لازمی تعلیم اور دہشت گردی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۶ اگست ۲۰۰۸ء
اصل عنوان: 
تعلیم، حکومت کی ذمہ داری، دہشت گردی

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے یومِ پاکستان کی تقریب کے موقع پر بچوں اور ان کے والدین سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو تعلیم کے لیے سکول نہ بھیجنے والے والدین کو جرمانے کیے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ تعلیم کو عام کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو روکنے کے لیے بھی تعلیم ضروری ہے کیونکہ دہشت گردی وہیں ہو رہی ہے جہاں جہالت ہے۔

جہاں تک تعلیم کے فروغ کے لیے سختی کرنے کی ضرورت ہے ہم وزیراعظم سے اتفاق کرتے ہیں اور اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان سے گزارش کرتے ہیں کہ تعلیم کے فروغ اور خواندگی کے تناسب میں اضافہ کے لیے حکومت کو سختی کے ساتھ سنجیدہ پیش رفت کرنی چاہیے۔ بلکہ وزیراعظم نے تو پرائمری کی سطح تک تعلیم کو لازمی کرنے کی بات کی ہے جبکہ ہم میٹرک تک تعلیم کو لازمی قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ اس بات کو بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ جس سطح تک تعلیم قانونی طور پر لازمی ہو وہاں تک تعلیم مفت بھی ہو اور اس کے مناسب انتظامات حکومت کی طرف سے کیے جائیں۔ صرف تعلیم کو لازمی قرار دینے اور بچوں کو سکول نہ بھیجنے والوں کو جرمانہ کر دینے سے بات نہیں بنے گی بلکہ ملک کی آبادی کے تناسب سے تعلیم کے لیے مناسب ماحول پیدا کرنا اور اس کے لیے ضروری وسائل بلامعاوضہ فراہم کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

تعلیم کا فروغ اور ملک کے ہر شہری کو ضروری تعلیم سے آراستہ کرنا ہماری ملکی و قومی ذمہ داری اور ضرورت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ حکومت کی دینی ذمہ داری بھی ہے۔ اس سلسلہ میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کا ایک واقعہ پیش کرنا چاہوں گا۔ حضرت امام بخاریؒ نے ’’الوحدان‘‘ کے نام سے ایک الگ رسالہ لکھا ہے جس میں ان صحابہ کرامؓ کی روایات بیان کی ہیں جن سے صرف ایک ایک روایت منقول ہے۔ ان میں ایک صحابیؓ حضرت اَبزیٰ خزاعیؓ بھی ہیں۔ حضرت اَبزیٰ خزاعیؓ سے امام بخاریؒ واقعہ روایت کرتے ہیں کہ جناب نبی اکرمؐ نے ایک روز جمعۃ المبارک کے خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو اپنے اردگرد کے لوگوں کو سکھاتے پڑھاتے نہیں ہیں، انہیں سمجھاتے نہیں ہیں اور انہیں نیکی اور بدی کا فرق نہیں بتاتے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو اپنے درمیان موجود اہل علم سے پڑھتے سیکھتے نہیں ہیں، ان سے فہم و دانش حاصل نہیں کرتے اور علم و تفقہ سے بہرہ ور نہیں ہوتے۔ ان دو طبقوں کا ذکر کرنے کے بعد جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ یہ دونوں طبقے اپنے طرز عمل کی اصلاح کر لیں ورنہ میں ان دونوں کے لیے اس دنیا میں سزا مقرر کروں گا۔

یہ روایت فقہ حنفی کے امام محمد حسن شیبانیؒ نے بھی اپنی کتاب ’’الکسب‘‘ میں بیان کی ہے اور فقہاء کرامؐ نے اس حدیث سے اس مسئلہ پر استدلال کیا ہے کہ حکومت کو تعلیم کے معاملے میں لوگوں پر جبر کا حق حاصل ہے، اس لیے کہ جناب رسول اکرمؐ تعلیم حاصل نہ کرنے والوں اور تعلیم نہ دینے والوں کے لیے اس دنیا میں سزا مقرر کرنے کا اعلان فرما رہے ہیں۔

حضرت اَبزی خزاعیؓ کہتے ہیں کہ خطبۂ جمعہ کے دوران جناب رسول اللہؐ کے اس اعلان کے بعد مدینہ منورہ میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں کہ رسالت مآبؐ نے یہ بات عمومی طور پر کی ہے یا کسی خاص طبقے کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ لوگوں میں بات چلتے چلتے اس نتیجہ پر پہنچی کہ آپؐ نے یہ بات اشعری خاندان کے بارے میں فرمائی ہے کیونکہ ان کا ماحول ایسا ہے کہ درمیان میں پڑھے لکھے لوگوں کی بستی ہے اور اردگرد چاروں طرف ان پڑھ اور بدو لوگ بستے ہیں اور ان میں تعلیم و تعلم کے حوالہ سے کوئی باہمی رابطہ نہیں ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ اور ان کے ساتھ بنو اشعر قبیلہ کے کچھ خاندان یمن سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تھے اور عام آبادی سے ہٹ کر انہوں نے اپنا الگ محلہ بسا لیا تھا جسے اشعریوں کا محلہ کہا جاتا تھا۔ اشعریوں کو صحابہ کرامؓ میں قراء و فقہاء کا خاندان کہا جاتا تھا یعنی وہ پڑھی لکھی فیملی تھی۔ بلکہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ امت کے بڑے قاریوں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے حسنِ قراءت کی تعریف آنحضرتؐ نے بھی کی ہے۔ اشعریوں کے اس محلے کے اردگرد کسان، باغبان اور دیہاتی لوگ رہتے تھے جن کا پڑھنے لکھنے سے زیادہ واسطہ نہیں تھا اس لیے عام لوگوں کی نظر ادھر چلی گئی کہ جناب نبی اکرمؐ نے یہ بات ان کے بارے میں فرمائی ہے۔ اشعریوں کو معلوم ہوا تو وہ تشویش سے دوچار ہوئے، باہمی مشورہ کیا اور تصدیق کے لیے ان میں سے کچھ لوگ حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

حضرت اَبزیٰ خزاعیؓ کا کہنا ہے کہ اشعریوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کیا کہ عام لوگوں کا تاثر یہ ہے کہ آپؐ نے خطبہ جمعہ میں جو یہ بات فرمائی ہے وہ ہم اشعریوں کے بارے میں فرمائی ہے، کیا یہ بات درست ہے؟ آنحضرتؐ نے اس سوال کا جواب اثبات میں دیا اور اس کے ساتھ جمعہ کے موقع پر کہی گئی وہ بات اشعریوں کے اس وفد کے سامنے پھر دہرا دی۔ ان حضرات نے پوچھا کہ یا رسول اللہؐ! کیا دوسرے لوگوں کی کوتاہی کی سزا ہمیں ملے گی؟ ان کا مطلب یہ تھا کہ ہم نے تو تعلیم حاصل کر لی ہے اگر ہمارے اردگرد کے دوسرے لوگ تعلیم حاصل نہیں کرتے تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے اور اس کی سزا ہمیں کیوں ملے گی؟ آپؐ نے اس سوال کا جواب بھی اثبات میں دیا جس کا مطلب محدثین یہ بیان فرماتے ہیں کہ جہاں علم نہ رکھنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ماحول میں اہل علم کو تلاش کر کے ان سے تعلیم حاصل کریں وہاں اہل علم کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر رکھیں اور جو لوگ تعلیم سے بہرہ ور نہیں ہیں انہیں تعلیم دینے کا اہتمام کریں۔ یہ مشترکہ ذمہ داری ہے جس میں دونوں طبقے شریک ہیں اور اس کے بارے میں دونوں مسئول ہیں۔ رسالت مآبؐ کی زبان مبارک سے یہ جواب سن کر اشعریوں نے درخواست کی کہ ہمیں اس کوتاہی کی تلافی کے لیے ایک سال کی مہلت دی جائے جو نبی اکرمؐ نے عطا فرما دی۔ چنانچہ اس کے بعد اشعریوں نے ایک سال تک بھرپور وقت لگا کر اپنے اردگرد کے لوگوں میں تعلیم کا ماحول پیدا کیا اور اپنی گزشتہ کوتاہی کی تلافی کی۔

اس لیے جہاں تک معاشرے میں تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے کے لیے حکومتی اقدامات بلکہ سختی کا تعلق ہے یہ تو اسلامی تعلیمات کا تقاضہ اور سنت نبویؐ ہے۔ ہم وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے اس عزم کا خیرمقدم کرتے ہیں اور ان کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں، اللہم ربنا آمین۔ لیکن انہوں نے اس کے ساتھ یہ جو فرمایا ہے کہ ہم تعلیم کو اس لیے فروغ دینا چاہتے ہیں تاکہ دہشت گردی پر قابو پایا جا سکے اور یہ بھی کہا ہے کہ دہشت گردی وہاں ہو رہی ہے جہاں تعلیم عام نہیں ہے۔ وزیراعظم محترم کی ان باتوں سے ہمیں اختلاف ہے اور ان کے اس ارشاد کو ہم بہت بڑے مغالطے کا نتیجہ سمجھتے ہوئے اس کی وضاحت میں کچھ معروضات پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

  1. ہمارے خیال میں دہشت گردی پر قابو پانا تعلیم کے فوائد میں تو ہو سکتا ہے مگر یہ اس کے مقاصد میں سے نہیں ہے۔ تعلیم تو صرف تعلیم کے لیے ہونی چاہیے، اگر وہ سوسائٹی کو تعلیم یافتہ بنانے کے مقصد کو سامنے رکھ کر ہوگی تو اس کے فوائد خودبخود حاصل ہوں گے۔ لیکن اگر کسی خاص فائدے کو ہدف بنا کر تعلیم کا ماحول قائم کیا جائے گا تو تعلیم کا دائرہ صرف اس ایک فائدے کے گرد گھومتا رہے گا اور تمام تر تعلیمی ترجیحات اسی کے حوالے سے طے پائیں گی جس سے تعلیم کا اصل مقصد اور اس کے دیگر فوائد نگاہوں سے اوجھل رہیں گے۔ اس لیے تعلیم کے پروگرام کو کسی ایک فائدے پر ’’فوکس‘‘ نہ کیا جائے بلکہ عمومی ملی مقاصد اور بے شمار متنوع فوائد کے مجموی تناظر میں تعلیمی پالیسیاں مرتب کی جائیں۔
  2. دوسری بات یہ کہ کیا دہشت گردی کی وجہ صرف غربت اور جہالت ہے؟ یہ بات معروضی حقائق کے حوالے سے درست نہیں ہے اس لیے کہ عالمی سطح پر مبینہ دہشت گردی کا الزام سب سے زیادہ جن افراد پر عائد کیا جا رہا ہے وہ نہ ان پڑھ ہیں اور نہ ہی غریب ہیں بلکہ وہ اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں کے تعلیم یافتہ اور آج کے معیار کی اعلیٰ تعلیم کے حامل ہیں۔ ان تعلیم یافتہ لوگوں کی اسلحہ برداری اگر دہشت گردی ہے تو اس کی وجہ غربت یا جہالت نہیں بلکہ مسلمانوں کے خلاف مغرب کا معاندانہ رویہ اور فلسطینیوں، کشمیریوں، عراقیوں اور افغانیوں کے خلاف وحشیانہ جارحیت ہے جس کے خلاف ردعمل کے طور پر امت مسلمہ کے کچھ لوگوں نے ہتھیار اٹھا لیے ہیں۔ ہمارے نزدیک مغرب اس ردعمل کو دہشت گردی قرار دے کر اور اس کی وجہ غربت اور جہالت بتا کر اپنے جرائم پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے۔ اس لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے منتخب وزیراعظم کو اس سلسلہ میں بات کرتے ہوئے محتاط رہنا چاہیے۔