علماء کرام کا تاریخ ساز سہ روزہ اجتماع

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۱ اپریل ۲۰۱۰ء

گزشتہ ہفتے کے دوران جامعہ اشرفیہ لاہور میں منعقد ہونے والے اکابر علماء کرام کے سہ روزہ اجتماع کے بارے میں مجموعی طور پر بہت اچھے تاثرات کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ملک بھر میں دیوبندی علماء اور کارکنوں کو اس بات سے حوصلہ ملا ہے کہ ہمارے بزرگ مل بیٹھے ہیں، پیش آمدہ مسائل پر انہوں نے کھلے دل کے ساتھ باہمی گفتگو کی ہے، گلے شکوے بھی ہوئے ہیں، بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوا ہے اور مل جل کر چلنے کے عزم کے اظہار کے ساتھ ساتھ وقتاً فوقتاً اس قسم کی اجتماعی مشاورت جاری رکھنے کا اعلان ہوا ہے۔ بعض دوستوں کو، جنہوں نے اس اجتماع سے کسی نئے متحدہ محاذ کی تشکیل اور کسی تحریک کے آغاز کی توقعات وابستہ کر لی تھیں، مایوسی بھی ہوئی ہے لیکن اس بات پر وہ بھی مطمئن ہیں کہ مل بیٹھنے، آزادانہ ماحول میں تبادلۂ خیالات اور کسی مسئلہ پر مشترکہ موقف کے اظہار کا آغاز تو ہوا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہا تو ’’اور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں‘‘۔

اس اجتماع کی ضرورت ایک عرصہ سے محسوس کی جا رہی تھی، راقم الحروف نے بھی متعدد کالموں میں اس ضرورت کا ذکر کیا ہے اور مختلف اربابِ فکر نے وقتاً فوقتاً اس کی طرف توجہ دلائی ہے مگر ہر کام کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور اس نے بہرحال اسی وقت پر ہونا ہوتا ہے۔ مذکورہ اجتماع میں قبائلی علاقوں سے آنے والے ایک عالم دین نے کہا کہ یہ کام جو آپ لوگ آج کر رہے ہیں آپ کو پانچ سال قبل کرنا چاہیے تھا اور اس مسئلہ پر اجتماعی اظہارِ خیال میں آپ حضرات پانچ سال لیٹ ہوگئے ہیں، لیکن اس احساس کے اظہار کے ساتھ ان کا کہنا بھی یہ تھا کہ ’’دیر آید درست آید‘‘۔

ملک کی عمومی صورتحال، شمالی سرحدات کےحالات اور اس خطہ کے علاقائی تناظر کے حوالہ سے اس وقت جو اہم مسائل زیربحث ہیں ان میں ہر سطح پر ہونے والی گفتگو میں سب سے زیادہ فوکس علماء دیوبند پر ہے۔ مختلف حلقوں کی طرف سے اس صورتحال بالخصوص مبینہ دہشت گردی کے مسلسل پھیلاؤ کی ذمہ داری میں علماء دیوبند کا بار بار نام لیا جا رہا ہے اور ابلاغ کے مختلف سطح کے ذرائع نے اس قسم کا تاثر پیدا کر رکھا ہے کہ دیوبندی ہی ان تمام مبینہ خرابیوں کا سرچشمہ ہیں جن کو دہشت گردی کا عنوان دیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں ہمارے ایک مخدوم و محترم بزرگ نے جامعہ اشرفیہ کے مذکورہ اجلاس میں ایک بہت خوبصورت بات فرمائی کہ دہشت گردی کا کوئی واضح مفہوم طے کیے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اس میں مختلف گروہوں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف کاروائیوں کے اس ماحول میں ہمارا ردعمل ضرورت سے زیادہ محتاط اور دفاعی ہوگیا ہے اور ہم بھی دہشت گردی کے کسی مفہوم کی وضاحت کے بغیر مطلقاً دہشت گردی سے برأت کا اظہار کر رہے ہیں جو اصولاً درست نہیں ہے۔

ظاہر بات ہے کہ جو قومیں بیرونی افواج کی مداخلت اور تسلط کے خلاف آزادی کی جنگ لڑ رہی ہیں انہیں دہشت گردی کا مرتکب قرار دینا نا انصافی کی بات ہے، اس لیے کہ کسی ملک پر فوج کشی اور بیرونی تسلط کی صورت میں اصل دہشت گرد تو بیرونی مداخلت کار ہوتے ہیں اور اس ملک کے عوام کی جنگ دفاعی اور آزادی کی جنگ متصور ہوتی ہے۔ لیکن اس مجموعی تناظر کے دھندلا ہونے کے باوجود پاکستان کے داخلی تناظر میں خودکش حملوں اور حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کے حوالہ سے کسی اجتماعی موقف کے سامنے آنے کی ضرورت ایک عرصہ سے محسوس کی جا رہی تھی اور اس کا کئی بار اظہار بھی ہوا ہے۔ جہاں تک پاکستان کی حدود میں ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور کسی انتہائی اچھے مقصد کے لیے بھی مسلح جدوجہد کا تعلق ہے، علماء دیوبند کے علمی مراکز اور اہم دینی اداروں نے اس کی کبھی حمایت نہیں کی اور اس کے درست نہ ہونے کے موقف کا مختلف حلقوں اور اداروں کی طرف سے بار بار اظہار ہوتا رہا ہے۔ لیکن اس بات کی ضرورت بہرحال موجود تھی کہ ملکی سطح پر اس موقف کا اجتماعی اظہار بھی ہو اور اس حوالہ سے موقف کی یکسوئی کا مشترکہ طور پر اعلان کیا جائے جسے علماء دیوبند کے مشترکہ موقف کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ میرے خیال میں لاہور کے مذکورہ اجتماع نے دو مقصد حاصل کیے ہیں:

  1. ایک یہ کہ علماء دیوبند سے تعلق رکھنے والے اہم حلقوں کی قیادت نے مل بیٹھ کر مسلسل تین روز تک باہمی اعتماد کے ساتھ متعلقہ مسائل پر آزادانہ بحث مباحثہ کر کے مسلکی بنیاد پر اجتماعیت کا مؤثر اظہار کیا ہے۔
  2. اور دوسرا یہ کہ پاکستان کی حدود میں نفاذِ شریعت یا کسی بھی مقصد کے لیے مسلح جدوجہد کے طریق کار کے ساتھ عدم اتفاق کا مشترکہ موقف پیش کیا ہے جو کچھ عرصہ پہلے ہو جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا لیکن اب بھی اس کی اہمیت و ضرورت موجود تھی جسے کافی حد تک پورا کر دیا گیا ہے۔

اجلاس میں سب سے زیادہ زیربحث آنے والا موضوع یہی تھا مگر اس کے علاوہ دوسرے موضوعات پر بھی گفتگو ہوئی اور خوب ہوئی۔ مثلاً دستوری ترامیم کے حالیہ بل میں اسلامی دفعات کے تحفظ و دفاع کی جدوجہد کا تفصیلی تذکرہ ہوا اور مولانا سمیع الحق اور مولانا فضل الرحمان نے اس سلسلہ میں اپنی جدوجہد اور اس کے نتائج پر اجلاس کے شرکاء کو اعتماد میں لیا۔

قارئین گواہ ہیں کہ اس کالم میں ہم نے اٹھارہویں آئینی ترمیم پر پارلیمانی کمیٹی کی بحث کے دوران بار بار ان تحفظات کا اظہار کیا کہ اس ترمیمی بل کی آڑ میں اسلامی دفعات متاثر ہو سکتی ہیں اور مختلف حلقے دستور پاکستان کی اس مجموعی ’’اوورہالنگ‘‘ کے عمل سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اسلامی فعات کے خلاف کاروائی کا راستہ ہموار کر سکتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے اس واویلے پر متعدد دینی جماعتوں مثلاً عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، مجلسِ احرار اسلام، جمعیۃ علماء اسلام پاکستان، پاکستان شریعت کونسل اور دیگر دینی جماعتوں نے رائے عامہ کی بیداری کے محاذ پر سرگرمی دکھائی اور پارلیمانی کمیٹی میں جمعیۃ علماء اسلام اور دیگر جماعتوں نے اس پر محنت کی۔ جس کا یہ اطمینان بخش نتیجہ سامنے آیا کہ اگرچہ دستور کی اسلامی دفعات کے خلاف مختلف جماعتوں کی طرف سے پارلیمانی کمیٹی کے سامنے ترامیم اور تجاویز پیش کی گئیں۔ یہ تجاویز اور ترامیم اگر خدانخواستہ منظور کر لی جاتیں تو اٹھارہویں ترمیم کا یہ بل پاکستان کے اسلامی تشخص کے خاتمہ اور پاکستان کو ایک (نعوذ باللہ) سیکولر ریاست قرار دینے کا عنوان بن جاتا۔ مگر پارلیمنٹ میں دینی حلقوں کے مضبوط نمائندوں نے بحمد اللہ اسے ناکام بنا دیا۔

مولانا فضل الرحمان نے لاہور کے مذکورہ اجلاس میں دستور کی اسلامی دفعات میں ردوبدل کے لیے بعض جماعتوں کی طرف سے پیش کی جانے والی ترامیم اور ان کا راستہ روکنے کے لیے اپنی اور بعض دیگر ارکان کمیٹی کی جدوجہد کا تفصیل سے تذکرہ کیا اور مولانا سمیع الحق کی طرف سے مکمل معاونت کی تفصیل بیان کی تو شرکائے اجلاس کے چہروں پر اطمینان کی لہر دوڑ گئی اور خود میری نگاہوں کے سامنے ۱۹۷۳ء کے اس دستور کی تشکیل کے وہ مراحل گھومنے لگے جب دستور ساز اسمبلی میں مولانا مفتی محمودؒ، مولانا عبد الحقؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور دوسرے علماء کرام نے ان اسلامی دفعات کو دستور کا حصہ بنانے کی جدوجہد کی تھی۔ چنانچہ میں نے عرض کیا کہ اسلامائزیشن کی جدوجہد کے ایک شعوری کارکن کی حیثیت سے مجھے دستور میں اسلامی دفعات کو شامل کرانے اور اس کے کم و بیش ۳۵ برس بعد انہی دفعات کے تحفظ و بقا کی جدوجہد میں مشکلات کے حوالہ سے کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔ اس لیے میں دستور کو اسلامی بنانے کے لیے محنت کرنے والے بزرگوں کی طرح اس کی اسلامی حیثیت کو بچانے والے دوستوں کی جدوجہد کی اہمیت کو بھی پوری طرح محسوس کرتا ہوں اور اس سلسلہ میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کسی بھی سطح پر کردار ادا کرنے والے حضرات کو مبارکباد کا مستحق سمجھتا ہوں۔

اس امر کا اظہار مولانا فضل الرحمان نے بھی کیا کہ اس سلسلہ میں حالیہ جدوجہد تحفظاتی اور دفاعی ہے جبکہ اصل ضرورت اقدامی اور تحریکی جدوجہد کی ہے کہ دستور کی ان اسلامی دفعات پر عملدرآمد اور ان کے مطابق قانون سازی میں پیش رفت کے لیے جدوجہد کی جائے۔ میر اخیال ہے کہ جمعیۃ علماء اسلام اور دیگر دینی جماعتوں کو اس سلسلہ میں کوئی ٹھوس منصوبہ بندی کرنی چاہیے اور جامعہ اشرفیہ میں ہونے والے اجتماع کا مفاہمتی ماحول نفاذِ شریعت کی اس جدوجہد کی بہت اچھی بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔

اجلاس میں اس امر پر بطور خاص زور دیا گیا کہ صرف اتنی بات کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ ملک میں نفاذِ شریعت پر امن ذرائع سے ہی کی جا سکتی ہے اور مسلح جدوجہد کا طریق کار اس مقصد کے لیے درست نہیں ہے۔ بلکہ اس کے ساتھ کارکنوں کو پر امن جدوجہد کا کوئی عملی طریق کار دینا اور نفاذِ شریعت کے لیے صحیح اور قابل عمل راستہ بتانا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جامعہ اشرفیہ کا یہ اجلاس اگر ہمارے حلقوں میں اس احساس کو بیدار کرنے میں کامیاب ہوگیا تو یہی اس اجلاس کی سب سے بڑی کامیابی ثابت ہوگی۔

اجلاس میں قومی خودمختاری کے تحفظ اور بیرونی مداخلت کے سدباب کے مسئلہ پر کھل کر بات ہوئی اور اس ضرورت کو اجاگر کیا گیا کہ قومی خودمختاری کے تحفظ بلکہ بحالی کے لیے مؤثر جدوجہد وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے اس سلسلہ میں پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد اور اس کی منظوری کے لیے جدوجہد کے مراحل کا ذکر کیا اور اس بات پر اطمینان حاصل ہوا کہ مولانا فضل الرحمان، مولانا سمیع الحق اور ان کے رفقاء نے یہ تاریخی مرحلہ سر کر کے دستوری اور پارلیمانی محاذ پر بیرونی مداخلت اور سازشوں کا رخ موڑ دیا اور پارلیمنٹ نے اس متفقہ قومی موقف کا اظہار کر دیا ہے کہ ملکی سالمیت، قومی خودمختاری، مبینہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور افغان مسئلہ کے حوالہ سے مشرف حکومت کی پالیسی غلط اور حکومتی مفادات پر مبنی تھی جس پر نظرثانی کی جائے گی۔ مگر بدقسمتی سے بیرونی مداخلت کی اکاس بیل نے ہمارے قومی اداروں کو اس قدر گھیرے میں لے رکھا ہے کہ پارلیمنٹ بھی اپنے اس متفقہ موقف پر عملدرآمد کرانے میں بے بس دکھائی دے رہی ہے اور قوم کی اس اجتماعی آواز کے اظہار کے باوجود مشرف حکومت کی پالیسیوں کا تسلسل جاری ہے۔

اجلاس کے دوران ایک مرحلہ میں یہ تاثر ہونے لگا کہ شاید یہ اجلاس جہاد اور جہادی تحریکات سے لاتعلقی کے اظہار کے لیے ہو رہا ہے جس پر مولانا فضل الرحمان سمیت تمام ذمہ دار راہنماؤں نے اس موقف کا دوٹوک اظہار کیا کہ جہاد ہمارے دینی فرائض میں سے ہے اور جو مسلم ممالک و اقوام بیرونی مداخلت اور غیر ملکی فوجوں کے خلاف اپنے وطن کی آزادی کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں، افغان طالبان سمیت ان ممالک میں غیر ملکی فوجوں کے خلاف مسلح مزاحمت کرنے والے تمام مجاہدین کی جنگ شرعاً جہاد ہے اور ہماری تمام تر دعائیں اور ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔ البتہ ہم پاکستان سمیت کسی بھی مسلم ریاست کی حدود کے اندر مسلح جدوجہد اور بطور خاص خودکش حملوں کے حق میں نہیں ہیں اور اس عمل میں شریک عناصر سے ہماری اپیل ہے کہ وہ ملک کے جمہور علماء کرام کے موقف اور رائے کا احترام کرتے ہوئے مسلح جدوجہد کا راستہ ترک کر کے پر امن جدوجہد کی طرف واپس لوٹ آئیں۔

یہ ہے جامعہ اشرفیہ لاہور میں اکابر دیوبندی علماء کرام کے سہ روزہ اجتماع کی بحث و تمحیص اور فیصلوں کا ایک ہلکا سا خاکہ جو ان سطور میں پیش کیا گیا ہے۔ قارئین سے درخواست ہے کہ وہ اس باہمی مفاہمت کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اسے آگے بڑھانے کے لیے ہر سطح پر تعاون فرمائیں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پرخلوص دعاؤں کا اہتمام بھی کریں کہ ہم اکابر علماء دیوبند کے نام لیوا حضرات تاریخ کے اس نازک مرحلہ میں اپنا دینی، قومی اور مسلکی کردار صحیح طریقہ سے ادا کر سکیں، آمین یا رب العالمین۔