طلاق کا حق ۔ دین اسلام کیا کہتا ہے؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۳ تا ۱۵ دسمبر ۲۰۰۸ء

اسلامی نظریاتی کونسل کی ایک حالیہ سفارش ملک کے علمی حلقوں میں زیر بحث ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ خلع کو عورت کا مساوی حقِ طلاق قرار دیا جائے اور یہ قانون بنا دیا جائے کہ اگر عورت خاوند سے طلاق کا تحریری مطالبہ کرے تو خاوند ۹۰ روز کے اندر اسے طلاق دینے کا پابند ہوگا، اور اگر وہ اس دوران طلاق نہ دے تو ۹۰ روز گزر جانے پر طلاق خودبخود واقع ہو جائے گی۔ ملک کے دینی حلقے عمومی طور پر اسے قرآن و سنت کے منافی قرار دے رہے ہیں جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل کے بعض ارکان اور ان کے ساتھ ملک کے بعض دانشور اس کا دفاع کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ یہ سفارش قرآن و سنت کے منافی نہیں بلکہ اس کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔

یہ مسئلہ نیا نہیں ہے، بلکہ جب سے مغرب نے مرد اور عورت کے درمیان مکمل مساوات کا نعرہ لگا کر مرد اور عورت کے درمیان فطری امتیازات کو مصنوعی طریقے سے ختم کرنے کی کوشش شروع کر رکھی ہے تب سے ہمارے ہاں بھی یہ آواز مسلسل اٹھ رہی ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان مکمل مساوات قائم کی جائے، اور جہاں جہاں مردوں اور عورتوں کے لیے قواعد و ضوابط اور قوانین میں کوئی فرق اور امتیاز پایا جاتا ہے اسے ختم کر دیا جائے، حتیٰ کہ قرآن و سنت کے جو احکام اس حوالہ سے امتیازی سمجھے جا رہے ہیں ان میں ترامیم کر کے انہیں بھی مغرب کے اس فلسفہ کے مطابق بنایا جائے کہ مرد اور عورت کے درمیان کسی بھی معاملے میں کوئی فرق اور امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔

یہ مسئلہ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پورے عالم اسلام میں ہے۔ دنیا کے ہر مسلمان ملک میں آپ یہی صورتحال دیکھیں گے کہ ایسے قوانین و احکام کو جنہیں مرد اور عورت کے درمیان امتیاز کے قوانین کہا جاتا ہے ختم کرنے یا ان میں ترامیم کرنے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔ جبکہ ہر جگہ کے دینی حلقے اور علمی مراکز اس کی مزاحمت کرتے ہوئے قرآن و سنت کے احکام میں کوئی تبدیلی قبول کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔ ہمارے ہاں صدر محمد ایوب خان مرحوم کے دور میں جب عائلی قوانین نافذ ہوئے تو اس مقصد کے لیے بہت سے شرعی احکام میں رد و بدل کیا گیا اور عورت کو طلاق کا حق دینے کے بارے میں یہ طریق کار اختیار کیا گیا کہ نکاح نامے کے فارم میں ایک خانے کا اضافہ کر دیا گیا کہ:

’’کیا خاوند نے عورت کو طلاق کا حق تفویض کر دیا ہے؟‘‘

یہ خانہ دنیا میں عورت کو طلاق کا حق دلانے کا تاثر قائم کرنے کے لیے بڑھایا گیا اور اسلامی فقہ میں اس کی کسی حد تک گنجائش بھی موجود ہے لیکن نصف صدی کے لگ بھگ عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ تصور پاکستان کے عوام میں قبولیت حاصل نہیں کر سکا۔ چنانچہ شاید ایک فیصد نکاحوں میں اسے سنجیدگی سے لیا جاتا ہو ورنہ عام طور پر اس خانہ میں ہاں یا ناں لکھنے کی ذمہ داری نکاح رجسٹرار ہی فریقین میں سے کسی کو پوچھے بغیر سرانجام دے دیتا ہے۔ میں جب بھی کسی کا نکاح پڑھاتا ہوں بڑی دلچسپی سے نکاح رجسٹرار کو یہ خانہ پر کرتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ مجھے نہیں یاد کہ گزشتہ تیس برس کے دوران میں نے کسی نکاح رجسٹرار کو اس خانے کے بارے میں دونوں فریقوں میں سے کسی سے دریافت کرتے دیکھا ہو۔ وہ خود ہی اس پر کراس کا نشان لگاتے ہوئے آگے گزر جاتا ہے اور فریقین میں سے کوئی بھی اس پر اعتراض نہیں کرتا حالانکہ دونوں فریق اپنے سامنے نکاح نامہ پر کراتے اور اس پر دستخط بھی کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ انہیں اس خانے کی موجودگی کا علم نہیں ہوتا بلکہ وہ سب کچھ جانتے اور دیکھتے ہوئے بھی صرف اس لیے چشم پوشی کر جاتے ہیں کہ ان کے ذہنوں میں نکاح و طلاق کا جو تصور شرعی طور پر موجود ہے اور ان کے علاقائی کلچر میں نکاح و طلاق کا جو ڈھانچہ صدیوں سے قائم چلا آرہا ہے اس میں یہ خانہ فٹ نہیں بیٹھتا۔ اس لیے ان کے نزدیک اس خانے کی کوئی خاص اہمیت نہیں رہتی اور میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ نکاح و طلاق کے نظام میں ایک ایسی جزوی تبدیلی جس کی فقہی طور پر گنجائش بھی موجود ہے اس ملک کے عوام کے دلوں میں جگہ حاصل نہیں کر پا رہی تو ہمارے بہت سے دانشوروں نے قرآن و سنت کے صرییح احکام سے متصادم تبدیلیوں کو پاکستان کے مسلمانوں سے قبول کرانے کی توقعات آخر کس طرح وابستہ کر رکھی ہیں؟

نکاح کے فارم میں ’’تفویضِ طلاق‘‘ کے اس خانے کے اضافے کو نصف صدی بعد مکمل طور پر ناکام ہوتا ہوا دیکھ کر ہمارے بعض دانشوروں نے پینترا بدلا ہے اور خلع کو عورت کا مساوی حق طلاق قرار دینے کی مہم شروع کر دی ہے جس کا ایک مرحلہ اسلامی نظریاتی کونسل کی حالیہ سفارش بھی ہے۔ اسلام میں طلاق اور خلع کی حیثیت کیا ہے اور ان کے حوالے سے مرد اور عورت کے حقوق و اختیارات کا دائرہ کیا ہے؟ اس پر گفتگو سے پہلے ہم چند اصولی باتیں قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔ مثلاً :

  1. اجتہاد کا شرعی مفہوم کیا ہے؟
  2. مرد اور عورت کے درمیان مساوات کا قیام کہاں تک قابلِ عمل ہے؟
  3. اسلامی نظریاتی کونسل کی حدود کار کیا ہیں؟
  4. اور ان حوالوں سے پاکستان کے زمینی حقائق اور صورت حال کا منظر کیا ہے؟

اجتہاد کا شرعی مفہوم

اجتہاد کی بات اس لیے کہ قرآن و سنت کے احکام میں ترامیم کے یہ سارے مطالبات اجتہاد ہی کے نام پر کیے جا رہے ہیں۔ بلکہ ہمارے بعض فاضل دوست تو ’’روایتی اسلام‘‘ اور ’’اجتہادی اسلام‘‘ کو آمنے سامنے کھڑا کر کے ان کے درمیان کوئی معرکہ بپا کرنے کے موڈ میں بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اس لیے یہ مغالطہ پہلے مرحلے ہی میں دور ہوجانا چاہیے کہ اجتہاد کا شرعی مفہوم کیا ہے اور ہمارے ان دوستوں نے اجتہاد کا کون سا تصور اپنے ذہنوں میں بٹھا رکھا ہے؟

اس سلسلہ میں پہلی بات یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ اجتہاد اور روایت میں کوئی تعارض یا مقابلہ نہیں بلکہ یہ دونوں چودہ سو سال سے ساتھ ساتھ چلے آرہے ہیں۔ صحابہ کرامؓ کے دور سے مسلسل یہ صورتحال ہے کہ روایت کرنے والے روایت کر رہے ہیں اور اجتہاد کرنے والے انہی روایات کی بنیاد پر اجتہاد کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بلکہ اہل علم کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو روایت بھی کرتے ہیں اور خود ہی ان کے حوالے سے اجتہاد بھی کرتے ہیں۔ امیر المؤمنین حضرت عمر رضی الہ عنہ کو دیکھ لیجئے جنہیں امت کے مجتہدین کا سرخیل سمجھا جاتا ہے، وہ اجتہاد کے بلند ترین مقام پر فائز ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ روایت بھی کرتے ہیں اور اجتہاد میں روایت ہی کو بنیاد بناتے ہیں۔ اگرچہ ان کے ہاں روایت کو قبول کرنے کا معیار دوسروں سے قدرے سخت ہے لیکن اس کا مطلب روایت کی نفی نہیں، ان کے سینکڑوں اجتہادات اور فتاوٰی کو مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے جن کی بنیاد روایت پر ہے۔ اس لیے یہ تصور انتہائی گمراہ کن ہے کہ روایت اور درایت، یا روایت اور اجتہاد ایک دوسرے کے مقابل کی چیزیں ہیں۔ روایت کی دنیا میں اصول استناد کے حوالے سے سب سے بلند مقام امام بخاریؒ کو دیا جاتا ہے لیکن وہ صرف روایت نہیں کرتے بلکہ ہر روایت کے ساتھ اجتہاد بھی کرتے ہیں اور درایت کا دامن مسلسل تھامے ہوئے ہیں۔

ہمارے ہاں روایت اور درایت، یا روایت اور اجتہاد کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کا تصور یورپ میں مسیحیت کے مذہبی ڈھانچے کے خلاف پروٹسٹنٹ انقلاب کو دیکھ کر پیدا ہوا ہے اور ہمارے بہت سے دانشور آنکھیں بند کر کے اسی لکیر کو پیٹتے چلے جا رہے ہیں۔ یورپ میں بائبل کی تعبیر و تشریح اور شرعی احکام کے تعین و وضاحت میں فائنل اتھارٹی پاپائے روم اور چرچ کو حاصل تھی جس کے خلاف مارٹن لوتھر اور ان کے رفقاء نے بغاوت کی اور اسے مسترد کرتے ہوئے یہ تصور دیا کہ بائبل کی تعبیر و تشریح ’’کامن سینس‘‘ کی بنیاد پر ہر مسیحی کا حق ہے اور اس پر پوپ یا چرچ کی کوئی اجارہ داری نہیں ہے۔ اس کشمکش میں پوپ اور چرچ کی تعبیرات و تشریحات نے روایت کا عنوان اختیار کر لیا جبکہ کامن سینس کو درایت کا نام دے دیا گیا اور ان دونوں کے درمیان معرکہ آرائی کا بازار گرم ہوگیا۔

ہمارے ہاں اس کی پیروی سب سے پہلے اکبر بادشاہ نے کی اور اسلام کے فقہی ذخیرے کو تقلیدی اور روایتی اسلام قرار دے کر مسترد کرتے ہوئے ’’اجتہاد مطلق‘‘ کے نام سے اسلامی عقائد و احکام کی تشکیل نو (ری کنسٹرکشن) کا کام کر ڈالا۔ لیکن اسے مکمل ناکامی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ اس کے بعد بھی ہمارے معاشرے میں جس شخص یا گروہ نے یہ راستہ اختیار کیا آج تک اسے کامیابی اور قبولیت حاصل نہیں ہو سکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسا کرنے والے دوست یورپ کے پس منظر اور مسلمانوں کے پس منظر میں فرق کو محسوس کرنے اور ملحوظ رکھنے کی زحمت گوارا نہیں فرما رہے۔ ایک پنجابی محاورے کے مطابق پڑوسیوں کا منہ سرخ دیکھ کر اپنا منہ تھپڑ مار مار کر سرخ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ یورپ میں مارٹن لوتھر کی اس تحریک کا جواز اور اس کی کامیابی کا بڑا سبب یہ تھا کہ مسیحیت کے پاس آسمانی تعلیمات کا کوئی مستند، محفوظ اور متفقہ متن موجود نہیں تھا اور نہ اب ہے۔ جس کی وجہ سے خدا کی منشا بیان کرنے، بائبل کی حتمی تعبیر کرنے اور شرعی احکام و قوانین کے تعین میں پوپ اور چرچ کو فائنل اتھارٹی کا درجہ حاصل ہوگیا تھا اور یہ اتھارٹی دلیل کی نہیں بلکہ شخصیت کی تھی۔ اسی طرح پوپ کو مسیحیت میں ’’خدا کے نمائندے‘‘ کا مقام حاصل ہے کہ وہ جو بات کرتا ہے خدا کی طرف سے کرتا ہے اس لیے اس کی کسی بات کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

اسلام میں یہ صورتحال دونوں حوالوں سے موجود نہیں ہے، اس لیے کہ ہمارے پاس قرآن کریم کا مستند، محفوظ اور متفقہ متن موجود ہے۔ اس کی تعبیر و تشریح میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و اعمال، بلکہ صحابہ کرامؓ کا تعامل بھی مکمل استناد اور اعتماد کے ساتھ موجود و محفوظ ہے۔ اس لیے ہمارے ہاں کسی بڑے سے بڑے مجتہد اور امام کو بھی کوئی بات کرنا ہوتی ہے تو اسے اس کے لیے ان میں سے کوئی دلیل پیش کرنا پڑتی ہے اور کوئی حوالہ دینا ہوتا ہے، بلکہ دلائل اور حوالوں کے انبار میں سے اپنے موقف کا ثبوت فراہم کرنا پڑتا ہے۔ پھر ان میں سے کسی کو ’’خدا کا نمائندہ‘‘ ہونے کی سند حاصل نہیں ہے جیسا کہ خلیفہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کو کسی نے ’’خدا کا خلیفہ‘‘ کہہ کر خطاب کیا تو انہوں نے اسے فورًا یہ کہہ کر ٹوک دیا کہ میں خدا کا نہیں بلکہ رسول اللہؐ کا خلیفہ ہوں۔ جس کا واضح مطلب یہ تھا کہ مجھے خدا کی نمائندگی کے نام پر شخصی اتھارٹی حاصل نہیں بلکہ میں جناب رسول اللہؐ کے نمائندے کے طور پر ان کی تعلیمات و ارشادات کا پابند ہوں۔

چنانچہ ہمارے ہاں دینی تعبیرات کا نظام پاپائے روم کی طرح شخصی اور صوابدیدی نہیں بلکہ اس کی بنیاد قرآن کریم اور سنت رسولؐ کے معلوم اور محفوظ ذخیرے اور دلیل و استدلال پر ہے۔ اس لیے اسے یورپ کی مسیحیت پر قیاس کرنا اور اسے مسترد کرنے کے لیے مارٹن لوتھر طرز کی تحریک کے راستے نکالنا مسئلہ کی نوعیت اور اس کے تاریخی پس منظر سے ناواقفیت پر مبنی ہے۔اسی وجہ سے ایسی کسی کوشش کو اکبر بادشاہ سے لے کر اب تک مسلم معاشرہ میں پذیرائی حاصل نہیں ہو رہی ہے۔ پھر مارٹن لوتھر کی ایک اور مجبوری یہ بھی تھی کہ چرچ اور پاپائے روم کی اتھارٹی اور صوابدیدی اختیارات کو مسترد کرنے کے بعد اس کے پاس کوئی متبادل علمی بنیاد اور ذخیرہ موجود نہیں تھا جس کے ذریعے وہ بائبل کی تعبیر و تشریح کا کوئی ’’علمی ڈھانچہ‘‘ تشکیل دیتا۔ اسی وجہ سے اسے بائبل کی تعبیر و تشریح کے لیے ’’کامن سینس‘‘ کو بنیاد قرار دینا پڑا اور اس کا یہ نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ مسیحیت کا فکری شیرازہ منتشر ہو کر رہ گیا ہے۔

’’کامن سینس‘‘ بہت اچھی چیز ہے اور بہت سے معاملات طے کرنے کے لیے اچھی بنیاد ہے۔ لیکن یہ کوئی ایک جگہ ٹھہرنے والی چیز تو نہیں ہے۔ یہ میسر معلومات و مشاہدات اور معلوم تجربات و تاثرات کی بنیاد پر سوسائٹی کی اجتماعی سوچ کے تعین اور اظہار کا بہترین ذریعہ ہے۔ ظاہر بات ہے کہ جوں جوں معلومات، مشاہدات، تجربات اور تاثرات کا دائرہ وسیع ہوتا جائے گا، کامن سینس کے ذریعے قائم ہونے والی رائے بھی تبدیل ہوتی جائے گی۔ اگر انسانی معلومات و مشاہدات کو کسی ایک جگہ قرار نہیں ہے تو ان کی بنیاد پر تشکیل پانے والی رائے کو کسی ایک مقام پر کیسے روکا جا سکتا ہے؟ اس کا دائرہ زمانے کے لحاظ سے بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے اور علاقے کے حوالے سے بھی مختلف ہوتا ہے۔ ایک بات آج سے ایک سو سال قبل معیوب سمجھی جاتی تھی مگر آج وہ معیوب نہیں رہی۔ ایک بات امریکہ میں عام طور پر ناپسندیدہ نہیں سمجھی جاتی مگر پاکستان یا چین کا معاشرہ اسے پسند نہیں کرتا۔ چنانچہ نہ تو ایک زمانے کی کامن سینس کو دوسرے زمانے کے لیے معیار قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ایک علاقے کی کامن سینس کو دوسرے علاقے پر ٹھونسا جا سکتا ہے۔ خود مغرب میں دیکھ لیں کہ:

  • نصف صدی قبل تک شادی کے بغیر مرد اور عورت کے اکٹھا رہنے کو معیوب اور بد اخلاقی تصور کیا جاتا تھا، مگر اب یہ بات وہاں کے ’’معروفات‘‘ میں شامل ہے۔
  • ہم جنس پرستی کو اب سے نصف صدی قبل تک بداخلاقی اور بدکاری تصور کیا جاتا تھا، مگر اب اسے حقوق میں شمار کیا جاتا ہے۔
  • شراب نوشی امریکہ میں پون صدی قبل تک جرم تھی، آج جائز سمجھی جاتی ہے۔

یہ سب کچھ آسمانی تعلیمات کو مسترد کر کے کامن سینس کو مذہب قرار دے لینے کا منطقی نتیجہ ہے۔ جہاں بھی یہ راستہ اختیار کیا جائے گا نتیجہ یہی ہوگا۔ پھر سب سے زیادہ قابل توجہ بات یہ ہے کہ مغرب نے کامن سینس کو حتمی معیار قرار دینے سے پہلے سوسائٹی کے ساتھ مذہب کے تعلق کو مسترد کیا تھا مگر ہمارے دانشور اس کا حوصلہ اور اخلاقی جرأت نہ رکھتے ہوئے سوسائٹی کو اسلام کے ساتھ جوڑے رکھنے کی بات بھی کرتے ہیں اور ہر لمحہ تغیر پذیر کامن سینس کو اسلام کے ابدی اصولوں اور صریح احکام کی تعبیر و تشریح کا واحد معیار قرار دینے پر بھی اصرار کیے جا رہے ہیں۔ ان دانشوروں کی نظر اس سب سے بڑی معروضی حقیقت سے عام طور پر چوک جاتی ہے کہ قرآن کریم اور سنت نبویؐ کا ذخیرہ محفوظ حالت میں مسلمانوں کے پاس موجود ہے۔ یہ ذخیرہ ایک زندہ زبان میں ہے اور وہ زبان عام طور پر پڑھی جاتی ہے اور سمجھی جاتی ہے۔ کوئی بھی عام مسلمان اس ذخیرے تک براہ راست رسائی حاصل کرنا چاہے تو اسے اس کے مواقع میسر ہیں اور ہر مسلم معاشرے میں علماء کرام اور دینی مدارس کی ایک اچھی خاصی تعداد اس علمی ذخیرے تک رسائی حاصل کر کے اس سے عام مسلمانوں کو وابستہ رکھنے میں مسلسل مصروف ہے۔ اس فضا اور ماحول میں اگر کسی شخص یا حلقے کو یہ غلط فہمی ہے کہ وہ مسلمانوں کو اسلام کی کسی نئی تعبیر و تشریح سے مانوس کر سکے گا تو اس کے لیے ہم دعائے صحت کے سوا اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔

ہم اجتہاد کے حوالے سے عرض کر رہے تھے، اس لیے اس بحث کو اس گزارش پر سمیٹ رہے ہیں کہ ’’اجتہاد‘‘ ہمارے روایتی علمی نظام ہی کا ایک حصہ ہے، اسے اس سے الگ کر کے یا اس کے مقابل کھڑا کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ جبکہ اجتہاد کے نام پر دینی احکام پر نظر ثانی کی خواہش رکھنے والے بہت سے دوست اجتہاد کے اس شرعی مفہوم اور علمی ڈھانچے کی بجائے پوپ طرز کے صوابدیدی اختیارات یا مارٹن لوتھر کی طرح کامن سینس کو پورے دین کی تعبیر نو کی بنیاد قرار دینے کو اجتہاد کا نام دے رہے ہیں، جس کا قرآن و سنت کے اصولوں کے ساتھ قطعاً کوئی تعلق نہیں۔ اس لیے کہ اجتہاد اپنے شرعی مفہوم میں الگ چیز ہے اور کامن سینس اس سے مختلف چیز ہے۔

مرد اور عورت کے درمیان مساوات

دوسرے نمبر پر ہم یہ بات کرنا چاہیں گے کہ مغرب مرد اور عورت کے درمیان جس مساوات کی بات کرتا ہے اور اس حوالے سے تمام امتیازی قوانین کو ختم کرنے کے درپے ہے، کیا وہ قابل عمل بھی ہے؟ اور کیا مغرب نے تمام تر دعوؤں کے باوجود خود وہ منزل حاصل کر لی ہے؟ فطرت نے مرد اور عورت کے درمیان امتیاز قائم کر رکھا ہے۔ یہ امتیاز ان کی جسمانی ساخت میں بھی ہے، ان کے فطری فرائض اور معاشرتی کردار میں بھی ہے، اور ان کی ذہنی و عملی صلاحیتوں میں بھی ہے۔ میں اس کی تازہ ترین مثال دوں گا:

  • امریکہ کے حالیہ صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹک پارٹی سے امیدواری کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے باراک اوباما اور ہیلری کلنٹن میں مقابلہ تھا، اس کے ابتدائی دور میں ایک ریاستی سطح کی ووٹنگ میں ہیلری کلنٹن کو اوباما کے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تو اس خاتون کی آنکھوں سے آنسو جھلک پڑے۔ اس پر امریکی حلقوں میں تبصرہ شروع ہوگیا کہ جو شخصیت اتنی سی شکست گوارا نہیں کر سکی وہ ملکی معاملات کو کیسے سنبھالے گی؟ چنانچہ عورت کے وہ آنسو جو عام طور پر عورت کے لیے ہمدردی کے جذبات ابھارنے کا باعث بنتے ہیں، ہیلری کلنٹن کی شخصیت کا تاثر مجروح کرنے کا باعث بن گئے۔
  • اسی الیکشن کے دوران ایک فوٹو بعض پاکستانی اخبارات میں بھی شائع ہوئی جس میں ہیلری کلنٹن، اوباما کی بیوی اور نائب صدارت کی امیدوار سارہ پالین کو دکھایا گیا اور یہ بتایا گیا کہ تینوں خواتین کا دلکش میک اپ اور دیدہ زیب لباس پورے الیکشن میں لوگوں کی توجہات کا مرکز بنا رہا۔ یہ فوٹو دیکھتے ہی میرے ذہن میں سوال ابھرا کہ کیا عورت امریکہ کے صدارتی الیکشن تک اپنے حسن اور دلکشی کے ’’امتیاز‘‘ کی نفی میں مساوات کا مقام حاصل کر پائی ہے؟

ان امتیازات کی کون نفی کر سکتا ہے اور عورت کو ان امتیازات سے آخر کیسے محروم کیا جا سکتا ہے؟ سوال یہ ہے کہ جب یہ امتیازات قائم ہیں اور قائم رہیں گے اور عورت کو ان امتیازات سے کسی صورت میں محروم نہیں کیا جا سکتا تو ان امتیازات کی بنیاد پر ان کے لیے الگ احکام و قوانین کی نفی بھی نہیں کی جا سکتی۔ آپ ان امتیازات میں توازن قائم رکھنے کی بات کر سکتے ہیں، آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان امتیازی قوانین میں عورت پر بلکہ مرد پر بھی ظلم نہیں ہونا چاہیے، کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہیے اور ایک دوسرے کے حقوق و مفادات کا پوری طرح لحاظ رکھا جانا چاہیے۔ لیکن سرے سے امتیاز اور امتیازی قوانین و احکام کی نفی کریں گے تو یہ فطرت کی نفی ہوگی، قدرت کے قوانین کی نفی ہوگی اور زمینی حقائق کی نفی ہوگی، جو غیر منطقی اور غیر فطری ہونے کے علاوہ ناقابل عمل بھی ہے۔

اس سلسلہ میں ایک لطیفہ کی بات یہ ہے کہ چند سال قبل ایک ملک میں مردوں کی طرف سے یہ مطالبہ سامنے آیا کہ جس طرح عورت کو بچہ جننے کے موقع پر زچگی کی چھٹیاں مع تنخواہ دی جاتی ہیں اس کے خاوند کو بھی ان دنوں اسی طرح چھٹیاں دی جائیں تاکہ مرد اور عورت کے درمیان مساوات کا تصور مجروح نہ ہو۔ خبر یہ تھی کہ اس ملک کی حکومت اس مطالبے پر غور کر رہی ہے۔ مجھ سے بعض دوستوں نے اس کے بارے میں پوچھا تو میں نے عرض کیا کہ وہ عورت تو بے چاری بچہ جنے گی اور بچے کی پرورش کرے گی جبکہ زچگی کا یہ عمل عام طور پر ہسپتال میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی نگرانی میں ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ خاوند اتنے دن چھٹی لے کر کیا کرے گا؟ ایک صاحب فرمانے لگے کہ کچھ کرے یا نہ کرے مرد اور عورت کے درمیان مساوات تو قائم ہو جائے گی۔

فطرت کے خلاف یہ ’’مصنوعی مساوات‘‘ قائم کرنے میں خود مغرب کو بھی کامیابی حاصل نہیں ہو رہی۔ مغربی دنیا میں شائع ہونے والے اعداد و شمار ملاحظہ کر لیجئے جو گواہی دے رہے ہیں:

  • یہ مساوات مردوں اور عورتوں کے درمیان ملازمتوں کی تقسیم میں بھی نہیں ہے۔
  • تنخواہوں اور مراعات کے معیار میں بھی نہیں ہے۔
  • سیاسی قیادت اور اعلیٰ مناصب میں بھی نہیں ہے۔
  • اور عام معاشرتی رویوں میں بھی نہیں ہے۔

جب یہ بات عملاً ممکن نہیں تو اس سراب کے پیچھے بھاگے چلے جانے کی بجائے کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ:

  • مرد اور عورت کے درمیان فطری امتیاز کو تسلیم کر لیا جائے۔
  • اس فطری امتیاز کو ان کے درمیان حقوق و فرائض کی بنیاد قرار دے کر دونوں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں واپس لایا جائے۔
  • اور باہمی حقوق و فرائض کے نظام کو اس طرح استوار کیا جائے کہ کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو اور ہر ایک اپنے فطری فرائض مکمل حوصلے اور اعتماد کے ساتھ سرانجام دے سکے۔

ہمیں عورت کے ساتھ انسانی معاشرے میں ہونے والی زیادتیوں سے انکار نہیں ہے، یہ زیادتیاں ہر جگہ ہو رہی ہیں۔ بعض حوالوں سے مغرب کی عورت زیادہ مظلوم ہے جبکہ بعض حوالوں سے مشرق اور مسلم دنیا کی عورت زیادہ مظلوم نظر آتی ہے۔ ان زیادتیوں کا مذہب اور اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، یہ معاشرتی رویے ہیں جو ظلم اور زیادتی کا عنوان بن جاتے ہیں۔ ان کا علاج اور حل مرد اور عورت کے درمیان امتیاز کی نفی کرتے ہوئے مساوات کا مصنوعی ماحول پیدا کرنا نہیں بلکہ فطرت کے قائم کردہ امتیاز اور تقسیم کار کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے دائرے میں توازن و اعتدال قائم کرنا اور معاشرتی اصلاح کے لیے محنت کرنا ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کی حدودِ کار

اسلامی نظریاتی کونسل کے بارے میں اس حوالے سے ہم یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ یہ ایک دستوری ادارہ ہے اور اسے دستور کے اندر ہی رہنا چاہیے۔ دستور نے قرآن و سنت کو قانون سازی کا ماخذ قرار دیا ہے اور اس کا ایک طویل پس منظر ہے۔ قیام پاکستان کے بعد بعض دانشوروں نے قرآن کریم کو اسلامی قانون سازی کا واحد ماخذ قرار دیتے ہوئے سنت رسولؐ کو اس کے دائرے سے خارج کرنے کی کوشش کی جو سالہا سال تک علمی مباحث اور فکری معرکوں کی صورت میں جاری رہی۔ پاکستان کی رائے عامہ نے اس میں واضح فیصلہ صادر کیا کہ قرآن کریم کی طرح سنت رسولؐ بھی اسلامی قانون سازی کا مستقل ماخذ ہے۔ چنانچہ دستور ساز اسمبلی نے ۱۹۷۳ء کے دستور میں یہ فیصلہ کر کے اس قضیہ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ دستور کی نمائندگی کرنے والے اداروں کو اس کا ہر حالت میں لحاظ رکھنا ہوگا ورنہ وہ دستوری تقاضوں سے انحراف کے مرتکب ہوں گے۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ ’’سنت‘‘ سے مراد کوئی نیا اور خودساختہ مفہوم نہیں بلکہ وہ ہے جسے امتِ مسلمہ مجموعی طور پر سنت سمجھتی آرہی ہے اور اب بھی اس کے نزدیک سنت کا مفہوم وہی ہے۔

ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ سنت رسولؐ کو قانون سازی سے الگ سمجھنے والے دانشوروں کا پرنالہ پاکستانی رائے عامہ کے اس فیصلے اور دستور پاکستان کی اس واضح بنیاد کے باوجود اسی جگہ بہہ رہا ہے اور انہوں نے پاکستانی پولیس کی طرح ’’نگ‘‘ پورا کرنے کے لیے سنت کا ایک خودساختہ مفہوم متعین کر کے اسے ’’قرآن و سنت‘‘ کی اصطلاح کے ساتھ نتھی کر دیا ہے جو فریب کاری کی انتہا ہے۔ یہ دانشور اسلامی نظریاتی کونسل میں بیٹھ کر سنت کا خود ساختہ مفہوم امت پر مسلط کرتے ہوئے اس معروضی حقیقت سے آنکھ بند کیے ہوئے ہیں کہ پاکستان کے وہ عوام جن کے اکثریتی فیصلے اور رجحان کے باعث دستور میں سنت رسولؐ کو قرآن کریم کے ساتھ قانون سازی کا مستقل ماخذ قرار دیا گیا ہے، وہ عوام سنت رسولؐ کے ساتھ صرف عقیدت اور کمٹمنٹ ہی نہیں رکھتے بلکہ سنت کا ایک واضح اور غیر مبہم مفہوم بھی اپنے ذہن میں رکھتے ہیں۔ وہ سنت کو اسی مفہوم کے ساتھ ملک میں قانون سازی کا ماخذ تسلم کرتے ہیں۔ گنتی کے چند دانشور اگر عوام کے اکثریتی رجحانات کے خلاف سنت کا کوئی الگ مفہوم اپنے ذہن میں رکھتے ہیں تو انہیں اسلامی نظریاتی کونسل کا دستوری فورم استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل دستوری ادارہ ہے اور دستور پاکستان کے عوام کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس فورم میں بیٹھ کر پاکستان کے عوام کی اکثریت کے رجحانات کی نفی کرنا قانوناً اور اخلاقاً کسی بھی حوالے سے درست نہیں ہے۔ وہ اپنی فکر کو عام کرنا چاہتے ہیں تو اس ادارے کو چھوڑیں اور عوام میں آئیں، انہیں اپنی دانش کے حدود و اربعہ کا خود ہی اندازہ ہو جائے گا۔

جہاں تک پاکستان کے معروضی حالات اور زمینی حقائق کا تعلق ہے ہم سطور بالا میں یہ عرض کر چکے ہیں کہ وہ یورپ کے مسیحیوں کی طرح اپنے مذہب کے ساتھ صرف رسمی تعلق نہیں رکھتے بلکہ شعوری طور پر اپنے مذہب سے وابستہ ہیں۔ یہ وابستگی صرف عقیدہ و ایمان کی حد تک نہیں بلکہ دین کی چودہ سو سالہ اجتماعی تعبیر و تشریح کے ساتھ ان کی وابستگی اور کمٹمنٹ بھی ایمان و عقیدے ہی کے درجہ کی ہے۔ وہ قرآن و سنت اور صحابہ کرامؓ کو دین کی بنیاد تسلیم کرتے ہیں، اسی وجہ سے ان کی غالب اکثریت اہل السنتہ والجماعۃ کہلاتی ہے۔ یہ صرف رسمی ٹائٹل نہیں ہے بلکہ ان کے عقیدے و ایمان اور وابستگی کا شعوری اظہار ہے۔ ان کے اس اجتماعی رجحان اور وابستگی کو نہ چیلنج کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی انہیں اس سے محروم کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے اکبر بادشاہ سے بڑا کوئی حکمران اور سرسید احمد خان سے بڑا دانشور اب نہیں آسکتا۔ جب ان دو عظیم اور عبقری شخصیتوں کو اس مقصد میں کامیابی نہیں ہوئی تو کسی اور کو بھی یہ خواب نہیں دیکھنا چاہیے۔

پاکستانی عوام کا یہ جائز حق ہے کہ ان کے عقیدہ، وابستگی اور اجتماعی رجحانات کا احترام کیا جائے اور جس کام کے لیے انہیں گزشتہ چار صدیوں میں تیار نہیں کیا جا سکا اس میں مزید وقت اور صلاحیتیں ضائع نہ کی جائیں۔ پاکستان کے علماء نے قیام پاکستان کے بعد جب اور جہاں ضرورت پڑی اجتہاد سے کام لیا ہے۔ لیکن یہ اجتہاد علمی روایت کے ساتھ چلنے والا شرعی اجتہاد ہے، اسے مسترد کر کے اس کے متوازی دین کی تشکیل کے تصور پر مبنی نہیں ہے۔ اجتہاد اور تشکیلِ نو میں واضح فرق ہے، اس فرق کو ملحوظ رکھنا ہوگا۔ اجتہاد کے مسلمہ اصولوں اور طے شدہ دائروں میں جو بات بھی کی جائے گی ہم اس کا خیرمقدم کریں گے اور ہمیشہ کرتے آ رہے ہیں۔ لیکن امت کے اجتماعی تعامل اور چودہ سو سالہ علمی روایت کو مسترد کر کے نیا دین کھڑا کرنے کی بات نہ پہلے قبول ہوئی ہے نہ اب ہوگی۔

نکاح و طلاق کا مسئلہ

ان گزارشات کے بعد ہم نکاح و طلاق کے مسئلہ کی طرف آتے ہیں اور اس سلسلہ میں پہلی بات یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ مغرب کے خاندانی نظام کی بنیاد دو باتوں پر ہے:

  1. ایک یہ کہ مرد اور عورت کے درمیان مکمل مساوات ہے۔
  2. اور دوسری یہ کہ نکاح محض سوشل کنٹریکٹ ہے اس لیے اسے صرف سوشل کنٹریکٹ کے طور پر ہی ڈیل کرنا چاہیے۔

اسلام ان دونوں باتوں کو قبول نہیں کرتا۔ مرد اور عورت میں مکمل مساوات کے حوالے سے ہم تفصیل سے عرض کر چکے ہیں۔ اور سول کنٹریکٹ کے بارے میں گزارش ہے کہ اسلام نکاح اور شادی کو صرف سوشل کنٹریکٹ نہیں سمجھتا بلکہ ایک مذہبی فریضہ گردانتا ہے، اسے سنت نبویؐ اور سنت المرسلمینؑ قرار دیتا ہے، اسے خاندانی نظام کے استحکام کا ذریعہ اور اجر و ثواب کا باعث بھی سمجھتا ہے۔ اس لیے اس کے حدودِ کار کو صرف دو فریقوں کی صوابدید پر چھوڑ دینے کی بجائے قرآن و سنت کے احکام کے ذریعے ان کا تعین کیا گیا ہے اور میاں بیوی کو اس کا پابند بنایا گیا ہے۔ قرآن کریم صاف طور پر کہتا ہے کہ:

  • مرد اور عورت کا جنسی تعلق صرف خواہش کی تکمیل کے لیے نہیں بلکہ خاندان کی بنیاد کے طور پر جائز بلکہ ضروری ہے۔
  • یہ تعلق خفیہ اور صرف دو طرفہ دوستی کی بنیاد پر نہیں بلکہ کھلے بندوں ہوگا اور ریکارڈ پر ہوگا۔
  • یہ تعلق خاوند کی طرف سے مالیاتی ذمہ داریاں قبول کرنے کی صورت میں ہوگا۔
  • یہ تعلق جو فریق جب چاہے چھوڑ دے کی بنیاد پر نہیں بلکہ زندگی بھر کے لیے دائمی ہوتا ہے۔ کیونکہ طلاق کو صرف مجبوری کے درجے میں روا رکھا گیا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلاوجہ طلاق پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’’ابغض المباحات‘‘ (مبغوض ترین) قرار دیا ہے۔
  • ’’بیدہ عقدۃ النکاح‘‘ کی واضح نصِ قرآنی کی صورت میں نکاح کو قائم رکھنے یا توڑنے کی فائنل اتھارٹی صرف اور صرف مرد کو قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ دو ہاتھوں میں برابر کے اختیارات کی صورت میں خاندان کا نظام کسی صورت میں قائم نہیں رہ سکتا۔ کسی بھی ادارے میں دو ہاتھوں میں یکساں اختیارات ہمیشہ اس ادارے کی تباہی کا باعث بنتے ہیں۔ خاندان بھی ایک ادارہ ہے اور اس کا نظام صحیح طور پر چلانے کے لیے فائنل اتھارٹی صرف ایک ہاتھ میں ہونا ضروری ہے۔مغرب نے مرد اور عورت کو یکساں طور پر طلاق کا اختیار دے کر اس کا نتیجہ خاندانی نظام کی تباہی اور اخلاقی انارکی کی صورت میں دیکھ اور بھگت لیا ہے۔ لہٰذا دنیا میں کسی جگہ بھی کوئی مسلم معاشرہ اس صورتحال کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

اسلام میں عورت کو طلاق کے حق سے یکسر محروم نہیں کیا گیا بلکہ خلع کی صورت میں مطالبۂ طلاق کا حق دیا گیا ہے۔ خلع طلاق کا حق نہیں بلکہ مطالبۂ طلاق کا حق ہے اور اس کا پورا کرنا صرف خاوند کی صوابدید پر نہیں ہے بلکہ خاندان کی پنچایت اور عدالت کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ اگر عورت خاوند کی زیادتی ثابت کر دے تو عدالت خاوند کی مرضی کے بغیر تفریق کا حکم صادر کر سکتی ہے۔ اس سلسلہ میں عام طور پر عدالتی نظام اور معاشرتی ماحول کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ بے چاری عورت کہاں عدالتوں کے دھکے کھاتی پھرے گی؟ جبکہ یہ صورتحال صرف عورتوں کے حوالے سے نہیں بلکہ عدالتی نظام کی یہ کمزوریاں اور معاشرتی خرابیاں ملک کے ہر قانون کے حوالے سے موجود ہیں۔ اگر کسی بے چارے کے دھکے کھانے کو قانون میں تبدیلی کی وجہ کے طور پر قبول کر لیا جائے تو ملک کا کوئی قانون تبدیلی سے محفوظ نہ رہے۔ عدالتی نظام کی کمزوریوں اور معاشرتی خرابیوں کا علاج قانون کا حلیہ بگاڑنا نہیں بلکہ کمزوریوں اور خرابیوں کو دور کرنا ہوتا ہے۔

سوسائٹی کی منہ زور خواہشات کے سامنے ہتھیار ڈال دینے کو اسلام قبول نہیں کرتا اور قرآن و سنت کی نصوصِ صریحہ کے مقابلے میں سوسائٹی کی خواہشات کی پیروی کو گمراہی قرار دیتا ہے۔ جبکہ مغرب نے سوسائٹی کی سوچ اور خواہشات کو ہی حق و باطل کا واحد معیار قرار دے رکھا ہے جس کے نتیجے میں شراب، زنا اور ہم جنس پرستی جیسی واضح خرابیوں کو صرف اس لیے قبول کر لیا گیا ہے کہ سوسائٹی کی اجتماعی سوچ اور خواہش یہی ہے۔ اب مغربی ملکوں میں ہیروئن جیسے نشوں کے بارے میں یہ مطالبات شروع ہوگئے ہیں کہ چونکہ سوسائٹی اسے ترک کرنے کے لیے تیار نہیں اس لیے اس کا قانونی جواز فراہم کرنے کے راستے تلاش کیے جائیں۔ اسی سوچ کا نتیجہ ہے کہ نکاح مغربی معاشرے میں غیر ضروری ہوتا جا رہا ہے، شادی کے بغیر اکٹھے رہنے کا رجحان دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ سنگل پیرنٹ (single parent) کے قانون نے نسب اور خاندان کے رہے سہے تصور اور باہمی رشتوں کے تقدس کو، جسے اسلام نے صلہ رحمی کے عنوان سے عبادت کا درجہ دے رکھا ہے، پامال کر کے رکھ دیا ہے۔

ان ساری خرابیوں کی واحد وجہ خاندانی نظام کے بارے میں یہ تصور ہے کہ یہ محض سوشل کنٹریکٹ ہے اور مرد اور عورت کو ہر معاملے میں مساوی حقوق حاصل ہیں۔ جبکہ اس تصور کی وکالت کرنے والے دوست، غیر شعوری طور پر سہی، وہی ماحول مسلم معاشرے میں قائم کرنے کے درپے ہیں۔ اس لیے کہ ایک عمل نے جو نتائج مغربی معاشرے میں پیدا کیے ہیں اس کے منطقی نتائج سے مسلم معاشرہ کو آخر کیسے محفوظ رکھا جا سکتا ہے؟ لطف کی بات یہ ہے کہ خاندانی نظام کے تحفظ کی بات اقوام متحدہ کا چارٹر بھی کرتا ہے اور خاندان کو ہی معاشرے کی بنیادی اکائی قرار دیتا ہے، لیکن اس نے خاندانی نظام کے لیے جو بنیادیں فراہم کی ہیں وہ نظم اور اجتماعیت کے تقاضوں کو پورا کرنے کی بجائے فردیت (individualism) کو اس کے مقابلہ میں فروغ دیتی ہیں۔ اسلام کے نظام اور مغرب کے فلسفہ میں بنیادی فرق ہی یہ ہے کہ اسلام اجتماعیت کی بات کرتا ہے اور اس اجتماعیت کے تحفظ کے لیے، خواہ وہ خاندان کی سطح پر ہو یا سوسائٹی کی سطح پر ہو، فرد پر پابندیاں عائد کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب فرد پابندیاں قبول نہیں کرے گا اور ہر جگہ فردیت کو بالاتر رکھنے کی کوشش کی جائے گی تو اجتماعیت کسی سطح پر بھی قائم نہیں ہو سکے گی اور نظم و ڈسپلن کہیں وجود میں نہیں آپائے گا۔

خاندانی نظام اپنے وجود اور استحکام دونوں کے لیے فرد پر پابندیوں کو ضروری قرار دیتا ہے اور باہمی رشتوں کا تقدس اور احترام بھی انہی پابندیوں کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔ اگر فرد اپنی خواہشات پر قدغنیں قبول نہیں کرے گا اور ناگزیر پابندیوں کو آزادی کے حق کے منافی سمجھنے لگے گا تو نہ خاندان وجود میں آسکتا ہے اور نہ ہی رشتوں کا وہ تقدس اور احترام قائم رہ سکتا ہے جسے اسلام نے صلہ رحمی کی بنیاد قرار دیا ہے۔ اس لیے اگر ہم نے خاندانی نظام اور رشتوں کے تقدس کو قائم رکھنا ہے تو وہ ساری پابندیاں اور ترجیحات قبول کرنا ہوں گی جو قرآن و سنت نے بیان کی ہیں۔ اگر خدانخواستہ اس سے دستبردار ہو کر مغربی معاشرے کے مقام تک جانے کا تہیہ کر لیا گیا ہے تو پھر جو چاہے کریں۔ لیکن ہمارے دانشور خاطر جمع رکھیں کہ پاکستان کے عوام نے اسے پہلے کبھی قبول کیا ہے اور نہ ہی آئندہ کبھی انہیں اس بات پر آمادہ کیا جا سکتا ہے (ان شاء اللہ تعالیٰ)۔

درجہ بندی: