۔ سکھ سردار کی یہ بات ہم سب کے لیے باعث عبرت ہے اور سبق آموز بھی کہ ترقی اور امن دنوں حوالوں سے معروضی صورتحال اس سے مختلف نہیں ہے جو سردار موصوف نے بیان کی۔ متعلقہ طبقات و عناصر کو اس کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔

راقم الحروف نے ’’بین المذاہب امن سیمینار‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والے اس مشترکہ اجلاس میں عرض کیا کہ مسلمان، مسیحی، ہندو، سکھ اور دیگر مذاہب کے افراد پاکستان کے یکساں طور پر شہری ہیں اور امن سب کی مشترکہ ضرورت ہے۔ ہمارے درمیان ایک معاہدہ دستور کی صورت میں موجود ہے جس کی پابندی کر کے ہم باہمی امن و رواداری کا ماحول برقرار رکھ سکتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ ہم سب دستوری معاہدے کے مطابق اپنے اپنے دائرے میں رہیں اور اس معاہدے کا احترام کریں۔ اس کے ساتھ ہی ہماری یہ بھی ضرورت اور ذمہ داری ہے کہ ایک دوسرے کے احترام کا ماحول قائم رکھیں، تحقیر و توہین کے لہجے سے گریز کریں اور اگر کوئی مسئلہ اختلاف کا باعث بن جائے تو اسے بھی باہمی مفاہمت اور گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔ جھگڑا اس وقت ہوتا ہے جب ہم اپنے معاہدات اور دستور کے دائروں کو عبور کرتے ہیں یا بیرونی مداخلت کی بعض صورتیں ہمیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کر کے اپنا مطلب و مقصد پور اکرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اگر ان دو باتوں سے گریز کیا جائے تو آج بھی ہمارے باہمی امن کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

درجہ بندی: