صدر ٹرمپ کا بیان اور امریکی قیادت کی نفسیات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۶ جنوری ۲۰۱۸ء

صدر ٹرمپ کے بیان پر پاکستانی قوم نے جس متفقہ موقف اور ردعمل کا اظہار کیا ہے وہ قومی وقار اور حمیت کا ناگزیر تقاضہ ہے اور امریکہ کے لیے واضح پیغام ہے کہ بس! اب بہت ہو چکی ہے اور اس سے آگے کوئی بات قابل برداشت نہیں ہوگی۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو ان کے بقول گزشتہ پندرہ سال کے دوران تینتیس ارب ڈالر دیے ہیں لیکن پاکستان نے دوغلے پن سے کام لیا ہے اور امریکہ کی توقعات کو پورا کرنے کی بجائے جھوٹ اور فریب کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کے جواب میں پاکستانی حکومت کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ یہ مبینہ رقم جو ابھی تک پوری ادا بھی نہیں ہوئی، خیرات یا امداد نہیں ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جنگ کے اخراجات میں امریکہ کا واجب الادا حصہ ہے جسے امداد کا نام دینا درست نہیں ہے اور ہم اس رقم کا پورا حساب رکھتے ہیں، جبکہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو قربانیاں دی ہیں اور جو اقدامات کیے ہیں انہیں تسلیم نہیں کیا جا رہا۔

اس کے ساتھ ساتھ ملک کے سیاسی، عسکری اور دینی حلقوں کی طرف سے امریکی صدر کے اس بیان کو مسترد کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور پارلیمنٹ بھی اس کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے رہی ہے۔ پاکستان کی حکومت، مختلف حلقوں اور اداروں کے اس ’’ڈپلومیٹک سٹانس‘‘ سے مکمل اتفاق اور اس کی بھرپور تائید کرتے ہوئے ہم اس مسئلہ کا ایک اور پہلو سے جائزہ لینا چاہتے ہیں جس کا تعلق موجودہ امریکی قیادت کی نفسیات اور ذہنی سطح سے ہے اور اس حوالہ سے ایک غیر رسمی مکالمہ کا حوالہ دینا چاہوں گا جو امریکی اداروں کے بعض افراد کو خود میرے ساتھ ہوا تھا۔

کم و بیش دس سال قبل کی بات ہوگی کہ میں ان دنوں امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے نواح میں شمالی ورجینیا کے علاقہ اسپرنگ فیلڈ کے ایک دینی مرکز دارالہدیٰ میں قیام پذیر تھا اور مختلف حوالوں سے درس و تدریس کا سلسلہ جاری تھا کہ کچھ حضرات ملاقات کے لیے تشریف لائے جو ایشین تھے۔ انہوں نے اپنا تعارف یہ کہہ کر کرایا کہ ہمارا تعلق اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے ہے اور ہم آپ کے ساتھ کچھ مسائل پر گفتگو کے لیے آئے ہیں۔ میں نے خیرمقدم کرتے ہوئے عرض کیا کہ میں اس کے لیے حاضر ہوں۔ انہوں نے ایک مسئلہ یہ چھیڑا کہ دہشت گردی دنیا بھر میں پھیلتی جا رہی ہے اور اس پر قابو پانے کی کوئی صورت کامیاب نظر نہیں آرہی، ہم سمجھتے ہیں کہ اس عسکریت اور دہشت گردی کا سرچشمہ وہ ’’جہاد افغانستان‘‘ ہے جو سوویت یونین کے خلاف کم و بیش ایک عشرہ تک جاری رہا اورا س میں دنیائے اسلام کے مختلف حصوں سے آکر ہزاروں مسلمانوں نے عملاً حصہ لیا اور وہ اب دنیا بھر میں اس عسکریت کو پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں آپ کی کیا رائے ہے؟

میں نے گزارش کی کہ ہمیں اس سلسلہ میں حقیقت پسندی سے کام لینا ہوگا اور معروضی حقائق کی بنیاد پر صورتحال کا تجزیہ کر کے مسئلہ کا حل نکالنا ہوگا ورنہ ہم کسی صحیح نتیجے تک نہیں پہنچ پائیں گے۔ افغانستان میں سوویت یونین کی مسلح مداخلت کے خلاف افغان عوام نے قومی خودمختاری اور دینی تشخص کی بحالی کے لیے جہادِ افغانستان کے عنوان سے بغاوت کی تھی جس میں امریکہ اور عالمی برادری نے ان کا ساتھ دیا تھا اور سیاسی و اخلاقی سپورٹ کے ساتھ ساتھ بھرپور مالی و عسکری امداد بھی دی تھی۔ اس جنگ میں پاکستان کا حصہ سب سے بڑا تھا کہ لاکھوں افغان مہاجرین نے پاکستان میں پناہ حاصل کی تھی جبکہ ہزاروں پاکستانی نوجوان اس جنگ میں عملاً شریک ہوئے تھے۔ افغان روس جنگ میں کامیابی اور سوویت یونین کی پسپائی کے بعد جہادی کیمپ کے چاروں فریق (۱) مجاہدینِ افغانستان (۲) امریکہ اور دیگر عالمی حمایتی (۳) پاکستان کی جہادی تنظیمیں اور ان کے پشت پناہ ادارے (۴) مختلف ممالک سے آنے والے ہزاروں مجاہدین باہمی طور پر مغالطوں اور تحفظات کا شکار ہوگئے جس سے سب کا رخ الگ الگ ہوگیا۔ اور اس کے بعد اب تک جو کچھ ہوا ہے، ہو رہا ہے یا ہونے جا رہا ہے اسی کا شاخسانہ ہے۔

امریکہ اور اس کے حواریوں کو یہ مغالطہ تھا کہ ہم نے ان مجاہدین کو پیسے دے کر سوویت یونین کے خلاف ان سے جنگ لڑوائی ہے اور انہیں یہ توقع تھی کہ ان کے اگلے ایجنڈے میں بھی یہ مجاہدین اسی طرح ان کا ساتھ دیں گے، وہ مجاہدین کو کرائے کے سپاہی سمجھ رہے تھے۔ حالانکہ صورتحال اس کے برعکس تھی، مجاہدین کا اپنا ایجنڈا تھا اور اپنے نظریاتی اور قومی اہداف تھے جو امریکہ کے اگلے علاقائی ایجنڈے سے مطابقت نہیں رکھتے تھے بلکہ اس سے متصادم تھے۔

دوسری طرف مجاہدین کی بڑی تعداد کا خیال تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغان عوام کی اس جنگ کو آزادی اور خودمختاری کی جنگ سمجھ کر ان کا ساتھ دیا ہے، وہ آج کے امریکہ کو جارج واشنگٹن، ابراہام لنکن اور تھامس جیفرسن کا امریکہ سمجھ رہے تھے جو قوموں کی آزادی اور خودمختاری کا علمبردار تھا اور انہیں سپورٹ کیا کرتا تھا۔ جبکہ وہ امریکہ تو اسی وقت دنیا کے نقشے سے غائب ہوگیا تھا جب امریکہ بہادر نے جاپان پر ایٹم بم برسائے تھے اور کوریا اور ویتنام کو فوج کشی کا نشانہ بنایا تھا۔ بہرحال دونوں طرف کے ان مغالطوں نے جہادِ افغانستان میں شریک فریقوں کے راستے نہ صرف الگ الگ کر دیے بلکہ انہیں ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرا کر دیا او ریہ محاذ آرائی دن بدن پھیلتی جا رہی ہے۔

میں نے ان حضرات سے گزارش کی کہ اس کا حل صرف یہ ہے کہ وہ جہاد افغانستان جسے دنیا میں عسکریت یا دہشت گردی کی موجودہ ہمہ گیر لہر کا سرچشمہ سمجھا جا رہا ہے اس میں شریک تمام فریق ایک دوسرے کا وجود تسلیم کریں، ایک دوسرے کے کردار کا اعتراف و احترام کریں اور مل بیٹھ کر اس مسئلہ کا حل نکالیں جو ان کی مشترکہ جدوجہد اور جنگ کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے اور جس نے پوری دنیا کو بد امنی کی جولانگاہ بنا دیا ہے۔

اس کے ساتھ ایک بات میں نے یہ بھی عرض کی کہ امریکہ اور اس کے ساتھیوں کی یہ حکمت عملی چلی آرہی ہے کہ کسی بھی تنازعہ یا معاملہ میں فریق مخالف سے گفتگو اور مذاکرات کے لیے اصل فریق سے بات کرنے کی بجائے میز کی دوسری طرف بھی اپنی مرضی کے افراد کو بٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے جس سے معاملات طے نہیں ہو پاتے۔ یہاں یہ حکمت عملی نہیں چلے گی بلکہ جہاد افغانستان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کو حل کرنے کے لیے جہاد افغانستان کے اصل فریقوں کو مل بیٹھنا ہوگا، ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنا ہوگا اور ایک دوسرے کے کردار کا اعتراف کرنا ہوگا۔ اگر امریکہ اس کے لیے تیار ہے تو اس کی راہ ہموار کرنے کی محنت کی جا سکتی ہے ورنہ وہی کچھ ہوتا رہے گا جو اب ہو رہا ہے۔

یہ ایک مسئلہ تھا، دوسرے دو مسئلوں کی بات پھر کسی وقت عرض کی جائے گی، ان حضرات نے تو اس کے بعد اب تک اس گفتگو کو آگے بڑھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ البتہ اس موقع پر ان گزارشات کا مقصد صرف یہ ہے کہ امریکہ سے بات کرتے ہوئے اس کی موجودہ قیادت کی نفسیات اور ذہنی سطح کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔