اسلامی ثقافت، جمہوریت، نجی ملکیت اور اجتہاد

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۸ نومبر ۱۹۸۳ء

(ایک صاحب نے گزشتہ دنوں کچھ سوالات بھجوائے اور فوری جواب کا تقاضا کیا، عجلت کے باعث کسی مناسب تیاری کے بغیر جوابات قلمبند کرنا پڑے۔ سوالات کے بارے میں اندازہ ہوتا ہے کہ غالباً کسی امتحانی پرچے کے ہیں لیکن اہم موضوعات سے متعلق ہیں اس لیے ان کے جوابات نذرِ قارئین ہیں۔ راشدی)

سوال: کیا یہ درست ہے کہ اسلامک کلچر نام کی کوئی چیز سرے سے موجود نہیں ہے کیونکہ مسلمان جہاں بھی گئے انہوں نے وہیں کا کلچر اپنا لیا؟

جواب: اس سلسلہ میں سب سے پہلے غور طلب امر یہ ہے کہ کلچر کہتے کس کو ہیں؟ عام طور پر کلچر کے بارے میں جو کچھ کہا جاتا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کلچر کسی قوم کی انفرادی و اجتماعی زندگی میں رچ بس جانے والی ان روایات اور اعمال سے عبارت ہوتا ہے جن سے اس قوم کا تشخص اور امتیاز دوسری اقوام سے ظاہر ہو۔ اگر واقعی کلچر اسی چیز کا نام ہے تو تاریخ عالم کی یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اسلامک کلچر سے زیادہ مضبوط اور مستحکم کلچر کوئی اور قوم پیش نہیں کر سکی اور اسلام جس علاقہ میں گیا ہے اس نے وہاں کے کلچر کو قبول کرنے کی بجائے اس کی بنیادی ہیئت کو تبدیل کر دیا ہے۔

اسلام سب سے پہلے اس کلچر پر اثر انداز ہوا جو ڈیڑھ ہزار سال قبل کے جزیرۂ نمائے عرب کا علامتی کلچر کہلاتا ہے۔ اور اس نے عربوں کے نہ صرف عقائد کو بدل دیا بلکہ ان کی معاشرتی زندگی میں بھی انقلاب پیدا کیا، حلال و حرام کے تصورات بدل گئے، باہمی تعلقات و روابط کی بنیادیں تبدیل ہوگئیں، خوشی و غمی کی تقریبات اور طریق کار نے نیا رخ اختیار کر لیا، طبقات، رنگ و نسل اور زبان کا امتیاز مٹ گیا اور زندگی کے تمام شعبوں میں انقلاب پیدا کر کے اسلام نے عربوں کی اجتماعی زندگی کو ایک نئی ہیئت دے دی۔ عرب اقوام کی قبل از اسلام زندگی اور بعد از اسلام زندگی پر ایک نظر ڈال لیجئے آپ کو جو محسوس فرق اور تبدیلی نظر آئے گی وہی اسلام کا امتیاز اور تشخص ہے اور اسی کا نام ’’اسلامک کلچر‘‘ ہے۔

یہ بات درست ہے کہ اسلام نے مختلف اقوام میں پہنچنے کے بعد وہاں کی ثقافت پر اثر انداز ہونے کے لیے اکھاڑ پچھاڑ کی بجائے ایڈجسٹمنٹ کی حکمت عملی اختیار کی ہے اور وہاں کے کلچر کے صرف اس حصہ کی نفی کی ہے جو اس کے عقائد اور بنیادی احکام سے متصادم ہوا ہے۔ اور ایسی روایات و اقدار کو اپنے اندر سمونے میں بخل سے کام نہیں لیا جو اس کے احکام و عقائد کے منافی نہیں تھیں، حتیٰ کہ عرب جاہلیت کی تمام کلچرل روایات و اقدار کو بھی اسلام نے کلیۃً رد نہیں کیا بلکہ زندگی کے مختلف شعبوں میں آج بھی اسلام ایسی روایات و اقدار کا حامل ہے جو جاہلی کلچر کا اہم حصہ رہی ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ دنیا میں مختلف اوقات میں ثقافتوں نے اقوام عالم پر اپنا سکہ جمانے کی کوشش کی ہے اور اس کے لیے جو طریق کار اختیار کیا ہے اسلام کا طریق کار اس سے مختلف رہا ہے۔ ان ثقافتوں اور تہذیبوں کا طریق کار یہ رہا ہے کہ وہ جہاں گئی ہیں وہاں کی مقامی تہذیبوں کو کلیۃً تاخت و تاراج کر کے ان کی مکمل نفی کر کے ڈنڈے اور طاقت کے زور پر ان کی جگہ لینے کی کوشش کی ہے۔ جبکہ اسلام نے پہلے سے موجود تہذیبوں کی نہ تو مکمل طور پر نفی کی ہے اور نہ تصادم کے ذریعے ان سے جگہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسلام نے ان تہذیبوں کی ایسی باتوں کو فراخدلی کے ساتھ قبول کر لیا ہے جو اس کے عقائد و روایات کے منافی نہیں تھیں اور صرف ان روایات و اقدار کو رد کیا ہے جن سے اس کے عقائد و احکام پر زد پڑتی ہو اور پھر اس رد کرنے میں بھی طاقت اور ڈنڈے کی بجائے افہام و تفہیم اور اخلاق و محبت کے ہتھیار سے کام لیا ہے۔

تاریخ اسلام کے ابتدائی ادوار کو دیکھیے، مجاہدینِ اسلام جس خطۂ زمین میں گئے ہیں وہاں تسلط قائم ہونے کے بعد ڈنڈے اور تلوار کو ایک طرف رکھ دیا ہے اور اخلاق و محبت کے ہتھیاروں سے قوموں کی زندگیاں بدل دی ہیں۔ برصغیر پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش کو ہی لے لیجئے، یہاں اسلام کے آنے سے پہلے اجتماعی زندگی میں جو اقدار و روایات اور مجموعی ہیئت تھی کیا اسلام کے آنے کے بعد بھی زندگی اسی نہج پر قائم رہی ہے جس رخ پر پہلے تھی؟ اگر ایسا نہیں ہے اور یقیناً نہیں ہے کیونکہ مسلمانان ہند کی قبل از اسلام زندگی اور بعد از اسلام زندگی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اور یہ فرق عقائد و احکام سے لے کر شادی و غمی، تجارت، اخلاق اور روز مرہ معمولات تک ہر شعبۂ زندگی میں نمایاں نظر آتا ہے۔ تو پھر اسلامک کلچر کے وجود سے کیسے انکار کیا جا سکتا ہے؟

قصہ صرف یہ ہے کہ اسلام نے تہذیبی تبدیلیوں اور ثقافتی انقلاب کے لیے وہ ہتھکنڈے اختیار نہیں کیے جن سے دوسری تہذیبیں استفادہ کرتی رہی ہیں اور اپنے عقائد و احکام اور تہذیب و ثقافت کو اخلاق و محبت اور افہام و تفہیم کے ذریعے دوسری اقوام پر حاوی کیا ہے۔ اس لیے ظاہر بین حضرات بھولپن کے ساتھ یہ کہہ دیتے ہیں کہ اسلام کا تو اپنا کوئی کلچر ہی نہیں۔ ہمارے ہاں بھی اسلام نے ہندو تہذیب و کلچر کی ایسی تمام روایات و اقدار کو رد کیا ہے جو اسلام سے متصادم تھیں اور ایسی روایات و اقدار سے تعرض نہیں کیا جن سے ان کے بنیادی احکام متاثر نہیں ہوتے تھے۔ زندگی کے کسی شعبے کو مثال بنا کر دیکھ لیجئے ہندو طرز زندگی اور مسلم طرز زندگی میں آپ کو فرق محسوس ہوگا اور تبدیلی نظر آئے گی، اسی کا نام کلچر ہے اور کسی قوم کا یہی امتیاز و تشخص اس کی تہذیب کہلاتا ہے۔ البتہ اس تہذیب و ثقافت کو یہاں کی تہذیب و ثقافت پر حاوی کرنے کے لیے اسلام نے خواجہ معین الدین اجمیریؒ، سید علی ہجویریؒ اور دوسرے اولیاء کرامؒ کے کردار اور اخلاق کو ہتھیار بنایا ہے جنہوں نے اپنی سچائی، بلندیٔ کردار، اخلاق اور محبت کے ذریعے لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کے رخ موڑ دیے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا۔

سوال: اسلام کے عقیدۂ توحید کے تہذیبی اثرات بیان کیجئے۔

جواب: عقیدۂ توحید کی بنیاد دو باتوں پر ہے:

  1. کائنات کا خالق خداوند تعالیٰ ہے اور اس نے نسلِ انسانی کو اپنا نائب بنا کر اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ اس کائنات پر احکامِ الٰہی کے مطابق حکمرانی کرے۔ اور یہ اس لحاظ سے دکھائی بھی دے رہی ہے کہ کرۂ ارض میں زمین، فضا اور سمندر پر تصرف کا نظام انسان کے ہاتھ میں ہے۔
  2. اطاعت حکم برداری اور بندگی کے لائق صرف خدا کی ذات ہے۔ خوف اور لالچ کے تمام امور اسی سے متعلق ہیں، نفع و نقصان کا مالک صرف وہ ہے اور موت و حیات، عزت و ذلت، رزق و اقتدار، آزادی و غلامی صرف اس کے قبضے میں ہے۔

عقیدۂ توحید کا وہ پہلو جس کا ہم نے نمبر ۱ میں کے طور پر ذکر کیا ہے ایک مسلمان میں مقصدِ زندگی کا احساس پیدا کر کے اسے بے مقصد زندگی گزارنے سے روکتا ہے، اور زندگی برائے زندگی کی بجائے اسے زندگی برائے مقصد کی شاہراہ پر گامزن کرتا ہے۔ اور عقیدۂ توحید کا پہلو نمبر ۲ ایک مسلمان کو خدا کے سوا باقی سب کے خوف سے بے نیاز کر کے اس کے اندر وہ جرأت اور حوصلہ پیدا کرتا ہے جو اسے ہر حالت میں حق گوئی اور حق پرستی پر آمادہ کرتا ہے۔

ایک ایسا معاشرہ جس کے افراد زندگی کو بامقصد سمجھیں اور ہر حالت میں حق کو قبول کرنے اور اسے لاگو کرنے میں خدا کے سوا ہر طاقت کے ڈر سے بے نیاز ہو جائیں، صرف وہی معاشرہ دنیا میں امن و انصاف کا ضامن ہو سکتا ہے اور لوگوں کو ظلم و جبر اور استحصال و غلامی سے نجات دلا سکتا ہے۔ اسلام کا عقیدۂ توحید مسلم معاشرہ میں یہ اوصاف پیدا کرتا ہے اور انہی اوصاف پر اسلامی معاشرہ کی بنیاد رکھ کر اسے خیرِ امت کے طور پر دنیا میں صحت مندانہ معاشرتی، اقتصادی، سیاسی اور اخلاقی انقلاب کا داعی بناتا ہے۔

سوال: اسلام کا عقیدۂ تقدیر ’’توکل‘‘ کے نام پر بے عملی کو فروغ دیتا ہے؟

جواب: یہ اسلام پر الزام ہے، اسلام نے کہیں تقدیر اور توکل کی ایسی تعبیر نہیں کی جسے بے عملی کا نام دیا جا سکے۔ بلکہ اسلام جہد مسلسل اور عمل پیہم کا نام ہے اور ہر بات میں عمل اور حتی الوسع عمل کو ضروری قرار دیتا ہے۔ تقدیر اور توکل انسان کو اس کے عمل اور جدوجہد کے بے نتیجہ ہونے کی صورت میں اس کے منفی ردعمل سے بچاتے ہیں اور اس کے حوصلہ کو قائم رکھتے ہوئے عمل اور جدوجہد پر دوبارہ آمادہ کرتے ہیں۔ تقدیر اور توکل کے نام سے اسلام صرف یہ کہتا ہے کہ اپنے مقاصد کے لیے عمل کرو اور جو کچھ تمہارے بس میں ہے کر گزرو لیکن نتائج تمہارے اختیار میں نہیں ہیں بلکہ خدا کے ہاتھ میں ہیں اور ان کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ لیکن تمہارے ثواب و عقاب اور ذمہ داری کا تعلق اس فیصلے سے نہیں بلکہ تمہارے عمل سے ہے، جو عمل کرو گے اس کے نتائج تمہیں بھگتنا ہوں گے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جہاں ایمان کا ذکر کیا ہے اس کے ساتھ عمل صالح کا بھی ذکر کیا ہے اور سورۃ العصر میں نجات اور کامیابی کا مدار بیان کرتے ہوئے ایمان اور عمل صالح کو ایک ساتھ ذکر فرمایا ہے۔

اور یہ الزام اسلام کے عملی کردار کے لحاظ سے بھی خلافِ واقعہ ہے۔ اگر اسلام تقدیر اور توکل کے نام پر بے عملی کا داعی ہوتا تو اس کے اولین پیروکار صحابہ کرامؓ جہدِ مسلسل کے پیکر نہ ہوتے، اس بے عملی کا اثر سب سے زیادہ ان پر ہوتا جبکہ وہ اس کے برعکس رات کو جائے نماز پر خدا کی عبادت کرنے والے اور دن کو جہاد اور مشقت کرنے والے تھے۔ اسلام اگر تقدیر اور توکل کے نام پر بے عملی کو فروغ دیتا تو خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدر و احد کے محاذوں پر بے سروسامانی کے باوجود کفار کے مقابلہ میں صف آراء نہ ہوتے بلکہ مدینہ منورہ میں بیٹھ کر تقدیر، توکل اور دعاؤں کے ساتھ ان جنگوں کو جیتنے کی راہ اختیار کرتے۔

اس لیے یہ کہنا خلافِ واقعہ ہے کہ اسلام نے تقدیر اور توکل کے نام پر بے عملی کو فروغ دیا ہے۔ بلکہ اسلام نے تقدیر اور توکل کے ذریعے مسلمانوں کے جوشِ عمل میں اضافہ کیا ہے اور جہد و عمل کے نتائج سامنے نہ آنے پر اسے خدا کے حوالے کرنے کا جذبہ اجاگر کر کے منفی ردعمل سے بچایا ہے اور جہدِ عمل کی اس سپرٹ کو قائم رکھا ہے جو نتائج سامنے نہ آنے پر عموماً کمزور پڑ جایا کرتی ہے۔

حتیٰ کہ توکل کے نام پر بے عملی کی خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و عمل کے ساتھ نفی فرمائی ہے۔ مثال کے طور پر ایک واقعہ دیکھ لیجئے۔ ایک صحابی آنحضرتؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے، دور سے آئے تھے، آپؐ نے دریافت فرمایا تمہارا اونٹ کہاں ہے؟ جواب دیا کہ خدا کے توکل پر کھلا چھوڑ آیا ہوں۔ جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ توکل اس کا نام نہیں ہے، پہلے اونٹ کے پاؤں کو رسی کے ساتھ باندھو پھر خدا پر توکل کرو۔ گویا آپؐ نے توکل کا معنیٰ واضح فرما دیا کہ توکل خدا کے بھروسے پر بیکار بیٹھ جانے کا نام نہیں بلکہ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اپنے مقصد کے لیے وسائل اور محنت کو مکمل طور پر اختیار کرو اور پھر اس کے نتائج خدا پر چھوڑ دو۔

اسلام کی اس قدر واضح تعلیمات، عمل اور معاشرہ پر اس کے اثرات کو دیکھتے ہوئے بھی یہ الزام عائد کر دینا کس قدر نا انصافی ہے کہ اسلام کا عقیدۂ تقدیر توکل کے نام پر بے عملی کو فروغ دیتا ہے۔

سوال: نماز کے تہذیبی اثرات پر روشنی ڈالیے۔

جواب: نماز انسان میں طہارت و پاکیزگی کی عادات پیدا کرتی ہے، اس کے ذہن و فکر کو یکسوئی عطا کرتی ہے، وقت کی پابندی اور ذمہ داری کے احساس کا خوگر بناتی ہے، جوابدہی کا تصور اس کے ذہن میں زندہ رکھتی ہے اور اس طرح معاشرہ کو ایسے تربیت یافتہ افراد فراہم کرتی ہے جو اس کی صحت مندانہ تشکیل میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پھر باجماعت نماز، جمعہ کی نماز اور عید کی نماز کے ذریعے ہر سطح پر مسلمانوں کی اجتماعیت ابھرتی ہے، باہمی میل جول اور افہام و تفہیم کے مواقع مسلسل فراہم ہوتے ہیں اور وحدت کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔

سوال: روزہ ایک انفرادی عبادت ہے لہٰذا اس سے معاشرتی اصلاح کا مقصد حاصل نہیں ہوتا۔

جواب: بنیادی طور پر یہ تصور ہی غلط ہے کہ جو چیز صرف انفرادی اصلاح کا ذریعہ ہو اس کے اثرات معاشرہ پر نہیں ہوتے۔ کیونکہ معاشرہ افراد ہی کا مجموعہ ہے اور ایک فرد اصلاح کے عمل سے جس قدر بہرہ ور ہوگا معاشرہ اتنے ہی اس کے اثرات قبول کرے گا بلکہ فرد کی اصلاح کے بغیر تو معاشرہ کی اصلاح کا تصور بھی ناممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرد کو نظر انداز کر کے اصلاح کے عمل کو معاشرہ پر اوپر سے مسلط کرنے کی ہر کوشش دنیا میں ناکامی سے دوچار ہوئی ہے۔

روزہ اگرچہ بظاہر انفرادی عمل ہے اور ایک مسلمان کی ذات کا معاملہ ہے لیکن یہ عمل مسلمان کو صبر و استقامت، تقویٰ، پرہیزگاری اور دیگر اوصافِ حمیدہ سے موصوف کر کے ایک اچھے معاشرہ کی تشکیل کے لیے تیار کرتا ہے۔

سوال: جمہوریت میں عوام کی حاکمیت کا تصور پایا جاتا ہے جو سراسر الحاد کے مترادف ہے، لہٰذا اسلامی نظامِ سیاست میں جمہوریت کی کوئی گنجائش نہیں ہے؟

جواب: یہ مسئلہ قدرے تفصیل طلب ہے۔ جمہوریت کو اگر اس معنیٰ میں لیا جائے کہ اس کی بنیاد عوام کی حاکمیت پر ہے اور عوام یا ان کے نمائندے جو فیصلہ بھی کر لیں وہ حتمی اور آخری ہے، یہ جمہوریت اسلام کے قطعی منافی اور اس کے بنیادی عقائد و احکام سے متصادم ہے اور اس کے الحاد و کفر ہونے میں کوئی شک نہیں۔لیکن اگر جمہوریت سے یہ مراد لی جائے کہ خدا کی حاکمیت اعلیٰ کو تسلیم کر کے احکام و قوانین کو اس کے فرامین کے تابع رکھتے ہوئے نظم مملکت میں عوام کو شریک کیا جائے اور ان پر حکومت کرنے کے لیے ان کی رائے سے حکمران کا انتخاب کیا جائے تو اسلام اس کی نفی نہیں کرتا بلکہ خود اس کا علمبردار ہے۔

یہ بات طے ہے کہ حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے اور ایک مسلمان حکومت اپنے ہر فیصلہ میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کی پابند ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پابندی کے اس دائرے میں رہنے والی اس حکومت کی تشکیل کیسے ہوگی؟ اسلام نے قیامت تک کے حکمرانوں کی کوئی فہرست جاری نہیں کی جبکہ وحی کا دروازہ بند ہے، اس لیے کسی حکمران کی خدا کی طرف سے تقرری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسلام نے حکمران کے لیے شرائط و حدود اور اوصاف و اہلیت کا معیار بتایا ہے اور ان تمام امور کے ساتھ حکمران کے تعین اور حکومت کی عملی تشکیل کا راستہ کھلا رکھا ہے۔ اس کے لیے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ کرامؓ کے اولین تعامل کو مثال و معیار بنانا زیادہ بہتر ہوگا جنہوں نے عمومی رائے کے ساتھ اپنے میں سے بہترین شخصیت حضرت صدیق اکبرؓ کو خلیفہ چن لیا۔ اور جناب رسول اللہؐ نے بھی اچھے اور برے حکمران کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے یہی ارشاد فرمایا ہے:

’’تمہارے اچھے حکمران وہ ہیں جو تم سے محبت کریں تم ان سے محبت کرو، وہ تمہارے لیے رحمت کی دعا کریں تم ان کے لیے رحمت کی دعا کرو، اور تمہارے برے حکمران وہ ہیں جو تم سے بغض رکھیں تم ان سے بغض رکھو، وہ تم پر لعنت بھیجیں تم ان پر لعنت بھیجو۔‘‘ (مسلم شریف)

گویا اچھے اور صحیح حکمران کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کی رعایا اور اس کے درمیان محبت و اعتماد کا تعلق ہو بغض و نفرت کا نہ ہو۔ اور اس محبت و عتماد کے اظہار کے لیے کسی زمانہ میں جو بھی طریق کار اس دور کے تقاضوں کے مطابق ضروری ہوگا اسے بہرحال اپنانا پڑے گا۔ اس لیے حکومت اور اقتدار کو احکامِ الٰہی کے دائرہ میں پابند رکھتے ہوئے حکومت کی تشکیل میں عوام کی محبت و اعتماد حاصل کرنے اور انہیں تشکیلِ حکومت میں شریک کرنے کے لیے جو بھی قابلِ عمل طریقہ اختیار کیا جا سکے اسلام اس کی نفی نہیں کرتا۔ اور آج کے دور میں انتخاب اور ووٹ کے طریق کار کو قبول کرنا اس لیے ضروری ہے کہ موجودہ حالات میں اس کے سوا اور کوئی طریقہ نہیں جس کے ذریعے عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کا اظہار ہو سکے۔

اس کے علاوہ جمہوریت کو ایک اور پہلو سے بھی دیکھنا پڑے گا اور وہ ہے ایک اسلامی مملکت کے شہریوں کے بنیادی حقوق کی عملداری اور بحالی کا مسئلہ۔ اسلام اپنے ملک کے باشندوں کو جو بنیادی حقوق غیر مشروط طور پر دیتا ہے ان میں (۱) اظہارِ رائے کا حق (۲) حکومت پر تنقید اور معاملات حکومت میں مشاورت کا حق (۳) خوراک (۴) رہائش (۵) لباس (۶) تعلیم (۷) اور علاج وغیرہ کو اولین اہمیت حاصل ہے اور یہ حقوق تمام شہریوں کو کسی امتیاز کے بغیر حاصل ہیں۔ اب کوئی فرد یا طبقہ ملک کے باشندوں کو ان حقوق یا ان میں سے کسی حق سے طاقت کے بل پر محروم کرتا ہے تو ان حقوق کی بازیابی اور عملداری کی جدوجہد اور جمہور کو ان کے حقوق دلوانے کی ہر کوشش بلاشبہ اسلامی تعلیمات کے مطابق بلکہ اسلامی احکام کا تقاضہ ہے۔

الغرض عوام کی مطلق حاکمیت کی نفی کر کے خدا کی حاکمیت کے تابع رہتے ہوئے تشکیلِ حکومت میں عوام کی شرکت، حکمرانوں پر عوام کے اعتماد کے اظہار اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی عملداری کے لیے اگر کوئی نظام وضع کیا جاتا ہے تو اس کے بارے میں یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ اسے اسلام کے علاوہ اور کوئی عنوان دینے کی ضرورت نہیں، لیکن اسے مغربی جمہوریت پر قیاس کر کے نہ تو اس کی مکمل نفی کی جا سکتی ہے اور نہ اسے اسلامی احکام و تعلیمات کے منافی قرار دیا جا سکتا ہے۔

سوال: نجی ملکیت معاشی مساوات میں خلل ڈالنے کا باعث ہے اور مساوات اسلامی نظامِ معاشرت میں بنیادی اصول کی حیثیت رکھتی ہے، لہٰذا اسلام میں نجی ملکیت کی کوئی گنجائش نہیں۔

جواب: بنیادی طور پر یہ تصور ہی اب غلط ثابت ہوگیا ہے کہ نجی ملکیت معاشی مساوات میں خلل ڈالنے کا باعث ہے۔ کیونکہ روس اور چین جیسے ممالک جو کمیونزم کے عالمی پرچارک ہیں اپنے اپنے ملک میں نجی ملکیت بحال کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں اور اپنے اس تجربے کے مثبت اثرات کو محسوس کرتے ہوئے ان کا برملا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ اور اس طرح نجی ملکیت کی نفی کرنے والے اس عالمی فلسفہ اور نظام کو ہی ’’ریورس گیئر‘‘ لگ گیا ہے جو نجی ملکیت کو معاشی مساوات کے منافی قرار دے کر اس کی نفی پر اپنے اقتصادی نظام کی بنیاد رکھتا تھا۔

اسلام نظامِ فطرت ہے، وہ فرد اور اجتماعیت کی اہمیت کو یکساں طور پر تسلیم کر کے ان کے مابین فطری اور قابل عمل توازن قائم کرتا ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کسی ایک کی نفی کر کے معاشرہ کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ اجتماعیت افراد سے عبارت ہے، اگر فرد کا وجود نہ ہو اور اس کی انفرادیت کو تسلیم نہ کیا جائے تو اجتماعیت کیسے ہوگی؟ جبکہ اجتماعیت افراد کے مجموعے کا نام ہے، اگر اجتماعیت کی نفی کر دی جائے تو افراد ایک معاشرہ کی شکل کیسے اختیار کریں گے؟ اسلام ان دونوں حقیقتوں کو تسلیم کرتے ہوئے دونوں کے درمیان فطری توازن قائم کرتا ہے اور معاشرہ کے ہر فرد کے ہر اس حق کو تسلیم کرتا ہے جس کی زد اجتماعیت کے تقاضوں پر نہ پڑتی ہو۔

نجی ملکیت کا مسئلہ بھی یہی ہے۔ اسلام نجی ملکیت کو تسلیم کرتا ہے، اس کا احترام کرتا ہے اور اس کی ترغیب دیتا ہے لیکن اسے اجتماعیت کے تقاضوں کا پابند بناتا ے۔ اسلام فرد کی نجی ملکیت میں معاشرہ کے حقوق متعین کرتا ہے، ان حقوق کی ادائیگی کا نظام پیش کرتا ہے اور اجتماعیت کی نمائندہ ریاست اور حکومت کو ذمہ دار قرار دیتا ہے کہ وہ مملکت کے تمام شہریوں کے معاشی حقوق کی ضمانت دے۔ اسلام حقوق کی مساوات کا علمبردار ہے، ریاست کے وسائل پر اس کے تمام شہریوں کے یکساں حقوق کا اصول پیش کرتا ہے، خوراک، رہائش، لباس، علاج اور تعلیم کو ہر شہری کا بنیادی حق قرار دے کر ایک اسلامی حکومت کو ان حقوق کی فراہمی کا ضامن قرار دیتا ہے اور ہر مالدار کو پابند کرتا ہے کہ وہ اپنی ملکیت کا ایک متعین حصہ ان اجتماعی معاشی حقوق کی عملداری کے لیے ریاست کو فراہم کرے۔ اسلام ہر شہری کو حق دیتا ہے کہ وہ سرِ عام کھڑا ہو کر حاکمِ وقت سے اپنے حق کا تقاضہ کرے اور سربراہ مملکت کو اس احساس کا خوگر بناتا ہے کہ اگر کسی دریا کے کنارے پر ایک کتا بھی بھوک سے مر جائے تو سربراہِ مملکت خود کو اس کا ذمہ دار سمجھے۔

اس دائرہ میں اسلام نجی ملکیت کا قائل ہے اور اجتماعیت کے حقوق ادا کرتے ہوئے نجی ملکیت کو ہر فرد کا فطری حق قرار دیتا ہے جس کی نفی نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی اس فطری حق کی نفی کرنے والے اپنے اس موقف اور عمل پر عملاً قائم رہ سکے ہیں۔

سوال: زکوٰۃ مال کا تزکیہ بھی کرتی ہے اور صاحبِ مال کا بھی، قرآن و سنت کے حوالے سے واضح کریں۔

جواب: صاحبِ مال کے مال پر اجتماعیت اور معاشرہ کے مسلمہ حقوق ہیں، ان حقوق کو اسلام تسلیم کرتا ہے اور ان کا تعین بھی کرتا ہے، جبکہ حقوق وصول کرنے والوں کی عزت نفس کی پاسداری کے لیے اسلام اسے خدا کا حق قرار دیتا ہے۔ اب ایک شخص اگر اپنے مال میں سے خدا تعالیٰ اور معاشرہ کا حق ادا نہیں کرتا تو اس کا مال اس کے اپنے حق اور دوسروں کے حقوق کے ساتھ مخلوط ہے، اور جب وہ تمام حقوق ادا کر دے گا تو اس کا مال اس کا اپنا ہوگا اور دوسروں کے حقوق سے پاک ہو جائے گا۔ مال کے تزکیہ کا یہی معنیٰ ہے کہ اس کا مال اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حق سے پاک ہو گیا ہے۔

صاحبِ مال کے ذہن میں یہ تصور ہر وقت اجاگر رہے گا کہ یہ مال اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے اور اس میں سے اللہ رب العزت کے حقوق کے حوالے سے معاشرہ کے حقوق اس کے ذمہ ہیں۔ اور یہ احساس اس میں خدا ترسی، جواب دہی اور حق کی ادائیگی کے اوصاف پیدا کر دے گا۔ قرآن کریم میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں:

’’آپ ان کے مال سے صدقہ وصول کریں تاکہ آپ ان کو پاک کریں اور ان کا تزکیہ کریں۔‘‘ (التوبہ)

دوسرے مقام پر متقی کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’وہ اپنے مال کو خرچ کر کے پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔‘‘

ام المؤمنین سلمہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ جس ’’کنز‘‘ کی قرآن کریم میں مذمت کی گئی ہے وہ کونسا ہے؟ تو جناب نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا:

’’جب تم اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دو تو وہ کنز نہیں رہتا۔‘‘ (ابوداؤد)

اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ارشاد فرماتے ہیں:

’’زکوٰۃ لوگوں کے مال کو پاک کرنے کے لیے فرض کی گئی ہے۔‘‘ (بخاری)

سوال: حدیث نبویؐ بھی وحی کی ایک قسم ہے، بحث کیجئے۔

جواب: جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی بنیادی طور پر تین قسم کی ہے:

  1. پہلی قسم کلام الٰہی ہے جو قرآن کریم کی صورت میں نازل ہوئی۔ یہ خالصتاً باری تعالیٰ کا کلام ہے اور اسی شکل میں نازل ہو کر اب تک محفوظ ہے۔
  2. دوسری قسم ان احکام پر مشتمل ہے جو قرآن کریم کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے مختلف معاملات میں جناب رسول اللہؐ پر نازل فرمائے اور آنحضرتؐ نے انہیں اپنے الفاظ میں بیان فرما دیا۔
  3. اور تیسری قسم ان احکام اور فیصلوں کی صورت میں ہے جو متعدد معاملات و امور میں جناب نبی اکرمؐ نے از خود ارشاد فرمائے اور وحی جاری ہونے کے باوجود ان پر کوئی روک ٹوک نہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عملاً ان کی تصدیق فرما دی گئی۔ اسے وحی حکمی کہا جاتا ہے۔

قرآن کریم میں متعدد ایسے امور کا ذکر ہے کہ جناب رسول اللہؐ نے فیصلہ فرما دیا لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس پر ٹوک دیا کہ آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ قرآن کریم کا یہ طرز اس بات پر دلیل ہے کہ آنحضرتؐ کے وہ تمام فیصلے اور احکام جن پر قرآن کریم میں یا وحی کے دیگر طریقوں میں کوئی ٹوک نہیں ہوئی، عملاً اللہ تعالیٰ کی طرف سے تصدیق شدہ ہیں۔ اگر یہ فیصلے مصدقہ نہ ہوتے یا درست نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر ٹوک دیا جاتا جیسا کہ بعض امور میں ایسا ہوا بھی ہے۔ اسی کا نام ’’وحی حکمی‘‘ ہے اور وحی کی یہ تینوں صورتیں حجت ہیں۔

سوال: اجتہاد کا دروازہ بند ہوگیا تھا، تو اب اسے کھولنا ضروری ہے، بحث کیجئے۔

جواب: اجتہاد کا دروازہ کسی دور میں بند نہیں ہوا۔ صرف اتنی بات ہے کہ جن اجتہادی امور پر خیر القرون میں اجتہاد ہو چکا ہے اور ان کے اسباب و محرکات اور وجوہ و علل بھی جوں کے توں ہیں، ان میں خیر القرون کے اجتہاد کو ہی بنیاد بنانا ضروری ہے۔ ورنہ اگر اجتہاد علی الاجتہاد کا دروازہ اسی طرح کھلا چھوڑ دیا گیا تو اس سے فقہی انارکی پیدا ہوگی اور اجتہادات کو کسی دائرہ اور ضابطہ کا پابند نہیں رکھا جا سکے گا۔

باقی رہے وہ معاملات جن پر اجتہاد کی ضرورت ہے، یا خیر القرون کے وہ اجتہادات جن کے اسباب و علل حالات کے تغیر کی وجہ سے تبدیل ہو چکے ہیں، ان میں اجتہاد کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔ البتہ اجتہاد حق ہے اہلِ اجتہاد کا، ہر کس و ناکس کا نہیں۔ جو حضرات قرآن و حدیث اور دیگر متعلقہ علوم پر اس قدر عبور رکھتے ہیں جو اجتہاد کے لیے ضروری ہیں، ان کے اجتہاد کا حق مسلم ہے اور اس اجتہاد کے موجود و نافذ ہونے میں بھی کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا۔