قادیانی مسئلہ: صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی وضاحت اور اس کے عملی تقاضے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲ دسمبر ۱۹۸۳ء

۱۴ نومبر ۱۹۸۳ء کو شیرانوالہ لاہور میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی دعوت پر ملک کے تمام مذہبی مکاتب فکر کے سرکردہ نمائندوں کا ایک اجلاس حضرت مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ اکابر کے علاوہ جماعت اسلامی کے ذمہ دار حضرات بھی شریک ہوئے۔ اور اس میں چودہ رکنی کنویننگ کمیٹی قائم کر کے اسے مرکزی مجلس عمل ختم نبوت کی تشکیل و تنظیم کے لیے عملی اقدامات کی ذمہ داری سونپی گئی اور ۲۵ نومبر کو لاہور میں کل جماعتی ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا۔

مرکزی مجلس عمل ختم نبوت کی تشکیل اور کل جماعتی ختم نبوت کانفرنس کے انتظامات کے سلسلہ میں گفت و شنید اور اقدامات کا سلسلہ جاری تھا کہ ۱۶ نومبر کو کراچی میں مولانا ولی رازی کی تصنیف ’’ہادیٔ عالمؐ‘‘ کی رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق نے اپنے بارے میں بعض حلقوں کی طرف سے قادیانی ہونے کے پراپیگنڈے کا نوٹس لیا اور قادیانیت کے بارے میں اپنے جذبات و اعتقادات کا پہلی بار کھل کر اظہار کیا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ:

’’میرے والد محترم کا نام محمد اکبر علی تھا، ان کی تمام زندگی قادیانیوں کے ساتھ مخالفت میں گزری۔ وہ کہا کرتے تھے کہ یہ فتنہ انگریزوں نے کھڑا کیا تھا۔ میں انہی کا بیٹا ہوں اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں اسے کافر نہ کہوں۔ میرے نزدیک اگر کافر سے بھی بڑی کوئی چیز ہے تو نبوت کے جھوٹے دعویدار کو وہ بھی کہنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘

صدر نے یہ بھی کہا کہ:

’’اگرچہ میں گنہگار ہوں لیکن مسلمان ہوں۔ رسول اکرمؐ کو نبی آخر الزماں سمجھتا ہوں، ان کے بعد جو شخص بھی دعوائے نبوت کرے یا کہے کہ میں مہدی ہوں وہ میرے نزدیک کافر ہی نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے۔‘‘

صدر نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ:

’’ایک دوست میرے پاس آئے اور کہا کہ آپ ایک بیان دے کر اس معاملے کو ہمیشہ کے لیے ختم کیوں نہیں کر دیتے۔ اس پر میں نے کہا کہ اگر آپ مجھے یقین دلا دیں کہ اس بیان کے بعد یہ سوال نہیں اٹھے گا تو میں مشرق، نوائے وقت اور جنگ میں ایک صفحے کا اشتہار اپنے خرچ پر چھپوانے کو تیار ہوں کہ میں قادیانیوں پر لعنت بھیجتا ہوں۔‘‘ (بحوالہ روزنامہ جسارت کراچی ۔ ۱۷ نومبر ۱۹۸۳ء)

صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی اس دوٹوک اور پرجوش وضاحت کے بعد ان کی ذات کے بارے میں شکوک و شبہات کی وہ دھند چھٹ گئی ہے جو بعض حلقوں کے مسلسل پراپیگنڈے کی وجہ سے فضا پر اثر انداز ہوگئی تھی۔ اور اب کسی شخص یا طبقے کے پاس اس امر کی کوئی قانونی، شرعی یا اخلاقی گنجائش باقی نہیں رہ گئی کہ وہ صدر موصوف کی ذات کا تذکرہ قادیانیت کے حوالے سے کرے یا شکوک و شبہات کے نت نئے نکتے پیدا کرنے کا تکلف روا رکھے۔ لیکن صدر ضیاء کی اس وضاحت کا قادیانی مسئلہ کی مجموعی صورتحال پر کیا اثر پڑا ہے اور مرکزی مجلس عمل ختم نبوت کو اپنی صف بندی اور طریق عمل کے تعین کے لیے اب کیا رخ اختیار کرنا ہوگا، اس مسئلہ کا ٹھنڈے دل کے ساتھ جائزہ لینا ضروری ہے۔

ہم نے صدر ضیاء کو ذاتی طور پر نہ کبھی قادیانی سمجھا ہے اور نہ کہا ہے بلکہ ہمارے کسی مخدوم و محترم بزرگ نے کسی مرحلہ میں اگر اپنی ذاتی رائے کے طور پر اس امر کا اظہار بھی کیا ہے تو ہم نے اس بات سے بلاجھجھک اختلاف کیا ہے۔ ہمارا موقف شروع سے یہ رہا ہے کہ کسی مسلمان کو محض ظاہری قرائن و شواہد کے حوالے سے قادیانی قرار دینا درست نہیں ہے۔ البتہ ہم نے یہ ضرور کہا ہے کہ جب ایک مسلمان ملک کے سربراہ کے بارے میں کھلے بندوں اس قسم کے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جارہا ہو تو اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی پوزیشن کی وضاحت کرے۔ ہمارے نزدیک قادیانی مسئلہ کی بات کو صدر کی ذات کے حوالے سے کرنا ہی غلط تھا۔ بات سرکاری پالیسیوں اور اصولوں کی تھی اور اسے اسی حوالے سے سامنے آنا چاہیے تھا تاکہ ذات کا مسئلہ وضاحت کے عمل سے گزر جانے پر اصول اور پالیسی کی بات کمزور نہ پڑ جائے۔ مگر ہمارے بعض پرجوش بزرگوں نے ذات کو ہدف بنانا ضروری سمجھا اور اس موقف پر اس قدر شدت اختیار کی کہ یہ ہدف سامنے سے ہٹ جانے پر بھی ان کا ذہن صورتحال کی اس تبدیلی کو قبول نہیں کر رہا۔

جہاں تک قادیانی مسئلہ کی مجموعی صورتحال اور صدر ضیاء الحق کی حکومت کی پالیسیوں کا تعلق ہے ہمیں یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ ملتِ اسلامیہ اور قادیانی امت کے تقابل میں حکومت کی مجموعی پالیسیوں کا وزن قادیانیوں کے پلڑے میں جاتا ہے۔ اور گزشتہ چھ برس میں قادیانیت کے حوالے سے مسلسل ایسے واقعات ہوئے ہیں جن سے قادیانی گروہ کی پوزیشن مستحکم ہوئی ہے، ان کے حوصلے بڑھے ہیں جس سے مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات نے جنم لیا ہے۔ اور یہی شکوک و شبہات بالآخر اس مفروضے کی تخلیق کی بنیاد بنے ہیں جس کی تردید و وضاحت میں صدر ضیاء الحق کو مذکورہ بالا بیان دینا پڑا ہے۔ صدر موصوف کو قادیانی قرار دینے میں ایسا کرنے والوں کے ذہنوں کی شدت اور سیاسی عوامل بھی یقیناً کارفرما ہوں گے لیکن ان سے کہیں زیادہ اس میں صدر موصوف کی حکومت کی ان پالیسیوں کا دخل ہے جو گزشتہ چھ برس سے قادیانیت کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔ اور اگر ان پالیسیوں اور اقدامات کے تسلسل کو خود صدر محترم ایک عام شہری کی نظر سے دیکھیں گے تو ان کا راہوارِ فکر بھی یقیناً اسی راہ پر دوڑے گا جو تھوڑی دور چل کر انسان کو شکوک و شبہات کی دلدل سے دوچار کر دیتا ہے۔

اس مرحلہ پر ہم یہ مناسب سمجھتے ہیں کہ قادیانیت کے سلسلہ میں ضیاء حکومت کی مجموعی پالیسی پر ایک نظر ڈال لی جائے اور قادیانیت کے حوالے سے سرکاری اقدامات کے تسلسل کو سامنے رکھ لیا جائے تاکہ قادیانی مسئلہ کے بارے میں مرکزی مجلس عمل کے موقف، ہدف اور طریق کار کے تعین میں کوئی الجھاؤ باقی نہ رہے۔

آئینی فیصلہ پر عملدرآمد

صدر ضیاء جولائی ۱۹۷۷ء میں برسرِ اقتدار آئے تھے اور ان کا مسندِ اقتدار پر فائز ہونا نتیجہ تھا اس بے مثال تحریک کا جس میں پاکستان کے عوام، علماء، طلباء، وکلاء، تاجروں، خواتین، محنت کشوں اور دیگر تمام طبقوں نے ظلم و جبر کے تاریک دور سے نجات اور نظامِ مصطفٰیؐ کے نفاذ کے جذبے سے قربانیاں دیں۔ ہزاروں نوجوانوں نے خون کا نذرانہ پیش کیا اور لاکھوں جیالوں نے جیلوں کی کال کوٹھڑیوں کو آباد کیا۔ پردہ دار خواتین نے اپنے آنچلوں کو تحریک نظامِ مصطفٰیؐ کا پرچم بنا کر ایثار و قربانی کی تاریخ میں نیا باب رقم کیا اور علماء نے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملتِ اسلامیہ کی متحدہ اور جرأت مندانہ قیادت کی۔ اس عظیم الشان تحریک کے نتیجے میں جب صدر ضیاء نے برسرِ اقتدار آکر انتخابات کرانے اور اسلامی نظام نافذ کرنے کا وعدہ کیا تو پوری قوم نے جشن منایا اور مسرت و شادمانی کا برملا اظہار کیا۔

یہ ایک لازوال حقیقت ہے کہ پاکستان کے عوام کے لیے اسلامی نظام کا نفاذ اور عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ ہی ہر دور میں جذباتی اور حساس مسئلے رہے ہیں۔ ان مقاصد کے لیے پاکستانی عوام نے ہمیشہ مصلحتوں سے بالاتر ہو کر قربانیاں دی ہیں اور اسلام اور ختم نبوت نے جب بھی پکارا ہے، غیور مسلمانوں نے سود و زیاں سے بے نیاز ہو کر سب کچھ نثار کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب صدر ضیاء نے اسلامی نظام کے نفاذ کا وعدہ کیا تو پاکستانی عوام نے بجا طور پر ان سے یہ توقع باندھ لی کہ وہ اسلامی نظام کے ساتھ ساتھ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے دینی اور قومی مسئلہ پر بھی توجہ دیں گے، اور ۱۹۷۳ء کے آئین میں ملتِ اسلامیہ نے ۱۹۷۴ء کی عظیم الشان تحریک ختم نبوت کے نتیجہ میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا جو فیصلہ شامل کرایا تھا اس پر عملدرآمد کی راہ میں سابقہ حکومت کی مصلحتوں کی دیوار ہٹ جائے گی اور یہ فیصلہ اپنے آئینی اور دینی تقاضوں کی تکمیل کی منزل سے ہمکنار ہوگا۔ مسلمانوں کو بجا طور پر یہ توقع تھی کہ:

  • قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے آئینی فیصلوں کے مطابق اب قانون سازی کا کام مکمل ہوگا۔
  • قادیانیوں کو غیر مسلم کی حیثیت قبول کرنے پر قانوناً پابند کیا جائے گا۔
  • انہیں اسلام کے نام پر اپنے مذہب کی اشاعت سے روک دیا جائے گا۔
  • انہیں امیر المؤمنین، ام المؤمنین، خلیفہ، صحابی اور دیگر خالص اسلامی اصطلاحات کے استعمال سے باز کر دیا جائے گا۔
  • ان کی عبادت گاہوں کا نام اور ہیئت مسلمانوں کی مسجد سے الگ کر دی جائے گی۔
  • اسلام کے اجماعی عقائد کے خلاف اور انبیاء کرامؑ اور صحابہ کرامؓ و بزرگان امتؒ کی کھلم کھلا توہین پر مشتمل قادیانی لٹریچر کی اشاعت پر پابندی لگا دی جائے گی۔
  • اور ان کی سرگرمیوں کو دوسری اقلیتوں کی طرح عملاً غیر مسلم اقلیت کے دائرہ میں محصور کر دیا جائے گا۔ؔ

لیکن اسلامیانِ پاکستان کی یہ توقعات نقش بر آب ثابت ہوئیں اور نہ صرف یہ کہ ختم نبوت کے تحفظ کے سلسلہ میں موجودہ حکومت کا کوئی اقدام (چند جزوی اور وقتی اقدامات سے قطع نظر) ابھی تک سامنے نہیں آیا بلکہ اسلامی نظام کے نفاذ کے سلسلہ میں حکومت کے وعدے اور اقدامات بھی حکومت کی مصلحتوں اور بیوروکریسی کی اٹھکیلیوں کی نذر ہوگئے۔ بھٹو حکومت نے اگر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے آئینی فیصلے پر عملدرآمد کی راہ میں مصلحتوں کی دیوار حائل کر دی تھی تو اس کی وجہ سمجھ میں آتی تھی کہ وہ خود نفاذِ اسلام کے دعویدار نہ تھے اور نہ ہی اب ان کی جماعت اسلام کی دعویدار ہے۔ وہ تب بھی سوشلزم کی بات کرتے تھے اور آج بھی اسی حوالے سے سیاست کا ناٹک رچا رہے ہیں۔ اس میں انہوں نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہوئے نہیں بلکہ عوام کے بے پناہ دباؤ کے تحت کیا تھا۔ اس لیے اگر انہوں نے اس فیصلہ پر عملدرآمد کی طرف پیش رفت نہیں کی تو یہ بات پاکستانی مسلمانوں کے لیے زیادہ پریشانی کا باعث نہ تھی۔ مگر جب اسلام کی دعویدار اور اسلام کو اپنا مشن قرار دینے والی حکومت نے ختم نبوت کے تحفظ کے آئینی و قانونی تقاضوں کو نظر انداز کر دیا تو اس کا مسلمانوں کو صدمہ پہنچا، دکھ ہوا۔ اور یہی صدمہ اور دکھ دھیرے دھیرے حساس دلوں کو شکوک و شبہات کی وادی میں لے گیا۔

مارشل لاء کے ضابطے اور قادیانی پریس

مارشل لاء حکومت جب برسرِ اقتدار آئی تو اس نے پریس پر سنسرشپ نافذ کر دی اور اخبارات و جرائد اور کتابوں پر سنسر کے قواعد کا اطلاق کیا۔ لیکن امر واقعہ ہے کہ قادیانی اخبارات و جرائد، کتابیں و رسائل اور دیگر مطبوعات اب تک سنسر کی گرفت سے دور ہیں۔ دینی حلقوں کے مسلسل مطالبہ پر کچھ دنوں کے لیے روزنامہ الفضل اور ان کے چند ماہناموں پر سنسر بٹھا دیا گیا مگر اس کی گرفت بھی ڈھیلی پڑ گئی۔ جبکہ اس کے برعکس ملک بھر میں سنسر کے قوانین کا سختی کے ساتھ اطلاق کیا گیا۔ متعدد اخبارات و جرائد بند ہوگئے، ڈیکلیریشن ضبط کر لیے گئے، سرکاری اشتہارات روک لیے گئے، مدیرانِ جرائد گرفتار ہوئے اور سنسرشپ کی گرفت کو قائم رکھنے کے لیے ہر حربہ آزمایا گیا مگر قادیانی اخبارات و جرائد ان تمام کاروائیوں سے مستثنیٰ رہے۔ اکا دکا اور جزوی واقعات کے سوا قادیانی قلمکاروں اور ناشروں کو اس بات کا مکمل تحفظ حاصل ہے کہ وہ جو چاہیں لکھیں اور جو چاہیں چھاپیں، ان کے لیے کوئی قاعدہ ہے نہ قانون۔ اور اگر گزشتہ چھ برس کے دوران شائع ہونے والے قادیانی لٹریچر کی چھان بین کسی غیرجانبدار انکوائری ٹیم سے کرائی جائے تو ایسا بے پناہ مواد ریکارڈ پر آسکتا ہے جو سنسر قوانین کے سائے میں سنسرشپ کے تقاضوں کو پامال کرتے ہوئے دھڑا دھڑ چھپتا اور تقسیم ہوتا رہا ہے اور اب بھی ہو رہا ہے۔

ووٹر فارموں کا حلف نامہ

قادیانیت کے حوالے سے موجودہ حکومت کو اگر کسی اہم فیصلے کا کریڈٹ جاتا ہے تو وہ جداگانہ انتخابات کا فیصلہ ہے، یہ فیصلہ بلاشبہ قادیانیوں پر ضربِ کاری کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور اگر اس فیصلہ پر مخلصانہ طور پر عمل ہو جاتا یا اب بھی اس کا اہتمام ہو جائے تو قادیانیوں کے لیے خود کو اقلیتوں کے کیمپ میں منتقل کرنے کے سوا کوئی چارۂ کار باقی نہیں رہ جاتا۔ لیکن اس فیصلے کو سبوتاژ کرنے کے لیے کیا کیا حربے اختیار کیے گئے ان کی داستان انتہائی دلخراش ہے۔ انتخابات کے لیے ووٹروں کے اندراج کے لیے مسلمانوں کو حلف نامہ پر کرنا تھا جس میں عقیدۂ ختم نبوت پر ایمان کے بارے میں آئینی فیصلے کے مطابق عبارت درج ہونا تھی۔ لیکن کروڑوں کی تعداد میں ووٹر فارم ملک میں پھیلا دیے گئے اور اس پر آئینی اور قانونی عبارت کی جگہ ایسا گول مول حلف نامہ درج کر دیا گیا جو قادیانیوں کے لیے قابل قبول تھا اور جس سے مسلمان اور قادیانی کے درمیان امتیاز نہ ہوتا تھا۔ یہ ایک چور دروازہ تھا جس کے ذریعے قادیانی بھی مسلمانوں والا فارم پر کر کے مسلمان ووٹروں کی فہرست میں شامل ہو جاتے اور انہیں غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ عملاً بے اثر اور بے نتیجہ ہو کر رہ جاتا۔

اس پر احتجاج ہوا، مجلس تحفظ ختم نبوت اور دیگر جماعتوں نے ملک کے طول و عرض میں اس پر احتجاج کیا اور سب سے بڑھ کر حضرت مولانا مفتی محمودؒ نے اس مسئلہ کا سختی سے نوٹس لیا اور کافی تگ و دو اور ردوکد کے بعد بالآخر حلف نامہ کی عبارت کو درست کرایا گیا۔ قادیانی گروہ نے بیوروکریسی کے ذریعے کی جانے والی اس سازش کی ناکامی کے بعد ووٹروں کی فہرستوں میں اقلیت کے افراد کے طور پر اپنے نام لکھوانے سے انکار کر دیا اور اب تک وہ بائیکاٹ کے اس فیصلے پر قائم ہیں۔ مگر آئین اور قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور اس سے انکار کے باوجود ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی۔

۱۹۷۳ء کے آئین کی حذف شدہ دفعات

موجودہ حکومت نے مبینہ طور پر بعض آئینی و قانونی تقاضوں کے پیش نظر ۱۹۷۳ء کے آئین کی بعض دفعات کو آئین سے حذف کرنے کا اعلان کیا تو اس کی زد میں وہ دفعات بھی آگئیں جو ۱۹۷۴ء میں تحریک ختم نبوت اور عوامی قربانیوں کے نتیجے میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی شکل میں آئین میں شامل کی گئی تھیں۔ اس پر پورے ملک میں احتجاج ہوا، لمبی چوڑی آئینی بحث ہوئی بالآخر حکومت کو مذکورہ بالا دفعات کے حذف کرنے کے بارے میں اپنے حکم نامے میں ترمیم کرنی پڑی۔ جس سے عام حلقوں میں تو کچھ اطمینان پیدا ہوا لیکن بعض آئینی ماہرین کی رائے میں اب بھی آئینی پوزیشن یہی ہے کہ قادیانیوں والا فیصلہ ۱۹۷۳ء کے آئین کا حصہ نہیں رہا۔

عبوری آئین اور قادیانی مسئلہ

موجودہ حکومت نے نظام مملکت کو چلانے کے لیے عبوری آئین کا اعلان کیا جو ابھی نافذ ہے۔ اس آئین میں مسلمان کی تعریف کے حوالے سے عقیدۂ ختم نبوت کا ذکر تو آگیا لیکن ۱۹۷۳ء کے آئین کی جن دفعات میں قادیانیوں کا بطور غیر مسلم اقلیت ذکر تھا انہیں شامل نہ کیا گیا۔ اس پر دینی حلقوں کی طرف سے احتجاج ہوا اور مسلسل مطالبات پر بعد میں ان دفعات کو آئین میں شامل کیا گیا۔

پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ

قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے تقاضوں میں ایک تقاضہ یہ بھی تھا کہ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ بڑھایا جائے تاکہ ہر شہری کا مذہب اس میں درج ہو اور کوئی الجھن پیدا نہ ہو۔ اس کی ضرورت اس لیے بھی پیش آئی کہ سعودی عرب اور بعض دیگر اسلامی ممالک میں قادیانیوں کے داخلہ پر پابندی ہے لیکن پاسپورٹ اور شناختی کارڈ پر مذہب کا اندراج نہ ہونے کی وجہ سے قادیانی امت کے افراد دھوکہ دہی کے ذریعے وہاں جانے اور ملازمتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور جب اس ملک کے حکام سے رابطہ کیا جاتا ہے تو وہ برملا کہہ دیتے ہیں کہ یہ قصور آپ کی اپنی حکومت کا ہے کہ اس نے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ نہیں رکھا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ہزاروں قادیانی مشرق وسطیٰ میں ملازمت کر رہے ہیں اور ان کی ملازمت سے ہمیں سب سے زیادہ یہ خطرہ اور خدشہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تیل کے چشمے اس وقت عالمی طاقتوں کی کشمکش کی زد میں ہیں اور خطرات دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں قادیانی گروہ جیسے انگریزوں کے پیدا کردہ جاسوس گروہ کے افراد کا اس علاقے میں ملازمتوں پر فائز ہونا اور مسلمانوں کے روپ میں وہاں موجود ہونا مسلمان ممالک اور حکومت کے لیے خطرہ ہی خطرہ ہے۔ حکومت پاکستان کو اس طرف متعدد بار توجہ دلائی گئی ہے اور دینی حلقے اس پر مسلسل زور دے رہے ہیں لیکن حکومت کو اس خطرہ کی سنگینی کا احساس تک نہیں ہے اور نہ ہی وہ اقدامات کے لیے تیار ہے۔

ڈاکٹر عبد السلام کی پذیرائی

ڈاکٹر عبد السلام معروف قادیانی سائنسدان ہیں، انہیں سائنسی تحقیق پر نوبل انعام ملا لیکن حکومت پاکستان نے سرکاری سطح پر ان کی پذیرائی کا جس طرح اہتمام کیا اس سے مسلمانوں کا ماتھا ٹھنکا کہ آخر اس کا پس منظر کیا ہے۔ انہیں مسلمان سائنسدان کے طور پر متعارف کرایا گیا اور اس واقعہ نے تو دردمند مسلمانوں کو خون کے آنسو رلا دیا کہ اسی ہال میں ڈاکٹر عبد السلام کا مسلمان سائنسدان کے طور پر تعارف کرا کے ان کے اعزاز و تکریم کی محفل سجائی گئی جس ہال میں بیٹھ کر قوم کے منتخب نمائندوں نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا تاریخی فیصلہ کیا تھا۔ اور ستم بالائے ستم یہ کہ سب کچھ صدر مملکت کی موجودگی میں ہوا۔ ملتِ اسلامیہ نے اسے اپنے جذبات اور قومی فیصلہ کی توہین سمجھا، جذبات بھڑکے، احتجاج ہوا اور ملتِ اسلامیہ کے دینی جذبات کی نمائندگی کرنے والے پرجوش نوجوانوں نے مقدس خون سے وطن کی سڑکوں کو رنگ کر دردمند مسلمانوں کے دلوں کے گھاؤ کو اور زیادہ گہرا کر دیا گیا۔

ڈاکٹر عبد السلام کو نوبل انعام ملنے اور پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں اس قدر پذیرائی ملنے پر دل میں یہ بات کھٹکتی ہے کہ آخر قصہ کیا ہے؟ مگر جب یہ بات منظر عام پر آئی کہ مسلمانوں کی بین الاقوامی سائنس فاؤنڈیشن کا سربراہ ڈاکٹر عبد السلام کو بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تو سارے عقدے کھل گئے اور کوئی راز راز نہ رہا۔ یہ سامراجی طاقتوں کی مخصوص حکمت عملی کا ایک حصہ ہے جس کے تحت انہوں نے اپنی مرضی اور اعتماد کے ایک شخص کو نوبل انعام کی منزل تک پہنچایا اور پھر اس کے بہانے پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں اس کی پذیرائی اور اس کا امیج بڑھانے کا اہتمام کیا گیا تاکہ اسے اسلامک عالمی سائنس فاؤنڈیشن کا سربراہ بنانے کی راہ ہموار ہو۔ اور جب عالمی اسلامک سائنس فاؤنڈیشن کا سربراہ سامراجی قوتوں کے اعتماد اور مرضی کا شخص ہوگا تو سائنس اور ٹیکنالوجی میں مسلمانوں کی ترقی کا رخ اپنی مرضی سے متعین کرنا کونسا مشکل رہے گا۔ مگر ہمارے حکمران یا تو اس بین الاقوامی چال کو سمجھ نہ سکے اور یا پھر وہ عالمی مصلحتوں کے حصار میں خود کو بے بس پا رہے ہیں۔

ربوہ کی حیثیت

ربوہ کو قادیانیوں نے پاکستان بننے کے بعد اپنے ہیڈ کوارٹر کے طور پر آباد کیا اور اس کا نام جان بوجھ کر ’’ربوہ‘‘ رکھا کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی ’’مسیح‘‘ ہونے کے دعویدار ہیں اور قرآن کریم نے جس ذات گرامی کو مسیح قرار دیا ہے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور ان کے حوالے سے قرآن کریم میں یہ ذکر ہے کہ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ محترم کو ’’ربوہ‘‘ میں جگہ دی۔ ربوہ کا معنٰی ہے اونچی جگہ۔ قادیانیوں نے عمدًا اپنے نئے ہیڈکوارٹر کا نام ربوہ رکھا تاکہ عام لوگ ایک طرف مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں میں اپنے بارے میں ’’مسیح ثانی‘‘ ہونے کا دعویٰ پڑھیں اور دوسری طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے قرآن کریم میں ربوہ کا نام دیکھیں تو ان کے ذہنوں میں التباس پیدا ہو اور اس التباس کو دھوکہ دہی کے جال کے طور پر استعمال کر کے انہیں قادیانیت کے لیے شکار کیا جائے۔ اور پھر اس ربوہ کی آباد کاری اس طرح کی گئی کہ وہ صرف قادیانیوں کے لیے مخصوص ہو کر رہ گیا اور کسی مسلمان کے لیے ربوہ میں آباد ہونے کی گنجائش نہ رہی۔

۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران مرکزی مجلس عمل کے مطالبات میں سے ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے اور اس میں مسلمانوں کو آباد ہونے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ چنانچہ تحریک کی کامیابی کے بعد ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کے لیے مندرجہ ذیل عملی اقدامات کیے گئے:

  • ٹاؤن کمیٹی کی حدود کو وسعت دے کر اردگرد کے مسلمان دیہات کو اس میں شامل کیا گیا۔
  • پولیس چوکی ربوہ کو تھانہ کی حیثیت دی گئی اور اس میں تھانہ چنیوٹ اور تھانہ لالیاں کے مسلمان دیہات کو شامل کیا گیا۔
  • ربوہ میں مستقل ریزیڈنٹ مجسٹریٹ کی تقرری عمل میں لائی گئی۔
  • لالیاں کی سب تحصیل ربوہ میں منتقل کی گئی اور سب تحصیل کا عملہ وہاں متعین کیا گیا۔
  • قادیانیوں کی الاٹمنٹ میں سے تیس ایکڑ واپس لے کر اور بیس ایکڑ مزید زمین خرید کر ربوہ کے اندر مسلم کالونی بنائی گئی اور ان پلاٹوں کی الاٹمنٹ کا کام فیصل آباد ہاؤسنگ سوسائٹی کی سپرد کیا گیا۔

ظاہر ہے یہ اقدامات قادیانیوں کے مفاد میں نہیں تھے۔ سازش اور جاسوسی جس گروہ کے ضمیر میں ہو اسے بہرحال الگ تھلگ ماحول کی ضرورت ہوتی ہے اور تحصیل اور تھانہ کے واسطے سے ہزاروں مسلمانوں کی ربوہ میں آمد و رفت یقیناً قادیانیوں کی مخصوص سرگرمیوں کی راہ میں رکاوٹ تھی۔ یہ اقدامات سابقہ حکومت کے ہیں جنہیں اسلام کے نفاذ کا دعویٰ نہیں تھا۔ موجودہ حکومت سے توقع تو یہ تھی کہ اس کے دور میں ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کے فیصلوں پر نہ صرف عمل ہوگا بلکہ مزید اقدامات بھی ہوں گے۔ مگر اس احساس کو دکھ کے سوا اور کیا عنوان دیا جا سکتا ہے کہ پہلے سے طے شدہ فیصلے بھی ابھی تشنۂ تکمیل ہیں اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ:

  • لالیاں سب تحصیل کے ہیڈکوارٹر کو ایک سازش کے تحت ربوہ سے دوبارہ لالیاں منتقل کرایا گیا اور مسلمان عوام کے شدید احتجاج پر اب پھر سب تحصیل ربوہ لائی گئی ہے۔
  • مسلم کالونی کے پلاٹوں کی الاٹمنٹ کا کام ایک عرصہ سے معطل پڑا ہے اور اس تعطل کو دور کرنے کے لیے کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آرہی۔

قادیانی کلیدی اسامیوں پر

۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کے بنیادی مطالبات میں ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ فوج اور سول محکموں کی کلیدی اسامیوں پر فائز قادیانی افسران کو ان کے عہدوں سے الگ کیا جائے کیونکہ:

  • ایک مسلمان ملک میں کلیدی عہدوں پر غیر مسلموں کو فائز نہیں کیا جا سکتا۔
  • قادیانی اپنے مخصوص جاسوسی کردار اور عالمی سامراجی طاقتوں کا گماشتہ ہونے کے باعث اس اعتماد کے اہل نہیں کہ انہیں کلیدی عہدوں پر فائز کیا جائے۔
  • مرزا غلام احمد قادیانی نے جہاد کی حرمت اور منسوخی کا اعلان کیا تھا جبکہ پاکستانی فوج کی بنیاد ہی جذبۂ جہاد پر ہے۔ اس لیے فوج میں قادیانی امت کے افراد کی بھرتی اور قادیانی آفیسرز کا تقرر بلاجواز اور خود ان کے عقیدے کے خلاف بلکہ پاکستان کے مجموعی مفاد کے بھی خلاف ہے۔

ملتِ اسلامیہ کے اس مطالبے پر ۱۹۷۴ء میں ان قادیانیوں کو سامنے سے ہٹا لیا گیا تھا جو نمایاں کلیدی عہدوں پر فوج اور سول میں نظر آرہے تھے۔ لیکن موجودہ حکومت کے دور میں فوج اور سول دونوں شعبوں میں قادیانی افسران دوبارہ کلیدی اسامیوں پر فائز ہو چکے ہیں اور ان کے اثر و رسوخ کا یہ عالم ہے کہ وہ حکومت کی مجموعی پالیسیوں کا رخ اپنے مفادات کی طرف موڑنے پر دسترس رکھتے ہیں جیسا کہ مذکورہ بالا مثالوں سے واضح ہے۔ یہ بات ملت اسلامیہ کے لیے سب سے زیادہ پریشان کن ہے اور باخبر حلقے فوج اور سول میں کلیدی اسامیوں پر قادیانیوں کی واپسی کو جنوبی ایشیا کی موجودہ علاقائی صورتحال، اس خطہ میں عالمی طاقتوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور پاکستان کی سلامتی کو درپیش خدشات کے پس منظر میں بھی شدید خطرات کا پیش خیمہ سمجھ رہے ہیں۔

مولانا محمد اسلم قریشی کا اغوا

مولانا محمد اسلم قریشی کے اغوا اور ان کی بازیابی میں مسلسل نو ماہ کی تاخیر نے بھی مسلمانوں کے اس احساس اور شبہ کو تقویت پہنچائی ہے کہ قادیانی گروہ موجودہ حکومت کے سائے میں خود کو نہ صرف مضبوط دیکھ رہا ہے بلکہ مسلمانوں کے خلاف جارحانہ اقدامات اور اشتعال انگیز کاروائیوں کا بھی حوصلہ رکھتا ہے۔ مولانا محمد اسلم قریشی کا اغوا قادیانیوں نے کیا اور اس ضمن میں مولانا موصوف کے فرزند صہیب اسلم قریشی کو اغوا کرنے کی کوشش میں گرفتار ہونے والے شخص صفدر رانا نے کرائمز برانچ کی تفتیش میں اعتراف کیا ہے کہ وہ قادیانی گروہ کے سربراہ مرزا طاہر سے ملا ہے اور ان کے حکم پر لاہور میں ریٹائرڈ قادیانی بریگیڈیر وکیع الزمان سے ملا ہے اور پھر اس کی ہدایت پر سیالکوٹ میں صہیب اسلم قریشی سے ملاقاتوں کا سلسلہ اس نے جاری رکھا ہے۔ ملت اسلامیہ کا مطالبہ ہے کہ مرزا طاہر کو گرفتار کر کے اسلم قریشی کیس میں شامل تفتیش کیا جائے اور جب صفدر رانا نے تسلیم کیا ہے کہ مرزا طاہر اس کیس میں ملوث ہیں مگر حکومت مولانا اسلم قریشی کیس میں مرزا طاہر کو شامل تفتیش کرنے سے مسلسل گریزاں ہے بلکہ اس کیس کا رخ موڑنے کی جو کوشش کی جا رہی ہے وہ انتہائی افسوسناک بات ہے۔

ربوہ کالج کی زمین

جب ملک میں پرائیویٹ تعلیمی ادارے قومی ملکیت میں لیے گئے تو ان کے ساتھ ان کی جائیدادیں بھی قومیا لی گئیں لیکن ربوہ کے تعلیم الاسلام کالج کو قومیاتے وقت اس کے ساتھ ملحقہ کروڑوں روپے کی جائیداد کو قادیانیوں کے تصرف میں رہنے دیا گیا اور مسلمانوں کے مسلسل مطالبے کے باوجود ربوہ کالج کی زمین کو قومیانے سے عملاً گریز کیا جا رہا ہے۔ ایک مرحلہ میں موجودہ حکومت کے سربراہ نے اس کے احکام جاری کر دیے تھے مگر خدا جانے وہ احکام کونسے سرد خانے میں ہیں کیونکہ ربوہ کالج کی زمین ابھی تک قادیانیوں کے تصرف میں ہے۔

یہ ہیں وہ چند واقعات اور حکومت کے اقدامات اور پالیسیوں کا تسلسل جس نے لوگوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات کو جنم دیا اور وہ شبہات بڑھتے بڑھتے اس موڑ پر آ پہنچے کہ بعض حلقے خود صدر محمد ضیاء الحق کو قادیانی قرار دینے سے بھی نہیں ہچکچائے اور صدر موصوف کو اپنے عقیدہ اور جذبات کا اظہار کرنا پڑا۔ صدر محمد ضیاء الحق کی وضاحت سے ہمیں خوشی ہوئی ہے اور ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن یہ وضاحت ان کی ذات کی حد تک ہے جبکہ ان کی پالیسیوں کا مسئلہ جوں کا توں ہے اور اس وقت تک جوں کا توں رہے گا جب تک صدر کے ذاتی عقائد و جذبات کی واضح جھلک ان کی حکومت کی پالیسیوں میں نظر نہیں آتی۔

تمام مذہبی مکاتب فکر کے اکابر نے مرکزی مجلس عمل کی تشکیل کا فیصلہ اسی لیے کیا ہے کہ وہ قادیانی فتنہ کو ملک و ملت کے لیے تباہ کن سمجھتے ہیں، اس گروہ کی اندرون ملک اور بیرون ملک سرگرمیوں کو ملک و قوم کے لیے شدید خطرات کا باعث سمجھتے ہیں، کلیدی اسامیوں پر قادیانیوں کی واپسی کو ملک و ملت کے مفاد کے خلاف گردانتے ہیں، ان کی بڑھتی ہوئی جارحانہ سرگرمیوں اور مولانا محمد اسلم قریشی کے اغواء کو ملت اسلامیہ کے خلاف چیلنج خیال کرتے ہیں، اور ملت اسلامیہ کے اکابر دیانت داری کے ساتھ یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس وسعت پذیر فتنہ کی سرکوبی کے لیے فوری اور مشترکہ جدوجہد نہ کی گئی اور اس کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ کو کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ فتنہ ملک و قوم کے لیے شدید نقصانات کا باعث بنے گا۔

صدر محمد ضیاء الحق اور ان کے رفقاء کو اس صورتحال کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا چاہیے اور ملت اسلامیہ کی شکایات پر ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ غور کرنا چاہیے۔ قادیانی جارحیت کے خلاف ملت اسلامیہ کی متحدہ جدوجہد ناگزیر ہے، اس جدوجہد میں حکومت اپنا مقام خود متعین کرے، اسے ملت اسلامیہ کے خلاف قادیانیوں کا فریق بننے سے گریز کرنا چاہیے۔ اور اگر خدانخواستہ حکمرانوں نے اپنے لیے یہی رول پسند کر لیا ہے تو پھر عوامی اور دینی بیداری کی راہ تو بہرحال کسی طرح بھی نہیں روکی جا سکے گی البتہ اس کے نتائج و نقصانات کا اندازہ حکمران گروہ جتنی جلدی کر لے بہتر ہوگا۔