پاکستان ۔ نعمت کی ناقدری اور ناشکری

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳۱ مئی ۲۰۰۹ء
اصل عنوان: 
نعمت کی ناقدری اور ناشکری

گزشتہ شب جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں حضرت والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور گزشتہ سال انتقال کرنے والے ان کے چھوٹے بھائی حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی کی یاد میں ’’شیخین سیمینار‘‘ کے عنوان سے تعزیتی اجتماع تھا جس میں ملک کے مختلف حصوں سے ان کے تلامذہ اور عقیدت مندوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی اور متعدد سرکردہ علماء کرام نے دونوں بزرگوں کی علمی و دینی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا جن میں جسٹس (ر) مولانا مفتی محمد تقی عثمانی اور شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔

مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے اس موقع پر خطاب میں دونوں بزرگوں کی علمی خدمات کے تذکرہ اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے علاوہ ملکی صورتحال کا بھی ذکر کیا اور تیزی سے بگڑتے ہوئے حالات پر صدمہ اور بے چینی کا اظہار کرتے ہوئے یہ بتایا کہ ان سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کی کسی صالح اور ثقہ خاتون کو گزشتہ دنوں خواب میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو مرتبہ زیارت ہوئی ہے اور دونوں مرتبہ جناب رسالت مآبؐ نے فرمایا ہے کہ پاکستان پر آزمائش کا شدید دور آنے والا ہے اور عذاب کا خطرہ ہے اس لیے قرآن کریم کی سورہ الشمس کا زیادہ سے زیادہ ورد کیا جائے۔ اس خاتون کے مطابق آقائے نامدارؐ نے ۷۵ ہزار کا عدد بھی بتایا ہے کہ اس سورہ کی قرأت کو اس عدد میں مکمل کیا جائے۔

مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے یہ بیان کرتے ہوئے مسئلہ کی وضاحت بھی کی کہ پیغمبر کے سوا کسی اور کا خواب شرعی دلیل نہیں ہوتا کہ اس پر عمل ضروری ہو جائے۔ البتہ خواب میں اگر جناب رسول اکرمؐ کی زیارت ہوئی ہے تو یہ تسلی رکھنی چاہیے کہ آپؐ ہی کی زیارت ہوئی ہے، اور اگر آنحضرتؐ نے کوئی ایسی بات فرمائی ہے جو خود آپؐ کے اپنے ارشادات اور قرآن کریم کے احکام کے منافی نہیں ہے تو اس پر عمل بھی کرنا چاہیے۔ چنانچہ مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے مشورہ دیا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سورہ مبارکہ کی تلاوت کا اہتمام کریں اور ملک بھر میں رجوع الی اللہ اور توبہ و استغفار کا ماحول پیدا کیا جائے تاکہ ہم وطنِ عزیز کو درپیش موجودہ مشکلات اور مستقبل میں پیش آنے والے خطرات سے بچ سکیں۔

قرآنِ کریم کی تلاوت اور اس کے کسی بھی حصے کی قرأت ہمارے لیے ہر وقت خیر و برکت کا باعث اور شرور سے بچاؤ کا ذریعہ ہوتی ہے۔ اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آزمائش، فتنہ اور مصیبت کے ہر لمحہ میں نماز، ذکر و اذکار اور قرآنِ کریم کی تلاوت کی تلقین فرمائی ہے جس پر موجودہ حالات میں زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مفتی صاحب سے یہ بات سننے کے بعد میں مسلسل اس سوچ میں تھا کہ بطور خاص اس سورہ کی تلاوت اور ورد کی تلقین کی آخر کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ جب اس سورہ کے معانی پر غور کیا تو دو باتیں سمجھ میں آئیں جو موجودہ صورتحال میں ہمارے حالات سے مناسبت رکھتی ہیں۔ کیونکہ ظاہر ہے کہ تلاوت کریں گے تو معنیٰ پر غور کا ذوق پیدا ہوگا اور جب اس سورہ مبارکہ کے معانی پر غور کریں گے تو اس طرف ضرور توجہ جائے گی جو میری طالب علمانہ رائے میں اس تلقین خاص کی وجہ بن سکتی ہے۔

سورۃ الشمس قرآن کریم کی سورہ نمبر ۹۱ ہے جو آخری پارہ میں ہے۔ اور اس کی مختصر سی ۱۵ آیات ہیں جن کی ترتیل کے ساتھ تلاوت میں بھی دو تین منٹ سے زیادہ وقت نہیں لگتا۔ جبکہ اس کے نفسِ مضمون میں دو باتیں شامل ہیں:

  1. ایک یہ کہ سورہ کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے سورج، چاند، دن، رات، آسمان، زمین اور دیگر مختلف مظاہر کو گواہ بنا کر یہ فرمایا ہے کہ ہم نے نفسِ انسانی کو نافرمانی اور فرمانبرداری کے دونوں راستے دکھا دیے ہیں اور اب انسان کی نجات و فلاح کا مدار اس پر ہے کہ وہ اپنے نفس کی اصلاح کر کے اسے پاک صاف رکھتا ہے یا اسے رذائل میں ملوث کر کے ناکامی اور نامرادی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ یہ ارشاد فرما رہے ہیں کہ تمہاری کامیابی یا ناکامی اور فلاح یا خسارہ کا مدار اس بات پر ہے کہ تم اپنی اصلاح کے لیے کس حد تک تیار ہو؟ کیونکہ یہ قانونِ فطرت ہے کہ جب تک انسان خود اپنی اصلاح کے لیے تیار نہیں ہوتا اور اس کے ضروری تقاضے پورے نہیں کرتا اللہ تعالیٰ کسی کو جبرًا اصلاح کے راستے پر گامزن نہیں کرتا۔

    اس ارشاد گرامی کی روشنی میں ہم اپنی مجموعی حال پر ایک نظر ڈال لیں تو اس حقیقت کا ادراک کوئی مشکل بات نہیں ہے کہ ہمارا تو ’’آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے‘‘۔ کچھ افراد ہر طبقہ میں ضرور مستثنیٰ ہوں گے جو اصلاحِ احوال کی سوچ رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کے منطقی اور فطری تقاضے پورے کرنے کے لیے بھی آمادہ ہوں گے۔ مگر مجموعی طور پر قوم کا کوئی طبقہ بحیثیت طبقہ اصلاح کا عمل قبول کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔ ہم سب دوسروں کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں لیکن خود اپنی اصلاح کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ ہم میں سے ہر طبقہ، گروہ اور فرد خود ہی حق اور انصاف کا معیار بن گیا ہے اور اسی معیار پر ساری قوم کو لانے پر تلا ہوا ہے۔ کرپشن عام ہے، خودغرضی نے ہر طرف ڈیرے ڈال رکھے ہیں، محدود مفادات نے ہمارے ذہن و قلب کو ماؤف کر دیا ہے اور ہم شخصی یا زیادہ سے زیادہ گروہی یا طبقاتی سوچ اور مفاد سے آگے بڑھنے کو تیار نہیں ہیں۔

    ان حالات میں ہماری سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ صدر مملکت سے لے کر ایک عام فرد تک ہر شخص اپنی موجودہ پوزیشن کا جائزہ لے، اس پر نظر ثانی کرے اور ملک و قوم کی بہتری کے لیے اپنی ترجیحات اور معمولات میں جو تبدیلی بھی ضروری نظر آئے اس کے لیے ذہنی طور پر تیار رہے۔ میرے خیال میں ہمیں قرآن کریم کی اس سورہ مبارکہ کی طرف توجہ دلا کر یہ کہا گیا ہے کہ ’’نفس کی اصلاح اور ہر نفس کی اصلاح‘‘ اس وقت ہماری سب سے بڑی ’’قومی ضرورت‘‘ ہے۔ اگر ہم خدانخواستہ اس طرف متوجہ نہیں ہوں گے تو قومی آزمائش کے نئے مرحلے ہمارے لیے عذاب خداوندی کی شکل بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے اپنی حفظ و امان میں رکھیں، آمین یا رب العالمین۔

  2. اس سورہ مبارکہ کے دوسرے حصے کا مضمون یہ ہے کہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کو اس کی درخواست پر اللہ تعالیٰ نے حضرت صالحؑ کے معجزہ کے طور پر چٹان کے پیٹ سے ایک اونٹنی دی تھی جو ایک زندہ اونٹنی کے طور پر ان کے درمیان موجود رہی۔ مگر اللہ تعالیٰ کے پیغمبر نے اس کے ساتھ یہ وارننگ بھی دی کہ یہ ’’اللہ تعالیٰ کی خاص اونٹنی‘‘ ہے اگر اس کو نقصان پہنچایا تو خدا کا عذاب آئے گا۔ ان کی قوم نے اس وارننگ کی پروا نہ کی اور اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ ڈالیں جس پر خدا کا عذاب آیا اور پوری کی پوری قوم صفحۂ ہستی سے مٹ گئی۔

    کیا اس سورہ مبارکہ کی تلاوت کی تلقین فرما کر ہمیں یہ سوچنے کی دعوت تو نہیں دی گئی کہ غور کرو اور سوچو کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ تمہیں بحیثیت قوم اللہ تعالیٰ نے تمہاری دعا اور درخواست پر کوئی خاص نعمت دی ہو اور تم اس کی ناقدری اور ناشکری کر رہے ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ وہ عام نعمتوں کی ناشکری پر بھی ناراض ہوتے ہیں لیکن جو نعمت لوگوں کو ان کی درخواست پر دی جاتی ہے اس کی ناقدری اور ناشکری اللہ تعالیٰ کے غیظ و غضب کو دعوت دینے کا باعث بن جاتی ہے، پھر خدا کا عذاب ان ناقدروں اور ناشکروں کا مقدر بن جایا کرتا ہے۔

    مجھے یہ عرض کرتے ہوئے ڈر لگ رہا ہے کہ پاکستان اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے جو رب العالمین نے ہماری اجتماعی درخواست پر ہمیں معجزے کے طور پر عطا فرمایا تھا۔ ہم نے یہ نعمت مانگتے ہوئے اپنے رب سے ایک وعدہ کیا تھا جو ہم ساٹھ سال میں بھی پورا نہیں کر سکے اور اب خدانخواستہ اس وعدے سے پیچھا چھڑانے کی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔ خدا نہ کرے کہ ’’قوم ثمود‘‘ کی طرز کی یہ بغاوت ہمارے لیے اسی قوم جیسے انجام کا باعث بن جائے، اس کے لیے فکر کی ضرورت ہے اور شاید ہمیں اسی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔