۱۹۷۳ء کے آئین کی عملداری اور جمہوری عمل کی بحالی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۴ نومبر ۱۹۸۳ء

(کراچی کے ایک ہفت روزہ کا مولانا زاہد الراشدی سے انٹرویو)

مولانا زاہد الراشدی جمعیۃ علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ہیں اور مولانا مفتی محمود مرحوم کے دور سے ہی اس عہدہ پر فائز چلے آتے ہیں۔ آپ کا شمار مفتی صاحب مرحوم کے معتمد رفقاء میں ہوتا ہے اور پاکستان قومی اتحاد کی دستور کمیٹی، منشور کمیٹی اور پارلیمانی بورڈ میں جمعیۃ علماء اسلام کی نمائندگی کرنے کے علاوہ پنجاب قومی اتحاد کے سیکرٹری جنرل بھی رہے ہیں۔

مولانا راشدی کے والد محترم شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر برصغیر کے چند سرکردہ علماء میں سے ہیں، تین درجن کے قریب علمی و تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں، اہل السنۃ والجماعۃ کے دیوبندی مکتب فکر کے مستند ترجمان سمجھے جاتے ہیں اور آپ کے دس ہزار سے زائد شاگرد علماء پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت، برما، افغانستان اور ایران وغیرہ میں علمی و دینی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

مولانا زاہد الراشدی جمعیۃ علماء اسلام (درخواستی گروپ) کے اس وفد میں شامل تھے جو گزشتہ دنوں صدر ضیاء الحق کی دعوت پر ان سے مذاکرات کے لیے راولپنڈی پہنچا مگر مذاکرات کے لبِ بام سے دوچار ہاتھ ادھر ہی کمند ٹوٹ گئی اور جمعیۃ کا وفد مذاکرات کیے بغیر لوٹ واپس گیا۔ صدر ضیاء کے ساتھ جمعیۃ کے مذاکرات کیوں نہ ہو سکے؟ اس کے بارے میں متضاد بیانات سامنے آرہے ہیں۔ ایک طرف مولانا عبید اللہ انور کی اچانک علالت کو مذاکرات کے التواء کا عنوان قرار دیا جا رہا ہے اور دوسری طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ علالت تو صرف جملہ معترضہ ہے دراصل جمعیۃ علماء پاکستان کے وفد کے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد مولانا شاہ احمد نورانی کی پریس کانفرنس کو سنسر کرنے کی کاروائی کے باعث جمعیۃ علماء اسلام کے راہنماؤں نے مذاکرات نہ کرنے میں عافیت محسوس کی اور اس طرح عین وقت پر مذاکرات سے گریز کر کے حکومت کے رویہ پر مؤثر احتجاج کی راہ نکالی۔

اس سلسلہ میں جب مولانا زاہد الراشدی سے رابطہ قائم کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ دونوں وجوہ اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔ اصل قصہ یہ ہے کہ ۱۲ اکتوبر کو جمعیۃ کے اجلاس میں مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ ہوگیا تھا اور اس کے لیے مولانا عبید اللہ انور کی قیادت میں وفد تشکیل دے دیا گیا تھا جس میں مولانا نعمت اللہ سابق ایم این اے کوہاٹ، مولانا علامہ خالد محمود لاہور، مولانا فداء الرحمان درخواستی کراچی اور مجھے شامل کیا گیا۔ مذاکرات کے ایجنڈے میں اسلامی نظام کے نفاذ کے سلسلہ میں موجودہ حکومت کے اقدامات کے علاوہ قادیانی گروہ کی مسلم دشمن سرگرمیاں، جنوبی ایشیا کی علاقائی صورتحال میں پاکستان کا کردار، ۱۹۷۳ء کے آئین کی بحالی، سنسرشپ کے خاتمہ، سیاسی جماعتوں کی بحالی، ملٹری کورٹس کے خاتمہ، الیکشن شیڈول کے تعین اور قومی مسائل میں تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کے نکات شامل تھے۔ پروگرام کے مطابق وفد کے چار ارکان ۱۳ اکتوبر کو ۱۱ بجے تک جامعہ فرقانیہ کوہاٹی بازار راولپنڈی پہنچ گئے جبکہ وفد کے قائد مولانا عبید اللہ انور نے اڑھائی بجے بذریعہ طیارہ پہنچنا تھا۔ ملاقات کا وقت شام پونے پانچ بجے کا طے تھا، اس سے قبل وفد کے ارکان نے آپس میں صلاح مشورہ کرنا تھا اور ساڑھے تین بجے اخبار نویسوں کو ایجنڈا اور دیگر تفاصیل سے آگاہ کرنا تھا۔

ہم جامعہ فرقانیہ میں قائدِ وفد مولانا عبید اللہ انور کے استقبال کی تیاریوں میں تھے کہ لاہور سے مولانا کے فرزند میاں محمد اجمل صاحب قادری کا فون آیا کہ مولانا عبید اللہ انور روانگی کے لیے بالکل تیار تھے اور ان کے رفیق سفر مولانا عبد الوحید دروازے پر ان کے منتظر تھے کہ اچانک ان کی طبیعت خراب ہوگئی ہے اور وہ سفر کے متحمل نہیں رہے اس لیے وہ راولپنڈی نہیں آئیں گے۔ گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی خان اس ملاقات کے اہتمام میں رابطہ کی کڑی تھے اس لیے انہیں اس صورتحال سے فوری طور پر آگاہ کر دیا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ان کا فون آیا کہ ملاقات میں مولانا عبید اللہ انور کی موجودگی بہت زیادہ بہتر ہوتی لیکن اگر وہ معذوری کی وجہ سے پہنچ نہیں سکے تو وفد کے باقی ارکان ملاقات کے لیے ضرور آئیں، صدر صاحب ان کے منتظر ہوں گے۔ اس کے بعد مولانا عبید اللہ انور سے دوبارہ رابطہ قائم کیا گیا تو ان کی طرف سے میاں محمد اجمل قادری صاحب نے جواب دیا کہ وفد کے ارکان حالات کا جائزہ لے کر اپنی صوابدید پر مناسب فیصلہ کر لیں۔

چنانچہ وفد کے ارکان نے جامعہ فرقانیہ میں اس وقت موجود جمعیۃ کے سرکردہ حضرات کے ساتھ تبادلۂ خیالات کیا اور اس موقع پر وہ تفصیلات بھی سامنے آئیں جو جمعیۃ العلماء پاکستان کے راہنماؤں کی پریس کانفرنس کے سنسر ہونے کے بارے میں اس سے قبل پیش آچکی تھیں۔ کافی غوروخوض کے بعد مولانا عبد الستار توحیدی امیر جمعیۃ علماء اسلام راولپنڈی کی زیر صدارت منعقد ہونے والے اس ہنگامی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں شرکت نہ کی جائے۔ اور شریک نہ ہونے کی وجوہ میں دونوں باتوں کا ذکر کیا جائے۔ پہلی یہ کہ وفد کے قائد مولانا عبید اللہ انور کی اچانک علالت کے باعث ان کی عدم موجودگی میں مذاکرات میں حصہ لینا ہم مناسب نہیں سمجھتے۔ اور دوسری وجہ یہ کہ مذاکرات کا آغاز حوصلہ افزا نہیں ہوا اور اس سے قبل مذاکرات کرنے والے سیاسی راہنماؤں کے ساتھ حکومت کا رویہ مثبت نہیں رہا اس لیے ان حالات میں مذاکرات میں شرکت ہمیں بے مقصد معلوم ہوتی ہے۔

اس فیصلہ سے اخبارات کے نمائندوں اور حکومت کے ذمہ دار حضرات کو آگاہ کر دیا گیا۔ اس کے بعد مختلف اطراف سے ہمیں کہا گیا اور اس پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی کہ ہم مذاکرات نہ ہو سکنے کی وجوہ میں صرف علالت کا ذکر کریں اور دوسری وجہ کا ذکر حذف کر دیں۔ لیکن ہم نے عرض کیا کہ ہم نے یہ بات سوچ سمجھ کر کہی ہے اور یہ ہمارے مجموعی موقف کا حصہ ہے اور فی الواقع ہم ایسے مذاکرات کو ضیاع وقت کا باعث اور ان میں شرکت کو بے سود سمجھتے ہیں جن کا کوئی عملی نتیجہ سامنے نہ آئے، یا کم از کم جن مذاکرات کے بعد مذاکرات کے لیے حکومت کے پاس جانے والے سیاسی راہنما رائے عامہ کو اپنے موقف اور مذاکرات کی تفصیلات سے آزادی کے ساتھ آگاہ نہ کر سکیں۔

مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ بعد کے حالات نے ہمارے موقف کی تصدیق کر دی ہے اور متعدد سیاسی راہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کے باوجود وفاقی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں اپنی تقریر کے درمیان صدر ضیاء الحق نے جس شد و مد کے ساتھ اپنے ۱۲ اگست کے سیاسی ڈھانچے کا دفاع کیا ہے اور بالخصوص غیر جماعتی بنیاد پر الیکشن کرانے اور ۱۹۷۳ء کے آئین میں ترامیم کرنے کے بارے میں جو رویہ اختیار کیا ہے اس سے ہمارے یہ خدشات درست ثابت ہوئے ہیں کہ حکومت نے مذاکرات کا راستہ صرف وقت گزارنے کے لیے اختیار کیا ہے ورنہ وہ اپنے طے کردہ راستے پر ہی چلنے کا فیصلہ کیے ہوئے ہے۔

مولانا زاہد الراشدی نے اس سوال کے جواب میں کہ ۱۹۷۳ء کے آئین میں ترامیم اور غیر جماعتی بنیاد پر انتخابات کے بارے میں ان کی جماعت کا نقطۂ نظر کیا ہے؟ کہا کہ جہاں تک ۱۹۷۳ء کے آئین میں ترامیم کی ضرورت کا تعلق ہے ہمیں اس سے انکار نہں۔ ہم صدر اور وزیراعظم کے اختیارات میں توازن قائم کرنے کے حق میں ہیں لیکن توازن کا مطلب یہ نہیں کہ جو مطلق العنان حیثیت وزیراعظم کو حاصل ہے وہ اٹھا کر صدر کے حوالے کر دی جائے، بلکہ توازن کا مطلب دونوں کے درمیان اختیارات کی ایسی تقسیم ہے جس کے ذریعے صدر اور وزیراعظم دونوں باوقار اور با اختیار طور پر اپنے فرائض سرانجام دے سکیں:

  • اسلامی قوانین کے مکمل نفاذ اور غیر اسلامی قوانین اور نظام کے قطعی خاتمہ کی قابل عمل اور خودکار ضمانت آئین میں شامل کی جانی چاہیے۔
  • قادیانی مسئلہ کے سلسلہ میں پارلیمنٹ کے آئینی فیصلہ پر عملدرآمد کے لیے ضروری آئینی تحفظات فراہم ہونے چاہئیں۔
  • ریاست کے ذمے شہریوں کے بنیادی حقوق مثلاً خوراک، لباس، رہائش، تعلیم، علاج، آزادیٔ رائے اور ووٹ وغیرہ کا تعین کر کے ان کے حصول اور تحفظ کے لیے عدالت عالیہ سے رجوع کا آئینی حق ہر شہری کو ملنا چاہیے۔
  • صوبائی خودمختاری کی حدود پر نظرثانی اور مرکز اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی نئی تقسیم بھی اگر وفاق کے چاروں یونٹوں کے اعتماد و اتفاق کے ساتھ ہو سکے تو ہمارے خیال میں بدلتی ہوئی صورتحال میں وفاق کے تحفظ کی خاطر اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

ان کے علاوہ اور ترامیم کی بھی گنجائش ہو سکتی ہے لیکن اصل مسئلہ ترامیم کی ضرورت کا نہیں بلکہ ترامیم کے استحقاق کا ہے۔ اور ہم آئینی ترامیم کی شدت کے ساتھ ضرورت محسوس کرتے ہوئے بھی کسی غیر منتخب حکومت کو یہ حق دینے کے لیے تیار نہیں کہ وہ آئین میں ترامیم کرے۔ ۱۹۷۳ء کا آئین منتخب دستور ساز اسمبلی نے بنایا ہے اور اس میں کسی قسم کی ترمیم کا حق بھی منتخب پارلیمنٹ ہی کو حاصل ہے۔

جہاں تک غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کا تعلق ہے تو یہ انتہائی مضحکہ خیز بات ہے۔ صدر صاحب ایک طرف تو سیاسی جماعتوں کا وجود تسلیم کر کے ان سے سیاسی امور پر گفت و شنید کر رہے ہیں اور دوسری طرف انہیں عام انتخابات میں کوئی رول دینے کو تیار نہیں۔ یہ قطعی غیر منطقی بات ہے، سیاسی معاملات کو سیاستدانوں کے بغیر طے کرنا ایسا ہی ہے جیسے ملک کے دفاع کے لیے باقاعدہ فوج کو سرحدوں سے واپس بلا کر ان مورچوں میں سیاسی کارکنوں کو متعین کر دیا جائے۔ پھر تعجب ان لوگوں پر ہے جو خود تو سیاسی جماعت کے وفد کے طور پر مذاکرات کی میز پر تشریف لے گئے لیکن حمایت غیر جماعتی انتخابات کی فرما رہے ہیں۔ خودسپردگی کا یہ منظر ہماری قومی سیاست کا دلخراش المیہ ہے۔ بات واضح ہے کہ غیر جماعتی بنیاد پر ہونے والے انتخابات قطعی غیر منطقی اور بے جواز انتخابات ہوں گے اور کوئی باشعور شہری یا طبقہ انہیں قبول نہیں کرے گا۔

جماعتی بنیاد پر انتخابات کا ذکر چل رہا تھا کہ ہم نے متناسب نمائندگی کے بارے میں استفسار کر دیا۔ مولانا راشدی نے کہا کہ جمعیۃ علماء اسلام متناسبِ نمائندگی کے حق میں ہے اور اسے موجودہ حالات میں قومی سیاست میں توازن قائم کرنے کا واحد ذریعہ سمجھتی ہے۔ اس لیے اگر ۱۹۷۳ء کے آئین میں ترمیم کیے بغیر متناسب نمائندگی کو اپنایا جا سکتا ہو تو جمعیۃ علماء اسلام کی اس کی بھرپور حمایت کرے گی بشرطیکہ متناسب نمائندگی کے اصول کو مکمل طور پر قبول کیا جائے، آدھا تیتر آدھا بٹیر والی بات نہ ہو۔

اب ہمارے سوال کا رخ ایم آر ڈی کی تحریک کی طرف تھا۔ ہم نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ جب آپ ایم آر ڈی کے مطالبات کی حمایت کر رہے ہیں تو اس میں عملاً شامل ہونے سے کیوں گریزاں ہیں؟ راشدی صاحب نے جواب دیا کہ جہاں تک ۱۹۷۳ء کے آئین کی بحالی، مارشل لاء کے خاتمہ اور عام انتخابات کے ذریعے نمائندہ حکومت کی تشکیل سے متعلق مطالبات ہیں، ہم ان سے پوری طرح متفق ہیں اور بھرپور حمایت کرتے ہیں لیکن ہمارے نزدیک یہ مطالبات اور مقاصد ادھورے ہیں۔ ہمارے مقاصد اور مطالبات میں اسلامی نظام کو سب سے اول اور بنیادی حیثیت حاصل ہے اور ہم جمہوریت کی بات بھی اسلام کے حوالے سے کرتے ہیں، جبکہ ایم آر ڈی نے اسلامی مقاصد اور مطالبات کو یکسر نظر انداز کر رکھا ہے۔

اب ہمارے لیے یہ صورتحال کیسے قابل قبول ہو سکتی ہے کہ ۱۹۷۷ء میں تو ہمارے مطالبات اور مقاصد میں پہلا نمبر نظامِ مصطفٰیؐ کے نفاذ کا اور دوسرا نمبر آزادانہ انتخابات کے انعقاد کا تھا لیکن ۱۹۸۳ء میں ہمارا مقصد سمٹ کر صرف ووٹ کی آزادی تک محددو ہو جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کو ہم نے مکمل طور پر صدر ضیاء کے کھاتے میں ڈال دیا ہے اور اب ہمارا اس سے معاذ اللہ کوئی تعلق نہیں رہا۔ ایم آر ڈی میں ہماری عدم شمولیت کی وجہ یہی ہے اور ایم آر ڈی نہیں بلکہ کوئی بھی سیاسی اتحاد جو اسلامی نظام کو بنیادی مقصد قرار دیے بغیر تشکیل پائے گا ہماری اس میں شمولیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ایم آر ڈی کی موجودہ تحریک کے بارے میں ہمارے سوال کے جواب میں مولانا راشدی نے کہا کہ بنیادی طور پر یہ تحریک جمہوری مطالبات منوانے کی تحریک ہے اور ایم آر ڈی کی قیادت سے شدید اختلاف کے باوجود ہم ایسی کسی پرامن تحریک کے مخالف نہیں ہیں۔ لیکن سندھ میں یہ تحریک پر امن نہیں رہ سکی اور اس میں صوبہ سندھ کی حد تک انتہا پسند ذہن نے غلبہ حاصل کر لیا ہے جس کا نتیجہ تشدد، توڑ پھوڑ اور قتل و غارت کی وارداتوں کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔ یہ ایک خاص عنصر کی کارروائی ہے جس سے خود ایم آر ڈی کو سخت نقصان پہنچا ہے لیکن اس سے بھی انکار کی گنجائش نہیں کہ ان کاروائیوں کو ایم آر ڈی میں شامل بعض مضبوط شخصیات کی پشت پناہی حاصل ہے۔ مسٹر ممتاز علی بھٹو نے گرفتاری سے پہلے ’’سندھو دیش‘‘ اور ’’کنفیڈریشن‘‘ کا جو کاشن دیا تھا موجودہ صورتحال کو اس سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ بہرحال تشدد اور توڑ پھوڑ کے اس المناک پہلو کے باوجود ملک کے باقی حصوں میں ایم آر ڈی کی تحریک اس لحاظ سے تو کامیاب ہے کہ جیسے کیسے گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور حکومت کی طرف سے تمام تر سختی کے باوجود گرفتاریوں کا سلسلہ کم ہونے کی بجائے دھیرے دھیرے وسععت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

لیکن یہ بھی امر واقعہ ہے کہ یہ تحریک ایم آر ڈی میں شامل جماعتوں بالخصوص پیپلز پارٹی کے کارکنوں تک محدود ہے اور عوامی حلقوں کی اس میں شمولیت کے سردست کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔ میرے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ ایم آر ڈی کے بعض لیڈروں کی طرف سے کنفیڈریشن، سندھو دیش اور اس قسم کے نعرے، لندن میں پی پی لیڈروں کی سرگرمیاں اور ایم آر ڈی کے حق کے بھارتی حکمرانوں کے بیانات ایم آر ڈی کی تحریک میں عوام کی دلچسپی میں رکاوٹ بنے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایم آر ڈی کی سنجیدہ قیادت بھی اس صورتحال کو یقیناً محسوس کر رہی ہوگی لیکن وہ انتہاپسند عناصر کے آگے بے بس ہے اور یہی ایم آر ڈی کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

ہمارا آخری سوال ہم خیال جماعتوں کے اتحاد کے بارے میں تھا جس کے جواب میں مولانا زاہد الراشدی نے بتایا کہ ہماری کوشش یہ ہے کہ ایم آر ڈی سے باہر جو جماعتیں اسلامی نظام اور جمہوری عمل کے نکات پر متفق ہیں وہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں اور ملک میں عوامی تحریک کو منظم کریں۔ اس سلسلہ میں جمعیۃ علماء پاکستان، جمعیۃ اہل حدیث، آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس، خاکسار تحریک، پاکستان مسلم لیگ اور دیگر جماعتوں کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے اور نومبر کے پہلے عشرہ میں ہونے والے جمعیۃ علماء اسلام اور جمعیۃ العلماء پاکستان کے مرکزی اجلاسوں کے بعد اس سلسلہ میں کوئی نہ کوئی عملی صورت سامنے آجائے گی۔