ترکی: احادیث نبویؐ کی تعبیر و تشریح کا سرکاری منصوبہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۹ مارچ ۲۰۰۸ء
اصل عنوان: 
عالمِ اسلام کے علمی و فکری حلقوں کے لیے لمحۂ فکریہ

روزنامہ پاکستان میں ۲۸ فروری ۲۰۰۸ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق برادر مسلم ملک ترکی کی وزارتِ مذہبی امور نے انقرہ یونیورسٹی میں علماء کی ایک ٹیم کی خدمات حاصل کی ہیں جسے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا ازسرنو جائزہ لینے کا کام سونپا گیا ہے۔ خبر کے مطابق ترکی حکومت کے خیال میں بہت سی احادیث متنازعہ ہیں اور ان سے معاشرے پر منفی اثر پڑ رہا ہے، ان احادیث سے اسلام کی اصل اقدار بھی دھندلا گئی ہیں اس لیے ان کی ازسرنو تشریح کرانے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ اس طرح اسلام کے عقائد کی ازسرنو تشریح کی جا رہی ہے۔ جبکہ ترکی کی وزارت مذہبی امور کے ایک عالم پروفیسر گورمیز نے اپنے انٹرویو میں عورتوں اور مردوں میں مساوات کے حوالے سے بعض اسلامی احکام کا بطور خاص ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ اس دور میں اکثر خواتین پر جبر کے لیے اسلام کا نام غلط طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے وزارتِ مذہبی امور کے اس کام کے بارے میں کہا ہے کہ ایسا کرنے کے لیے ریاست ایک نیا اسلام بنا رہی ہے، جو کلیسا میں اصلاح کی طرز کا کام ہے لیکن بالکل وہی نہیں ہے، البتہ یہ مذہب کے بنیادی عقائد میں تبدیلی ہے۔

حدیث و سنت جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد و عمل کا نام ہے جسے جمہورِ امت کے نزدیک دین کے مستقل ماخذ اور قرآن کریم کی مستند تشریح کا مقام حاصل ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث و سنت کو قرونِ اولیٰ سے اب تک قرآن کریم کے بعد اسلامی قانون سازی کا دوسرا بڑا سرچشمہ سمجھا جاتا ہے اور قرآن کریم کی تعبیر و تشریح میں فیصلہ کن اتھارٹی تسلیم کیا جاتا ہے۔ لیکن دو حوالوں سے گزشتہ چند صدیوں کے دوران احادیث نبویہؐ کو نقد و جرح کا مسلسل ہدف بنایا گیا ہے اور مختلف حلقوں کی طرف سے احادیث نبویہؐ کو تحقیق کا موضوع بناتے ہوئے احادیث کی حفاظت کے نظام اور بہت سی احادیث کے مفہوم و مصداق پر اعتراضات کیے گئے ہیں۔ اور ان اعتراضات کو سامنے رکھتے ہوئے مسلم امہ کے بعض دانشوروں نے بھی احادیث نبویہؐ کے سلسلہ میں گزشتہ فقہاء و محدثین کے کام کو ناکافی قرار دے کر ان کے ’’ری ویو‘‘ کو نہ صرف ضروری سمجھا ہے بلکہ بہت سے دانشوروں نے یہ خدمت سرانجام دینے کی کوشش بھی کی ہے۔

دوسرا یہ کہ انسانی سوسائٹی نے مغرب کے فکر و فلسفہ اور سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کے زیر سایہ جو مسلسل تمدنی اور معاشرتی پیش رفت کی ہے اور اس سے جو نئے معاشرتی تصورات اور اقدار اجاگر ہوئی ہیں، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث و سنن کا روایتی ذخیرہ اور اس پر فقہاء کرام اور محدثین عظام کی سابقہ علمی تعبیرات و تشریحات ان جدید معاشرتی اقدار اور تمدنی تصورات میں سے اکثر کے ساتھ مبینہ طور پر ہم آہنگ نہیں ہیں۔ اور ہمارے بہت سے دانشوروں کا یہ خیال ہے کہ تمدن و معاشرت کے اس ارتقائی ماحول سے ہم آہنگ ہونے کے لیے جناب نبی اکرمؐ کی متعدد احادیث کی نئی تعبیر و تاویل ناگزیر ہوگئی ہے۔

اس سلسلہ میں اب تک ہمارے ہاں جو علمی ورجحانات سامنے آئے ہیں اور جن پر سنجیدگی کے ساتھ کام ہو رہا ہے انہیں بنیادی طور پر چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

  1. جناب نبی اکرمؐ کی احادیث و سنن کے موجود ذخیرے اور ان کی روایتی تعبیر و تشریح کو حتمی قرار دیتے ہوئے ان کے بارے میں کوئی بھی بات سننے سے انکار کر دیا جائے اور کسی بھی اعتراض پر مطلقاً توجہ نہ دی جائے۔
  2. جناب نبی اکرمؐ کے ارشادات و اعمال کے حوالہ سے روایات و احادیث پر کیے جانے والے اعتراضات و شکوک سے جان چھڑانے کے لیے سرے سے حدیث و سنت کی حجیت اور اسے شریعت کا بنیادی ماخذ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جائے۔ اور یہ کہا جائے کہ حدیث و سنت کی حیثیت دین کے ماخذ کی نہیں ہے بلکہ وہ محض تاریخی روایات کی حیثیت و درجہ رکھتی ہیں جن میں سے ’’کامن سینس‘‘ کی بنیاد پر کسی بھی روایت کو قبول یا رد کیا جا سکتا ہے۔
  3. حدیث و سنت کو دین کے بنیادی ماخذ اور قرآن کریم کی تشریح و تعبیر کی حتمی اتھارٹی کے طور پر تسلیم کیا جائے، البتہ ان کے بارے میں کیے جانے والے اعتراضات و شکوک کا علمی بنیاد پر جائزہ لیا جائے۔ اور مغرب کے فکر و فلسفہ کو اس سلسلہ میں حتمی معیار قرار دینے کی بجائے دینی و معاشرتی ضروریات و مسلمات کے حوالے سے عدل و انصاف کی روشنی میں جو اعتراضات و شکوک درست ہوں ان کا حل نکالا جائے، اور جو اعتراضات صرف مغربی فلسفہ و معاشرت کو ’’معیارِ حق‘‘ قرار دینے کی بنیاد پر ہوں انہیں رد کر کے علمی انداز میں ان کا جواب دیا جائے۔
  4. چوتھا رخ ہمارے ایک معاصر دانشور جناب جاوید احمد غامدی نے اختیار کیا ہے کہ سنت کے حجت ہونے سے انکار تو نہ کیا جائے لیکن حدیث و سنت کی نئی تعریف طے کر کے حدیث و سنت کے اس مجموعی اور اجماعی مفہوم کو ہی اس سے خارج کر دیا جائے جسے امتِ مسلمہ اب تک حدیث و سنت سمجھتی آرہی ہے۔ بلکہ حدیث و سنت کے نام سے ایک نیا علمی ڈھانچہ ترتیب دے کر اسلام کو مغربی فکر و فلسفہ اور موجودہ تمدنی و معاشرتی ارتقاء کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا مقصد ’’سنت‘‘ ہی کے عنوان سے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔

آج کے دور میں حدیث و سنت کے حوالے سے مختلف حلقوں میں ہونے والے علمی کام کو ان چار پہلوؤں سے دیکھا جا سکتا ہے اور اس پس منظر میں ترکی کی وزارتِ مذہبی امور کا یہ پروگرام سامنے آیا ہے کہ وہ احادیث نبویہؐ کی ازسرنو درجہ بندی اور تعبیر و تشریح کے کام کا آغاز کر رہی ہے جو اس حوالہ سے یقیناً خوش آئند ہے کہ یہ ترکی کی حکومت کی طرف سے ہو رہا ہے۔ ترکی نے خلافتِ عثمانیہ کے عنوان سے صدیوں عالمِ اسلام کی سیاسی اور علمی قیادت کی ہے مگر اب سے کم و بیش ایک صدی قبل خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے موقع پر ترکی نے ریاستی طور پر مذہب سے لاتعلقی اختیار کر لی تھی اور سیکولر جمہوریہ کے نام سے ایک نئے قومی سفر کا آغاز کیا تھا۔ جس کے تحت معاشرے اور ریاست کے اجتماعی معاملات سے دین کو لاتعلق کر دیا گیا تھا اور کسی بھی اجتماعی حوالے سے اسلام کا نام لینا دستوری طور پر جرم قرار پا گیا تھا۔ حتیٰ کہ عربی زبان ممنوع اور کھلے بندوں اسلامی شعائر کا اظہار بھی جرم سمجھ لیا گیا تھا۔ سیکولرازم کی اس شدت پسندانہ شکل سے رجوع کا آغاز ترکی کے سابق وزیراعظم عدنان میندریس شہیدؒ کے دور میں ہوگیا تھا لیکن پھر اسے بریک لگ گئی اور سیکولرازم کے تحفظ کو ہی سب سے بڑا قومی مقصد قرر دے دیا گیا۔

اس پس منظر میں جناب عبد اللہ گل اور جناب رجب طیب اردگان کی قیادت میں ترکی کی موجودہ حکومت کی طرف سے سرکاری سطح پر احادیث نبویہؐ کے پورے ذخیرے کی ازسرنو چھان بین اور تعبیر و تشریح کے اس عمل کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ ترکی ریاست کا مذہب کے ساتھ رشتہ دوبارہ جوڑے جانے کا نقطۂ آغاز ہے اور اسی پہلو سے ہم اس کا خیرمقدم بھی کر رہے ہیں۔ لیکن مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبالؒ اور مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کے دو تحفظات کا تذکرہ اس مرحلہ پر ضروری ہے۔ علامہ محمد اقبالؒ نے ترکی کے گزشتہ صدی کے آغاز میں رونما ہونے والے ثقافتی انقلاب کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ترکی قوم بنیادی طور پر ایک عسکری قوم ہے جو مغربی ثقافتی یلغار کے مقابلے میں علمی اور اجتہادی صلاحیتوں کا اظہار نہ کر سکی اور اسے مغرب کے فکر و فلسفہ کے سامنے سپرانداز ہونا پڑا۔ جبکہ مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کا کہنا ہے کہ ترکی کے علماء و مشائخ مغرب کی علمی، فکری اور ثقافتی یلغار کی اہمیت و سنگینی کا بروقت ادراک نہ کر سکے اور اس کے سدباب کے لیے اپنے اوقات فارغ نہ کر سکے جس کی وجہ سے یہ عظیم سانحہ رونما ہوا۔

ہمارے خیال میں یہ دو تحفظات آج بھی موجود و قائم ہیں اور ترکی کے علمی حلقوں کے ساتھ ساتھ عالمِ اسلام کے علمی و فکری حلقوں کے لیے بھی لمحۂ فکریہ اور چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔

درجہ بندی: