قرآن و سنت کی عملداری، کس کی ذمہ داری؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۶ فروری ۲۰۱۱ء
اصل عنوان: 
کیا یہ صرف ’’ملا صاحبان‘‘ کی ذمہ داری ہے؟

محترم غلام جیلانی خان نے قرآن کریم کے حوالے سے بہت اہم پہلو کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ملا صاحبان اپنے بیانات اور خطبات میں سورہ الانعام کی آیت ۱۵۱ تا ۱۵۳ کے بارے میں بیان کرتے ہیں تو صرف برتھ کنٹرول سے متعلقہ حکم کا تذکرہ کرتے ہیں مگر وہ ۹ احکام جو ان آیات میں بیان کیے گئے ہیں انہیں بیان نہیں کرتے۔ یہ احکام (۱) شرک (۲) ماں باپ کی فرمانبرداری (۳) فاقہ کے ڈر سے اولاد کے قتل سے ممانعت (۴) بے حیائی سے بچنے کی تلقین (۵) کسی انسان کے ناحق قتل کی حرمت (۶) یتیم کے مال کے قریب نہ جانا (۷) ناپ تول کو پورا کرنا (۸) ہر حال میں انصاف کی بات کرنا (۹) اور اللہ تعالیٰ سے کیا گیا عہد پورا کرنے سے متعلق ہیں۔

ہمیں بھی ملا صاحبان سے یہی شکایت رہتی ہے کہ وہ اپنے عمومی بیانات و خطبات میں قرآن کریم کی جامعیت کا عام طور پر لحاظ نہیں رکھتے اور صرف انہی موضوعات پر بات کرتے ہیں جو کسی نہ کسی حوالہ سے ان کی اپنی دلچسپی کے ہوں۔ البتہ محترم غلام جیلانی خان کا یہ شکوہ اصولاً صحیح ہونے کے باوجود مکمل طور پر صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ جو علماء کرام اپنی مساجد میں قرآن کریم کے مسلسل ترجمہ و درس کا اہتمام کرتے ہیں اور تریب کے ساتھ مکمل قرآن کریم ترجمہ و تفسیر کے ساتھ اپنے مقتدیوں کو سناتے ہیں ان کے ہاں یہ صورتحال نہیں ہے، وہ قرآن کریم کی ہر آیت اور ہر حکم پر بحث کرتے ہیں اور ہر جملے اور لفظ کا ترجمہ لوگوں کو بتاتے ہیں۔ ایسی مساجد اور علماء کرام کو اگر شمار کیا جائے تو صرف لاہور شہر میں ان کی تعداد سینکڑوں سے متجاوز ہوگی اور اس میں ہر مکتبہ فکر کے علماء کرام اور مساجد شامل ہیں۔

لیکن اس سے ہٹ کر ہم اپنے عمومی قومی رویے کے بارے میں عرض کریں تو صورتحال ایسی ہی ہے کہ ملا صاحبان کی تخصیص کیے بغیر کم و بیش ہمارے ہر طبقے کا مزاج یہ بن گیا ہے کہ قرآن کریم بلکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث و سنن میں سے بھی ہم عام طور پر صرف انہی آیات و ارشادات کی طرف توجہ دیتے ہیں جن سے ہمارا کوئی فائدہ وابستہ ہو یا اپنے کسی مخالف پر اس کے حوالہ سے چوٹ کر سکتے ہوں۔ ورنہ قرآن کریم کی بہت سی آیات ایسی ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کے کچھ نیک بندوں کی ضرور توجہ ہوگی اور وہ ان کے بارے میں مناسب مواقع پر بات بھی کرتے ہوں گے، لیکن عمومی رجحان جسے قومی رویے سے تعبیر کیا جاتا ہے یہی ہے کہ ہم ان آیات کو پڑھتے ہوئے ان سے کان لپیٹ کر یوں گزر جاتے ہیں جیسے یہ آیات ہمارے بارے میں نازل ہی نہ ہوئی ہوں یا ہمارا وقت آنے تک شاید یہ خدانخواستہ منسوخ ہو چکی ہوں۔ ان میں سے چند آیات کریمہ کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے، مثلاً:

سورہ البقرہ کی آیت ۲۰۸ میں ارشاد ربانی ہے:

’’اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو، بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔‘‘

سورہ المائدہ کی آیت ۴۹ و ۵۰ میں ہے:

’’اور فیصلے کرو لوگوں کے درمیان ان احکام کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیے ہیں اور سوسائٹی کی خواہشات کی پیروی نہ کرو، اور ان لوگوں سے بچتے رہو کہ وہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے کسی حکم سے بہکا نہ دیں کیونکہ بہت سے لوگ نافرمان ہوتے ہیں۔ کیا وہ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں، اور ایمان والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اچھا حکم کس کا ہے؟‘‘

سورہ الحج کی آیت ۴۱ میں فرمانِ خداوندی ہے:

’’ان لوگوں کو جب ہم زمین میں اقتدار دیتے ہیں تو وہ نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں، معروف کاموں کا حکم دیتے ہیں اور منکر باتوں سے منع کرتے ہیں۔

سورہ البقرہ کی آیت ۱۷۸ و ۱۷۹ میں ہے:

’’اے ایمان والو! قصاص کا قانون تم پر فرض کیا گیا ہے، آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت (کو قتل کرو)، پس جس کو اس بھائی (مقتول کے وارث) کی طرف سے جان کی معافی دے دی جائے تو (دیت کے لیے) پیچھا معروف طریقے سے کیا جائے اور ادائیگی بھی اچھے طور پر کر دی جائے۔ یہ (دیت کی سہولت) تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور مہربانی ہے، پس جو اس کے بعد حد سے تجاوز کرے تو اس کے لیے دردناک عذاب ہے اور تمہارے لیے اے ارباب دانش! قصاص کے قانون میں ہی زندگی ہے تاکہ تم متقی ہو جاؤ‘‘

سورہ المائدہ کی آیت ۴۵ میں ارشاد ربانی ہے:

’’اور ہم نے ان پر فرض کیا ہے کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور زخموں کا بدلہ ہے۔ پس جس نے معاف کر دیا وہ اس کے لیے کفارہ ہے، اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اتارے ہوئے احکام کے مطابق فیصلے نہ کریں پس وہ لوگ کافر ہیں۔‘‘

سورہ البقرہ آیت ۲۷۵ تا ۲۷۹ میں فرمان الٰہی ہے:

’’وہ لوگ جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن قبروں سے اس طرح اٹھیں گے جیسے جنوں کے چھونے سے بدحواس ہوجانے والے اٹھتے ہیں، اس لیے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے بیع و تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے، پس جس کے پاس اس کے رب کی طرف سے نصیحت آئی اور وہ باز آگیا تو اس کی پچھلی غلطی معاف ہے اور جو لوگ اس کے بعد بھی اس کام کی طرف لوٹیں وہ دوزخ والے ہیں وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ سود کو گھٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی ناشکرے گناہگار کو پسند نہیں کرتا۔ بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے، انہوں نے اچھے اعمال کیے، نماز قائم کی اور زکوٰۃ دیتے رہے، ان کے لیے ان کے رب کے ہاں اجر ہے اور ان پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ غم میں پڑیں گے۔ اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور باقی ماندہ سود کو چھوڑ دو اگر تم مومن ہو۔ پس اگر تم سود کھانا نہیں چھوڑو گے تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کے ساتھ لڑنے کے لیے تیار ہو جاؤ اور اگر تم توبہ کر لو تو تمہارے اصل مال تمہارے ہیں، نہ تم زیادتی کرو اور نہ تمہارے ساتھ زیادتی کی جائے۔‘‘

سورہ النساء آیت ۷۵ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

’’اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑتے نہیں ہو، حالانکہ مغلوب کیے جانے والے مرد اور عورتیں (تمہارے علم میں ہیں) جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں اس بستی سے نجات دلا جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور ہمارے لیے کوئی حمایتی اور مددگار اپنی طرف سے بنا دے۔‘‘

سورہ النور آیت ۴۷ تا ۵۱ میں خالقِ کائنات کا ارشاد گرامی ہے:

’’اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور رسولؐ پر ایمان لائے اور ہم نے ان کی اطاعت قبول کی، پھر ان میں ایک گروہ اس سے پھر جاتا ہے، وہ لوگ مومن نہیں ہیں۔ اور جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کریں اچانک ایک گروہ ان میں سے منہ موڑنے لگتا ہے۔ اور اگر اس میں ان کا کچھ مفاد ہو تو اس کی طرف دوڑے چلے آتے ہیں۔ کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے یا وہ شک میں ہیں یا وہ خوف رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسولؐ ان سے انصاف نہیں کریں گے، بلکہ وہ لوگ خود ہی ظالم ہیں۔ بے شک ایمان والوں کی بات تو یہ ہے کہ جب انہیں اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف بلایا جائے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو وہ یہ کہیں کہ ہم نے حکم سن لیا اور ہم نے اس کی اطاعت کی اور وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔‘‘

سورہ النساء آیت ۱۰۵ میں فرمانِ خداوندی ہے:

’’بے شک ہم نے آپ کی طرف قرآن کریم اس لیے اتارا ہے تاکہ آپ لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلے کریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سمجھایا ہے، اور آپ دغابازوں کی طرف سے فریق نہ بنیں۔‘‘

ہم نے قرآنِ کریم کی چند آیات کریمہ کا حوالہ دیا ہے، ورنہ قرآن کریم کا عمومی اسلوب یہ ہے کہ وہ زندگی کے ہر شعبہ میں اور قوم کے ہر طبقہ کو قران کریم اور جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی پیروی کا حکم دیتا ہے اور قرآن و سنت کے احکام و قوانین سے انحراف کو کفر اور ظلم سے تعبیر کرتا ہے۔ جبکہ احکام شریعت کو ظاہری طور پر تسلیم کرتے ہوئے عملاً ان کو زندگی کے دائرے میں نہ لانے کو قرآن کریم نے منافقت قرار دیا ہے۔ مگر ہم قرآن کریم پڑھتے ہیں اور جناب نبی اکرمؐ کے ارشادات و حالات بھی سنتے رہتے ہیں لیکن ہماری عملی زندگی اس سے کوسوں دور ہے۔

قرآن و سنت کے وہ احکام جن کا تعلق ہماری اجتماعی زندگی اور ہمارے قومی و ریاستی نظام سے ہے اور جن کے اجراء و نفاذ کا ہم نے دستور میں عہد بھی کر رکھا ہے ان کی تفصیلات الگ ہیں۔ مگر نہ ہمارے حکمران طبقات کو اس سے دلچسپی ہے، نہ پارلیمنٹ اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے تیار ہے، نہ بیوروکریسی اور فوج اس کے بارے میں خود کو ذمہ دار سمجھتی ہے اور نہ ہی عدلیہ ان احکام و قوانین کے ساتھ انصاف کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ستم کی بات یہ ہے کہ سب طبقات نے اس کو ’’ملا صاحبان‘‘ کے کھاتے میں ڈال رکھا ہے کہ اگر کچھ کرنا ہے تو انہوں نے ہی کرنا ہے، باقی طبقات کا خدانخواستہ نہ قرآن و سنت کے احکام کے ساتھ کوئی معاملہ ہے اور نہ ہی دستور کے وعدوں سے ان کا کوئی تعلق ہے۔ جبکہ ملا صاحبان کا قصہ یہ ہے کہ ان کی ترجیحات میں بھی اسلام کے معاشرتی کردار، قرآن و سنت کے اجتماعی احکام، ایک نظریاتی ریاست اور رفاہی معاشرے کی تشکیل اور قوم کے تمام طبقات کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کے لیے تیار کرنے کی عمومی جدوجہد ان کی ترجیحات میں صحیح جگہ حاصل نہیں کر سکی۔ ہمارا حال یہ ہے کہ قرآن و سنت کے جو چند قوانین ہم نے دستوری پابندی یا عوامی دباؤ کی وجہ سے نافذ بھی کر لیے ہیں تو سالہا سال گزر جانے کے باوجود ان میں کسی پر عملدرآمد کی نوبت نہیں آئی بلکہ ہم کسی نہ کسی بہانے سے ان سے پیچھا چھڑانے کی فکر میں رہتے ہیں اور ان کو غیر مؤثر بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

قرآن کریم کے احکام کی طرف توجہ دلانے پر محترم غلام جیلانی خان کا تہہ دل سے شکریہ، مگر کیا اس ساری صورتِ حال کی ذمہ داری صرف ملا صاحبان پر ہے؟

دلِ صاحبِ انصاف سے انصاف طلب ہے
درجہ بندی: