جمعیۃ علماء ہند پر ایک دستاویزی کتاب

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
یکم جنوری ۱۹۸۲ء

جمعیۃ علماء ہند نے برصغیر کی آزادی کی جدوجہد میں جو نمایاں اور فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے وہ تاریخ کا ایک روشن اور ناقابل فراموش باب ہے۔ اور یہ اعزاز جمعیۃ علماء ہند ہی کو حاصل ہوا تھا کہ آزادیٔ وطن کی آئینی جدوجہد میں وطنِ عزیز کی کامل آزادی کا مطالبہ سب سے پہلے جمعیۃ علماء ہند نے ۱۹۲۶ء میں پیش کیا جبکہ ملک کی دیگر چھوٹی بڑی سب جماعتیں ابھی تک اندرونی خودمختاری اور داخلی حکومت کے حصول کو اپنا مقصد قرار دیے ہوئے تھیں۔ لیکن آزادیٔ وطن کے بعد جمعیۃ علماء ہند کے اس روشن کردار کو مؤرخین نے جس بے رحمی کے ساتھ نظر انداز کیا ہے اور نئی پود کو علماء حق کی جدوجہد سے بے خبر رکھنے کی مسلسل کوشش کی ہے وہ انتہائی افسوسناک امر ہے جس کا تسلسل ابھی تک قائم ہے۔

حکومتِ پاکستان کا قائم کردہ ’’قومی ادارہ برائے تحقیق تاریخ و ثقافت‘‘ (پوسٹ بکس نمبر ۱۲۳۰) اسلام آباد کچھ عرصہ سے قومی تاریخ کے مخفی گوشوں اور ملی و قومی تحریکوں کے کردار کو قوم کے سامنے لانے کے لیے قابلِ قدر مساعی میں مصروف ہے۔ اور قومی و سیاسی طبقات کی مساعی اور جدوجہد کے بارے میں دستاویزات کو جمع کر کے ان کے اشاعت کا اہتمام کر رہا ہے جنہوں نے برصغیر میں آزادی کے حصول اور فکری و ملی ورثہ کے تحفظ کے لیے کسی بھی عنوان سے خدمات سرانجام دی ہیں۔ اسی ضمن میں ادارہ کی ریسرچ فیلو محترمہ پروین روزینہ صاحبہ نے ’’جمعیۃ علماء ہند‘‘ کو اپنی جستجو اور تحقیقی تگ و دو کا عنوان بنایا ہے۔ انہوں نے کئی برسوں کی مسلسل محنت اور تلاش کے بعد جمعیۃ علماء ہند سے متعلق اہم دستاویزات کو جمع کر کے انہیں دو جلدوں میں شائع کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ اس وقت ان کی کتاب ’’جمعیۃ علماء ہند‘‘ کی جلد اول ہمارے سامنے ہے جو پانچ سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں مصنفہ نے ۱۹۱۹ء سے ۱۹۴۵ء تک جمعیۃ کے آٹھ مرکزی اجلاسوں کے فیصلے، قراردادیں، خطبہ ہائے صدارت، خطبہ ہائے استقبالیہ اور دیگر ضروری تفصیلات کو یکجا کر دیا ہے۔

مصنفہ نے ان دستاویزات کو جمع کرنے میں جس محنت اور عرق ریزی سے کام لیا ہے وہ اگرچہ ان کے منصبی فرائض کا حصہ ہے تاہم معاملہ صرف منصبی ذمہ داریوں تک محدود رہتا تو اتنی اہم دستاویزات کو جمع کرنا شاید اس قدر آسان نہ ہوتا۔ یقیناً اس میں قومی تاریخ اور اہل حق کے کردار کے ساتھ مصنفہ کی ذاتی دلچسپی بھی کارفرما ہے جس کی جھلک اس مجموعہ دستاویزات میں واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ بہرحال ہمیں خوشی ہے کہ جمعیۃ علماء ہند کے بارے میں پاکستان میں پہلی بار اور وہ بھی سرکاری سطح پر ایک مستند اور معیاری کتاب سامنے آئی ہے جس سے شکوک و شبہات کے ان پردوں کو چاک کرنے میں یقیناً مدد ملے گی جو جانبدار مؤرخین نے علماء حق کے روشن کردار اور تاریخی جدوجہد پر اب تک ڈال رکھے ہیں۔

قومی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے حضرات اور خصوصاً ولی اللہی تحریک کے ہر شعوری کارکن کے لیے اس کتاب کا مطالعہ ازحد ضروری ہے۔ ہم جماعتی احباب سے گزارش کریں گے کہ وہ اس دستاویزی کتاب کو اپنے مطالعہ اور کتب خانوں کی زینت بنائیں اور اس کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کریں۔