مولانا قاضی بشیر احمد کشمیریؒ، مولانا قاضی عبد الحلیم کلاچویؒ اور قاری سعید احمدؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۲ مئی ۲۰۱۰ء
اصل عنوان: 
تذکرہ چند بزرگوں کا

حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ کی وفات کے بعد ایک محفل میں ذکر چل پڑا کہ اب ہمارے ملک میں اس کھیپ کے بزرگوں میں سے کون کون موجود ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ میری معلومات کے مطابق مولانا محمد یوسف خان آف پلندری آزاد کشمیر اور حضرت مولانا قاضی عبد الکریم کلاچوی اس کھیپ کے آخری دو بزرگ ہیں جو ہمارے لیے برکات اور دعاؤں کا سہارا ہیں۔ ان کے ساتھ حضرت مولانا سلیم اللہ خان، حضرت مولانا عبید اللہ اشرفی، حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر، حضرت مولانا صوفی محمد سرور اور حضرت مولانا قاضی عبد اللطیف آف کلاچی کو بھی میں اسی کھیپ کا حصہ سمجھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان سب بزرگوں کو صحت و عافیت کے ساتھ تادیر سلامت رکھیں کہ اب یہی چند بزرگ ہیں جنہیں دیکھ کر پرانے بزرگوں کی یاد تازہ ہوتی ہے اور سلف صالحین کی صالح زندگیوں کا نقشہ ذہن میں موجود رہتا ہے، ان کے علاوہ اور بھی بزرگ موجود ہوں گے مگر میں اپنی معلومات اور مشاہدات کی حد تک بات کر رہا ہوں۔

حضرت مولانا محمد یوسف خان صاحب دامت برکاتہم میرے والد محترم حضرت مولانا سرفراز خان صفدر اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی کے دورۂ حدیث کے ساتھیوں میں سے ہیں۔ اور حضرت والد محترم اپنے دارالعلوم دیوبند کے تعلیمی دور کے جن ساتھیوں کا تذکرہ وقتاً فوقتاً کیا کرتے تھے ان میں سے آخری بزرگ حضرت مولانا محمد یوسف خان ہیں جو دارالعلوم تعلیم القرآن پلندری آزاد کشمیر میں گزشتہ نصف صدی سے علوم نبویہ کی تدریس اور آزاد کشمیر کے علماء کرام کی دینی و سیاسی رہنمائی میں مصروف ہیں۔ عمر کے لحاظ سے نوے سال کے لگ بھگ وقت اس دنیائے رنگ و بو میں گزار چکے ہیں، آزاد کشمیر اسمبلی کے رکن رہے ہیں اور جمعیۃ علماء آزاد جموں و کشمیر کی امارت بھی ایک عرصہ تک ان کے نام کا حصہ رہی ہے۔ اب ان کے فرزند مولانا سعید یوسف خان ان محاذوں پر اپنے والد مکرم کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

حضرت والد محترم کے دورۂ حدیث کے ساتھیوں میں حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی، حضرت مولانا خواجہ خان محمد، حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی، حضرت مولانا محمد یوسف خان، حضرت مولانا حافظ نذیر احمد (جامعہ ربانیہ ٹوبہ ٹیک سنگھ)، حضرت مولانا عبد العزیز تھوراڑوی، حضرت مولانا مفتی عبد الحمید قاسمی (آزاد کشمیر)، حضرت مولانا مفتی عبد المتین (آزاد کشمیر)، حضرت مولانا قاری محمد امین (ورکشاپی محلہ راولپنڈی) اور حضرت مولانا محمد اسحاق قادری (باغبان پورہ لاہور) کے نام اس وقت ذہن میں ہیں۔ تین سال قبل بنگلہ دیش جانا ہوا تو وہاں سلھٹ میں ایک مدرسہ کے شیخ الحدیث صاحب نے جو خاصے معمر بزرگ تھے بتایا کہ وہ بھی اسی جماعت میں سے ہیں، خدا کرے کہ وہ صحت و عافیت کے ساتھ با حیات ہوں، آمین۔

حضرت مولانا محمد یوسف خان کو ایک سال قبل فالج ہوگیا تھا، ابتداء میں بول چال اور جسمانی حرکت سے بالکل معذور ہوگئے تھے مگر اب طبیعت کچھ سنبھل گئی ہے اور تھوڑی بہت گفتگو بھی کر لیتے ہیں۔ حضرت والد محترم کی وفات کے بعد سے پلندری حاضری کو جی چاہ رہا تھا مگر عوارض اور سستی کے باعث تاخیر ہوتی گئی اور گزشتہ روز ۲۰ مئی جمعرات کو حاضری ہو سکی۔ اسباق سے فارغ ہو کر گوجرانوالہ سے روانہ ہوا اور مغرب کی نماز دارالعلوم تعلیم القرآن پلندری میں ادا کی۔ دوستوں نے بتایا کہ حضرت مولانا محمد یوسف خان علالت اور ضعف کے باوجود روزانہ دارالعلوم میں تشریف لاتے ہیں، آج بھی تشریف لائے تھے اور عصر کے بعد گھر واپس گئے ہیں جو چند میل کے فاصلے پر ہے۔ ایک ساتھی نے کہا کہ وہ آپ کا تذکرہ کر رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ آج میرے دوست کا بیٹا آرہا ہے۔ عشاء کے بعد ان کے گھر حاضر ہوا تو گلے لگتے ہوئے رونے لگ گئے اور فرمایا کہ گزشتہ ایک سال سے تم مجھے نہیں ملے، میں نے ان کے چہرے کی طرف دیکھا تو یوں لگا جیسے وہ کہہ رہے ہوں کہ گزشتہ ایک سال سے میں تمہارے انتظار میں ہوں۔ جس پر کچھ شرمندگی سی ہوئی، تھوڑی دیر ان کے پاس بیٹھنے کی سعادت حاصل ہوئی اور اس دوران زیادہ تر حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر، حضرت مولانا خواجہ خان محمد اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی کا تذکرہ ہی ہوتا رہا۔ فرمانے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے ان حضرات سے دین کا بہت کام لیا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت آپ سے بھی اللہ تعالیٰ نے بہت کام لیا ہے اور دیگر علمی و دینی خدمات کے علاوہ آزادکشمیر میں اسلامائزیشن کے لیے اب تک جتنا کام ہوا ہے اس میں اساسی کردار آپ کا اور آپ کے رفقاء کا ہے جو تاریخ کا ایک مستقل باب ہے۔ اس پر ان کی آنکھوں سے پھر سے آنسو چھلک پڑے۔

اسی گفتگو کے دوران مولانا قاضی بشیر احمدؒ کا تذکرہ ہوا جن کا گزشتہ ہفتہ کے دوران ہاڑی گیل ضلع باغ میں انتقال ہوگیا ہے۔ آزادکشمیر میں ان حضرات کی محنت سے سیشن کورٹ کی سطح پر جج صاحبان اور علماء کرام کی مشترکہ عدالتیں قائم ہوئیں جو اب بھی کام کر رہی ہیں اور سیشن جج صاحبان کے ساتھ علماء کرام بطور ضلع قاضی بیٹھ کر فیصلوں میں شریک ہوتے ہیں۔ جن فاضل علماء نے سیشن جج صاحبان کے ساتھ مل بیٹھ کر سالہا سال تک مقدمات کے فیصلے کیے، عدالتی صلاحیت اور کارکردگی کے حوالہ سے علماء کرام کی ساکھ قائم کی اور عملاً یہ ثابت کیا کہ دینی مدارس کے فضلاء بھی عدالتی نظام کو چلانے اور فیصلے کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، ان میں مولانا قاضی بشیر احمد اور مولانا قاضی مقبول احمد کے نام سرفہرست ہیں۔ مولانا قاضی بشیر احمدؒ دارالعلوم کراچی کے فضلاء میں سے تھے، کم و بیش ربع صدی تک آزادکشمیر کے مختلف اضلاع میں ضلع قاضی کے فرائض سرانجام دیتے رہے، ریٹائرمنٹ کے بعد ہاڑی گیل میں دارالعلوم امدادیہ کے نام سے دینی ادارہ قائم کیا اور تعلیمی خدمات سرانجام دیتے ہوئے گزشتہ ہفتے انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون، اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں بلند درجات سے نوازیں، آمین۔ مولانا قاضی مقبول احمد جامعہ اشرفیہ لاہور کے فضلاء میں سے ہیں، انہوں نے بھی آزادکشمیر کے مختلف اضلاع میں ضلع قاضی کے طور پر فرائض سرانجام دیے اور ریٹائرمنٹ کے بعد میرپور میں دینی علوم کی تدریس میں مصروف رہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں تادیر صحت و سلامتی کے ساتھ سلامت رکھیں، آمین۔

حضرت مولانا محمد یوسف خان کے ساتھ اسی مجلس میں بیٹھے تھے کہ کلاچی ڈیرہ اسماعیل خان سے فون آگیا جس میں حضرت مولانا قاضی عبد الکریم کے فرزند مولانا قاضی عبد الحلیم کلاچویؒ کی وفات کے بارے میں بتایا گیا۔ مجھے یہ اطلاع صبح جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں تفسیرِ قرآن کریم کی کلاس کے دوران مل گئی تھی اور درس کے بعد دعا بھی کرا دی تھی۔ وہ کلاچی کے اس علمی خاندان کی روایات کے امین تھے جو کئی نسلوں سے علمی و دینی خدمات میں مسلسل مصروف ہے، ساٹھ برس سے زیادہ عمر پائی، دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے فاضل تھے، گزشتہ ایک عرصہ اپنے والد مکرم اور خاندان کی علمی و دینی روایات کو سنبھالے مصروفِ عمل تھے، میرے ساتھ ان کی خط و کتابت رہتی تھی، میرے مضامین اہتمام سے پڑھتے تھے، جو بات اچھی لگتی اس پر داد دیتے اور جس سے اختلاف ہوتا کھلے دل کے ساتھ اس سے اختلاف بھی کرتے۔ یہ توازن اب ہمارے اجتماعی مزاج سے نکلتا جا رہا ہے۔ عارضۂ قلب میں مبتلا تھے، ڈاکٹر صاحبان آپریشن پر زور دیتے تھے مگر وہ مسلسل ٹالتے رہے کہ وقتِ اخیر آپہنچا اور وہ اپنے خاندان اور دوستوں کو سوگوار چھوڑ کر مالکِ حقیقی کی بارگاہ میں پیش ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دیں اور پسماندگان کو صبرِ جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

مولانا قاضی بشیر احمد کشمیریؒ اور مولانا قاضی عبد الحلیم کلاچویؒ کے ساتھ اس تعزیتی کالم میں قاری سعید احمد کا تذکرہ بھی ضروری سمجھتا ہوں جن کا دو روز قبل جھنگ میں انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ جمعیۃ علماء اسلام کے بہت پرانے کارکنوں میں سے تھے، نابینا تھے اور حفظ قرآن کریم کے مدرس تھے، نظریاتی اور بے لوث کارکنوں کے لیے آئیڈیل کا درجہ رکھتے تھے، میرے ساتھ ان کا تعلق کم و بیش چالیس برس قبل اس دور میں استوار ہوا جب وہ اتاؤلی بستی جھنگ صدر کی ایک مسجد میں امامت و تدریس کے فرائض سرانجام دے رہے تھے، ان کی دعوت پر میں نے اس مسجد میں ایک جلسہ سے خطاب کیا، اس کے بعد یہ ربط مسلسل رہا۔ وہ اکابر جمعیۃ کے بے پناہ عقیدت مند تھے اور اپنے بزرگوں کا تذکرہ ہی ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ معذور ہونے کے باوجود اجلاسوں میں شریک ہوتے، دور دراز کے سفر کرتے اور جماعتی مسائل پر اجلاسوں میں بحث و تمحیص بھی کرتے۔ میرے ساتھ ان کا خصوصی محبت کا تعلق تھا، وقتاً فوقتاً ٹیلی فون پر رابطہ کرتے اور ملاقات میں زیادہ وقت گزر جاتا تو خود گوجرانوالہ آجاتے۔ دینی تحریکات میں دلچسپی اور اکابر کے ساتھ تعلق و محبت میں ان جیسے کارکن کم دیکھنے میں آتے ہیں۔ ابھی چند روز قبل فون پر انہوں نے پوچھا کہ آپ جھنگ کب آرہے ہیں؟ میں نے کہا کہ سرِدست تو کوئی پروگرام نہیں ہے، کہا کہ پھر میں کسی روز گوجرانوالہ آجاتا ہوں۔ میں نے کہا کہ فون کر کے تشریف لائیں تاکہ میں اس وقت موجود رہوں۔ مگر یہ ہم میں سے کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ ان کی اگلے سفر کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دیں اور پسماندگان کو صبرِ جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔