شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں ٹی ہاؤس کا قیام

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۹ جون ۲۰۱۲ء

شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور کی بارہ دری دوبارہ تعمیر کی جا رہی ہے اور اس سلسلہ میں تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریٹر قلعہ دیدار سنگھ محمد اسلم قمر کے حوالے سے یہ خبر مقامی اخبارات کی زینت بنی ہے کہ بارہ دری کو اصلی حالت میں دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے محکمہ آثار قدیمہ سے قدیمی نقشہ منگوا لیا گیا ہے۔ شیرانوالہ باغ تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن قلعہ دیدار سنگھ کی حدود میں واقع ہے اور یہ بارہ دری بھی اس میں شامل ہے۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ کی بارہ دری مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے مین گیٹ کے سامنے شیرانوالہ باغ کی حدود میں واقع ہے اور جامع مسجد سے متصل میری رہائش گاہ کے بالکل قریب ہے۔ یہ بارہ دری اس دور کی یادگار ہے جب مہاراجہ رنجیت سنگھ نے لاہور فتح کرنے سے قبل گوجرانوالہ کو اپنا عارضی دارالحکومت بنا رکھا تھا اور اس بارہ دری میں وہ اپنا دربار لگایا کرتے تھے۔ رنجیت سنگھ سکھ قوم کے سب سےبڑے حکمران گزرے ہیں جنہوں نے ملتان سے پشاور تک کا علاقہ مغلوں سے چھینا تھا اور اس پر پورے طمطراق سے حکومت کی تھی، حتیٰ کہ ۱۸۵۷ء سے کچھ عرصہ قبل ایسٹ انڈیا کمپنی نے طویل جنگ کے بعد پنجاب پر قبضہ کر کے اسے اپنی قلمرو میں شامل کر لیا تھا۔ اس دور میں مسلم سکھ تعلقات کا باب ایک مستقل عنوان رکھتا ہے جو اس وقت ہمارا موضوع نہیں ہے، ورنہ اورنگزیب عالمگیر کے دور سے لے کر پنجاب پر ایسٹ انڈیا کمپنی کی عملداری تک مسلم سکھ تعلقات کی تاریخ گفتگو کا ایک مستقل اور دلچسپ موضوع ہے جس سے ہماری آج کی نسل ناواقف ہے اور اسے اپنے ماضی سے واقف کروانے کی طرف ہمارے اربابِ فکر و دانش کی توجہ بھی نہیں ہے۔ آج ہم صرف اس بارہ دری اور تحصیل ایڈمنسٹریشن کے مستقبل کے عزائم کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ کی بارہ دری کے ساتھ اس کا پڑوسی ہونے کے علاوہ ہماری کچھ اور یادیں بھی وابستہ ہیں کہ طالب علمی کے دور میں میرا اس کے ساتھ عملی تعلق رہا ہے۔ وہ اس طرح کہ خواجہ محمد طفیل مرحوم جس دور میں گوجرانوالہ پولیس کے سٹی انسپکٹر تھے اور اس وقت شہری سطح پر وہی سب سے بڑے پولیس آفیسر تھے، کوتوالی تھانہ مرکزی جامع مسجد کے ساتھ واقع ہے اور ہمیں اس کا پڑوسی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ خواجہ محمد طفیل مرحوم قومی اسمبلی کے سابق رکن حافظ محمد سلمان بٹ کے والد محترم تھے اور بڑے باذوق پولیس افسر تھے، انہوں نے شہر کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کا ایک مشترکہ فورم ’’وفاق العلماء‘‘ کے نام سے قائم کرنے میں بڑی دلچسپی لی تھی اور سماجی، ادبی اور دینی سرگرمیاں بھی ان کے ذوق کا حصہ تھیں۔ انہی کی کوشش سے لکھنے پڑھنے والے نوجوانوں کا ایک ادبی فورم ’’حلقہ اربابِ اصلاح‘‘ وجود میں آیا تھا جس کا ایک سرگرم رکن بلکہ سیکرٹری میں بھی تھا۔ اس وقت جسٹس دین محمد مرحوم کی یاد میں قائم ہونے والی لائبریری اسی بارہ دری کے بالاخانے میں تھی اور ہم وہاں ’’حلقہ ارباب اصلاح‘‘ کے تحت ہفتہ وار ادبی محفلیں منعقد کیا کرتے تھے۔ یہ سلسلہ کافی عرصے تک جاری رہا، اس کے شرکاء میں سے منظور صاحب اور مخدومی صاحب کے دو نام آج بھی یادداشت کے خانے میں محفوظ ہیں۔

خواجہ محمد طفیل مرحوم اس قسم کی سرگرمیوں میں بہت دلچسپی لیتے تھے لیکن ان کے چلے جانے کے بعد آہستہ آہستہ یہ سرگرمیاں ماند پڑتی گئیں۔ ان دنوں کچھ عرصہ کے لیے لائبریری کی چابیاں اور بارہ دری کا چارج بھی میرے پاس رہا اور لائبریری سے استفادہ کے ساتھ ساتھ ہفتہ وار یا ماہانہ ادبی محافل کا سلسلہ وقفے وقفے سے چلتا رہا۔ اس کے بعد ’’جسٹس دین محمد میموریل لائبریری‘‘ شیرانوالہ باغ میں ہی اس کے لیے نئی تعمیر کی جانے والی بلڈنگ میں منتقل ہوگئی جو اب بھی قائم ہے اور شہریوں کی ایک کثیر تعداد اس سے استفادہ کرتی ہے لیکن بارہ دری کی عمارت ویران ہوگئی اور آوارہ منش نوجوانوں کی آماجگاہ بن گئی۔ بھارت میں جن دنوں بابری مسجد کو شہید کیا گیا گوجرانوالہ کے پرجوش شہریوں نے احتجاجی مظاہرے کے دوران اپنا غصہ اس بارہ دری پر نکالا اور اس کی رہی سہی بلڈنگ کو بھی تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ اب وہ کھنڈر کی شکل میں موجود ہے اور تحصیل ایڈمنسٹریشن نے محکمہ آثار قدیمہ سے اس کا پرانا نقشہ حاصل کر کے اسے دوبارہ تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جناب محمد اسلم قمر کے اعلان کے مطابق اس پر کم و بیش ستر لاکھ روپے خرچ ہوں گے جن میں سے تیس لاکھ روپے تحصیل ایڈمنسٹریشن کے پاس موجود ہیں اور باقی رقم ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نے فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بارہ دری کی اس بلڈنگ کی نئی تعمیر میں ’’ٹی ہاؤس‘‘ کا منصوبہ بھی شامل ہے تاکہ ادب و شعر سے دلچسپی رکھنے والوں کو مل بیٹھنے کی کوئی جگہ میسر آسکے۔

ایک زمانے میں سٹی ریلوے اسٹیشن کے سامنے ٹی ہاؤس آباد رہا ہے جہاں ادبی و سیاسی ذوق رکھنے والے حضرات شام کو جمع ہوتے تھے، گپ شپ ہوتی تھی، ادبی و سیاسی مسائل پر بحث و مباحثہ ہوتا تھا اور ادیبوں، شاعروں اور سیاسی کارکنوں کی باہمی ملاقاتیں ہوجاتی تھیں، جبکہ ریلوے اسٹیشن کے اندر واقع ٹی ہاؤس بھی اس قسم کی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ اس کے علاوہ ریل بازار میں واقع ’’خیام ہوٹل‘‘ میں بھی ادبی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رہا ہے جن کا میں بھی حصہ تھا۔ ’’مجلس فکر و نظر‘‘ کے عنوان سے ادبی فورم تھا جس میں پروفیسر اسرار احمد سہارویؒ، ارشد میر ایڈووکیٹ، پروفیسر افتخار ملک، پروفیسر رفیق چودھری، سید سبط الحسن ضیغم البھاکری، ایزد مسعود، پروفیسر عبد اللہ جمال، اثر لدھیانوی اور دیگر ادیب و شاعر اتوار کو ہفتہ وار ادبی محفل میں جمع ہوتے تھے، مقالات اور غزلیں پڑھی جاتی تھیں اور ان پر تنقید ہوتی تھی۔ میں نے بھی اس فورم میں متعدد مضامین پیش کیے اور ہفتہ وار محفل کا حاضر باش ممبر رہا۔

ایک عرصہ سے یہ محفلیں سونی پڑی ہیں، بعض دوست اپنے طور پر ادبی محفلوں کا انعقاد کرتے رہتے ہیں لیکن ان کی محدودیت ان کی افادیت میں رکاوٹ ہے۔ ٹی ہاؤس قسم کے کھلے مقامات میں ہر شخص بلا روک ٹوک آجاتا تھا اور سیاسی، ادبی اور فکری اختلافات کے باوجود باہم مل بیٹھنے میں کوئی حجاب نہیں ہوتا تھا جبکہ دل کی بھڑاس نکالنے کے ساتھ ساتھ سنجیدہ غور و فکر کا موقع بھی میسر آجاتا تھا۔ میں جس دور کی بات کر رہا ہوں وہ سوشلزم اور اسلام پسندی کے حوالے سے مباحثے کے عروج کا دور تھا، خیالات کی شدت اور نظریات کی گرمی کے باوجود باہم مل بیٹھنے سے برداشت اور توازن کا کچھ نہ کچھ ماحول بن جاتا تھا اور ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد ملتی تھی۔

گزشتہ کئی سالوں سے شہر کے بعض ادیب و شاعر دوستوں کو دعوت دیتا آرہا ہوں کہ ہفتہ وار یا کم از کم ماہانہ ادبی محافل کا کوئی سلسلہ ضرور ہونا چاہیے اور میں نے اس سلسلہ میں الشریعہ اکادمی میں مل بیٹھنے کی سہولت اور میزبانی کی پیشکش بھی کر رکھی ہے لیکن میں دوستوں کو اس طرف متوجہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اب بارہ دری کی دوبارہ تعمیر اور اس میں ادبی و فکری سرگرمیوں کے لیے ٹی ہاؤس کے قیام کی خبر پڑھ کر خوشی ہوئی ہے اور اس پر محمد اسلم قمر کو مبارکباد پیش کرنے کو جی چاہتا ہے کہ ہم بھی اپنے گھر کے دروازے پر قائم ہونے والے ٹی ہاؤس میں کبھی کبھی ’’ذرا عمرِ رفتہ کو آواز دینا‘‘ کی گنگناہٹ کے ساتھ ماضی کی یادوں کو تازہ کر لیا کریں گے۔