جہلم اور راولپنڈی کا تعزیتی سفر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ انصاف، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۰ جنوری ۲۰۱۸ء

گزشتہ روز (۶ جنوری) راولپنڈی ڈویژن کے ایک تعزیتی سفر کا اتفاق ہوگیا، حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمی قدس اللہ سرہ العزیز کے برادر خورد اور میرے پرانے بزرگ دوست مولانا حکیم مختار احمد الحسینیؒ کا پچھلے دنوں انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ایک دور میں متحرک فکری اور نظریاتی راہنماؤں میں شمار ہوتے تھے اور ان کے ساتھ میری پرجوش رفاقت رہی ہے۔ انہوں نے کچھ عرصہ جامعہ نصرۃ العلوم میں بھی تعلیم حاصل کی ہے۔ ان کا نام آج کے نوجوان علماء اور کارکنوں کے لیے اجنبی ہوگا مگر جن حضرات نے ۱۹۷۰ء کے انتخابات سے قبل اور بعد کے فکری اور نظریاتی معرکے اور محاذ آرائیاں دیکھی ہیں وہ ان سے یقیناً ناواقف نہیں ہیں۔ یہ ۱۹۶۷ء، ۱۹۶۸ء کے لگ بھگ کا قصہ ہے کہ مولانا حکیم مختار احمد الحسینیؒ نے اپنے برادر بزرگ مولانا حافظ خالد محمود کے ہمراہ لاہور میں ایک فکری اور نظریاتی مورچہ جمایا اور کافی عرصہ جمعیۃ علماء اسلام اور جماعت اسلامی کی باہمی معرکہ آرائی کا سرگرم کردار رہے۔

اس دور میں جماعتِ اسلامی کے ساتھ محاذ آرائی کے دو مورچے تھے۔ ایک یہ کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی بعض اعتقادی اور فقہی تعبیرات سے جمہور علماء اہل سنت کو اختلاف تھا اور دونوں طرف سے تنقید و جواب کا ماحول پوری شدت کے ساتھ گرم تھا جس میں حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ، حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ اور حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ پیش پیش تھے۔ جبکہ سیاسی و فکری تقسیم میں جماعت اسلامی اس وقت دائیں بازو کی جماعت شمار ہوتی تھی بلکہ دائیں بازو کی فکری قیادت کر رہی تھی۔ اس کے برعکس جمعیۃ علماء اسلام اپنے روایتی سامراج دشمن مزاج اور استعمار مخالف ایجنڈے کے باعث بائیں بازو کے قریب سمجھی جاتی تھی اور ڈاکٹر احمد حسین کمالؒ کی فکری راہنمائی میں حکیم مختار احمد الحسینی اور دوسرے حضرات ’’عوامی فکری محاذ‘‘ کے نام سے اس کے لیے سرگرم تھے اور میں بھی اس وقت اس محاذ کا متحرک کردار تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ فکری محاذ آرائی ٹھنڈی پڑتی گئی حتیٰ کہ جہادِ افغانستان کے دوران دائیں بازو اور بائیں بازو کی یہ تقسیم ہی تحلیل ہو کر رہ گئی۔ اگر اس دور کی اس فکری اور نظریاتی معرکہ آرائی کی تاریخ مرتب کی جا سکے تو اس میں نئی نسل کے لیے راہنمائی کا بہت سامان موجود ہے۔ حکیم مختار احمد الحسینیؒ اس نظریاتی اور فکری جنگ کا متحرک کردار تھے، میں نے ان کے فرزندان گرامی سے تعزیت کے دوران عرض کیا کہ اگر ان کے کاغذات اور یادداشتوں تک رسائی میسر آجائے تو اس حوالے سے کچھ خدمت میں بھی سر انجام دے سکتا ہوں۔

حکیم صاحب مرحوم کے ساتھ ہماری رشتہ داری بھی ہے کہ ان کے بھتیجے اور حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ کے فرزند مولانا قاری خبیب احمد عمرؒ میرے بہنوئی تھے اور ان کی جگہ اب جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم کے مہتمم مولانا قاری ابوبکر صدیق میرے عزیز بھانجے ہیں۔ جہلم میں برادرم مولانا قاری صہیب احمد اور عزیزان قاری ابوبکر صدیق، حافظ محمد عمر فاروق اور حافظ محمد عمیر سے تعزیت کے بعد قاری ابوبکر صدیق کے ہمراہ حکیم صاحب مرحوم کے فرزندان گرامی کے پاس حاضری ہوئی جو سوہاوہ سے چکوال جاتے ہوئے سرگ ڈھن میں حکیم صاحب کے ڈیرہ اور مطب سنبھالے ہوئے ہیں۔ ان سے تعزیت و دعا کے ساتھ بہت سی پرانی یادیں تازہ کیں اور پھر ہم راولپنڈی روانہ ہوگئے-

جامعہ اسلامیہ راولپنڈی صدر میں جمعیۃ علماء اسلام پنجاب کے امیر مولانا ڈاکٹر عتیق الرحمان سے ان کی والدہ محترمہ کی وفات پر تعزیت کی۔ ڈاکٹر صاحب کے والد محترم حضرت مولانا قاری سعید الرحمانؒ جمعیۃ علماء اسلام کے بزرگ راہنماؤں میں سے تھے اور میرے محترم اور بزرگ دوست تھے۔ والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ نے انہیں نقشبندی سلسلہ میں خلافت عطا کی تھی اور وہ ہمارے ساتھ پاکستان شریعت کونسل کی سرگرمیوں میں شریک رہتے تھے۔ اس موقع پر تحریک خدام اہل سنت پاکستان کے امیر حضرت مولانا قاضی ظہور الحسین اظہر بھی جامعہ اسلامیہ میں مولانا حافظ زاہد حسین رشیدی کے ہمراہ تشریف لے آئے اور ہم اس تعزیت و دعا میں اکٹھے شریک ہوئے۔ مولانا قاضی ظہور الحسین اظہر بھی میرے بزرگ ساتھیوں میں سے ہیں اور ہم نے جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں کئی سال اکٹھے گزارے ہیں۔

وہاں سے ہم حضرت مولانا قاری محمد زرین نقشبندیؒ کی تعزیت کے لیے ان کے گھر حاضر ہوئے جن کا چند روز قبل انتقال ہوا ہے۔ وہ مجاہدِ ہزارہ حضرت مولانا عبد الحکیم ہزارویؒ کے داماد تھے اور جامعہ فرقانیہ راولپنڈی میں طویل عرصہ ان کے ساتھ رفیقِ کار رہے ہیں، خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف سے تعلق تھا اور اپنی تعلیمی و انتظامی سرگرمیوں میں مگن ذاکر و شاغل بزرگ تھے۔ حضرت مولانا عبد الحکیم ہزارویؒ بھی ۱۹۷۰ء کے انتخابی معرکہ کا اہم عنوان رہے ہیں، وہ اپنے علاقہ کے سب سے بڑے خان اور سردار کو شکست دے کر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے اور ۱۹۷۳ء کے دستور کی تدوین اور ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں پارلیمانی محاذ پر انہوں نے سرگرم کردار ادا کیا۔ درخواستی گروپ اور ہزاروی گروپ میں جمعیۃ علماء اسلام کی تقسیم سے قبل وہ جمعیۃ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات تھے اور قومی اسمبلی کے بعد سینٹ کے ممبر بھی منتخب ہوئے تھے۔

اللہ تعالیٰ کا نظام ہے کہ یہ سارا سفر پہلے سے کسی طے شدہ پروگرام کے بغیر ہی ہوگیا، ارادہ تو اس روز اسباق سے فارغ ہو کر جہلم تک جانے کا تھا کہ اپنے بھانجوں اور برادرم قاری صہیب احمد سے مولانا حکیم مختار احمد الحسینیؒ کی وفات پر تعزیت کر لوں لیکن جب عزیزم قاری ابوبکر صدیق نے بتایا کہ وہ تعزیت کے ارادے سے راولپنڈی جا رہے ہیں تو میں بھی ان کے ساتھ ہو لیا اور یہ ایک دن کا تعزیتی دورہ سا بن گیا۔ اللہ تعالیٰ مرحومین کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔