مسئلہ قادیانیت اور دستور سے انحراف

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۲ ستمبر ۲۰۱۱ء

۷ ستمبر کا دن ملک بھر کے دینی حلقوں میں ’’یومِ ختم نبوت‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے، اس لیے کہ اس روز ۱۹۷۴ء میں پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی قیادت میں قادیانیوں کا ۹۰ سالہ مسئلہ حل کرتے ہوئے رائے عامہ اور دینی حلقوں کا یہ متفقہ موقف دستوری طور پر تسلیم کر لیا تھا کہ قادیانی گروہ ایک نئے نبی کا پیروکار ہونے کی وجہ سے امت مسلمہ کا حصہ نہیں رہا، اس لیے اسے مسلمانوں کا حصہ سمجھنے کی بجائے ملک کی غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ شمار کیا جائے۔

قومی اسمبلی میں بحث کے دوران مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام مولانا مفتی محمودؒ، مولانا عبد الحقؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا شاہ احمدؒ نورانی، مولانا عبد المصطفٰی الازہریؒ، مولانا عبد الحکیمؒ، مولانا محمد ذاکرؒ، مولانا ظفر احمد انصاریؒ، پروفیسر عبد الغفور احمد اور مسلم لیگی رہنما چودھری ظہور الٰہی مرحوم نے بحث میں بھرپور حصہ لیا تھا، جبکہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی معاونت میں عبد الحفیظ پیرزادہ اور اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار مرحوم پیش پیش رہے۔ قادیانی امت کے دونوں گروہوں کے سربراہوں مرزا ناصر احمد اور مولوی صدر الدین نے کئی روز تک پارلیمنٹ کے فلور پر اپنے موقف کی وضاحت کی اور ارکانِ قومی اسمبلی کے سوالات کے جوابات دیے۔ اس کے بعد قومی اسمبلی اور پھر سینٹ نے وزیرقانون عبد الحفیظ پیرزادہ کا پیش کردہ مسودۂ قانون منظور کر لیا تھا جس میں طے کیا گیا ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والے اور اس پر ایمان رکھنے والے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور و قانون کی نظر میں مسلمان نہیں ہیں، اس لیے پاکستان میں بسنے والے ان تمام لوگوں کو جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی یا مہدی مانتے ہیں، غیر مسلم اقلیتوں میں شمار کیا جائے گا۔

اس تاریخی فیصلے پر دنیا بھر کے مسلمانوں نے خوشی کا اظہار کیا تھا مگر قادیانیوں نے، جو خود کو احمدی کہلاتے ہیں، یہ فیصلہ قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس انکار پر وہ کم و بیش چار عشرے گزر جانے کے باوجود آج بھی قائم ہیں اور دنیا بھر میں اپنے ہم خیال حلقوں اور لابیوں کے ساتھ مل کر دستورِ پاکستان کے اس فیصلے کے خلاف مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس پس منظر میں ۷ ستمبر کو یوم ختم نبوت منانے کا ایک مقصد تو یہ ہے کہ اس دن کی یاد تازہ کی جائے اور فیصلہ کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کیا جائے، جبکہ دوسرا بڑا مقصد یہ ہے کہ اس دستوری فیصلے کے خلاف عالمی سطح پر جو مہم جاری ہے اس سے باخبر رہا جائے، اور عقیدۂ ختم نبوت کے ساتھ ساتھ پاکستانی پارلیمنٹ کے اس دستوری فیصلے کے تحفظ کے لیے رائے عامہ کو بیدار رکھنے کا کام جاری رہے۔ میں نے ۷ ستمبر کا دن تحفظ عقیدۂ ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والی تین جماعتوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، مجلس احرار اسلام اور انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے ساتھ گزارا۔ جو بالترتیب مولانا عبد المجید لدھیانوی، پیر جی سید عطاء المہیمن شاہ بخاری اور مولانا عبد الحفیظ مکی کی قیادت میں مختلف دائروں میں مصرفِ عمل ہیں۔ ظہر کی نماز میں نے مولانا ثناء اللہ چنیوٹی، حافظ محمد عمیر چنیوٹی اور دیگر رفقا کے ہمراہ چناب نگر (سابق ربوہ) میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکز میں ادا کی اور احباب سے ملاقاتیں کیں۔ جبکہ ظہر کے بعد جامع عثمانیہ ختم نبوت چناب نگر میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کیا اور عشاء کے بعد لاہور میں مجلس احرارِ اسلام کے مرکزی دفتر میں احرار کی طرف سے اس سلسلہ میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں چند گزارشات پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ ان دونوں مواقع پر جو معروضات پیش کیں ان کا خلاصہ نذرِ قارئین ہے:

اس وقت ہمیں قومی سطح پر دو اہم مسائل کا سامنا ہے اور بجا طور پر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ اگر یہ دونوں مسئلے حل ہو جائیں تو باقی سب مسائل کے حل ہونے کا راستہ ہموار ہو جائے گا:

  1. ان میں سے ایک کرپشن، بد دیانتی اور منافقت کا مسئلہ ہے جس نے اوپر سے نیچے تک قومی زندگی کے ہر شعبے کو بری طرح گھیر رکھا ہے اور اس دلدل سے نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔ میں اس سلسلہ میں قرآن کریم کی سورۃ التوبہ کی آیت ۷۷ کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ قانون بیان فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو توڑ دیتے ہیں اور مسلسل جھوٹ بولنے لگتے ہیں ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے منافقت داخل کر دی جاتی ہے۔ اس بنیاد پر میں یہ عرض کرتا ہوں کہ منافقت اور بد دیانتی کی دو صورتیں ہیں۔ ایک منافقت وہ ہے جو کوئی گروہ یا فرد اپنے لالچ اور مفاد کے لیے ذاتی طور پر اختیار کرتا ہے۔ اور ایک منافقت وہ ہے جو سزا اور عذاب کے طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلط کی جاتی ہے۔

    میں ہر صاحبِ عقل و دانش کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ ان آیاتِ کریمہ پر غور کر کے یہ جائزہ لے کہ اس وقت ہم منافقت اور کرپشن کے جس عذاب سے دوچار ہیں اس کی نوعیت کیا ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے قومی سطح پر قیامِ پاکستان سے پہلے اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا تھا کہ اس مملکتِ خداداد میں ہم اس کا نظام و قانون نافذ کریں گے، اس عہد کی ہم نے خلاف ورزی کی ہے اور اس سلسلہ میں گزشتہ ۶۵ برس سے مسلسل جھوٹ بولے جا رہے ہیں، جس کی سزا کے طور پر ہم پر یہ منافقت اور کرپشن مسلط کر دی گئی ہے۔ اس لیے اجتماعی اور قومی سطح پر توبہ کر کے اس عہد کو پورا کرنے کے سوا اس سزا سے نجات ملنے کی کوئی صورت موجود نہیں ہے۔ اس پہلو پر ہر طبقہ اور ہر گروہ کو ہر سطح پر غور کرنا چاہیے اور اس کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

  2. ہمارا دوسرا بڑا مسئلہ دستور کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کا ہے، جس کے لیے عدالت عظمیٰ کے معزز جج صاحبان سمیت ملک بھر کے اصحابِ دانش مسلسل واویلا کر رہے ہیں۔ اس حوالہ سے ایک پہلو کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا کہ موجودہ دستور کے نفاذ کے بعد اس سے انحراف کا دروازہ سب سے پہلے کس نے کھولا۔ ۱۹۷۳ء میں یہ دستور نافذ ہوا اور ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں نے دستور و قانون اور پارلیمنٹ کے جمہوری فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا۔ پارلیمنٹ کا فیصلہ دستوری فیصلہ تھا، جمہوری فیصلہ تھا اور قانونی فیصلہ تھا جسے قبول کرنے سے انکار کر دیا گیا۔ اور بات صرف انکار تک محدود نہیں رہی بلکہ اس فیصلہ کے خلاف عالمی سیکولر لابیوں اور پاکستان کے نظریاتی تشخص کے مخالفین کو اپروچ کیا گیا، ان کے ساتھ مل کر لابنگ کی گئی اور پاکستان کے نظریاتی امتیاز اور ملک و قوم کے خلاف دنیا بھر میں پروپیگنڈا کی مہم چلائی گئی جو سینتیس برس گزر جانے کے باوجود نہ صرف جاری ہے بلکہ اس میں شدت پیدا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا۔

    میں چیف جسٹس آف پاکستان سمیت دستور کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے جدوجہد کرنے والے تمام افراد و طبقات سے یہ سوال کرنے کا حق رکھتا ہوں کہ دستور اور پارلیمنٹ کے فیصلے سے اس کھلم کھلا انکار کا کیا نوٹس لیا گیا ہے؟ اور دستور اور پارلیمنٹ کے اس جمہوری فیصلے کے خلاف دنیا بھر میں پاکستانی کہلوانے والوں کی طرف سے چلائی جانے والی اس منفی مہم کا کیا نوٹس لیا جا رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دستور کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی بحال کرنے کے لیے سب سے پہلے ان انحرافات اور خلاف ورزیوں کا نوٹس لینا ہوگا اور اس کا آغاز وہیں سے کرنا ہوگا جہاں سے دستور کی بالادستی سے انحراف کا آغاز ہوا تھا۔ اس کے بغیر نہ دستور کی بالادستی قائم ہو سکتی ہے اور نہ ہم قانون کی حکمرانی کی منزل سے ہمکنار ہو سکتے ہیں۔