متحدہ علماء کونسل کا احیا

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۳ اکتوبر ۲۰۰۸ء

متحدہ مجلسِ عمل کے بکھرنے کا ہمیں اس حوالے سے زیادہ افسوس ہوا تھا کہ اب کوئی مشترکہ پلیٹ فارم موجود نہیں رہا جس پر مختلف دینی مکاتب فکر کے رہنما مشترکہ طور پر اپنے موقف کا اظہار کر سکیں اور ملی و قومی مسائل پر قوم کو دینی رہنمائی میسر آئے۔ ویسے تو قوم کے اجتماعی مسائل پر ملک کے دینی حلقوں کا موقف ہمیشہ یکساں رہا ہے جس کا اظہار پاکستان کی گزشتہ ساٹھ سال کی تاریخ میں کئی بار ہوا ہے۔ ملک میں نفاذِ اسلام کا مسئلہ ہو، ختم نبوت کے تحفظ کی بات ہو، متفقہ دستوری نکات کا مرحلہ ہو، شریعت بل کی تحریک ہو، تحفظِ ناموسِ رسالتؐ کا مسئلہ ہو، ملک کے نظریاتی اسلامی تشخص کی بات ہو، نظامِ مصطفٰیؐ کی تحریک ہو، جہاد افغانستان کا معاملہ ہو یا قومی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کا مسئلہ ہو، ہر بار ایسا ہوا ہے کہ ملی و قومی مسائل پر دینی جماعتوں نے متحد ہو کر اپنے موقف کا اعلان کیا ہے۔ اور یہ بھی پاکستان کی تاریخ کا حصہ ہے کہ کسی ملی یا قومی مسئلہ پر دینی حلقوں نے جب بھی کوئی مشترکہ موقف اور لائحہ عمل پیش کیا اسے قوم کی طرف سے پذیرائی ملی ہے، مگر ہر بار ایسا وقتی طور پر ہوتا رہا ہے اور کوئی ایسا مشترکہ فورم قائم نہیں ہو سکا جو مستقل طور پر اس تسلسل کو جاری رکھ سکے۔

متحدہ مجلس عمل کے قیام پر ہم نے خوشی کا اظہار کیا تھا اور ہمارا خیال تھا کہ چونکہ یہ بہت سارے تجربات کے بعد قائم ہوئی ہے اور وسیع تر ملی مقاصد اس کے اہداف میں شامل ہیں اس لیے یہ دیرپا ہوگی اور قوم کو دینی محاذ پر رہنمائی کے لیے ایک مستقل اجتماعی فورم مل جائے گا۔ لیکن دینی سیاست کے قائدین کی ترجیحات اور مصلحتیں آڑے آئیں اور متحدہ مجلس عمل ان کی تاب نہ لاتے ہوئے بالآخر دم توڑ گئی۔

اس پس منظر میں جب قبائلی علاقے میں آپریشن اور اس کے ساتھ ساتھ نیٹو افواج اور امریکہ کے حملوں کا آغاز ہوا تو اس نازک صورتحال میں اس بات کی شدت کے ساتھ ضرورت محسوس کی جانے لگی کہ کوئی ایسا فورم سامنے آئے جو دینی جماعتوں کے قائدین کی اس آواز کو، جو وہ اپنی اپنی جگہ مسلسل بلند کر رہے ہیں اور کہیں کہیں معمولی جزوی فرق کے باوجود اصولی طور پر ان سب کی آواز میں یکسانیت اور ہم آہنگی موجود ہے، اس آواز کو مشترکہ طور پر قوم کے سامنے لانے کا اس فورم سے اہتمام ہو جائے۔ چنانچہ حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی کی تحریک پر تمام مکاتب فکر کے سرکردہ دینی رہنماؤں کا ایک مشترکہ اعلامیہ دہشت گردی کے حوالے سے پارلیمنٹ کے ان کیمرہ اجلاس کے موقع پر سامنے آیا تو تمام دینی حلقوں میں اس پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ اور ایک طرح سے پارلیمنٹ کے ارکان تک دہشت گردی کے مسئلہ پر ملک کی دینی قیادت کا اجتماعی موقف تفصیل کے ساتھ بروقت پہنچ گیا۔ اس اعلامیہ کی تیاری میں مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی نے راقم الحروف کو بھی مشورہ میں شریک کیا تھا چنانچہ میں نے بھی اس پر دستخط کیے۔ اسی لیے جب اس اعلامیہ کے سامنے آنے کے بعد متحدہ علماء کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف ملک نے فون پر بتایا کہ لاہور میں کم و بیش تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں نے، جن میں مولانا فضل الرحیم، مولانا عبد المالک خان، مولانا ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی اور پروفیسر حافظ محمد سعید شامل ہیں، اس اعلامیہ کی تائید کرتے ہوئے اس کی حمایت میں لاہور میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کے مشترکہ اجلاس کی خواہش ظاہر کی ہے اور اس کے لیے متحدہ علماء کونسل کو بطور فورم سامنے آنے کی تجویز پیش کی ہے تو مجھے مزید خوشی ہوئی اور میں نے بھی بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔

متحدہ علماء کونسل اب سے کم و بیش بیس برس قبل ’’شریعت بل‘‘ کی تحریک کے پس منظر میں قائم ہوئی تھی۔ یہ شریعت بل سینٹ آف پاکستان میں مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیف نے پیش کیا تھا جس میں قرآن و سنت کو دستوری طور پر ملک کا سپریم لاء قرار دینے کی دفعہ سب سے زیادہ اہم تھی۔ شریعت بل کی حمایت میں ملک بھر میں عوامی تحریک منظم ہوئی اور اسی ماحول میں متحدہ علماء کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جس کی سربراہی کے لیے کراچی کے بزرگ عالم دین مولانا مفتی ظفر علی نعمانی کو چنا گیا اور مولانا عبد الرؤف ملک اس کے سیکرٹری جنرل تھے۔ متحدہ علماء کونسل کئی برس تک متحرک رہی اور اس میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے علماء کرام نے سرگرم کردار ادا کیا۔ جن میں مولانا معین الدین لکھوی، مولانا قاضی عبد اللطیف، صاحبزادہ حاجی فضل کریم، پروفیسر حافظ محمد یحییٰ، مولانا عبد المالک خان، حضرت مولانا حسن جان، مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی اور دیگر بعض سرکردہ بزرگ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ جبکہ راقم الحروف بھی متحدہ علماء کونسل کے سرگرم حضرات میں شامل تھا۔ اس کونسل نے شریعت بل کے علاوہ عورت کی حکمرانی اور ملک کو سودی نظام سے نجات دلانے کے مسئلہ پر خاصی محنت کی لیکن بعض عوارض کے باعث یہ دھیرے دھیرے غیر متحرک ہوگئی۔ اب اسے دوبارہ فعال کرنے کی بات ہوئی تو اس کی سب سے زیادہ خوشی مجھے ہوئی کیونکہ میں ایک عرصہ سے یہ واویلا کر رہا ہوں کہ قوم کو ملی و اجتماعی مسائل میں مشترکہ دینی رہنمائی فراہم کرنے کے لیے کسی اجتماعی فورم کی موجودگی وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ چنانچہ ۱۴ اکتوبر کو جب جامعہ نعیمیہ (گڑھی شاہو، لاہور) میں متحدہ علماء کونسل کا اجلاس ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی کی صدارت میں منعقد ہوا تو اس میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام نے نہ صرف شرکت کی بلکہ اس امر سے اتفاق کیا کہ متحدہ علماء کونسل کو دوبارہ متحرک کیا جائے۔ اس مشترکہ اجلاس کی طرف سے جو اعلامیہ جاری ہوا اس میں اکابر علماء کرام کی طرف سے کراچی سے جاری کیے جانے والے مشترکہ اعلامیہ کی تائید کرتے ہوئے:

  • حکومت سے قومی خودمختاری اور ملکی وقار کے تقدس کے تحفظ کے لیے دوٹوک اور جرأت مندانہ موقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
  • قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن فوری طور پر بند کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
  • ملکی سرحدوں کے اندر امریکی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان کی قومی خودمختاری کے منافی قرار دیا گیا۔
  • قبائلی علاقوں کے جائز مطالبات، بالخصوص سوات میں نفاذ شریعت کے مطالبے کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ ان مطالبات کو فوری طور پر منظور کرے۔
  • جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر خودکش حملوں کو ناجائز اور حرام قرار دیتے ہوئے اس کے اسباب و محرکات بالخصوص بین الاقوامی عوامل کو بے نقاب کرنے اور ان کے سدباب کا مطالبہ کیا گیا۔

اور اس نوعیت کے مطالبات پر ۲۱ نکاتی اعلامیہ اجلاس کے فورًا بعد پریس کانفرنس میں جاری کیا گیا لیکن قومی پریس کے ایک مؤثر حلقے نے اس اعلامیہ کے صرف ایک حصے یعنی ’’پاکستان میں خودکش حملے حرام ہیں‘‘ کو اس انداز سے فلیش کیا کہ باقی سارے معاملات و مطالبات دب کر رہ گئے اور عمومی تاثر یہ بنا دیا گیا کہ اس اجلاس کا مقصد ہی گویا صرف خودکش حملوں کو حرام قرار دینے کا اعلان کرنا تھا۔ حالانکہ یہ بات خلاف واقعہ تھی، یہ اجلاس اصلاً علماء کراچی کے مشترکہ اعلامیہ کی تائید کے لیے منعقد کیا گیا تھا اور اس میں مذکورہ اعلامیہ کی تائید کرتے ہوئے اس کے اہم نکات کو دیگر مطالبات کے ساتھ ۲۱ نکاتی اعلامیہ کی صورت میں پیش کیا گیا تھا، لیکن یہ میڈیا کی جادوگری تھی جس نے معاملے کو کچھ کا کچھ بنا دیا۔

اس سلسلہ میں صورتحال کی مزید وضاحت کے لیے ایک اخبار نویس دوست کے ساتھ ٹیلی فون پر اپنے ایک مکالمے کا ذکر کرنا چاہوں گا جس میں مجھے اپنے مزاج اور طبیعت کے خلاف کسی حد تک تلخ لہجہ بھی اختیار کرنا پڑا۔ گزشتہ روز میں پاکستان شریعت کونسل کے صوبائی سیکرٹری جنرل مولانا قاری جمیل الرحمان اختر کے ہمراہ فیصل آباد جا رہا تھا کہ راستے میں ایک صحافی دوست نے فون پر مجھ سے دریافت کیا کہ آپ حضرات نے خودکش حملوں کو حرام قرار دینے کے بارے میں جو فتویٰ جاری کیا ہے اس کے بارے میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے عرض کیا کہ کون سا فتویٰ، ہم نے تو کوئی فتویٰ جاری نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جو جامعہ نعیمیہ کے اجلاس میں جاری کیا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ وہ فتویٰ نہیں تھا بلکہ علماء کے ایک مشترکہ اجلاس کے اعلامیہ کا صرف ایک جملہ تھا جو قرارداد کی صورت میں ہے، مگر میڈیا اس اعلامیہ کی باقی ساری باتوں کو ہضم کر کے اس ایک جملے کو فتویٰ قرار دے کر مسلسل شور مچائے جا رہا ہے۔ مجھ سے اس سلسلہ میں دریافت کیا گیا کہ اعلامیہ اور فتویٰ میں کیا فرق ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ وہی جو سپریم جوڈیشیل کونسل کی کسی رائے اور سپریم کورٹ کے باقاعدہ فیصلے میں ہوتا ہے۔ میں نے گزارش کی کہ نہ ہم سے فتویٰ پوچھا گیا تھا، نہ یہ فقہاء کی مجلس تھی اور نہ ہی اس مجلس کے شرکاء کی اکثریت مفتیان کرام پر مشتمل تھی۔ ہم نے ایک مشترکہ رائے دی جس پر ہم اب بھی قائم ہیں لیکن اسے فتویٰ قرار دینا اور اس کے دیگر تمام پہلوؤں کو نظرانداز کر کے صرف ایک جملے کو دہرائے چلے جانا نہ صرف علماء کرام کے ساتھ زیادتی ہے بلکہ صحافتی دیانت کے بھی خلاف ہے۔

بہرحال یہ نقطۂ آغاز ہے متحدہ علماء کونسل کے دورِ ثانی کا جس کے لیے مولانا عبد الرؤف ملک نے ایک رابطہ کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ ۱۹ اکتوبر کو مولانا عبد الرؤف ملک کی رہائش گاہ پر رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ دینی و ملی مقاصد کے لیے دینی حلقوں کے مشترکہ موقف کے اظہار اور اس کے لیے رائے عامہ کو بیدار و منظم کرنے کی غرض سے متحدہ علماء کونسل کو دوبارہ ہر سطح پر فعال بنایا جائے گا۔ یہ اجلاس مولانا عبد المالک خان کی زیرصدارت منعقد ہوا اور اس میں مولانا عبد الرؤف ملک، مولانا پیر محمد اطہر القادری، حافظ محمد یحییٰ مجاہد اور دیگر حضرات کے علاوہ راقم الحروف نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں طے پایا کہ متحدہ علماء کونسل کے زیراہتمام ۲۳ نومبر کو اسلام آباد میں ’’قومی علماء کنونشن‘‘ منعقد کیا جائے گا جس میں تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام اور دینی رہنماؤں کو شرکت کی دعوت دی جائے گی اور تمام دینی حلقوں کی مشاورت کے ساتھ متحدہ علماء کونسل کے آئندہ لائحہ عمل اور جدوجہد کے پروگرام کا اعلان کیا جائے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔