سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۔ تین اہم گزارشات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۷ اکتوبر ۲۰۱۱ء

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تمام دینی حلقوں کی طرف سے شکریہ اور مبارکباد کی مستحق ہے کہ اس نے چناب نگر (سابق ربوہ) میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کی روایت تسلسل کے ساتھ قائم رکھی ہوئی ہے جس میں ملک بھر سے ہزاروں مسلمان اور سینکڑوں علماء کرام شریک ہو کر تحریک ختم نبوت کے جذبے کو تازہ کرتے ہیں، اور مختلف مکاتب فکر اور دینی جماعتوں کے سرکردہ راہنما تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے تازہ ترین حالات کی روشنی میں امت مسلمہ کی راہنمائی کرتے ہیں۔

گزشتہ جمعرات مجھے بھی مولانا محمد یوسف میواتی، حافظ محمد عمیر چنیوٹی، مولانا ثناء اللہ چنیوٹی اور دیگر رفقاء کے ہمراہ ختم نبوت کانفرنس کی رات کی نشست میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ اسٹیج پر مولانا اللہ وسایا، مولانا احمد میاں حمادی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد اجمل قادری، مولانا سید جاوید حسین شاہ، مولانا سید عزیز الرحمان ہزاروی، مولانا قاضی ارشد الحسینی، مولانا عبد الحق خان بشیر، قاری ابوبکر صدیق جہلمی، مولانا مفتی کفایت اللہ، مولانا محمد امجد خان، مولانا مفتی محمد حسن اور دیگر بہت سے زعماء کے علاوہ جمعیۃ علماء پاکستان (نورانی گروپ) کے سربراہ مولانا ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر، جمعیۃ اہل حدیث کے راہنما مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری اور جماعۃ الدعوۃ کے راہنما مولانا قاری محمد یعقوب شیخ بھی جلوہ افروز تھے۔ اور اس دفعہ کانفرنس کا پنڈال مسجد سے باہر کھلے میدان میں بنایا گیا تھا جہاں ہزاروں دینی کارکن اپنے جذبات ایمان کا پرجوش انداز میں اظہار کر رہے تھے۔ راقم الحروف نے اس موقع پر جو گزارشات پیش کیں ان کا خلاصہ قارئین کی دلچسپی کے لیے درج کیا جا رہا ہے۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اس کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد کی مستحق ہے اور مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے کہ یہ اسٹیج حسب سابق امت مسلمہ کے اتحاد کا مظہر نظر آرہا ہے۔ قادیانیت کے خلاف مسلمانوں کی جدوجہد میں امت مسلمہ کے سب طبقات اور گروہوں نے حصہ لیا اور مشترکہ پلیٹ فارم کے ساتھ ساتھ مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام کے الگ الگ دھارے بھی اس مقصد کےلیے متحرک رہے ہیں۔ بڑا دھارا حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری اور امیر شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا رہا ہے لیکن ایک دھارا وہ ہے جس نے حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ، مولانا سید ابوالحسنات قادری، مولانا شاہ احمد نورانی اور مولانا عبد الستار خان نیازی کی قیادت میں اس محاذ پر خدمات سرانجام دی ہیں۔ اور ایک دھارا وہ بھی ہے جس کے سرخیل حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ، حضرت مولانا سید محمد داؤد غزنویؒ اور علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ رہے ہیں۔ ان سب نے تحریک ختم نبوت میں مسلمانوں کی قیادت کی ہے اور ان کی مشترکہ مساعی کے نتیجے میں پاکستانی قوم نے ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے تاریخی اور دستوری فیصلے کی منزل حاصل کی۔ اس لیے مجھے اسٹیج پر مولانا ابوالخیر محمد زبیر، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری اور مولانا قاری محمد یعقوب شیخ کو دیکھ کر خوشی ہوئی ہے اور میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے ان کا خیرمقدم کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔

میں اس موقع پر تین گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ایک گزارش ملک کے حکمرانوں سے ہے، دوسری قادیانیوں سے ہے اور تیسری گزارش اس کانفرنس کے شرکاء اور ان کی وساطت سے ملک بھر کے عام مسلمانوں سے ہے۔

  1. حکمرانوں سے میری گزارش یہ ہے کہ آج ملک میں دستور کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کا مسئلہ ایک سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ عدلیہ اور سیاست دانوں کے سرخیل اس بات کے لیے فکرمند ہیں کہ دستور کی بالادستی قائم ہو اور قانون کی حکمرانی کا ماحول پیدا کیا جائے۔ ہمارے وکلاء کی برادری نے اس مقصد کے لیے سڑکوں پر مہینوں مارچ کیا ہے اور عدالتِ عظمیٰ اس کے لیے مسلسل سرگرم عمل ہے۔ میں ان سب کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ دستور کے نفاذ کے بعد اس سے انحراف کا دروازہ سب سے پہلے کس نے کھولا تھا؟ ۱۹۷۳ء میں دستور کا نفاذ ہوا اور ۱۹۷۴ء میں دستور و پارلیمنٹ کے فیصلے کو قبول کرنے سے کھلم کھلا انکار کر دیا گیا۔ یہ انکار قادیانیوں نے کیا تھا اور وہ اس انکار پر آج بھی قائم ہیں۔ اگر دستور سے اس پہلے اعلانیہ انحراف کا نوٹس لے لیا جاتا تو دستور کی بالادستی کے حوالے سے جو صورتحال آج درپیش ہے اس کی نوبت نہ آتی۔ اور اگر آج بھی دستور کی بالادستی فی الواقع ہمارے حکمرانوں اور عدلیہ کے مقاصد میں شامل ہے تو اس کے لیے دستورِ پاکستان سے اس پہلے انحراف کا نوٹس لینا ہوگا ورنہ دستور کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی ایک تشنۂ تعبیر خواب ہی رہے گی۔

    ایک گزارش اسی حوالے سے یہ بھی ہے کہ آج دنیا بھر میں پاکستان کے دستور اور پاکستان کے اسلامی تشخص کے خلاف خود کو پاکستانی کہلانے والوں کا سب سے بڑا مورچہ قادیانیوں کا ہی ہے۔ اور وہ مختلف ممالک میں بیٹھے پاکستان کے نظریاتی تشخص اور دستور پاکستان کی اسلامی دفعات کے خلاف پروپیگنڈا اور لابنگ کر رہے ہیں، اس کا نوٹس لینا بھی حکمرانوں اور دستور کی بالادستی کی بات کرنے والوں کی ذمہ داری ہے۔

  2. میری دوسری گزارش قادیانیوں سے ہے اور اگر میری بات مرزا مسرور احمد صاحب تک پہنچ سکے تو ان سے کہ وہ کچھ عرصہ سے دنیا کو یہ یقین دلانے میں مصروف ہیں کہ وہ عقیدۂ ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبی نہیں مانتے۔ میں نے امریکہ کے مختلف اخبارات میں ان کے بعض اشتہارات پڑھے ہیں جن میں وہ گول مول انداز سے اپنے اصل عقیدے کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میری ان سے گزارش ہے کہ جس عقیدے کو آپ عام لوگوں سے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں اور جس کو عام لوگوں کے سامنے لانے کے لیے آپ کو طرح طرح کی تاویلات کا سہارا لینا پڑ رہا ہے اس سے دستبرداری کیوں نہیں اختیار کر لیتے؟ جس عقیدے کو کھلے بندوں بیان کرنا مشکل ہو اور جس کا دورازکار تاویلات کے ذریعے دفاع کرنا بھی ممکن نہ ہو اس سے خواہ مخواہ چمٹے رہنے میں آخر کیا مجبوری ہے؟

    میں مرزا مسرور صاحب کو تمام تر تلخیوں کے باوجود کھلے دل کے ساتھ اس فورم سے دعوت دیتا ہوں کہ اگر وہ مسلمانوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو سیدھے راستے سے مسلمانوں میں آجائیں، ہم ان کا خیرمقدم کریں گے۔ اور اگر وہ عقیدۂ ختم نبوت کی من گھڑت تاویلات سے دستبردار ہو کر امت مسلمہ کا یہ اجماعی عقیدہ قبول کر لیں کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور ان کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا کوئی بھی ہو وہ مسلمان نہیں ہے، اور اس کے ساتھ وہ امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دیں تو وہ ہمارے بھائی ہوں گے اور ہم مسلمانوں کی صفوں میں پورے خلوص اور اعزاز کے ساتھ انہیں خوش آمدید کہیں گے۔

  3. تیسری گزارش میں اس کانفرنس کے شرکاء سے کرنا چاہتا ہوں کہ ہم سب کو اس بات کا ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ جائزہ لینا چاہیے کہ کیا ہم سب کا سال بھر میں ایک دو ختم نبوت کانفرنسوں میں شریک ہوجانا اور علماء کرام کے بیانات سن کر چند نعرے لگا لینا عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے کافی ہے؟ یا اس کے علاوہ ہمارے کرنے کے اور کام بھی ہیں؟ میں کانفرنس میں شریک علماء کرام، دینی کارکنوں اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والوں کو ایک کام کی دعوت دینا چاہتا ہوں کہ اس سال اگلی کانفرنس تک عملی طور پر صرف یہ کر لیں کہ اپنے اپنے علاقے میں ایسی تنظیموں اور خاص طور پر این جی اوز کی سرگرمیوں کا مطالعہ کریں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ پاکستان کے اسلامی تشخص کو مجروح کرنے، ہماری تہذیبی روایات اور ثقافتی اقدار کو کمزور کرنے، نئی نسل کو عقیدہ و ثقافت کے حوالے سے گمراہ کرنے اور قادیانیوں کی مختلف حوالوں سے پشت پناہی کے لیے وہ کون کون سا کام کس کس انداز میں کر رہی ہیں؟ میں سمجھتا ہوں کہ اگر اتنا کام تھوڑی سنجیدگی کے ساتھ کر لیں تو خودبخود ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ اس محاذ کے ہم سے عملی تقاضے کیا ہیں اور ہم ان کو کس طرح پورا کر کے سرخرو ہو سکتے ہیں۔