جنوبی ایشیا پر امریکی تسلط کی پالیسی اور اس کا سدباب!

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳ جنوری ۲۰۰۹ء

مولانا فضل الرحمان صاحب کے ساتھ کافی عرصہ کے بعد ملاقات ہوئی، وہ گزشتہ دنوں گوجرانوالہ میں جمعیۃ علماء اسلام کے ضلعی امیر مولانا قاری عبد القدوس عابدؒ کی وفات پر تعزیت کے لیے تشریف لائے اور گکھڑ میں والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کی بیمار پرسی کے لیے بھی گئے جو ہجری اعتبار سے ستانوے برس کے پیٹے میں ہیں اور کئی برس سے صاحبِ فراش ہیں مگر ضعف، بیماریوں کے ہجوم اور نقاہت کے باوجود بحمد اللہ یادداشت پوری طرح قائم ہے۔

قاری عبد القدوس عابدؒ ہمارے پرانے ساتھیوں میں سے تھے، گکھڑ میں تجوید و قرأت کی تعلیم حاصل کی، مدرسہ نصرۃ العلوم میں بھی پڑھتے رہے، جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم کارکن تھے، گوجرانوالہ شہر کے چوک پونڈانوالہ کے ساتھ جامعہ عثمانیہ کے نام سے جامع مسجد اور دینی مدرسہ چلا رہے تھے۔ یہ مدرسہ جمعیۃ علماء اسلام کی سرگرمیوں کا مرکز چلا آرہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کو شام کے کھانے کی دعوت مولانا سید عبد المالک شاہ نے دے رکھی تھی جو مدرسہ نصرۃ العلوم میں استاذ الحدیث ہیں اور جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم رہنماؤں میں ان کا شمار ہوتا ہے، کافی عرصہ سے شوگر کے مریض ہیں، گزشتہ دنوں ان کے پاؤں کے انگوٹھے کا آپریشن ہوا۔ مولانا فضل الرحمان نے ان کی بیمار پرسی کرنا تھی اور کھانا بھی ان کے ہاں تھا۔ شاہ صاحب نے دیگر حضرات کے ساتھ مجھے بھی بلا لیا اس طرح خاصے عرصہ کے بعد مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ملاقات اور گفتگو کا موقع مل گیا۔ اس نشست میں جمعیۃ علماء اسلام پنجاب کے امیر مولانا قاضی حمید اللہ خان، حافظ آباد کے بزرگ عالم دین مولانا محمد الطاف، دارالعلوم گوجرانوالہ کے مہتمم مولانا مفتی محمد اویس اور دیگر علماء کرام بھی شریک تھے۔

میرا تعلق شروع سے جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ چلا آرہا ہے۔ ۱۹۶۵ء سے ۱۹۹۰ء تک مختلف سطحوں پر عہدیدار کی حیثیت سے سرگرم کردار ادا کرتا رہا۔ ۱۹۹۰ء میں جب دو دھڑوں کے اتحاد کے بعد حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ جمعیۃ کے امیر اور مولانا فضل الرحمان سیکرٹری جنرل بنے تو میں اس وقت مرکزی سیکرٹری اطلاعات کے طور پر خدمات سرانجام دے رہا تھا۔ اس منصب سے میں نے ۱۹۹۰ء میں استعفیٰ دے دیا، اس کے بعد سے ایک خاموش یا غیر فعال رکن کے طور پر جمعیۃ علماء اسلام کا حصہ ہوں۔ جمعیۃ علماء اسلام کی قیادت کی بعض پالیسیوں سے مجھے اختلاف رہتا ہے اور مختلف حوالوں سے اپنے اختلافات اور تحفظات کا اظہار وقتاً فوقتاً کرتا رہتا ہوں لیکن ضرورت کے مقامات پر دفاع اور تعاون سے بھی گریز نہیں کرتا۔ اس طرح فطری طور پر میری ہمدردیاں اور دعائیں جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ رہتی ہیں۔ اپنا گھر جیسا بھی ہو اپنا گھر ہی ہوتا ہے اور تمام تر تحفظات کے باوجود آخر دم تک اسی گھر میں رہنا چاہتا ہوں۔

متحدہ مجلس عمل کے منتشر ہونے سے لے کر موجودہ حکومتی اتحاد کا حصہ بننے تک مولانا فضل الرحمان نے جو پالیسی اختیار کر رکھی ہے ایک شعوری اور نظریاتی کارکن کے طور پر مجھے وہ ہضم نہیں ہو رہی۔ لیکن دہشت گردی کے بارے میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران ملک کے منتخب نمائندوں کے اجتماعی موقف کو متوازن بنانے میں مولانا فضل الرحمان نے جو جاندار کردار ادا کیا ہے اس نے ذہن کو بہت سی باتیں نظر انداز کر دینے کی ترغیب دی ہے۔ اب یہ سوچ رہا ہوں کہ مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ دو سال کے دوران قومی سیاست میں جو کچھ کیا ہے وہ اگر نہ کرتے تو شاید پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اس طرح اثر انداز ہونے کی پوزیشن میں نہ ہوتے۔ اور اگر وہ پارلیمنٹ کے دہشت گردی کے بارے میں متفقہ موقف کو متوازن بنانے کے لیے یہ کردار ادا نہ کرتے اور پارلیمنٹ یکطرفہ بریفنگ کی بنیاد پر کوئی غیر متوازن موقف طے کر لیتی تو اس کے نقصانات کا تصور بھی اہل شعور و دانش کو لرزہ براندام کر دینے کے لیے کافی ہے۔ مگر اب یہ بات طے ہے کہ ہم عملاً کچھ کر سکیں یا نہ کر سکیں اور بین الاقوامی دہشت گردی کا راستہ روک سکیں یا نہیں، لیکن پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد کی صورت میں ہمارا قومی موقف واضح ہے، تاریخ کا ریکارڈ درست ہے اور مستقبل کے مؤرخ کو ہمارے آج کے حالات کو منظر کشی کے لیے صحیح بنیاد فراہم ہوگئی ہے جو میرے جیسے تاریخ کے طالب علموں کے لیے بڑی حد تک اطمینان کا باعث ہے۔ پارلیمنٹ کو دہشت گردی کے حوالے سے معروضی صورتحال اور زمینی حقائق سے پوری طرح آگاہ کرنے اور قومی موقف کو متوازن بنانے میں مولانا فضل الرحمان کا کردار بہرحال فیصلہ کن رہا ہے، اس لیے میں موقع کی تلاش میں تھا کہ ملاقات ہو تو میں انہیں اس پر ذاتی طور پر مبارکباد پیش کروں اور اس حوالے سے مزید معلومات حاصل کروں۔

ملاقات میں اس کے علاوہ اور بھی متعدد مسائل پر گفتگو ہوئی، خاص طور پر ممبئی دھماکوں اور اس کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافے کی صورتحال زیربحث آئی۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں امریکی اثر و رسوخ میں مسلسل اضافہ پورے خطے کے لیے خطرے کا باعث ہے۔ اس خطے کے اکثر ممالک اس خطرے کو محسوس کر رہے ہیں اور یہ سوچ آگے بڑھ رہی ہے کہ جنوبی ایشیا کو مکمل امریکی تسلط سے بچانے کے لیے اس خطے کے ممالک کو مل جل کر کوئی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ اس سوچ پر عملی کام بھی دھیرے دھیرے ہو رہا ہے، خاص طور پر پاکستان اور بھارت کی قیادتیں اس سلسلہ میں باہمی تعاون کی راہیں تلاش کرنے میں مصروف ہیں لیکن جب بھی اس حوالے سے کوئی پیش رفت نظر آنے لگتی ہے ممبئی کے حالیہ سانحہ جیسا کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہو جاتا ہے اور سارے کام کو بریک لگ جاتی ہے۔ ممبئی کے حالیہ واقعات بھی اسی سلسلہ کی کڑی نظر آتے ہیں، جن قوتوں کو ان سے فائدہ پہنچ سکتا ہے وہ حالات کا رخ اپنی مرضی کے مطابق موڑنے کے لیے پورا زور لگا رہی ہیں۔ اس موقع پر دونوں ملکوں بالخصوص بھارت کی قیادت کو ہوش مندی سے کام لینا ہوگا اور ایسے کسی رخ سے بچنا ہوگا جس سے دوسری قوتوں کو دخل اندازی اور پھر اس کے بہانے اپنے اثر و رسوخ اور تسلط میں اضافے کا موقع مل سکتا ہو۔

جماعۃ الدعوۃ پر پابندی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جماعۃ الدعوۃ ایک رفاہی تنظیم ہے جو امتِ مسلمہ کی رفاہی خدمات میں پیش پیش ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ عالمی سطح پر گلوبلائزیشن کا جو نیٹ ورک مسلط کیا جا رہا ہے اور اس کے زیر سایہ لوکلائزیشن کا جو نظام قائم کیا جا رہا ہے اس میں ملٹی نیشنل کمپنیاں اور این جی اوز مصروف کار ہیں۔ عالمی استعمار کا پروگرام یہ ہے کہ عالمی سطح پر نظام کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے کنٹرول کیا جائے اور مقامی سطح پر این جی اوز کو معاملات میں اس قدر دخیل بنا دیا جائے کہ ملکوں اور قوموں کی اصل سیاسی، مذہبی اور معاشرتی قیادتوں کی حیثیت محض نمائشی سی رہ جائے اور پوری دنیا کو ایک نظام کے شکنجے میں کس لیا جائے۔ این جی اوز کے آگے بڑھنے کا میدان رفاہی خدمات تھا جن میں الرشید ٹرسٹ، الاختر ٹرسٹ اور جماعۃ الدعوۃ جیسی دینی تنظیموں نے آگے بڑھ کر این جی اوز کو کارنر کیا اور یہ میدان خود سنبھال لیا، جس سے این جی اوز کو اپنا وہ ایجنڈا آگے بڑھانے میں دشواری ہو رہی ہے جو وہ رفاہی خدمات کی آڑ میں کرنا چاہ رہی تھیں۔ الرشید ٹرسٹ، الاختر ٹرسٹ اور جماعۃ الدعوۃ وغیرہ کی کردار کشی کر کے انہیں راستہ سے ہٹایا جا رہا ہے تاکہ این جی اوز کے لیے میدان ہموار کیا جا سکے۔ ورنہ ہزارہ اور آزاد کشمیر میں زلزلہ سے متاثرین کی خدمت اور بحالی کے لیے جماعۃ الدعوۃ اور دیگر دینی رفاہی تنظیمیں خود اقوام متحدہ کی ٹیموں کے ساتھ کام کر چکی ہیں، ان کی بے لوث خدمات کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے اور ان کا عالمی اداروں کی طرف سے اعتراف بھی کیا گیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین ہیں، اس حوالہ سے انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ آخر کار کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق ہی حل ہوگا اور ان کے حق خود ارادیت سے دنیا کا کوئی باشعور شخص انکار نہیں کر سکتا۔ پاکستان اور بھارت کی حکومتیں پابند ہیں کہ وہ کشمیری عوام کو ان کے حق خودارادیت کی بنیاد پر اپنا مسئلہ خود حل کرنے کا موقع دیں۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس خطہ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے اور اسے مکمل تسلط میں تبدیل کرنے کی خواہشمند قوتوں کو اس بہانے اپنے ایجنڈے کی تکمیل کا موقع نہ دیا جائے، کیونکہ اگر خدانخواستہ ایسا ہوگیا تو پھر کسی کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہے گا۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ پاکستان پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر اس کے گرد عالمی حصار تنگ کیا جا رہا ہے حالانکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر لڑی جانے والی یہ جنگ دراصل جنوبی ایشیا میں امریکی اثر و رسوخ کو بڑھانے اور اس اثر و رسوخ کو مکمل تسلط میں تبدیل کرنے کے لیے ہے۔ بھارت سمیت اس خطے کے تمام ممالک کو اس حقیقت حال کا سنجیدگی کے ساتھ ادراک کرنا ہوگا اور جنوبی ایشیا کو امریکی تسلط میں جانے سے روکنے کے لیے خطے کے سب ممالک کو مل جل کر مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔